Shah public high school phandu road peshawar

Shah public high school phandu road peshawar

Share

THIS PAGE IS ONLY FOR SCHOOL ACTIVITIES.

11/02/2023
15/04/2022

صدقہ فطر

08/10/2020

تہذیب کے آداب سکھائے نہیں جاتے
شکارپورمیں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر علیحضرت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو کوئی بات کررہی ہے جبکہ موصوف واہگہ بارڈر والوں کی نقل اتاررہا ہے۔
اب ایسے لوگوں کو مرغانہ بنایاجائے تو کیاکیا جائے؟
ایک دن ہمارے سکول کے قاری صاحب ہمیں پڑھانے آئےکیونکہ کلاس ٹیچر اس دن غیر حاضر رھا۔ موصوف نےہمیں کہا کہ خودپڑھیں اور ٹانگیں اسی طرح کرسی میں رکھ کرنظارہ کشمیر پیش کرنے لگے۔
اچانک ہیڈماسٹر صاحب کمرےکے باہر سے گذرے تو اس قیامت خیز منظر پر نظر پڑی۔ واپس لوٹےاور قاری صاحب کو سلام کیا تاکہ وہ شرافت سے ٹانگیں نیچیں کریں لیکن قاری صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے تو ہڈ ماسٹر صاحب کو کہنا پڑا کہ قبلہ جنوبی اضلاع کی اس طرح نمائش بچوں کے سامنے نہ کریں۔ سیدھا بیٹھ جائیں۔تب کہیں جاکر قاری صاحب سیدھے ہوگئے۔
copied

25/09/2020

ہفتہ کے دن کی چھٹی ختم

18/07/2020

school

29/05/2020

ارشاد باری تعالٰی ہے

اے ایمان والوں اپنے آپ کوا ور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان پتھر ہیں۔ (التحریم :6)

تربیت کا اصل مرحلہ خود اپنی تربیت سے شروع ہوتا ہے،

کیوں کے وہ ہم ہی ہیں جن کی طرف روز وہ ننھی آنکھیں اٹھتی ہیں اور ہمارے عمل دیکھ کے اپنے لئے سبق لیتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے یہ کام کیسے کیا جائے؟

سب سے پہلے ماں کو اپنی ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے،

پھر اپنا اور اپنے بچوں کا اللّه سےتعلق مضبوط کرے۔

پھر حضرت محمد ﷺ کی محبت ان ک دلوں میں ڈال کر
اور قرآن کو ان کی زندگی کا اہم جز و بنا کر آگے بڑھے۔

محاسبہ

کیا میں اپنے بچوں میں اللّه کی محبت ڈال چکی ہوں؟

شعوری یا غیر شعوری طور پر کہیں میں اپنے بچوں کے دل میں دنیا کا خوف تو نہیں ڈال رہی ؟؟؟

کیا میں اپنے بچوں کو سونے چاندی سے زیادہ قیمتی سمجتی ہوں؟

کیا میں اپنے بچوں کو خود lookafter کر رہی ہوں یا آیا پر depend کر رہی ہوں؟

کیا میں ان کو اپنا قیمتی وقت دیتی ہوں؟

کرنے کا کام

بچوں کے جذبات، خیالات اور احساسات کی ویسے ہی حفاظت کرنی ہے جیسے قیمتی چیزوں کی کرتے ہیں۔

اپنے بچوں کو اللہ کی صفات سے روشناس کروائیں۔

مہمان کیا کہیں گے ٹیچر کیا کہے گی جیسے جملے اپنی گفتگو سے نکالنے ہیں...

بچوں میں صرف اور صرف اللّه کی محبت ڈالنی ہے یہی آگے چل کر تقویٰ کی بنیاد بنے گی،
ان شاءاللہ العزیز

29/05/2020

ضدی بچے…علاج کیا ہے؟

ڈاکٹر عبداللہ شاہ ہاشمی
(یہ تحریر ضد کے تمام محرکات یعنی بچے کیوں ضد کرتے ہیں اور اس کے تمام ممکنہ حل پیش نہیں کرتی تو اس بارے میں مزید پوسٹ کی جائیں گی۔ابو احمد)

اکبر بادشاہ کے دربار میں نورتن موجود تھے اور بال ہٹ (ضد) کا مسئلہ زیر بحث تھا کہ بادشاہ سلامت کہنے لگے۔بچے ضد کرتے ہیںکسی تقاضے کے پیش نظر… اس کی خواہش یا مطالبہ پورا کر دیاجائے تو ضدکا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ دبے لفظوں میں بیربل نے کہا کہ ہرمطالبہ پورا نہیں کیا جا سکتا اور بچے کی ڈیمانڈ کے پس پردہ کوئی منطق نہیں ہوتی مگر راج ہٹ اڑا رہا۔ اتفاق سے شہزادہ سلیم دربار میں آ گیا اور بابا سے مطالبہ کیا کہ مجھے انڈا لا دیں۔ بادشاہ کے درباری دوڑ پڑے اور انڈوں کے ڈھیر لگ گئے۔ اس نے پھر مطالبہ کیا کہ مجھے ہاتھی لادیں۔ بادشاہ سلامت مسکرائے اور چند منٹوں کے بعدہاتھی لادیا گیا۔ بادشاہ سلامت بچے کو خوش باش دیکھ کر جھوم گئے اور فرمایا ’’ میں نے کہا تھا ناکہ ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں۔ اب بولو! اتفاق سے شہزادہ سلیم (وہی شیخو جس کے نام پر شیخوپورہ بنا… اور بعد میں جہانگیر کے نام سے تخت پر بیٹھا) کو ایک خیال سوجھا اور کہنے لگا۔ یہ ہاتھی مجھے انڈے میں ڈال دو… اب بیربل کی باری تھی۔ کہنے لگا بادشاہ سلامت یہ کام آپ کردیں ہمارے ہاتھ ذرا میلے ہیں۔ اس قسم کے واقعات سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ بچوں کے سارے مطالبے معقول نہیں ہوتے

جب بچے سمجھ دارہو جاتے ہیں تو پھر انکے مطالبات کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔۔ اچھی تربیت ، تعمیر ، شخصیت اور تعلیم کے حصول میں ضد ایک رکاوٹ ہے۔ یہی ضد جب مطالبے پورا ہونے پر بچے کی عادت بن جاتی ہے تو ایسے بچوں کو بڑا ہونے پر بڑے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بچہ ضد کیوں کرتا ہے؟ ان کے محرکات کا کھوج لگانا ضروری ہے۔ اور یہ بھی کہ ان محرکات کی جڑیں کتنی گہری ہیں… بچوں کی نشوونما میں بچے کی وراثت اور ماحول کے اثرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

اگر بچے کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کے ہمہ پہلو تعمیر میں ایک عنصر سب سے بڑا کردار ادا کرتا ہے اور وہ ہے محبت… بچوں سے پیار کیجیے جو (اساتذہ کریں یا والدین) بھی پیارکرے گا، بچے اس کے گرویدہ رہیں گے اور اس سے ضد نہیں کریں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ والدین اور اساتذہ بچے کی محبوب ہستیاں ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ ضد بچوں کو وراثت میں بھی ملی ہے۔ گائوں کا چودھری جب یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں نے کہہ دیا نا…اب کون مائی کا لعل میری بات نہیں مانے گا تو اس کی ضد اس کے بچوں کے رگ و ریشہ میں اتر جاتی ہے۔

مڈل کلاس اور پرائمری کلاس کے بچے اس لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں کہ وہ سلیم الفطرت ہوتے ہیں اور متوازن بھی…پرخلوص ، وفادار اور محبت کرنے والے،قربانی والے، بہت سو کو اپنے اوپر ترجیح دینے والے، بڑوں کا حکم ماننے اور ان کا ادب کرنے والے… وہ تعمیل حکم بھی ایسے کرتے ہیں کہ دل میں اتر جاتے ہیں۔ بڑے بڑے گھرانوں کے بچوں کی تربیت میں توازن رہے تو مودب ہوتے ہیں اوراگر دولت یا خاندان کی برتری کا احساس بڑھ جائے تو متنفر ہو جاتے ہیں اور وہ بھی ضد کرنے لگتے ہیں۔ گھر میں ضد کی وجہ سے آ کر توڑ پھوڑ بھی کرلیتے ہیں۔

پیارکو ترستا بچہ راستے بند پا کر خود ہی مسکرالیتا ہے ۔ ایسے بچوں کو غصہ بھی زیادہ آتا ہے مگر اکثر بچے متوازن ہوتے ہیں۔ ان کے دیگر مسائل کی طرح ان کی ضد کے علاج کی کنجی والدین کے پاس ہوتی ہے۔

بچوں کی ایک قسم اور ہے۔ غصے میں تپتے، جھگڑتے بات بات پر چیخنا اور مار کٹائی پہ آمادہ، انا کے مارے یہ بچے پائوں پٹختے ہیں، دھاڑتے ہیں اور توڑ پھوڑ بھی کرتے ہیں۔ ان میں کچھ تو صاحبان اقتدار کے بچے ہوتے ہیں۔ ان کا احساس تفاخر اور احساس برتری انہیں ضد پر ڈٹ جانے پر آمادہ کرتا ہے۔ کچھ غریبوں کے بچے جن کے پاس کھانے اور کھونے کو کچھ نہیں ہوتا وہ بھی ضد کرتے ہیں۔

بچوں کی ضد کی ایک وجہ کم علمی بھی ہے۔ والدین کا بے جا لاڈ بچوں کو ضدی بنا دیتاہے۔ خصوصاً اکلوتے بچے زیادہ ضدی ہوتے ہیں۔
ضد کے عنصر کو قوی کرنے میں ماحول کا بڑا کردار ہے اس ضد کا علاج دو طرح سے ممکن ہے۔ ایک تو تعلیم کے ذریعے…آگاہی ضروری ہے کہ ناجائز لاڈ نہ دیں اور جائز ضرورتیں نہ روکیں۔ اپنے رویے میں سے جذباتیت کو خارج کردیں۔

اور دوسرا اہم علاج یہ ہے کہ بچوں کو محبت دیں۔ دل کی گہرائیوں سے انہیں چاہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں انہیں باور کرائیں کہ متوازن انسان کیا ہوتا ہے۔ اور اس کے سیرت و کردار میں ان عناصر کو نظرانداز نہ کریں جو دین فطرت دیتا ہے…۔

سوچیں آپ ضدی نہیں تھے تو آپ کے بچے کیوں ضدی ہیں؟

29/05/2020

بچوں کے دل میں سنت سے محبت کس طرح ڈالیں❓
➖➖➖💦➖➖➖

🍃 ماں جب بچے میں اچھا رویہ لانا چاہتی ہے تو ماں کو چاہیے پہلے اپنے اندر تبدیلی لائے جتنا زیادہ ماں کا خود پر فوکس ہو گا۔اتنا ہی زیادہ بچہ learning کرنے والا ہو گا۔

📕 سب سے best behavior ہمارے پیارے نبی ﷺ کا ہے

🍃بجائے اس کے کہ آپ بچوں سے کہیں ۔۔۔۔behave کرو۔۔۔یا ۔۔۔۔تمہیں سو دفعہ کہنا پڑتا ہے ۔۔۔۔تمہیں بات سمجھ کیوں نہیں آتی ۔۔۔ایسا کرنے سے بہتر ہم آج سیکھتے ہیں ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔۔۔۔

آپ بچے سے جو کام کروانا چاہتے ہیں اس کی طلب پیدا کریں ۔۔۔

🍃کتنی ہی قیمتی یا مزے کی چیز ہو بچہ بنا بھوک کے کبھی نہیں کھائے گا۔۔۔۔

اس لیے سب سے پہلے بچوں کے اندر motivational desire پیدا کریں۔۔۔

🎆سب سے پہلے بچوں میں جنت کی طلب پیدا کریں کہ جیسے ہم مستقبل کے لیے بچپن سے ان کا ذہن بناتے ہیں ۔۔۔۔۔کہ میں چاہتی ہوں تم ڈاکٹر بنو یا انجینئر بنو۔۔۔۔
اسی طرح بچوں میں جنت کا خوبصورت تصور پیدا کریں

🌹〰〰🌁〰〰🌹

۔۔۔ان کو لیکچر نہ دیں بسmotivate کریں ۔۔۔

📘 ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ بہترین مثال ہیں ۔۔

📖 سب سے پہلے ماں کو اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرے۔۔۔اگر بچہ نماز پڑھ رہا ہے تو ماں کو فخر ہونا چاہیے بجائے اس complex کہ کہ سب تو مزے سے کھیل رہے ہیں اور میرا بچہ نماز پڑھ رہا ہے ۔ ۔۔
یا سب بچیاں تو ڈیزائنر ڈریس میں ہیں اور میری بچی عبایا میں ۔۔۔۔👘👚

🍃 بچے کی سوچ بنائیں کہ ہم نے ہر کام آخرت کے لیے کرنا ہے

🍃ہم بچوں کو یہ سوچ کر حرام کام کرنے دیتے ہیں ۔کہ اس میں complex نہ آ جائے یا مس فٹ رہے گا ۔۔۔۔

📿 یاد رکھئیے جب ماں کا اللہ تعالی کی ذات پر مکمل بھروسہ ہو گا تو اللہ اس کے مشکل کئیے گئے ایک حلال کام کے لیے بہت سی راہیں کشادہ کر دے گا

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Phandu Road Baraf Khana Phandu Police Station
Peshawar