24/09/2024
‼️ گستاخی اور کف-ر کے فتوے لگانے میں بے احتیاطی کی شدید مذمت 1️⃣
کسی مسلمان کو کافر قرار دینے میں نہایت ہی احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ بلاوجہ سے کسی مسلمان کو کافر قرار دینا نہایت ہی سنگین جرم ہے، احادیث میں اس کی شدید مذمت آئی ہے۔ اس لیے اس معاملے میں جلد بازی اور بے احتیاطی نہایت ہی مضر اور خطرناک ہے۔ امت کے جلیل القدر اہلِ علم کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں نہایت ہی احتیاط اور مکمل تحقیق فرماتے ہیں، اس کے متعلقہ تمام پہلوؤں پر غور وفکر بعد اگر کسی شخص کا کف-ر یقینی طور پر ثابت ہوجاتا ہے تو کف-ر کا فتویٰ دیتے ہیں، اور جہاں کوئی معقول اور معتبر تاویل کسی کو کف-ر سے بچانے میں مفید ثابت ہوتی ہے تو اسی کو اختیار فرماتے ہیں۔
چنانچہ حضرت علامہ شامی رحمہ اللّٰہ نے فتاوٰی شامی میں لکھا ہے کہ: اگر ستّر اقوال اس بات پر متفق ہوں کہ فلاں قول یا فعل کی وجہ سے کوئی مسلمان کاافر ہوچکا ہے، لیکن ایک روایت اگرچہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو اس سے معلوم ہورہا ہو کہ وہ کاافر نہیں ہوا تو قاضی اور مفتی کو چاہیے کہ وہ اس ایک روایت کو لے لے اور ان ستّر اقوال کو چھوڑ دے۔
بل قالوا: لو وجد سبعون رواية متفقة على تكفير المؤمن، ورواية ولو ضعيفة بعدمه يأخذ المفتي والقاضي بها دون غيرها. (رد المحتار: کتاب الطهارة)
جاری ہے۔۔۔۔
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن