10/01/2025
پچھلے کئی دنوں سے باجوڑ اور خصوصی طور پہ سلارزو کی سرزمین پہ ہر آئے دن امن کی صوررتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔پہلے ملاسید بانڈہ میں حالات خراب ہوئے جو ابھی تک کشیدہ ہے۔ان کشیدہ حالات کیوجہ سے کئی لوگوں کو نقل مکانی بھی کرنی پڑھی۔دن دیہاڑے بازاروں میں عام عوام پولیس اہلکار اور پولیو ورکرز نامعلوم لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوجاتے ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک بات ہم واضح طور پہ ریاست کے سامنے رکھنا چاہتے ہے ہم بحیثیت قوم کسی صورت اپنا علاقہ چھوڑنے کو تیار نہیں اور نہ ہی ہم اپنے خطے میں جنگ مسلط کرنے کو تیار ہے۔جہاں پہ ٹارگٹد آپریشن کی ضرورت ہے وہاں پہ ہمارے سیاسی و قومی مشران کو اعتماد میں لیا جائے۔ہم امن کی خاطر اور پاکستان کی خاطر اپنے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہے لیکن امن جس کی ذمہ داری ہے ان سے سوال کرنا ہر شہری کا قانونی و آئینی حق ہے۔
قابل غور سوالات
1)ملاسید بانڈہ کوئی سرحدی علاقہ نہیں بلکہ سلارزو کے بیچ میں واقع ہے اس کے ارد گرد کئی تعداد میں چیک پوسٹس موجود ہے۔اتنی سیکورٹی اور چیک پوسٹس ہونے کے باوجود وہاں حالات کیسے خراب ہوئے۔
2)کئی دنوں سے باجوڑ میں چیک پوسٹس کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ چیک پوسٹس پہ حملوں کے باوجود ، ان الرمنگ حالات کے باوجود شام کے بعد سارے چیک پوسٹس کیوں خالی ہوتے ہے؟
3)باجوڑ کے تمام سرحدی علاقوں اور باجوڑ کے داخلی اور خارجی راستوں پہ سیکیورٹی CP’s موجود ہے پھر امن خراب کرنے والے لوگ اور بارود کہا سے آتی ہے؟
ہمارے امن اور سیکیورٹی ایشوز کے حوالے سے ذمہ داران قوم کو اعتماد میں لے نہیں تو ہم ترکانی اور اتمانخیل قوم کا مشترکہ دھرنے کی کال دینگے جس میں پوری قوم ہمارے ساتھ ہوگی۔دھرنے میں باجوڑ کی مرکزی شاہراہ اور تمام روستوں کو بند کیا جائے گا۔ہم ہر اس سوال کا جواب مانگے گے جسکا حق آئین دیتا ہے۔
منجانب:سلارزو یوتھ