Pakistan Environment, Research and Development

Pakistan Environment, Research and Development

Share

The purpose of this page is yo share environment related information of Pakistan.

27/05/2026

آلائشوں کو سنبھالنا اور ٹھکانے لگانا قربانی کا حصہ ہے۔ یہ حکومت کی زمہ داری نہیں ہے۔ حکومت کے بلدیاتی ادارے صرف اس عمل میں معاونت فراہم کرتے ہیں، لیکن اصل کام عوام کا اپنا ہے۔

Photos from Pakistan Environment, Research and Development's post 26/05/2026

Ghazi Barutha Hydropower Project and its related ecological distance
غازی بروتھا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور اس سے متعلق ماحولیاتی خلل
پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس، شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور
پاکستان میں غازی بروتھا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے۔ جس کے لیے عالمی اور ایشئن ڈیولپمنٹ بینک سے سوا دو بلین ڈالر کا قرضہ لیا گیا تھا۔ یہ پراجیکٹ 2003 میں مکمل کیا گیا اور آگے سال باقاعدہ کام شروع کیا۔ اس کے دریائے سندھ سے غازی کے مقام پر پانی موڑا گیا تھا اور بروتھا کے مقام پر واپس دریائے سندھ میں ڈالا گیا۔ اس لئے یہ کہا گیا کہ دریائے سندھ کے پانی میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی۔ اور ہمیں چودہ سو پچاس میگاواٹ کی بجلی ملے گی۔ یہ بہت دلکش بیانیہ ہے۔ اور کوئی بھی اس کے لئے راضی ہو جاتا ہے۔ لیکن غاری سے بروتھا تک، جو کہ تقریباً باؤن کلومیٹر بنتا ہے، دریا سندھ کے پانی میں جو قلت آئے گی، اس کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔ کہ یہ کتنا بڑا ایکولاجیکل خلل ہے۔
پاکستان میں،چونکہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے بہت بڑے بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔ اس لئے ہمیں اس پر اب سوچنا ہوگا۔ کہ کس طرح اس بڑے ماحولیاتی بگاڑ کو، اور اس سے ہونے والے نقصان کو کم کر دیں۔
نقصانات بیان کرنے سے پہلے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس پراجیکٹ کے فیزبیلٹی رپورٹ میں متعلقہ ڈیپارٹمنٹ پر کون کونسے تخفیفی عوامل کا ذکر کیا گیا تھا۔ کیا ان پر عمل ہوتا ہے؟
اس پراجیکٹ کے تحت ارسا اور واپڈا کو دریا کی حیات برقرار رکھنے کے لیے ایک مخصوص مقدار میں پانی ایکولاجیکل فلو یا ماحولیاتی بہاؤ کی شکل میں مسلسل چھوڑنا ہوتا ہے۔ لیکن اکثر بجلی کی زیادہ طلب یا پانی کی کمی کی وجہ سے اس اصول کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ عالمی اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت کے باعث واپڈا پر سخت ماحولیاتی قوانین لاگو کیے گئے تھے۔ ان کے تحت درج ذیل قانونی معاہدے اور اقدامات طے پائے۔
ماحولیاتی بہاؤ کا معاہدہ لکھنے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جس کے تحت اٹھائیس کیوبک میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے پانی چھوڑنا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بہت کم ہے۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہو کہ مئی سے اکتوبر کے مہینوں میں کم از کم چار سو کیومیکس پانی چھوڑنا درکار ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر عمل نہیں ہو رہا۔ جس کی وجہ سے غازی بروتھا پراجیکٹ ایک بڑے ماحولیاتی خلل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اس کے علاؤہ غازی بیراج پر ایک خاص فش لیڈر، مچھلیوں کے گزرنے کا راستہ بنانا معاہدے کا حصہ تھا تاکہ مچھلیاں افزائشِ نسل کے لیے بیراج کے آر پار آ جا سکیں۔ اس پر کسی حد تک کام ہوا ہے۔ لیکن اس کے بارے میں کوئی تجزیاتی رپورٹ نہیں ہے، تاکہ معلوم ہو کہ یہ سود مند ہے یا نہیں۔
اب آتے ہیں اس کے منفی اثرات پر۔ تا کہ دیکھ سکیں کہ کون کونسے منفی اثرات ہیں، کون سے اثرات قابل تصحیح ہیں اور کونسے نہیں۔
غازی بروتھا پراجیکٹ کے ڈیزائن کی وجہ سے دریائے سندھ کے ایک مخصوص حصے، غازی سے بارین تک تقریباً 52 کلومیٹر میں پانی کا بہاؤ شدید متاثر ہوا ہے، جس کے مقامی ماحول پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں کاربن کا اخراج کم سے کم ہے۔ اس لحاظ سے اسے ماحول دوست کہا جاتا ہے، لیکن مقامی ایکو سسٹم کے لیے یہ شدید نقصان دہ ثابت ہوا ہے:
سب سے پہلے مچھلیوں اور آبی حیات پر اس کے منفی اثرات ہیں۔ اس سے مچھلیوں کی افزائشِ نسل میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ پانی کم ہونے سے مچھلیوں کے قدرتی مسکن اور ان کے انڈے دینے کی جگہیں ختم ہو گئی ہیں۔ جس سے ان کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
باؤن کلومیٹر، جس میں پانی کا بہاؤ انتہائی کم کر دیا گیا ہے۔ جس سے پانی کا درجہ حرارت پہلے سے زیادہ رہتا ہے، جو مچھلیوں کی بقا کے لیے خطرناک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مچھلیوں کی خوراک میں بھی کمی۔ آئی ہے۔ پانی کا بہاؤ رکنے سے مچھلیوں کی قدرتی خوراک، جس میں الجی اور چھوٹے کیڑے شامل ہیں، پیدا نہیں ہو پاتی۔
دوسرا بڑا مسلہ زیر زمین پانی میں کمی کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دریا خشک ہونے سے آس پاس کے علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی ہے۔ بہت سارے کنوؤں کا خشک ہو گئے ہیں۔ جس سے پینے کے پانی کا بحران پیدا ہوا ہے۔ مقامی آبادی کے کنویں اور ہینڈ پمپ خشک ہو چکے ہیں، جس سے پینے کے صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
تیسرا مسلہ زراعت سے متعلق ہے۔ دریا کے کنارے موجود زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ دریا کے دونوں اطراف کی ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں پانی کی قلت کی وجہ سے بنجر ہو چکی ہیں۔ سیلابی پانی کے ساتھ آنے والی زرخیز مٹی اب ان علاقوں تک نہیں پہنچ پاتی، جس سے زمین کی پیداواری صلاحیت کم ہو گئی ہے۔
چوتھا مسلہ جنگلی حیات اور پرندوں سے متعلق ہے۔ سب سے پہلے تو پرندوں کی نقل مکانی پر برا اثر پڑا ہے۔ خاص کر مایئگرئٹری برڈز۔ دریا سندھ ایسے پرندوں کا سیکنڈری مسکن تھا۔ جو باؤن کلومیٹر تک نہیں رہا۔ دوسرا جنگلی پودے کم ہونے لگے ہیں، خاص کر جو دریا کے کنارے اگتے تھے۔ جس سے پرندوں کے قدرتی مسکن اور خوراک میں کمی کا سبب ہیں۔
پانچواں مسلہ مقامی معیشت اور روزگار کی صورت میں نظر آتا ہے۔ دریائے سندھ کے مچھیروں اور ملاحوں کا بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ پانی کی کمی ہے اور دوسری وجہ مچھلیوں کا خاتمہ یا کمی ہے۔ نسلوں سے اس پیشے سے وابستہ ہزاروں ماہی گیر بے روزگار ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس سے کشتی رانی، سیر و تفریح کا سلسلہ بھی ختم ہوا ہے۔
چھٹا مسلہ سماجی اور ثقافتی اثرات کی صورت میں ہے۔ جس میں مذھبی اور ثقافتی رسومات قابل ذکر ہیں۔
ساتواں مسلہ گرمی کی شدید میں اضافہ ہے۔ دریا کا پانی آس پاس کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتا تھا، اب پانی نہ ہونے سے اس علاقے میں گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے۔
اب تک جو تحقیق سامنے آیا ہے، وہ زیر زمین پانی میں کمی اور زراعی پیداوار میں کمی سے متعلق ہے۔ باقی ایکولاجیکل پہلو پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ اس پر تحقیق کی جائے۔ واپڈا کو چاھیئے کہ اس کی تواتر کے ساتھ مانیٹرنگ کرے۔ اس کے علاؤہ انوائرمنٹل آڈیٹنگ، جو کہ ماحولیاتی تجزیاتی رپورٹ کا حصہ ہے، ہونی چاہیئے۔ ہو سکتا ہے انوائرمنٹل آڈیٹ سے بجلی کے پیداوار میں کمی اجائے، لیکن ایکو سسٹم بچ جائے گی۔ جو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں بہت ضروری ہے۔
Nafees Mohammad , Department of Environmental Sciences, University of Peshawar

25/05/2026

Trout is not an sustainable choice, as it is a predator and feed on other fish
ٹراؤٹ ماحول دوست مچھلی نہیں ہے، کیوں کہ یہ خود شکاری ہے۔
محمد نفیس، شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور
برصغیر پاک و ہند میں ٹراؤٹ مچھلی دریائی ایکو سسٹم میں بگاڑ کا سبب ہے، جس کی وجہ سے اس کا یہاں لانا ایک غلط فیصلہ تھا۔ اگر چہ ٹراؤٹ ایک خوش ذائقہ اور خوبصورت مچھلی ہے۔ یہ پاکستانی مچھلی نہیں ہے۔ اس کو انگریزوں نے اپنے دور حکومت میں متعارف کروایا تھا۔ اس خیال سے کہ ایک تو یہ ذائقے میں اچھا ہے اور دوسرا خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صحت افزاء مچھلی ہے۔ یہ مچھلی ٹھنڈے پانی میں بلکل صاف ستھرا ماحول میں زندہ رہ سکتا ہے۔ پانی میں آلودگی ہو یا پانی کی درجہ حرارت دس سے پندرہ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو، یہ مچھلی وہاں نہیں رہ سکتی۔ اس کے علاؤہ یہ مچھلی گوشت خور ہے۔ اور دوسرے مچھلیوں کے بچوں کا شکار کرتی ہے۔ انگریز سرکار کو یہ تو معلوم تھا کہ اس کا گزر بسر دوسرے مچھلیوں پر ہوتا ہے۔ لیکن یہ معلوم کرنے کی تکلیف نہیں کی کہ کون کونسی مچھلی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اور یہ ہے وہ نکتہ جو دریائے سوات، اپر دریائے سندھ اور دریائے کنہار میں ایکولاجیکل بگاڑ کی وجہ بنی۔ لیکن ہم نے آج تک اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکے یا کرنا ہی گورا نہیں کیا۔

برصغیر میں ٹراؤٹ مچھلی پالنے کا آغاز برطانوی دورِ حکومت میں ہوا تھا۔ انگریز افسران اپنے شوق (اسپورٹ فشنگ) اور انگلینڈ کے ماحول کی یاد تازہ کرنے کے لیے 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں اسے پہاڑی علاقوں میں لائے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پہلی کامیاب کوشش 1900ء میں جموں و کشمیر کے علاقوں، جیسے پنزگام اور دھاچی گام میں کی گئی۔ برطانوی افسر فرینک مچل نے لاکھوں انڈے یہاں کے ندی نالوں میں کامیابی سے منتقل کیے۔ گلگت میں ٹراؤٹ مچھلی کا تعارف برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ 'ایف بروس' نے جموں و کشمیر سے لا کر کیا۔ بعد ازاں چترال اور کاغان کی وادیوں میں بھی اس کا تجربہ کیا گیا۔ دریائے سوات میں ٹراؤٹ مچھلی متعارف کروانے کی پہلی کوشش برطانوی دورِ حکومت میں مالاکنڈ کے پولیٹیکل ایجنٹ ایچ آر ہے نے 1930ء میں کی تھی۔ تاہم، تکنیکی مہارت اور دیکھ بھال کی کمی کے باعث وہ ابتدائی اسٹاک زندہ نہ رہ سکا اور یہ مہم ناکام ہو گئی۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ گرمیوں میں زیادہ درجہ حرارت تھا۔ قیام پاکستان کے بعد، والی سوات کے تعاون سے مدین، سوات میں تجربہ کیا گیا۔ جو کامیاب رہا۔ اور آج تک وہاں ٹراؤٹ پالا جاتا ہے۔ ان کی بدولت آج ایشیا کا سب سے بڑا ٹراؤٹ فارم بن چکا ہے، جبکہ پاکستان میں سوات اور گلگت بلتستان کے علاقے اس کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں۔
ٹراؤٹ (خصوصاً براؤن ٹراؤٹ) ایک انتہائی جارحانہ گوشت خور مچھلی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے ٹھنڈے پانیوں میں پائی جانے والی تقریباً 10 سے 12 مقامی مچھلیوں کی اقسام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات (خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر) کے ٹھنڈے پانیوں میں مجموعی طور پر تقریباً 26 مقامی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ٹراؤٹ درج ذیل مچھلیوں کا شکار کرتی ہے یا ان سے خوراک چھین لیتی ہے۔
مہاشیر، جس کو ذولوجیکل نام ہے ٹار پٹیٹورا، یہ پاکستان کی قومی مچھلی ہے جو ٹھنڈے اور نیم ٹھنڈے پانیوں میں رہتی ہے۔ ٹراؤٹ اس کے بچوں کو کھا جاتی ہے اور اس کی نسل تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
برفانی چڑو / سنو ٹراؤٹ، ذولوجیکل نام ہے شائع تھوریکس۔ اس کو سنو ٹراؤٹ بھی کہتے ہیں۔ یہ کارپ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ براؤن ٹراؤٹ ندیوں میں اس مچھلی کے انڈے اور بچے کھا کر اس کی آبادی کو ختم کر رہی ہے۔
لوچ مچھلیاں، ندیوں کے پیندے میں رہنے والی چھوٹی مچھلیاں ہیں جو ٹراؤٹ کی پسندیدہ خوراک بن چکی ہیں۔
کیٹ فش کی مقامی ٹھنڈے پانی کی قسم ہے، اس کے کئی سپشیز ہیں جو ٹراؤٹ مچھلی کی جارحیت کا شکار ہیں۔
اس مچھلی کے جارحانہ رویے کی وجہ سے دریا کا ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ مچھلیاں جو سبزی خور ہیں اور چھوٹے پودوں اور الجی پر گزارا کرتی ہیں، پانی کی قدرتی ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ ماحولیات اب کھلے دریاؤں اور قدرتی جھیلوں، جیسے سیف الملوک یا مہودنڈ میں ٹراؤٹ کو آزادانہ چھوڑنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ٹراؤٹ کی افزائش کو صرف بند کمرشل فش فارمز اور کنٹرولڈ ہیچریز تک محدود رکھا جائے تاکہ پاکستان کے قدرتی دریاؤں کا ماحولیاتی توازن اور یہاں کی مقامی مچھلیاں محفوظ رہ سکیں۔
آج کل مہاشیر خبروں میں ہے، جس کی نسل تقریباً ختم ہونے کو ہے۔ اس کے ختم ہونے کے کئی وجوہات ہیں۔ جس میں آلودگی، حد سے زیادہ شکار، شکار کے غیر قانونی طور طریقے، زرعی ادویات کا استعمال ہے۔ ان میں سے ایک بڑی وجہ ٹراؤٹ بھی ہے۔
Nafees Mohammad , Department of Environmental Sciences, University of Peshawar

25/05/2026

Where is University of Peshawar?

X category universities of Pakistan for the year 2024-2025 according to Higher Education Commission, Pakistan

25/05/2026

تعلیم اولین ترجیح ۔ واقعی؟
پریشان داود زئے

[email protected]
اسے تعلیم بلکہ مملکت خدادا کے باسیوں کی خوش قسمتی ہی کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے ہاں انسان کی سب ۔ قسمتی ہی کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے ہاں انسان کی سب سے لازمی اور بنیادی ضرورت یعنی تعلیم ہماری ہر حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے ممکن ہے کہ بعض سنجیدہ لوگ اسے زبانی جمع خرچ کہیں لیکن ہر حکومت نے جو کچھ کیا وہ ریکارڈ پر موجود ہے ایسے میں اگر جامعہ پشاور جیسی درسگاہ اس حد تک کنگال بیٹھی ہے کہ ہر مہینے کی مقررہ تاریخ پر تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی تو درکار ابھی مٹی کی تنخواہ اور پینشن عید الاضحی کی آمد اور حکومتی فرمان کے باوجود ادانہیں کی گئیں جامعہ نے جب اپنی ساری جمع پونجی اکٹھی کر دی تو محض گریڈ 16 تک کے ملازمین کے ماہ اپریل کی پنشن کی ادائیگی کی شکل میں نمودار ہوئی یہ اب الگ بات ہے کہ جامعہ کے کلاس فور اور کلاس تھری ملازمین اب بھی اس بات پر مصر ہیں کہ یونیورسٹی کے پاس پیسوں کی کوئی کمی نہیں اکاؤنٹس بھرے پڑے ہیں لیکن وہ غریب ملازمین کیلئے نہیں بلکہ افسران کی شاہ خرچیوں کیلئے ہیں ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اس موقف کی تائید نہ کریں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کیا افسران ناکام انتظامیہ مردہ باد اور گودی می گو“ کے نعرے سنے کیلئے بیٹھے ہیں؟ دراصل یہ تعلیم کو اولین ترجیح قرار دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ کم از کم بجٹ کے ایک سو روپے میں ڈیڑھ روپیہ تعلیم کیلے مختص ہے ورنہ بصورت دیگر یہ بھی نہ ہوتا اب سوال یہ ہے کہ ڈیڑھ روپے کا حساب کتاب اور احتساب ضروری ہے یا نہیں؟ اسلامیہ کالج اور انجینئر نگ نے تو حسب سابق عید الائی پر بھی حکومتی اعلان کی پاسداری میں مئی کی تنخواہیں اور پنشن ادا کر دیں بلکہ انجینئر نگ نے تو ایک کارنامہ انجام دیتے ہوئے عید ایڈوانس کی درگور روایت بھی زندہ کر دی اب قابل توجہ امر یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ یہ دونوں درسگاہیں پشاور یونیورسٹی کے برعکس آب و تاب میں جی رہی ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کے اخراجات آمدن کے برابر یا اس سے قدرے کم ہیں؟ بعض لوگوں کے نزدیک یہ دیکھنا ہوگا کہ جس وقت جامعہ پشاور پورے صوبے کی تقریباً اکلوتی درسگاہ تھی اور صوبے بشمول قبائلی علاقہ جات تقریبا دو سوکالج امتحانات اور استاد کیلئے جامعہ سے منسلک تھے تو اسٹیبلشمنٹ سے معلوم کرنا چاہئے کہ اس وقت ملازمین کتنے تھے اور اب جبکہ پشاور یونیورسٹی کیمپس کے روڈ نمبر 2 تیک محدود رہ گئی اور صوبے میں یونیورسٹیوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے تو اب یہ تعداد کتنی ہے؟ کیا یہ وجہ تو نہیں کہ اسلامیہ کالج اور انجینئر نگ میں سولرائزیشن کی ضرورت پوری ہوگئی ہے جبکہ گاڑیوں کی ریل پیل بھی نظر نہیں آرہی ہے؟ بلا شبہ ہفتے میں تین چھٹیوں کے موقع غقیمت سے وہاں پر بھی استفادہ کیا جارہا ہے مگر اخراجات کنٹرول میں رکھے گئے ہیں اگر ایسا نہیں تو اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ ابھی کچھ عرصہ قبل سولرائزیشن کیلئے وفاقی حکمت نے جامعات کو جو گرانٹ فراہم کی ذرائع کے مطابق اس میں قدیم درسگاہ کو چھ کروڑ روپے ملے مگر یو نیورسٹی کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے کام کو دیکھتے ہوئے فطری طور پر ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آیا چھ کروڑ سے محض انتظامیہ کے دفاتر یعنی ایڈمسن بلاک کی سولرائزیش ممکن ہو سکی؟ کہا جاتا ہے کہ یہ منصوبہ 13 کروڑ روپے کا تھا مطلب سات کروڑ روپے کا انتظام یونیورسٹی کے ذمے تھا مگر یونیورسٹی جب تنخواہ اور پنشن سمیت قرضوں کی ادائیگی سے قاصر ہو تو اس قدرتی نعمت سے استفادے یعنی سولرائزیشن کیلئے سات کروڑ کہاں سے اور کیسے حاصل ہونگے ؟ یو نیورٹی اساتذہ گزشتہ ایک عشرے سے صوبے کی اعلی تعلیم یعنی جامعات کیلئے 50 ارب روپے بجٹ کا مطالبہ کر کے دھراتے جب تھک گئے تو اب بات پچاس ارب سے تمیں ارب پر آگئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آنیوالے صوبائی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کا حصہ ریاستی ترجیح کے مطابق ہو گا یا محض نام کا ؟

24/05/2026

How did the Gul Toot or paper mulberry become widespread in Pakistan?
کس طرح ایک غلط فیصلے نے پورے ملک کو مصیبت میں دھکیل دیا؟
گل توت یا پیپر ملبری پاکستان میں کیسے عام ہوا؟
پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس، شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور
پیپر ملبری پاکستانی پودا نہیں ہے۔ یہ مشرقی ایشیا کے ممالک، جیسے چین، جاپان اور تائیوان میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ 1960 کی دہائی میں جب اسلام آباد کو نئے دارالحکومت کے طور پر تعمیر کیا جا رہا تھا، تو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہر میں تیزی سے ہریالی لانے کے لیے مشرقی ایشیا سے 'پیپر ملبری کے پودے منگوائے تھے۔ انہیں تیزی سے پھیلانے کے لیے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہر بھر میں بیج پھینکے گئے تھے۔
پیپر ملبری سے بڑی مقدار میں پولن کا اخراج ہوتا ہے۔ جو انسانوں کے پھیپھڑوں میں گہرائی تک چلے جاتے ہیں، جہاں یہ دیر تک رہتے ہیں۔ جس سے شہری الرجی اور شدید دمہ کا شکار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں کئے گئے تحقیق کے مطابق 94 فیصد پولن کا ذریعہ پیپر ملبری ہے، جبکہ چھ فیصد باقی پودوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ دمہ کے علاوہ اس سے نزلہ، زکام، آنکھوں کا سرخ ہونا لاحق ہوتی ہیں۔ اسلام آباد میں تقریباً 40 فیصد آبادی اس سے متاثر ہوتی ہے۔
اس کے علاؤہ یہ ایکو سسٹم میں بگاڑ کا سبب ہے۔ یہ مقامی پودوں کے افزائش نسل کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی جڑیں تیزی سے پھیلتی ہیں اور یہ مقامی درختوں جیسے کچنار، زیتون اور زردہ وغیرہ کے پانی اور خوراک کو چھین لیتا ہے جس سے پرندوں اور چھوٹے جانوروں کا فوڈ چین متاثر ہوتا ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے، کہ جنوبی ایشیا کے ممالک سے پیپر ملبری کے بارے میں کوئی خاص شکایت سننے میں نہیں اتی۔ پاکستان میں اس سے لوگ کیوں تنگ ہے؟ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ وہاں پر اس پودے کی قدرتی بیماریاں موجود ہیں۔ جو اس کے افزائش نسل کو قابو میں رکھتے ہیں۔ اس کے چین، جاپان اور فلپائن میں اس درخت کی چھال سے روایتی کاغذ اور کپڑا بنایا جاتا ہے۔ اس کی تجارتی اور صنعتی مانگ کی وجہ سے مقامی لوگ اس کی کٹائی اور دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں جس سے یہ بے قابو میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں نہ اس کا حیاتیاتی کنٹرول موجود ہے اور نہ ہی اس سے کوئی صنعت منسلک ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی آبادی قابو سے باہر ہے۔
اسلام آباد میں پیپر ملبری کو تلف کرنے کے لئے باقاعدہ عدالت اجازت لی گئی ہے۔ سی ڈی اے نے ان نقصان دہ درختوں کو بتدریج کاٹنے اور جڑ سے اکھاڑنے کا کام شروع کیا ہے۔ کاٹے جانے والے ہر درخت کی جگہ مقامی اور صحت افزا درخت، جیسے زیتون، بکیان اور شیشم لگائے جا رہے ہیں۔
پیپر ملبری کا پاکستان میں لگانا ایکو سسٹم میں بے جا مداخلت کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ ہم نے ایک سال کے اندر اندر ہریالی پھیلانے کا حدف تو حاصل کیا۔ لیکن آج لاکھوں روپئے اس کو ختم کرنے پر خرچ کر رہے ہیں۔ اس سے بچنے کے ویکسین لگاتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر اسلام آباد سے مارچ اور اپریل کے مہینے میں مائیگریشن کرتے ہیں۔ جس پر الگ سے لاکھوں روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ چھ دہائیاں گزر گئی لیکن پیپر ملبری قابو میں نہیں ایا۔
بڑی وجہ یہ تھی کہ بغیر کسی تحقیق کے یا ماہر نباتات یا ماہر ماحولیات سے مشاورت کر کے یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ کہ اسلام آباد کو کس طرح ایک سال کے اندر اندر سر سبز بنائیں۔ اسلام آباد تو سر سبز بن گیا، لیکن پیپر ملبری پورے پاکستان میں پھیل چکی ہے۔ اور اب پورا پاکستان اس سے متعلقہ بیماریوں میں مبتلا رہیں گے۔
Nafees Mohammad , Department of Environmental Sciences University of Peshawar

Plastic Waste in Pakistan 24/05/2026

Plastic Waste in Pakistan
Dr. Mohammad Nafees Professor Department of Environmental Sciences University of Peshawar 2023.

Plastic Waste in Pakistan Plastic Waste in Pakistan. Dr. Mohammad Nafees Professor Department of Environmental Sciences University of Peshawar 2023.

Photos from Pakistan Environment, Research and Development's post 23/05/2026

A story of five cows 🐄 🐮 🐄 🐄 🐮
Destruction of Amsterdam Island Ecosystem and its Restoration.
ایمسٹرڈیم آئی لینڈ کی کہانی: ایکو سسٹم میں بگاڑ اور اس کی بحالی
تحریر ڈاکٹر محمد نفسِ، شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور
فرانس کے حدود، بحیرہ ہند میں ایک جزیرہ ہے جو ایمسٹرڈیم آئی لینڈ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ جزیرہ آتش فشاں کے دہانے پر بنا ہے، اس لئے سمندر سے اونچائی پر ہے۔ اس کا کل رقبہ باؤن مربع کلومیٹر ہے۔ اس جزیرے پر کوئی انسانی آبادی نہیں ہے۔ لیکن یہ بہت زرخیز اور سر سبز ہے۔ یہاں پر بہت خوبصورت پرندے رہتے تھے۔ کوئی خونخوار جانور یہاں موجود نہیں تھا۔ جو چھوٹے موٹے جانور تھے، ان کے لئے جزیرے پر وافر مقدار میں خوراک دستیاب تھا۔ جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ بہت محفوظ جزیرہ ہے۔
1871 میں ایک فرانسیسی کسان نے اس پر رہنے کا ارادہ کر لیا۔ اس خیال سے کہ یہاں پر خود محنت کر کے زندگی گزارے گا۔ وہ اپنے ساتھ ضروری سامان لے ائے، جس میں پانچ گائے بھی تھی۔ اور وہاں رہنے لگا۔
کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں زندگی بہت مشکل ہے۔ ہر وقت طوفان اور تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ کبھی کبھار سمندر بھی آپے سے باہر ہوتا۔ جس سے جزیرے پر بہت زیادہ پانی آجاتا۔ اس نے بمشکل سات ماہ ادھر گزارے، جس کے دوران کسان کو احساس ہوا کہ یہ جگہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لئے اس نے واپسی کا ارادہ کر لیا۔
جاتے ہوئے وہ سارا سامان بمع پانچ گائے کے، وہاں پر چھوڑ دیئے۔ اس کا خیال تھا کہ خود ہی کسی طوفان کے زد میں آکر ختم ہو جائے گی۔ لیکن اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔
1950 تک وہاں کوئی نہیں گیا۔ انسانوں کی عدم موجودگی، خوراک کی قدرتی دستیابی اور شکاریوں کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ کر 1950ء کی دہائی تک 2000 کے قریب ہو گئی۔ چونکہ یہ گائے اس جزیرے کے قدرتی ماحول اور مقامی پودوں کے لیے خطرہ بن رہی تھیں، فرانسیسی حکام نے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے 2010ء میں اس جنگلی گائے کی پوری نسل کے خاتمےکا فیصلہ کیا۔
یہ گائے اس جزیرے کے قدرتی ماحول اور مقامی پودوں کے لیے خطرہ بن رہی تھیں. ایمسٹرڈیم آئی لینڈ پر گایوں کی بڑی تعداد نے وہاں کے نازک اور منفرد ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا تھا یہ نئی شاخوں اور پودوں کو کھا جاتی تھیں، جس سے یہ جنگلات ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے۔ ہزاروں گایوں کے چلنے پھرنے اور چرنے کی وجہ سے جزیرے کا قدرتی سبزہ اور پودے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
دللی زمین یعنی ویٹ لینڈز مکمل ختم ہونے کے قریب تھا۔ گایوں کے بھاری وزن اور کثرت کی وجہ سے جزیرے کی مٹی سخت ہو گئی اور وہاں موجود قدرتی دلدلی نظام ویٹ لینڈ خشک ہو گیا۔ پودے ختم ہونے سے مٹی کمزور ہو گئی، جس سے تیز بارشوں کے دوران مٹی کا کٹاؤ شروع ہو جاتا اور زمین بنجر ہونے لگی تھی۔
مقامی پرندوں کا بہت نقصان ہوا۔ کیوں کے وہاں کے پرندے زمین پر گھونسلے بناتے تھے۔ یہ جزیرہ نایاب پرندوں، خصوصاً ایمسٹرڈیم الباٹراس کی افزائشِ نسل کا واحد ٹھکانہ ہے۔ گائے ان پرندوں کے زمین پر بنے گھونسلوں اور انڈوں کو پیروں تلے کچل دیتی تھیں۔ گایوں کے فضلے اور ان کی لاشوں کی وجہ سے جزیرے پر موجود مٹھے پانی کے قدرتی چشمی اور ندیاں شدید آلودہ ہو گئیں تھی۔ جس سے دیگر مقامی جانداروں کو پینے کا صاف پانی ملنا بند ہوا تھا۔
فرانسیسی حکام اور ماہرینِ ماحولیات نے جزیرے کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی نظام کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے۔
شجرکاری اور مقامی درختوں کی بحالی
واحد مقامی اور نایاب درخت 'فائلیکا' جو گایوں کی وجہ سے محض 0.2 فیصد حصے پر رہ گیا تھا، اسے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر نرسریاں قائم کی گئیں۔ سائنسی بنیادوں پر ان نئے پودوں کو تیز ہواؤں اور دیگر خطرات سے بچانے کے لیے حفاظتی باڑیں لگائی گئیں تاکہ جنگل دوبارہ پھیل سکے۔ایمسٹرڈیم میں انتہائی نایاب پرندے 'ایمسٹرڈیم الباٹراس، جس کی دنیا میں آبادی محض چند درجن رہ گئی تھی، کے لیے ایک طویل مدتی مانیٹرنگ اور افزائشِ نسل کا منصوبہ شروع کیا گیا۔
گایوں کے بعد جزیرے پر موجود بیرونی چوہے اور بلیاں پرندوں کے انڈوں اور چوزوں کے لیے اگلا بڑا خطرہ تھے۔ حکام نے جزیرے کو ان سے پاک کرنے کے لیے باقاعدہ مہمات، جیسے 2024ء کا بحالی پروگرام) ترتیب دیں۔
ان تمام ماحولیاتی کوششوں کے نتیجے میں 2019ء میں یونیسکو نے ایمسٹرڈیم آئی لینڈ سمیت دیگر فرانسیسی جنوبی جزائر کو عالمی قدرتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا، تاکہ یہاں مستقبل میں کسی بھی قسم کے بیرونی جاندار کو لانے پر سخت پابندی برقرار رہے۔

Nafees Mohammad , Department of Environmental Sciences, University of Peshawar

23/05/2026

🔥 South Asia will remain hot during June and July this Year
ساوتھ ایشیاء اس سال جون جولائی میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گی۔
اس سال (2026) جون اور جولائی میں ساوتھ ایشیاء (بشمول پاکستان) میں موسم شدید گرم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
موسمیاتی صورتحال اور پیشگوئی:
شدید درجہ حرارت: خطے کے بیشتر حصوں، جیسے سندھ، پنجاب، اور بھارت کے میدانی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا اور گرمی کی شدید لہریں متوقع ہیں۔
مون سون کی صورتحال: ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس سال جون سے ستمبر کے دوران مجموعی طور پر معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں۔
اس کی وجہ دو موسمی عوامل بتائی جاتی ہے۔ ایک تو بحرالکاہل میں 'ال نینو' کے اثرات اور بحرِ ہند کے مخصوص موسمی حالات کے باعث موسم خشک اور گرم رہے گا۔ دوسری بڑی وجہ ساؤتھ ایشیاء پر ہیٹ ڈوم موجود ہونا ہے۔ یہ دونوں موسمی حالات گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کی وجہ ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائڈ تو پہلے سے فضاء کو گرم رکھے ہوئے تھا۔ لیکن اب اس کے ساتھ میتھین گیس بھی شامل ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ نے فضا کے نچھلے سطح کو گرم
رکھا ہوا ہے۔ جبکہ میتھین گیس ہلکا ہونے کی وجہ سے فضاء کے اوپر کی سطح کو گرم رکھتا ہے۔ جس کو اپر ٹروپوسفیر بھی کہتے ہیں۔
ان دونوں گیسوں کی مجموعی عمل سے ساؤتھ ایشیاء ہیٹ ڈوم کا شکار ہے۔
Mohammad Nafees, Department of Environmental Science, University of Peshawar

23/05/2026

Pink color frog of Australia
آسٹریلیا کے گلابی رنگ کے مینڈک
تحریر و تدوین: پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس، شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور
یہ واقعہ آسٹریلیا میں 1953 میں پیش آیا تھا، جہاں کین ٹوڈ نامی مینڈکوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا ماحولیاتی مسئلہ کھڑا ہوا تھا۔ آسٹریلوی حکومت نے لاطینی امریکہ سے گلابی رنگت والے مینڈکوں کو بڑی تعداد درآمد کئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ گنے کے فصل کو کین بیٹل نامی کیڑے سے بچائے۔ دوسری بات یہ تھی کہ یہ مینڈک خوبصورت بھی تھی۔ بعد میں یہ فیصلہ ماحولیاتی لحاظ بہت نقصان دہ ثابت ہوا۔ جس کے کئی وجوہات تھے۔
پہلی بات یہ کہ یہ مینڈک ان کیڑوں کو کھانے کے بجائے ہر وہ چیز کھا جاتے تھے جو ان کے منہ میں آتی تھی۔ جس کی وجہ سے مفید کیڑے بھی کم ہونے لگے تھے۔
دوسری بات یہ کہ ان کے جسم میں زہر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے آسٹریلیا کے مقامی جانور، جیسے سانپ اور کچھ شکاری پرندے انہیں کھا کر مرنے لگے۔ جس سے ایکو سسٹم میں بگاڑ نظر آنے لگا تھا۔
تیسری بات یہ کہ ان کی افزائشِ نسل بہت تیز تھی۔ جس کی وجہ سے اس کی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور پورے ملک میں پھیل گئے۔ آج بھی اس کو ایک خطرناک اور ناپسندیدہ ترین آفت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اس بے قابو صورتحال کی وجہ سے حکومت کو انہیں تلف کرنے کی مہم چلانی پڑی اور عوام بھی اپنے طور پر انہیں تلف کرنے پر مجبور ہوئے۔ تقریباً دو تین سال کے مسلسل جدو جہد کے بعد اس کو آسٹریلیا سے ختم کیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاطینی امریکہ میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
لاطینی امریکہ، جیسے برازیل، وینزویلا اور پیرو وغیرہ میں یہ مینڈک آج بھی موجود ہیں، لیکن وہاں یہ کوئی مسئلہ یا آفت نہیں بنتے۔ سائنسی زبان میں اسے "ماحولیاتی توازن" کہا جاتا ہے، جو چیک اینڈ بیلنس سے وجود میں آتا ہے۔
پہلی وجہ یہ تھی کہ وہاں پر اس مینڈک کی آبادی کو قابو کرنے کے لیے قدرتی شکاری موجود تھے۔ لاطینی امریکہ کے مقامی جانور، جیسے سانپ، مگرمچھ، بڑی چھپکلیاں اور پرندے ان مینڈکوں کے ساتھ لاکھوں سالوں سے رہ رہے ہیں۔ ان جانوروں کے جسم میں اس مینڈک کے زہر کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ آسانی سے اس کا شکار کر لیتے ہیں۔ اور اس کی آبادی قابو میں رکھتے ہیں۔
کچھ شکاری جانوروں کو معلوم ہے کہ اس مینڈک کو کس طرح کھانا ہے۔ اصل میں زہر اس کے جلد میں ہوتی ہے۔ کچھ شکاری جانور جلد کو چھوڑ دیتے ہیں اور باقی مینڈک کھا جاتے ہیں۔
آسٹریلیا کے جانوروں نے زندگی میں پہلی بار یہ مینڈک دیکھا تھا، اس لیے وہ اس کا زہر برداشت نہ کر سکے اور نہ ہی کھانے کا طریقہ سیکھا تھا، اور کھاتے ہی مر جاتے۔
دوسری وجہ بیماریوں اور طفیلیوں کا کنٹرول تھا۔لاطینی امریکہ میں ایسے مخصوص جراثیم، وائرس، کیڑے اور طفیلیے پائے جاتے ہیں جو ان مینڈکوں پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں بیمار کر دیتے ہیں۔ یہ بیماریاں مینڈکوں کی آبادی کو ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیتیں۔
جب ان مینڈکوں کو آسٹریلیا لے جایا گیا، تو وہ اپنے ان "قدرتی دشمنوں" اور بیماریوں کو پیچھے چھوڑ گئے، جس کی وجہ سے انہیں آسٹریلیا میں کھل کر پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔
تیسری وجہ خوراک اور وسائل کے لیے سخت مقابلہ تھا ۔ اپنے آبائی وطن میں ان مینڈکوں کا مقابلہ دوسری مقامی اقسام کے مینڈکوں اور جانداروں سے ہوتا تھا۔ وہاں خوراک اور رہنے کی جگہ کے لیے سخت مقابلہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی تعداد کنٹرول میں رہتی ہے۔ آسٹریلیا میں انہیں کوئی سخت مقابلہ کرنے والا نہیں ملا۔
چوتھی وجہ آبادی کی کثافت تھی۔ تحقیق کے مطابق، لاطینی امریکہ میں ان مینڈکوں کی آبادی آسٹریلیا کے مقابلے میں صرف 1 سے 2 فیصد ہے۔ یعنی جہاں آسٹریلیا میں ایک ہی جگہ سینکڑوں مینڈک نظر آتے ہیں، وہاں لاطینی امریکہ میں یہ بمشکل ایک یا دو نظر آتے ہیں۔ کم عرصے میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک مسلہ بن گیا۔
یہ قدرت کا ایک اصول ہے: کوئی بھی جاندار اپنے قدرتی ماحول میں آفت نہیں بنتا، لیکن جب اسے کسی ایسے نئے ماحول میں چھوڑ دیا جائے جہاں اس کا کوئی دشمن نہ ہو، تو وہ وہاں تباہی مچا دیتا ہے۔
Mohammad Nafees, Department of Environmental Science, University of Peshawar

22/05/2026

Japan's rowdy parrots are causing problems for the local environment
جاپان کے شرارتی طوطے
جاپان میں طوطوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ اس لئے 1960 کی دہائی میں جاپان نے روز-رِنگڈ پیراکیٹ نامی طوطے درآمد کئے۔ یہ طوطے بہت شور مچاتے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر مالکان جب ان کے شور سے تنگ آتے تو وہ اسے چھوڑ دیتے۔ کچھ لاپرواہی سے بھی نکل جاتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ طوطے جاپان کے ماحول میں ڈھل گئے اور ان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ اس کے علاؤہ تین مشہور قسمیں، جس میں ایمیزون طوطا، کاکاٹو، میکاؤ بھی درآمد کرتے ہیں۔ جاپان والے پرندوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔ 2015 کے اعداد وشمار کے مطابق جاپان میں 40 سے زائد غیر ملکی پرندوں کی نسلیں افزائش پا رہی ہیں۔ یہ طوطے جاپان کے سرد موسم میں بھی زندہ رہنے کے قابل نکلے اور ان کی آبادی ٹوکیو، اوساکا اور ناگویا جیسے بڑے شہروں میں مستقل طور پر یہاں کے رہائشی بن گئے۔
بعد میں اس کے منفی نتائج سامنے آنے لگی۔ جیسا کہ یہ مقامی پرندوں کے لیے خطرہ بن گئے۔ یہ طوطے ان کے گھونسلوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اپنے غول کی شکل میں مقامی پرندوں کو خوراک کے حصول اور گھونسلے بنانے سے روکتے ہیں۔ جس سے ان کے اپنے پرندے کم ہونے لگے۔ جس کا ایکو سسٹم پر برا اثر پڑنے لگا۔

اس کے علاؤہ یہ زراعت اور انفراسٹرکچر کا نقصان کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ طوطے باغات میں پھل، فصلیں اور بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسلہ تب گمبھیر صورتحال اختیار کر گیا جب ٹی وی، انٹر نیٹ کے کیبل کو کترنے لگے۔ اب یہ طوطے جاپان کے شہری علاقوں کے لیے ایک جنجال بنے ہوئے ہیں۔

جاپان کے حکومت نے ان طوطوں کو قانونی تحفظ دے رکھی ہے۔ ان کے ناگوار اثرات کے باوجود جاپان کے سخت وائلڈ لائف پروٹیکشن قوانین کے تحت انہیں ہلاک کرنا جرم ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر جاپانی حکام کے لیے ان طوطوں کا خاتمہ یا ان کی تعداد کو کنٹرول کرنا ایک پیچیدہ ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی عمل دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا۔ جاپان میں پالتو جانوروں کی تجارت کے لیے پرندوں کی درآمدی پالیسیاں "حیوانی صحت کے تحفظ کے قوانین" کے تحت چلائی جاتی ہیں۔۔ اور غیر قانونی جنگلی پرندوں کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی معاہدوں, جیسے سائٹ پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ اس لئے مزید پرندے درآمد نہیں کرتے، یا بہت کم کرتے ہیں، لیکن جو پرندے درآمد کئے ہیں، ان سے کافی تنگ ہیں۔ لیکن ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی وجہ سے وہ ان پرندوں کے ساتھ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔

Nafees Mohammad , department of environmental science, University of Peshawar

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Peshawar

Opening Hours

Saturday 08:00 - 16:00
Sunday 09:00 - 17:00