28/03/2020
چاینا نے اپنے لوگوں کے مکمل صحت کا حیال کیسے رکھا۔
دنیا کے اس وقت کے سب سے بڑے وبا Covid-19 نے سب سے پہلے چین کے شہر واہان میں سر اٹھایا پھر وہاں سے ہوتا ہوا یہ باقی دنیا میں پھیل گیا لیکن جتنا تیزی سے یہ چاینا میں اٹھا تھا تقریباً ویسے ہی ان لوگوں نے عقل اور حکمت عملیوں سے اس کا راستہ روکا اور کنٹرول کردیا یہاں تک کے وہہی شہر واہان جہاں سے یہ وبا پوٹی تھی اج معمولات زندگی کے لیے دوبارہ کھولا گیا اب ان لوگوں نے ایسے کیا اقدامات کیے کہ اس وبا کو کنٹرول کردیا
سب سے پہلے وہاں "فرسٹ لیول ریسپانس" کے نام سے حکومتی اقدامات کیے جس میں فیزکل ڈیسٹنس اور لاک ڈاون سے کام لیا گیا تا کہ لوگوں کے بھیچ فاصلہ رہیں اور اس کا پھیلاوں روکھا جا سکے۔
دوسرا ہیلتھ سے ریلٹیڈ ہر صحولت میسر کر دی گئی ایمرجنسی میں ہسپتال بنائے گئے اور شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پورے صحولیات کے ساتھ وہاں ڈیوٹیز پے لگا یا گیا۔
تیسرا وہاں پر کمیونکیشن یعنی معلومات پہنچانے کے لیے ذمہ دار لوگوں کو تعینات کیا گیا تا کہ غلط معلومات لوگوں تک نہ پہنچے اور وہ اس لیے کے وبا کے دوران حاص طور پر جب لوگ قرنطین ہو گھروں تک محصور ہو وہ معلومات پر اکتفا کرتے ہیں اگر غلط معلومات اور احتیاط کے جگہ خوف لوگوں تک پہنچے تو وہ اور زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔
چوتھا وہاں پر ذہنی صحت کا حاص حیال رکھا گیا پہلے لیول ریسپانس کے تحت وہاں پر پورے ملک میں" 300 ہاٹ لاین سروسیز" بنائے گئے جہاں پر اپ ملک کے کسی بھی کونے سے فون پر اپنے مسایل کے حل کے لیے مشورے لیتے تھے ۔
اسی کے ساتھ ایک دو جملو کے ہیش ٹھیگ #"Yong Xin Kang Du" اس کے معنی ہے"Use Heart To Fight The Virus" اور
کے ساتھ سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا پر ویڈیوز جارے کیے گیے تاکہ عوام میں امید جگائےاور غلط معلومات کا راستہ روکھا جا سکے ۔
چاینیز سایکولجیکل سوسیایٹی کے اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق 18،000 لوگوں میں اینزائٹی کے علامات پائے گیے ہے۔
5000 لوگوں میں پوسٹ ٹرامیٹیک سٹریس ڈیس ارڈر کے علامات پائے گئے۔
کچھ کیسسز میں خودکشی جیسے رجہانات بھی پائے گئے لیکن ان ہاٹ لاینز نے ان مسائل کو بروقت ایڈریس کردیاہے اور اگے کام جاری ہے۔ شنگائی کے ایک ماہر نفسیات نے ایک کیس کے بارے میں بتایا کہ غلط انفارمیشن نے اسے خطرناک ڈیپریشن میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ خودکشی کے قریب پہنچ گیا تھا اگے وہ کہتا ہے کہ دراصل وہ وایرس زدہ نہیں تھا لیکن اپنے خوف نے اس کی حالت اتنی خراب کر رکھی تھی کہ وہ وایرس کے بغیر موت تک چلا گیا تھا۔
اب ان سارے معلومات سے اگر ہم کچھ سیکھنا چاہے تو وہ یہ ہے کہ چونکہ کچھ اقدامات تو حکومت کے طرف سے کیے گیے ہیں تا کہ پھیلاوں کو روکھا جا سکے اور جگہوں کا بھی تعین کیا گیا ہے جہاں مریضوں کو قرنطین کیا جاسکے لیکن ان کے اندر بہت سے چیزوں کی کمی ہے لیکن پھر بھی موجودہ صحولیات کے مطابق کافی ہے ۔
لیکن غلط معلومات کا راستہ نہیں روکھا گیا لوگ اپنے طرف سے بغیر کسی تصدیق کے دھڑادھڑ سے معلومات اور ویڈیوز پیکچرز شیر کر رہے ہیں اُپر سے مین سٹریم میڈیا پر نان پروپیشنل لوگ کورونا پر لوگوں کو اگاہی دے رہے ہیں۔
ذہنی صحت کا تو بلکل بھی کوئی پالیسی ابھی تک سامنے نہیں ائی جبکہ معاشرے میں وائرس سے زیادہ تشویش، اینزائٹی اور ڈیپریشن روز بروز بڑھ رہا ہے۔
ایسے میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے خود کو نفسیاتی دباوں سے بچائے پھر اپنے سے جڑے لوگوں کو حوصلہ دے۔
احتیاطی تدابیر کو مکمل فالوکریں اور اپنے سے جڑے لوگوں کو بھی ترغیب کریں کو وہ بھی ایسا کریں۔
مصدقہ معلومات تک رسائی ممکن بنائے اور اسی پر یقین کریں خود بھی اگر کوئی چیز شیر کرنی ہو تو پہلے دیکھا جائے کہ وہ حقیقت پے مبنی ہے بھی کہ نہیں۔
جتنا ہوسکے اپنے امیون سیسٹم پر فوکس کریں اچھی غذا اور ورزش کا حیال رکھیں۔
کوشش کریں کہ سوشل میڈیا پر جتنے صحتیاب لوگ ہے ان کے سٹوریز شیر ہو نا کہ اموات اور تدفین کے۔
سوشل میڈیا کے زریعے ایک دوسرے سے جڑے رہے اور اپنے لوگوں کو زیادہ ٹایم دیں۔
تا کہ ہم اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنے اور اس وبا کا مقابلہ ایک موثر اور کارامد طریقے سے ممکن بنائے۔
فضل ماہر نفسیات--- اگر کسی کو کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو تو وہ مجھ سے بلا جھجھک رابطہ کر سکتے ہے۔