28/03/2020
چاینا نے اپنے لوگوں کے مکمل صحت کا حیال کیسے رکھا۔
دنیا کے اس وقت کے سب سے بڑے وبا Covid-19 نے سب سے پہلے چین کے شہر واہان میں سر اٹھایا پھر وہاں سے ہوتا ہوا یہ باقی دنیا میں پھیل گیا لیکن جتنا تیزی سے یہ چاینا میں اٹھا تھا تقریباً ویسے ہی ان لوگوں نے عقل اور حکمت عملیوں سے اس کا راستہ روکا اور کنٹرول کردیا یہاں تک کے وہہی شہر واہان جہاں سے یہ وبا پوٹی تھی اج معمولات زندگی کے لیے دوبارہ کھولا گیا اب ان لوگوں نے ایسے کیا اقدامات کیے کہ اس وبا کو کنٹرول کردیا
سب سے پہلے وہاں "فرسٹ لیول ریسپانس" کے نام سے حکومتی اقدامات کیے جس میں فیزکل ڈیسٹنس اور لاک ڈاون سے کام لیا گیا تا کہ لوگوں کے بھیچ فاصلہ رہیں اور اس کا پھیلاوں روکھا جا سکے۔
دوسرا ہیلتھ سے ریلٹیڈ ہر صحولت میسر کر دی گئی ایمرجنسی میں ہسپتال بنائے گئے اور شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پورے صحولیات کے ساتھ وہاں ڈیوٹیز پے لگا یا گیا۔
تیسرا وہاں پر کمیونکیشن یعنی معلومات پہنچانے کے لیے ذمہ دار لوگوں کو تعینات کیا گیا تا کہ غلط معلومات لوگوں تک نہ پہنچے اور وہ اس لیے کے وبا کے دوران حاص طور پر جب لوگ قرنطین ہو گھروں تک محصور ہو وہ معلومات پر اکتفا کرتے ہیں اگر غلط معلومات اور احتیاط کے جگہ خوف لوگوں تک پہنچے تو وہ اور زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔
چوتھا وہاں پر ذہنی صحت کا حاص حیال رکھا گیا پہلے لیول ریسپانس کے تحت وہاں پر پورے ملک میں" 300 ہاٹ لاین سروسیز" بنائے گئے جہاں پر اپ ملک کے کسی بھی کونے سے فون پر اپنے مسایل کے حل کے لیے مشورے لیتے تھے ۔
اسی کے ساتھ ایک دو جملو کے ہیش ٹھیگ #"Yong Xin Kang Du" اس کے معنی ہے"Use Heart To Fight The Virus" اور
کے ساتھ سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا پر ویڈیوز جارے کیے گیے تاکہ عوام میں امید جگائےاور غلط معلومات کا راستہ روکھا جا سکے ۔
چاینیز سایکولجیکل سوسیایٹی کے اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق 18،000 لوگوں میں اینزائٹی کے علامات پائے گیے ہے۔
5000 لوگوں میں پوسٹ ٹرامیٹیک سٹریس ڈیس ارڈر کے علامات پائے گئے۔
کچھ کیسسز میں خودکشی جیسے رجہانات بھی پائے گئے لیکن ان ہاٹ لاینز نے ان مسائل کو بروقت ایڈریس کردیاہے اور اگے کام جاری ہے۔ شنگائی کے ایک ماہر نفسیات نے ایک کیس کے بارے میں بتایا کہ غلط انفارمیشن نے اسے خطرناک ڈیپریشن میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ خودکشی کے قریب پہنچ گیا تھا اگے وہ کہتا ہے کہ دراصل وہ وایرس زدہ نہیں تھا لیکن اپنے خوف نے اس کی حالت اتنی خراب کر رکھی تھی کہ وہ وایرس کے بغیر موت تک چلا گیا تھا۔
اب ان سارے معلومات سے اگر ہم کچھ سیکھنا چاہے تو وہ یہ ہے کہ چونکہ کچھ اقدامات تو حکومت کے طرف سے کیے گیے ہیں تا کہ پھیلاوں کو روکھا جا سکے اور جگہوں کا بھی تعین کیا گیا ہے جہاں مریضوں کو قرنطین کیا جاسکے لیکن ان کے اندر بہت سے چیزوں کی کمی ہے لیکن پھر بھی موجودہ صحولیات کے مطابق کافی ہے ۔
لیکن غلط معلومات کا راستہ نہیں روکھا گیا لوگ اپنے طرف سے بغیر کسی تصدیق کے دھڑادھڑ سے معلومات اور ویڈیوز پیکچرز شیر کر رہے ہیں اُپر سے مین سٹریم میڈیا پر نان پروپیشنل لوگ کورونا پر لوگوں کو اگاہی دے رہے ہیں۔
ذہنی صحت کا تو بلکل بھی کوئی پالیسی ابھی تک سامنے نہیں ائی جبکہ معاشرے میں وائرس سے زیادہ تشویش، اینزائٹی اور ڈیپریشن روز بروز بڑھ رہا ہے۔
ایسے میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے خود کو نفسیاتی دباوں سے بچائے پھر اپنے سے جڑے لوگوں کو حوصلہ دے۔
احتیاطی تدابیر کو مکمل فالوکریں اور اپنے سے جڑے لوگوں کو بھی ترغیب کریں کو وہ بھی ایسا کریں۔
مصدقہ معلومات تک رسائی ممکن بنائے اور اسی پر یقین کریں خود بھی اگر کوئی چیز شیر کرنی ہو تو پہلے دیکھا جائے کہ وہ حقیقت پے مبنی ہے بھی کہ نہیں۔
جتنا ہوسکے اپنے امیون سیسٹم پر فوکس کریں اچھی غذا اور ورزش کا حیال رکھیں۔
کوشش کریں کہ سوشل میڈیا پر جتنے صحتیاب لوگ ہے ان کے سٹوریز شیر ہو نا کہ اموات اور تدفین کے۔
سوشل میڈیا کے زریعے ایک دوسرے سے جڑے رہے اور اپنے لوگوں کو زیادہ ٹایم دیں۔
تا کہ ہم اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے اور اس وبا کا مقابلہ ایک موثر اور کارامد طریقے سے ممکن بنائے۔
فضل ماہر نفسیات--- اگر کسی کو کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو تو وہ مجھ سے بلا جھجھک رابطہ کر سکتے ہے۔
27/03/2020
گھبراہٹ ایک عام انسانی احساس ہے ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گزرتے ہیں۔ خطرات سے بچاو، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میں عام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہے۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہو جائے، حد سے بڑھ جائے اور ہماری زندگی کے روانی کو متاثر کرنا شروع کر دیں تو پھر یہ نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔
گھبراہٹ کے کچھ علامات ذہنی اور کچھ جسمانی ہوتے ہے جیسا کہ ذہنی علامات میں (ہر وقت پریشانی کا احساس، دل کا دھڑکن محسوس کرنا، تھکن کا احساس، توجہ مرکوز نہ کر پانا، چڑچڑے پن کا احساس، نیند کے مسایل، غصہ، دل کا نہ لگنا، بے ہوش ہونے کا ڈر لگنا میں کمزور محسوس کر رہا ہو وغیرہ)
جسمانی علامات جیسے( دھڑکن کا تیز ہونا، ذیادہ پسینہ انا، پھٹوں میں کھینچاو او درد ہونا، سر چکرانا، بد ہضمی، اسہال وغیرہ)
اب زیادہ تر ایسے بندے کو یقین ہوجاتاہے کہ اس کو کوئی خطرناک جسمانی بیماری لگی ہے یا اس کا شکار ہونے والا ہے پھر اس گھبراہٹ کی شدت اور ذیادہ ہونے لگتا ہے اور بغض لوگوں کوغیر متوقع دورے انا شروع ہوجاتے ہے جس کو پینک(Panic Attack) کہا جاتا ہے جس سے اس بندے کےساتھ اور لوگ بھی تکلیف اور بے چینی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اسی کے ساتھ ڈیپریشن بھی شروع ہوجاتا ہے اور متاثرہ شخص اداس رہنے لگتا ہے جس سے ان کی بھوک ختم ہوجاتی ہے مستقبل تاریک اور نا امیدی کے بادل ان کے خیالات پے طاری ہوجاتے ہے جو اگے اور بیماریوں کے لیے راستہ ہموار کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ہماری قوت مدافعت اس بادلوں میں چھپ جاتے ہے اور ہمارا وجود خود کو ناکارہ اور کمزور سمجھ لیتا ہے اس لیے ہم کسی بھی چھوٹی سے بیماری کا بھی مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔
اس وقت ساری دنیا ایک خطرناک حالات کا سامنا کر رہی ہے اور یقیناًہر بندہ ایک ڈر اور خوف دماغ میں لیے عجیب کشمکش کا شکار ہے کیونکہ ہمہیں ایک ایسے چیز کا مقابلہ کرنا ہے جو نظر نہیں ا رہا لیکن موجود ہے پھیل رہا ہے لوگوں کو متاثر بھی کر رہا ہے اور یہاں تک کے موت بھی ریکارڈ ہورہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چلتی پھرتی روٹین زندگی پے بھی اثر انداز ہوا ہے جس کے وجہ سے ہر انسان کے لیے یہ ایک عجیب حالت ہے اور یہ جایز ہے کیونکہ چلتا پھرتا روٹین یک دم بدل جائے اور بیماری لگنے کا اندیشہ بھی ہو تو انسان لازمی طور پر نفسیاتی دباو ڈر اور گھبراہٹ کا شکار ہوگا۔
لیکن کیا یہ ڈر اور خوف ہمیں مرنے سے پہلے مار تو نہیں رہا؟ یہ ڈر ہمیں اور کمزور تو نہیں کر رہا ؟ یہ ڈر ہمارے وجود کو اور بیماریوں کے لیے کھوکھلا تو نہیں کر رہا ؟ یہ سوالات ہم نے پوچھنے ہونگے اپنے اپ سے تبھی تو ہم کسی اندیکھی بلا کا مقابلا کر سکیں گے نہیں تو شاید وبا سے تو بچ جائے لیکن اپنا ڈر موت کے قریب لے جائے۔ اگر اپ کا خوف اپ کو اس بات پے مجبور کر رہا ہے کہ اپ احتیاط کریں، میڈیکل ساینسز کے مطابق جو اقدامات ہم بذات حود کر سکتے ہے جیسے کہ زیادہ بھیڑ میں نہ جانا نہ بنانا، ایک دوسرے سے ایک میٹر فاصلہ رکھنا، ہاتھ صاف رکھنا ، گھروں میں کچھ دنو کے لیے بھیٹ جانا ، زکام اور بیماری کے صورت میں ماسک کا استعمال کرنا، اچھی غذا کھانا جیسے پھل سبزیاں پروٹین وغیرہ جس سے قوت مدافعت بھڑتی ہے تو پھر یہ ڈر فایدہ مند ثابت ہو رہا ہے ہمارے اپنے وجود گھر محلے شہر اور ملک کے لیے ۔
لیکن اگر یہ ڈر خوف اور گھبراہٹ ہمیں نا امید کر رہا ہے، مستقبل کو تاریک نظروں سے دیکھ رہا ہے، بھوک کے احساس کو ختم کر رہا ہے چڑچڑاپن پیدا کر رہا ہے ہمیں جینے سے بیزار کر رہا ہے تو پھر یہ کسی بھی وایرس اور بیماری سے زیادہ خطرناک ہے ہمارے اپنے وجود کے لیے اور ہمارے ساتھ رہنے والے لوگوں کے لیے۔
گھبراہٹ ڈر اور خوف کے چنگل سے بچنے کے طریقے۔
ہمیشہ ہر حالت میں مثبت پہلو پے نظر رکھیں حوا اپ کو وائرس لگ کیو نہ جائے کیونکہ ابھی تک اس کے متاثرہ لوگوں میں جو لوگ ٹھیک ہوئے ہے ان کے تجربے سے یہ بات سامنے ائی ہے کہ جتنا اپ حوصلہ کرتے ہے جتنا اپ دوران بیماری اپنے ذہن کو کنٹرول کرتے ہے اتنا اپ کا وجود اس وائرس کے خلاف کامیاب ہوتا جاتا ہے ابھی تک چاینا ایک ایسا مثال ہے جہاں سے یہ وبا پھوٹی تھی اور سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے اور سب سے زیادہ واپس ریکور بھی ہوئے ہے جو کہ اب ایک نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔
اپ نے دیکھنا ہوگا کہ دنیا میں یہ پہلا وبا نہیں ہے اس سے پہلے بھی کافی وبائے دنیا میں ائی ہے اور کافی انسانوں کو لقمہ اجل بنا چکی ہے لیکن اس وقت انسان اتنا طاقتور نہیں تھا نہ ان کے پاس یہ ٹیکنالوجی اور ساینسی الات تھے جس سے وہ مقابلا کرنے میں طاقتور ہو لیکن شکر ہے اج کی تاریخ میں انسان کافی طاقتور اور عقلی ہتھیاروں سے لیس ہے ٹیکنالوجی اور ساینس نے انسان کو اس قابل بنایا ہے کے شاید اگلے ایک مہینے تک اس وایرس کا توڑ ایک انجیکشن میں ہر دکان میں ملے گوگل کر کے دیکھ لیجئے 35 ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ریس لگی ہے کہ کون پہلے ویکسین تیار کرے گا اور یہ کافی پر امید بات ہے۔
پھر بھی اپ کو لگے کہ اپ ڈرے ہوئے ہے یا اپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ اپ کا کوئی جاننے والا ایسی کیفیات سے گزر رہا ہے تو اپ ان سے اس مسئلے پے بات کریں چھپ نہ رہیں اور نہ ان کو چھپ رہنے دیں سوشل میڈیا کے زریعے۔
پہلے تو سوشل میڈیا کو تھوڑا اگنور کریں لیکن اگر استعمال ہی کرنا ہے تو ان کیسسز کے بارے میں معلومات لیں جو اس مرض سے صحتیاب ہوچکے ہے۔
پرسکون رہنا سیکھیں اور دوسروں کو سیکھائے تاکہ ہم مقابلہ کر سکیں۔
گھروں میں ایسے چیزوں میں خود کو مصروف کریں جس میں اپ کا دل لگتا ہو۔
گھر کے اندر ورزش کریں یوگا کریں گہری سانس لینے کے مشق کریں کتابیں مویز وغیرہ سے بھی اکتفا کر سکتے ہے۔
کسی کو نیند نہیں ارہی یا بھوک نہیں لگ رہی تو وہ گھر کے اندر کچھ ایسا ورزش کریں جس سے وجود تھک جائے تب تک بھیٹنا نہیں جب تک مکمل وجود تھکا ہوا نہ ہو پھر شاور لیں اور دیکھیں کیسے نیند اور بھوک نہیں اتی۔
نیند بلکل ریلکس اورا پورا کریں تقریباً8 گھنٹے۔
کسی کو ذیادہ مسلہ ہو تو کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کرلیں یا پھر اگر اور بھی زیادہ ہو تو کسی سایکاٹرسٹ سے مشورہ کر کے انٹی ڈیپریسںنٹ اور اینٹی اینزایٹی کی ٹیبلیٹ بھی لے سکتے لیکن بے حد ضرورت کے ٹایم میں ایسے کوئی ٹیبلٹ وغیرہ نہ لیں جب ضرورت نہ ہو۔
بقلم ۔۔۔فضل ماہر نفسیات
23/03/2020
اقوام عالم اس وقت جس وبائی مرض کا سامنا کر رہی ہے
وہ واقعی خطرے کے گھنٹی ہے اور بحیثیت انسان ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم ایسے حالات میں جتنا بھی ہوسکے ہر وہ قدم اٹھایے جو اس وبا کو روکنے میں مددگار ہو جیسا کہ احتیاطی تدابیر ہمیں میڈیکل ساینسز کے ایکسپرٹ سے ملتے ہیں اس پے پورا پورا عمل کرنا لیکن ہمیں تھوڑا اور احتیاط بھی کرنا ہوگا جیسا کہ اس وقت تقریبا ذیادہ تر لوگ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور غلط معلومات دھڑادھڑ سے پھیلائے جا رہے ہیں اب ایک تو وبا ہے جس کے سٹیٹیسٹکل انالیسز کو اگر دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کے یہ بیماری 100 میں سے 10 بندو کو لگ سکتی ہے اور اس دس میں سے چار بندو کو موت تک لے جاسکتی ہے، لیکن عالمی ادارہ صحت کے ایک رپورٹ کے مطابق یہ دنیا کے ہر تیسرے بندے کو ذہنی مریض بھی بنا رہی ہے اور جو پہلے سے کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہے ان کے لیے تو یہ غلط معلومات بلکل زہر کا کام کرتی ہے جیسا کہ ذہنی بیماریوں کا ایک گروپ OCD/OCPD---جس میں لوگوں کو وسوسے کی بیماری ہوتی ہے وہ اور خطرناک درجے تک پہنچتے ہیں،
بار بار ہاتھ دھونے اور وائرس لگنے کے حیالات سے ایک نارمل انسان بھی وسوسے کا شکار ہوسکتا ہے۔
الیکٹرانک ماس اور سوشل میڈیا پر منفی اور ڈراونی باتوں کا سامنا اپ کے نیند ،رویہ، اور روزمرہ کے معاملات کو متاثر کر سکتی ہے اپ چڑچڑاپن اور بیزاری محسوس کر سکتے ہے۔
مسلسل نا امیدی اور مایوسی والی باتیں سن کر اپ اسانی سے ڈیپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔
وایرس کے لگنے یا اردگرد کیس رپورٹ ہونے سے اپ Panic Attack پسینہ چھوٹنا ہاتھ پاوں سن ہوجانا بھی ایکسپیرینس کر سکتے ہے۔
اس وبائی مرض کا دنیا میں پڑاو ہیں علاج نہیں ہے تدفین نہیں ہوگی ایسے جملے بار بار سننے دیکھنے سے یہ اپ کے لاشعور میں جمع ہو جاتی ہے پھر یہ اپ کی خوابوں خیالوں میں گردش کرتی ہیں جسے نفسیاتی اصطلاح میں پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈیس ارڈر کہا جاتا ہے جس میں نیند میں اچانک اٹھنا وغیرہ شامل ہیں۔
اپکا وہم اپکو اس بات کے ماننے پے مجبور کریگا کہ اپ میں بھی کچھ اثرات ہے اور پھر اپ کا دماغ اپ کو ہر چھوٹا بڑا اثر اپ کے وجود میں محسوس کرایگا کیونکہ ڈیپریشن بھی زکام کا سبب بنتا ہے جس کو ہم سایکوسومیٹک پرابلمز کہتے ہیں۔
ہم نے اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کو حوصلہ دینا ہے فیزکل ڈیسٹینس ضروری ہے لیکن سوشل ڈیسٹینس اپ کو تنہائی اور ڈیپریشن میں مبتلا کرسکتی ہے کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ گھر میں وقت گزاریں لیکن وہ بھی کورونا کے غلط انفارمیشن سرچ کرنے میں نہیں بلکہ اپنے دماغ میں مثبت چیزوں کو فیڈ کریں کتابیں پڑھیں اچھی ڈاکومینٹریز دیکھیں گھر میں ورزش کریں سلاد اور اچھی غذا کھائیں جس سے اپ کے امیون سیسٹم مظبوط ہو کیونکہ کہتے ہیں کہ " ہم زلزلے کو نہیں روک سکھتے بے شک لیکن ہم اپنی گھر کے دیواروں کو اتنا مظبوط کر سکتے ہے کہ جو زلزلے کے ذیادہ نقصان سے ہمیں بچائے۔
ترمیم شدہ بقلم فضل کامریڈ ماہر نفسیات
08/03/2019
دیکھو بیٹی شریف عورتوں کی جب شادی ہوجاتی ہے تو پھر وہ اپنے شوہر کے گھر سے مر کر ہی نکلتی ہے۔
دس برس تک ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنتے ہویے اج اس کا جنازہ اس کے شوہر کے گھر سے نکلتے ہویے اس کے شرافت کا ثبوت دے رہا تھا۔
's Day
's rights
's about women's rights
07/03/2019
Junaid Jamshed student of UET peshawar committed Su***de Today.
Student suicides in Pakistan, wake-up call for parents and educational administrators.
Why are students committing suicides?
What makes a student opt for the tragic course of choosing a permanent solution for his temporary problems i.e. choosing death over a troubled life? Students commit suicides because of the crushing stress that a youngster has to go through because of pressure of expectations exerted on him/her from multiple sides. Parents want their children to excel, teachers want them to win laurels for the school, and society keeps reminding them that success and guarantee for a secure future depends on the grades they achieve in the exams. In Pakistan academic reasons top the list of the causes of student suicides, academic reasons mean failures or perceived failures in achieving the educational goals setup by student for himself or the mile stones that parents expect their child to achieve.
The inability to cope with personal failure: a student works hard, devotes tremendous amount of his or her youthful energy and time for a target and when he falls short of his expectations he can’t accept this reality, he is unable the analyze what has happened, is overtaken by shock and disbelief and puts all the blame on himself. This false sense of an irreversible and irreparable loss pushes him to the point of snuffing out the candle of his own life.
The crushing burden of parental expectations:
parents have the final say in determining the career path of a Pakistani kid in most cases if not in all cases. A typical middle class student in Pakistan must prove him smart enough to get admission in a medical or engineering college to become a doctor, engineer or a business executive in line with the aspirations of his parents. Parents set up goals for their child to achieve, the child has to achieve these mile stones set by their parents and if he fails to meet parental expectations he is made to feel as if he has betrayed them by not proving himself as brilliant as he was expected to be. This devastating stress of proving him brilliant enough to fulfill the dreams of his parents remains with the student throughout his student years, controls his feelings and actions and finally takes its toll on his life.
The intense pain of public humiliation:
failure brings with it a stigma and feeling of humiliation. Students with a troubled conscience, when feel that they have failed themselves and have quashed the hopes of their parents, find it extremely painful to face their friends, family and peers. Dealing with this feeling of humiliation is beyond the capacity of these students who have never been independent or who have never known to be disobedient to their parents or teachers. These circumstances make these students feel like losers and failures; they can no more face their peers against whom they have competed, making the situation even more intolerable for the young susceptible minds.
What needs to be done?
A lot needs to be done on the part of parents, teachers, educational managers and state and society at large. We can no more afford to play the role of silent spectators, we as society will have to change the social conditions that are driving our children to kill themselves. Teachers need to take a special responsibility of liberating our students from the shackles of agonizing societal control being exercised in the name of parental expectations. We need to let our children be independent and allow them the room to set their own goals and pursue their own dreams. We will have to enable our children and teenagers to enjoy a happier and healthier life; we will have to save them from suicidal thoughts. we will have to make the following things happen
Developing the capacity to cope with failures:
students must have the capacity to deal with bitter realities of life. Schools must have student counseling facilities to provide guidance and motivation to students. As first step student counselors must be appointed in each district, their responsibilities must include providing guidance regarding career choice, stress management, dealing with performance anxiety, crisis handling and motivation. Similarly students’ access to life skills learning and motivational literature and videos must be ensured.
Allowing more independence in choice of subjects they want to study and careers they want to adopt: Pakistani children need greater independence and freedom of choice. Teenagers must be enabled to make their own decisions regarding their own lives and their choices and decisions need to be respected. Adults especially parents and teachers must stop imposing their own will upon children and schools must create an environment that encourages children to discover themselves, identify their strengths and weaknesses and unearth their hidden potentials. Our education system and schools instead of functioning like a factory to mass manufacture “information- reproducing robots” must rather focus on enabling students to become their own goal-setters and goal- achievers.
Adopting healthier lifestyles: the life of Pakistani students specially those belonging to middle class profession-oriented families is that of endless tribulation an agony, being forced to study and excel at subjects which may not interest them truly causes great hardships for teenagers at a tender age, adopting a healthier life style with proper space for games, hobbies, outings etc can strengthen young people to take up challenges with greater confidence. Rigid routines and robotic activities focusing only on memorization of facts do no good to them. Better performance and better grades follow, research has shown, if students are not overburdened and preoccupied with stressful daily routine of cramming texts and finishing home works.
Parenting training for parents:
parents need to be educated and trained about how they deal with their growing children. Parenting training is a must and some mechanism needs to be developed to educate parents to have realistic expectations from their children. Parents must be aware of natural inclinations and needs of their growing children. Instead of thrusting their own ideals, opinions and aspirations on children parents must create room for their children and help and motivate them to set up goals of their own. Tyrannical parenting and emotional blackmailing has no place in this age and time the sooner we realize the better it will be for our future generations. Positive motivation, encouragement and freedom of choice should be the core values of raising kids for our parents, these values can take us a long way in bringing up a happier and more successful generation.
Reference: The Nation
09/10/2018
English Teaching jobs in China.
5 days work ,saturday sunday off
students.3 to 7 years old,7 to 11 years old
(Salry. 7000 Rmb)
after school time 90 minuts class. (200 Rmb :
Requirments.........
English accent must be very clear.
Teacher shouldnt be above 50 years.
contact.
+8618811601372
dr.Norin
09/10/2018
Admission open 2018
Study in China
MBBS & Engineering
* Low tuition fee
* Top Ranking Universities
* WHO & PMDC approved Universities
* 100 % Admission & Visa
----
Scholarship are Available in all fields
* Undergraduate
* Master
* PhD
* Chinese language
----
For Details:
+86 18811601372
China Education Consultant Dr,Norin from Beijing
21/09/2018
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2139308149670215&id=1717959108471790
Islamabad (affiliated with GC university Faisalabad )offering to needy and bright students in bachelor and master programs
Up to 100% scholarships available.
Programs offered
BBA/MBA
BSCS/MSC Computer Science
BS/MSC Psychology
BS/MA English
B. COM /M.COM
Interviews for Scholarships : 24-09-2018
last date to Apply : 01-10-2018
More info : 0331 5312992
Visit our web :cias.pk
Main Kashmir Highway near G 14-1 Islamabad.
19/07/2018
ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ - Catharsis
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ " ، ﯾﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮍﺍ ﺍﮨﻢ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﻤﻊ ﺷﺪﮦ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺳﮯ " ﺑﮭﮍﺍﺱ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺴﮑﺎ ﺯﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮈﯾﻢ ﯾﺎ ﺑﯿﺮﺍﺝ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﺪ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﻭ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺰﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﻨﺪ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ، ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﯾﺎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﻭﮦ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺗﻨﺪ ﺭﻭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺷﺪﺕ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺑﻨﺪ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﻮ ﺗﮩﺲ ﻧﮩﺲ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﺎﺭﮔﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺫﮨﻦ ﻭ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﻭ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺗﺤﺮﯾﺮ ﯾﺎ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺷﺎﺫ ﮨﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﯾﺎ ﮔﮭﭩﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺸﺮﻃﯿﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﯾﺎ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﯾﺎ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺭ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ۔
ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﻧﺴﻮ۔۔۔۔
ﮨﺮ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﻠﮑﺎ ﭘﮭﻠﮑﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺎ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻮﻗﻊ ﻭ ﻣﺤﻞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﻭ ﺩﯾﻨﺎ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻟﺘﻮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﯽ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ " ﮐﺘﮭﺎﺭﺗﺴﺰ ﺭﻭﻡ " ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺲ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﺗﻮﮌ ﭘﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﯾﺎ ﮔﮭﭩﻦ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﺳﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻔﯽ ﺭﻭﯾﮯ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺳﻼﻡ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﺿﺎﺑﻄﮧ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﻤﻞ ﮨﻮ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮧ ﮨﻮ۔
ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﮨﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﻭ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻋﺠﻤﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ " ﺩﻋﺎ " ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﮔﮍﺍ ﮐﺮ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻋﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﮐﻮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻣﻌﺬ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﺠﻤﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮧ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﻨﺎﺟﺎﺕ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺮﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﻭ ﺗﻮﺻﯿﻒ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﮬﮑﮍﮮ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺎﺟﺖ ﺭﻭﺍﺋﯽ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺷﮩﮧ ﺭﮒ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﺑﺖ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﯿﻊ ﻭ ﺑﺼﯿﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺫﮨﻨﯽ ﻭ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻭ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻗﻮﺕ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺟﺴﮑﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻻﺯﻣﯽ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﻮ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﺎ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺷﮑﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺧﯿﺮ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﺼﺪﺍ ﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﻠﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ ﮐﮯ ﺫﻣﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻟﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻟﮑﮭﯿﮯ، ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﺷﺪﮦ ﺧﯿﺎﻻﺕ، ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﯾﺎ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻟﯿﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﻨﺸﯿﻦ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﺑﻨﺎﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ۔
ﺳﻮﭺ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺳﻮﭺ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺳﻮﮨﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮑﻤﺎ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔
ﺁﻣﯿﻦ۔