05/01/2026
سوال " کیا واقعی ہمارے اکابر قلیل تنخواہوں پر زندہ رہتے تھے۔۔❗
کیا وہ بھی ہم مولویوں کی طرح اضطراری فقر کے مارے تھے۔۔۔۔۔؟
کیا قلتِ رزق کو نیکی اور اخلاص کی علامت سمجھنا واقعی درست ہے۔۔۔۔۔؟
آئیں :- پہلے ان مثالوں کو غور سے پڑھتے ہیں جنہیں غلط طور پر "اخلاص کی دلیل" بنا کر پیش کیا جاتا ہے مگر حقیقت برعکس ہے۔
1️⃣ حضرت قاسم نانوتویؒ :- سوانح قاسمی کے مطابق آپ آٹھ/دس روپے اجرت پر مطبع میرٹھ میں کام کرتے تھے. اس وقت اتنے میں ایک بھینس خریدی جاسکتی تھی آج کے حساب سے یہ تنخواہ 200,000 کے قریب بنتی ہیں۔۔۔۔
2️⃣ شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ :- حضرت گیلانیؒ کی کتاب کے مطابق آپ کی تنخواہ 75 روپے ماہانہ تھی 50 میں گھر چلاتے، 25 دارالعلوم کو واپس کرتے اس وقت 75 روپے میں ایک مہنگی زمین کا پلاٹ خریدا جا سکتا تھا۔۔۔
3️⃣ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ. علیحدگی کے وقت تنخواہ 50 روپے تھی جب 500 روپے جمع ہوگئے تو فرمایا :- “اب مجھ پر حج فرض ہوگیا ہے. ” یعنی 10 ماہ کی تنخواہ سے حج ممکن تھا آج حج کے لئے کم از کم 13 لاکھ درکار ہیں کیا کسی مولوی کی سالانہ تنخواہ 13 لاکھ ہے۔۔۔۔❗
4️⃣ حضرت مولانا منظور نعمانیؒ :- تنخواہ 250 روپے، اور حج پر صرف 1500 روپے خرچ ہوا یعنی 6 ماہ کی تنخواہ پر۔۔۔۔۔
اخلاص ، خوشحالی کے ساتھ تھا فقر "اختیاری" تھا، "اضطراری" نہیں۔۔۔
مہنگی مسجدیں، سستا امام۔۔۔۔عظیم الشان مدرسے، محتاج معلم لاکھوں کے چندے، ہزاروں کی اجرت مہتمم صاحب کروڑ پتی، مدرس فاقہ کش۔۔۔
یاد رہے کم تنخواہ پر بھی صبر کرنا نیکی ہے اگر تمہاری تنخواہ اتنی ہے کہ تم ماں باپ، بیوی بچوں، بیٹیوں اور اپنے جسم کے بھی حقوق ادا نہ کرسکو تو تم الله کی نظر میں مجرم ہو۔۔۔۔
" کاد الفقر أن یکون کفرا" (فقر انسان کو کفر کے قریب کر دیتا ہے)
خدارا "اخلاص کا لالی پاپ" کھا کر اپنی نسلوں کو فقر میں نہ دھکیلیں دین کی خدمت کریں ، مگر ذلیل ہو کر نہیں اگر کوئی مسجد یا مدرسہ تمہیں وقت کے مطابق تنخواہ نہیں دیتا تو ساتھ دوسرا ذریعہ تلاش کرو کوئی عیب کی بات نہیں اگر تم رزقِ حلال کےلئے دکان چلاتے ہو، آن لائن پڑھاتے ہو، قرآن کا کورس چلاتے ہویہ بھی عبادت ہے، اگر نیت پاک ہو۔۔۔
یاالله علماء کرام کو فقر کے شکنجوں سے نکال اماموں، مؤذنوں، معلموں کو عزت و آرام دےاور ہمارے اداروں میں وہ روشنی بھر دیں جس سے دین کے اصل خادم پھر سے چراغ بنیں، اور امت کو اندھیروں سے نکالیں۔۔۔۔" آمین یا رب العالمین"