Iqra online quran academy for ladies

Iqra online quran academy for ladies

Share

We provide online teaching of quran for ladies

24/09/2024

‼️ گستاخی اور کف-ر کے فتوے لگانے میں بے احتیاطی کی شدید مذمت 1️⃣

کسی مسلمان کو کافر قرار دینے میں نہایت ہی احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ بلاوجہ سے کسی مسلمان کو کافر قرار دینا نہایت ہی سنگین جرم ہے، احادیث میں اس کی شدید مذمت آئی ہے۔ اس لیے اس معاملے میں جلد بازی اور بے احتیاطی نہایت ہی مضر اور خطرناک ہے۔ امت کے جلیل القدر اہلِ علم کا یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں نہایت ہی احتیاط اور مکمل تحقیق فرماتے ہیں، اس کے متعلقہ تمام پہلوؤں پر غور وفکر بعد اگر کسی شخص کا کف-ر یقینی طور پر ثابت ہوجاتا ہے تو کف-ر کا فتویٰ دیتے ہیں، اور جہاں کوئی معقول اور معتبر تاویل کسی کو کف-ر سے بچانے میں مفید ثابت ہوتی ہے تو اسی کو اختیار فرماتے ہیں۔
چنانچہ حضرت علامہ شامی رحمہ اللّٰہ نے فتاوٰی شامی میں لکھا ہے کہ: اگر ستّر اقوال اس بات پر متفق ہوں کہ فلاں قول یا فعل کی وجہ سے کوئی مسلمان کاافر ہوچکا ہے، لیکن ایک روایت اگرچہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو اس سے معلوم ہورہا ہو کہ وہ کاافر نہیں ہوا تو قاضی اور مفتی کو چاہیے کہ وہ اس ایک روایت کو لے لے اور ان ستّر اقوال کو چھوڑ دے۔
بل قالوا: لو وجد سبعون رواية متفقة على تكفير المؤمن، ورواية ولو ضعيفة بعدمه يأخذ المفتي والقاضي بها دون غيرها. (رد المحتار: کتاب الطهارة)
جاری ہے۔۔۔۔

✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن

12/09/2024

--------------------------------------

رسول اللہ، خاتم الانبیاء، محمد مصطفی ﷺ کے وصالِ کا واقعہ

🌹 پہلی قسط:-

کائنات کی سب سے زیادہ دُکھ بھری داستان جس کے سننے یا پڑھنے سے دل خون کے آنسو روتا ہے جسکے لکھنے کے لئیے قلم اٹھانے اور چلانے کی ہمت نہیں رہتی.
جسکی تفصیل کچھ یُوں ہے کہ جب 11 ہجری کا ماہ ربیع الاوّل شروع ہوا۔ یہ وہی مہینہ تھا جس میں 63 برس پہلے نبی رحمت ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی وجہ سے اس کائینات میں بہار آئی تھی مگر اب کی بار ماہ ربیع الاوّل میں بہار نہیں بلکہ پیغامِ خزاں لے کر آیا تھا۔ اس ماہ کے شروع ہونے سے پہلے ہی نبی کریم ﷺ بیمار ہو گئے تھے۔10 یا 11 ربیع الاوّل تک آتے آتے جسمانی کمزوری کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ آپ ﷺ خود سے چل بھی نہیں سکتے تھے۔
پیر کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ کا پردہ اٹھایا دیکھا کہ لوگ صف باندھے ہوئے صبح کی نماز میں مشغول ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے، چہرہ انور کا یہ حال کہ گویا کتاب کا ایک ورق ہے یعنی بالکل سفید ہو گیا ہے۔ ادھر صحابہ رضی اللہ عنہم کی انتہائی خوشی سے یہ حالت کہ کہیں نماز نہ توڑ ڈالیں۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ نماز پوری کرو۔ ضعف اور ناتوانی کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ کھڑے نہ ہو سکے حجرہ کا پردہ ڈال دیا اور اندر واپس تشریف لے گئے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پردہ اٹھا کر نمازیوں کی طرف دیکھنا یہ چہرہ انور کی آخری جلوہ افروزی تھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے جمالِ نبوت کی زیارت کا آخری موقع تھا۔
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو سیدھا حجرہ مبارکہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اب سکون ہے جو تکلیف اور بے چینی پہلے تھی وہ اب جاتی رہی۔
اور چونکہ یہ دن صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دو بیویوں میں اس بیوی کی نوبت کا دن تھا جو مدینہ سے کچھ دُور فاصلہ پر رہتی تھی۔ تو صدیق اکبر رضی اللہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا:
اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے اللہ کی نعمت اور فضل سے اچھی حالت میں صبح کی ہے۔ اور آج میری ایک بیوی حبیبہ بنت خارجہ کی نوبت کا دن ہے اگر اجازت ہو تو وہاں ہو آؤں؟؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں چلے جاؤ۔
اور دوسرے لوگوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکون ہے تو وہ بھی اپنے گھروں کو واپس ہو گئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی جب حجرہ مبارکہ سے باہر آئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزاج دریافت کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا بحمد اللہ اب اچھے ہیں۔لوگ مطمئن ہو کر منتشر ہو گئے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے علی! اللہ کی قسم تین دن کے بعد تو عبدالعصا (لاٹھی کا غلام) ہو گا یعنی اور کوئی صحابی حاکم مقرر ہو گا۔ اور تم اس کے محکوم ہو گے،اللہ کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بیماری میں وفات پائیں گے بہتر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کون خلیفہ ہو گا؟ اگر ہم میں ہو گا تو معلوم ہو جائے گا۔ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ہمارے بارے میں وصیت فرما دیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے متعلق انکار فرما دیں تو پھر ہم ہمیشہ کے لیے اس سے محروم ہو جائیں گے، اللہ کی قسم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں ایک حرف بھی نہ کہوں گا۔
(📚سیرت مصطفی بحوالہ البدایہ والنہایہ)

*عالمِ نزع* ۔
لوگ تو یہ سمجھ کر کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ اور سکون ہے منتشر ہو گئے، کچھ دیر نہ گزری تھی کہ عالم نزع شروع ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آغوش میں سر رکھ کر لیٹ گئے، اتنے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ہاتھ میں مسواک لیے آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف دیکھنے لگے، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا آپطکے لیے مسواک لے لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا: ہاں! میں نے کہا اس کو نرم کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا: ہاں! میں نے چبا کر وہ مسواک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی۔
اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بطورِ فخر اور نعمت پر شُکر ادا کرنے کی نیّت سے یہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ نے آخر وقت میں میرا آبِ دہن(لعاب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آبِ دہن کے ساتھ ملا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات میرے حجرہ میں اور میری نوبت کے دن میں اور میرے سینے اور ہنسلی کے درمیان ہوئی۔
(📚سیرت مصطفی ﷺ ج 3)

🖌 پوسٹ جاری ہے۔۔۔۔ خوب غور سے اور محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر پڑھنے کے بعد آگے شئیر کیجئیے گا

🥀 دعاؤں کا محتاج
مفتی محمد حسن

08/09/2024

مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اسکے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائیگی ، پھر کہا گیا اردو کے لئے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک دبایا تو ایک صاحبزادے گویا ہوئے
*This is kamran, how can I help you?
ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحبزادے ! ہم نے تو اردو کے لئے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے اسکے باوجود یہ انگریزی ؟

فرمانے لگے "جی بولیے ؟"

ہم نے کہا،" بولتے تو جانور بھی ہیں انسان تو کہتا ہے"

جواباً ارشاد ہوا ,"جی کہیے،"

ہم نے کہا ،" ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہئے تھا " فرمائیے! “

اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے, “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“

ہم نے کہا ,"ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے،"

اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا," سر میں سمجھ گیا آپ شکایت بتائیں،

ہم نے کہا," سر نہیں جناب, اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے،

شکایت سنے کے بعد کہا، "جی ہم نے آپ کی شکایت نوٹ کرلی ہے اسے کنسرن ڈپارٹمنٹ کو فارورڈ کردیتے ہیں،"

ہم نے کہا، " کیا. ۔۔۔!!"

تو واقعتاٌ بوکھلا گئے، ہم نے کہا," شکایت نوٹ نہیں بلکہ درج کرنی ہے اور متعلقہ شعبہ تک پہنچانی ہے اس لیے کہ ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے ۔

کہنے لگے," جناب میں سیٹ سے اٹھ کر کھڑے کھڑے بات کر رہا ہوں آپ نے اردو کے لئے ایک نہیں ہمارا گلا دبایا ہے."

ہم نے کہا، “ ابھی کہاں دبایا ہے، آپ سیٹ سے کیوں اٹھے, آپکو نشست سے اٹھنا چاہئے تھا، پتہ نہیں ہے آپ کو ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے ۔

کہنے لگے “ اب میں رو دوں گا!“

ہم نے کہا ,"ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور ستھرا لہجہ بتارہا ہے کہ آپ کا تعلق اردو گفتار گھرانے سے ہے مگر کیا افتاد پڑی ہے آپ پر کہ منہ ٹیڑھا کرکے اپنا مذاق بنوا رہے ہیں ۔!
کہنے لگے," میرے باپ کی توبہ....!!

(اقبال اے رحمان)

05/09/2024

‼️ حق جماعت اہل السنۃ والجماعۃ کے چند بنیادی اَوصاف

قرآن وسنت، حضرات صحابہ کرام اور شرعی دلائل کی روشنی میں اہل السنۃ والجماعۃ کے جو اوصاف سامنے آتے ہیں ان کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:
اہل السنۃ والجماعۃ وہ جماعت ہے جو قرآن کریم، سنت اور صحابہ کے طریقے پر بڑی مضبوطی کے ساتھ قائم ہو، انھی کی پیروی اپنے لیے باعثِ ہدایت سمجھتی ہو۔ عقائد، فقہ اور اخلاقیات سمیت زندگی کے ہر قول وفعل اور کردار میں ان کی اتباع کو اصل اور اہم قرار دیتی ہو، ان سے انحراف کرتے ہوئے دین میں بدعات ایجاد کرنے سے مکمل اجتناب کرتی ہو۔ جو سنت سے محبت اور بدعات سے شدید نفرت کرتی ہو۔ جو قرآن وسنت اور اجماع وقیاس کو شرعی دلائل قرار دیتی ہو اور بالترتیب ہر ایک دلیل کو اس کے مقام ومرتبہ پر رکھتی ہو۔ جو اجتہادی امور میں مجتہد کے لیے اجتہاد جبکہ غیر مجتہد کے لیے ان کی تقلید کو ضروری قرار دیتی ہو۔ جو تمام اسلامی عقائد کو ان کی صحیح اور اصلی شکل میں قبول کرتی ہے اور کسی بھی عقیدے کے بارے میں غلو یا اِفراط وتفریط کا شکار نہیں ہوتی۔ جو توحیدِ الہٰی کا اہم عقیدہ رکھتے ہوئے اللّٰہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتی، جو غیرُ اللّٰہ سے حاجتیں اور مرادیں نہیں مانگتی، غیر اللّٰہ کو دعا اور مدد کے لیے نہیں پکارتی، غیر اللّٰہ کی نذر ونیاز نہیں مانتی اور غیر اللّٰہ کے نام پر جانور ذبح نہیں کرتی۔ جو پیغمبروں کو معصوم سمجھتی ہے، ان کے علاوہ امت میں کسی کو معصوم نہیں سمجھتی۔ جو تمام صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضی اللّٰہ عنہم کی تعظیم واحترام کرتی ہے، ان کا تذکرہ خیر کے سوا کچھ نہیں کرتی اور ان پر تنقید کو روا نہیں رکھتی، انھیں اللّٰہ کے محبوب بندے قرار دیتی ہے جن کے لیے اللّٰہ نے مغفرت اور جنت کی بشارت دی ہے، جو انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام کو سب سے افضل قرار دیتی ہے، پھر حضرات صحابہ میں سے بھی سب سے افضل صحابی حضرت ابو بکر، پھر حضرت عمر، پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی کو قرار دیتی ہے۔ جو کہ اولیاءُ اللّٰہ، بزرگانِ دین، علمائے امت اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللّٰہ کا احترام کرتی ہے، توحید کی آڑ میں نہ تو بزرگوں کے کمالات وکرامات کا انکار کرتی ہے، اور نہ ہی بزرگوں کے کمالات وکرامات کی بنا پر ان کو خدائی کا درجہ دیتی ہے بلکہ ان کو خدا کے محبوب بندے گمان کرتے ہوئے ان کو انھی کے مقام ومرتبہ پر رکھتی ہے۔ جو اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہے اور اس میں غیر شرعی طریقوں سے اجتناب کرتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو عقائد، فقہ اور اخلاق میں قرآن وسنت، صحابہ اور ائمہ کی پیروکار ہے۔ الحمدللّٰہ کہ اکابر دیوبند اہل السنّۃ والجماعۃ کے کامل پیروکار اور حقیقی ترجمان ہیں!
(اہل السنۃ والجماعۃ کے مذکورہ اوصاف بنیادی طور پر حضرت مفتی طاہر مسعود صاحب دام ظلہم کی کتاب ’’عقائدِ اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ سے مأخوذ ہیں البتہ ان میں ترمیم واضافہ بھی کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مضمون بندہ کی کتاب ’’آئیے اسلامی عقائد سیکھیے‘‘ میں شامل ہے۔)

✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن

02/09/2024

والله جب ایمان سلامت ہے تو بس کامیابی مل گئ اس کے بعد کوئی پرواہ نہیں کہ ہم گولی سے مریں ، یا مرنے کے وقت ہماری لاش سلامت رہے یا ٹکڑوں میں بکھر جائے ۔ لاش کو دفن کیا جائے یا اس کو جانور اور کیڑے کھا لیں،*
*پھر کیا فکر اور کیا غم بس آنکھ بند ہوئی اور رب کی مہمان نوازی شروع ہوگئی 🤍

02/09/2024

آج ہر شخص کو اپنے "جسم "کے بڑھتے ہوۓ وزن کی تو فکر ہے کہ کیسے کم کیا جاۓ۔۔۔۔مگر کسی کو اپنے برےاعمال کےبڑھتے ہوئے بوجھ کی کچھ فکر نہیں جسکو روزِ محشر وہ خود ہی اٹھاۓ گا مگر اٹھایا نہ جاۓ گا۔۔۔اس لئے اپنے نفس پر کنٹرول حاصل کریں جو تمہارا نفس ہے ناں تم اگر اُسے خیر میں مصروف نہیں کرو گے تو یہ تمہیں شر میں مصروف کر لے گا۔۔۔

انسان کی زندگی پینسل کی مانند ہوتی ہے۔۔ حالات کی رگڑیں اُسے رگڑتی رہیں تو اچھا اور خوشخط لکھتا رہتا ھے اور اسی طرح رگڑیں کھاتے گھستے گھستے یہ پینسل فنا ہو جاتی ہے۔۔۔اگر کچھ بچتا ہے تو بس وہی جو اُس نے اچھا اچھا لکھ رکھا ہوتا ھے۔۔ اس سے پہلے کہ زندگی فنا ہو جائے اپنے اعمال نامہ میں اچھا اور خوشخط لکھ کر رکھیں۔۔۔

ہماری خواہشیں دل کے باغیچے میں اُڑتی تتلیاں ہیں، جن کے رنگ کچّے اور عمریں مختصر ہیں۔۔اس چھوٹی سی زندگی میں خود کو مُرجھانے مت دیں، خود کو ہمیشہ ایکٹو ریلیکس اور پُر اعتماد رکھیں۔۔۔۔دنیا والے چہرہ اور دولت دیکھتے ہیں۔۔عرش والا دل اور اعمال دیکھتا ہے۔۔۔ ذکر اللہ ، اخلاص اور تقویٰ اللہ قریب کر دیتا ہے۔۔۔۔زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، وقت رہتے اپنے اعمال کو سنوارنے کی فکر کریں۔۔۔۔!!

اے اللّٰہ ہمیں دین کی فکریں آخرت کی فکریں اور اپنے اعمال نامہ کو خوشخط بنانے کی فکریں نصیب فرما۔۔۔اے اللّٰہ اس مختصر سی زندگی میں جتنا ممکن ہو اعمال صالحات کی توفیق عطا فرما۔۔اے اللّٰہ تُو ہمارا رب ہے ، کون و مکاں کی ہر شے کا خالق و مالک و رازق و حافظ و ناصر و والی و وارث ہے۔ . ہم پہ اتنا کرم کر دے ہم میں سے کوئی بھی اپنے اعمال سے شرمند ہ ہو ۔ اے اللّٰہ ہمیں صراط مستقیم پر گامزن فرما۔۔ ہمارے لئے جنّت کا راستہ آسان فرما جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا۔۔

آمیـــن ثم آمین یا رب العالمین
خوشیاں بانٹیں خوشیاں سمیٹیں
روح کو شاد قلب کو آباد رکھیں 💞
🌷

10/08/2024

#تحریک پاکستان میں علماء کا کردار ایک پروپیگنڈے کا جواب

سوال پاکستان کو آزاد کرانے اورپاکستان کے بننے میں اور پاکستان کوآج تک قائم اوردائم رہنے میں علمائے کرام کابہت بڑا ہاتھ رہا ہے، یہ سب جانتے ہیں، لیکن اس مضمون پر قدرے تفصیل سے حوالوں کے ساتھ گفتگو کردیں تو مفید ہوگا کہ پاکستان کو آزاد کرانے میں علماء کا کیا ہاتھ تھا؟ اور کون کون سے علماء اس میں شامل تھے؟ اور آج تک کیا حال رہا؟ جو لوگ علماء کو دشمن سمجھتے ہیں، ان کے لیے بھی آپ کا تفصیلی جواب بہت مفید ہوگا۔ اس موضوع پر
مفید کتابوں کتابوںکی رہنمائ بھی فرما دیں

جواب
تحریک آزادی اورقیام پاکستان دونوں کاالگ الگ پس منظر ہے، اُسے سمجھنے کے بعدہی سائل کے سوال کاجواب اور قیام پاکستان کی تاریخ کا اصلی رُخ پیش کیا جاسکتا ہے۔ تحریک آزادی اور قیام پاکستان کے جداگانہ پس منظرکے سمجھے بغیر علماء کا کردار واضح نہیں ہوسکتا۔ جو تاریخی خلجان محترم سائل کو درپیش ہے یا بعض لوگ اس نوع کے مجمل سوالات کے ذریعہ مزعومہ جوابات تک رسائی کے متمنی ہوتے ہیں، یہ ان کا دیدہ دانستہ طریقہ ہے، وہ ہمیشہ قیام پاکستان اور پاکستان کی آزادی کے معاملے کوخلط ملط کرکے ہی سوالات کریں گے۔ یہ سوالات زبردست چالاک سیاسی فکر کی پیداوار ہیں۔ اس طرح کے اختلاطی سوال کرکے عام طور پرنئی نسل کو ایک تو مخصوص ذہنیت دینا مقصود ہوتا ہے، دوسرا ماضی کے آئینہ کو ایسا پراگندہ کرنا ہے کہ جس میں ہماری بعض مقدس ہستیوں کے اصل چہرے مدہم دکھائی دیں، جن کا استخلاصِ وطن(انگریزسے وطن چھڑانے) میں کوئی حصہ تو نہیں ہے، لیکن قیام پاکستان کا سہرا سر پر سجانے کے لیے اکیلے حق دار شمار ہوتے ہیں۔ عقل و دانش کا حامل ہر انسان جانتا ہے کہ آزادی قبضہ یا قید سے خلاصی کا نام ہے، اس لیے پاکستان کی جو آزادی ہمیں باور کرائی جاتی ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے قبل پاکستان پرقبضہ کی تاریخ بتائی جائے اورقبضہ کی تاریخ سے لے کریومِ آزادی تک قابضین سے قبضہ چھڑانے یا بالفاظِ دیگر استخلاصِ وطن کی پوری تاریخ کو سامنے رکھا جائے۔
سرزمین ہند کی تاریخ کا ادنیٰ طالب علم واقف ہے کہ ہندوستان پر مغلیہ سلطنت کی اپنے عروج سے زوال تک تین صدیوں سے زیادہ عرصہ (۱۵۲۶ء تا ۱۸۵۷ئ) حکومت قائم رہی، سن۱۵۹۹ء میں مغربی شاطر، سیاسی فکر، تاجرانہ روپ میں ارضِ ہند پر وارد ہوئی، ابتدائی طور پر باقاعدہ شاہی رسوم وآداب کے مطابق بادشاہِ وقت کی خدمت میں سلامی ونذرانے پیش کرتے رہے، رفتہ رفتہ تجارتی مراسم کے ذریعہ باہمی اعتمادکی فضا بنا کر اپنے سامانِ تجارت کے لیے گودام اور گودام کی حفاظت کے لیے مسلح گارڈ کے اجازت نامہ کے ذریعہ اسلحہ وبارود لایا گیا، آگے چل کربڑے شہروں میں قائم یہی گودام درحقیقت انگریز کی عسکری چھاؤنیاں ثابت ہوئے، اور بالآخر سن ۱۸۵۷ء میں آخری مغل بادشاہ، بہادر شاہ ظفر کو معزول کرکے برطانوی سامراج ارضِ ہند کا فرمانروا بن بیٹھا، اور برطانوی سامراج کا یہ قبضہ ۱۸۵۷ء تا ۱۹۴۷ء تقریباً ایک صدی پر محیط رہا، اس دوران اس ناجائز قبضہ سے ارضِ ہندکی خلاصی کے لیے کئی معرکے لڑے گئے، جن میں سرفہرست بالاکوٹ کا میدان کارزار ہے، شاملی کا معرکہ اور تحریک ریشمی رومال اور دیگر چھوٹی بڑی تحریکیں بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں تھیں۔
1 تحریکِ استخلاصِ وطن درحقیقت ان دردمند مسلمانوں کی اندرونی کڑھن کانتیجہ تھی، جن کو ہر لحظہ یہ خیال ستاتا تھا کہ برطانوی سامراج نے اپنی شاطرانہ چالوں کے جال بن کرمسلمانوں سے اقتدار چھینا ہے، لہٰذا یہ اقتدار دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ آنا چاہیے۔ یہ جذبہ محض حب الوطنی کا نتیجہ نہیں تھا،بلکہ مسلم قیادت اسے اپنا دینی فریضہ بھی سمجھتی تھی۔ ظاہرہے کہ دورِغلامی میں حب الوطنی کایہ جذبہ آس ویاس کے بیچ ہچکولے ہی لے سکتا تھا۔ عملی میدان میں اترنے کے لیے درکار وسائل کے بغیرکوئی انقلابی قدم اٹھانا کیونکر ممکن تھا، یہی وجہ ہے کہ ارض ہندمیں ہندو اکثریت کے باوجود استخلاصِ وطن کی ابتدائی تحریک میں ہندو قیادت کی خاطر خواہ دلچسپی نہیں تھی اور مسلمانوں میں سے بھی صرف دینی قیادت ہی اپنے ایمانی جذبے اور مذہبی فریضہ کے طور پر اپنی جانوں پر کھیلنے کو تیار ہوسکتی تھی، چنانچہ انہیں نعرہائے آزادی کے اسی جرم کی پاداش میں انگریزی دور میں مختلف مقامات پر ہزاروں علماء کو سولی پر لٹکادیا گیا، توپوں کے دھانوں پر باندھ کر اُڑایا گیا اور قیدوبند کی صعوبتوں کی تاریخ تو مالٹا سے لے کر مالدیپ تک ہر جیل کے درو دیوار پر کندہ ہے۔ استخلاصِ وطن کے لیے، پورے پورے ملک کی آزادی کے لیے ان ساری قربانیوں میں اگرکسی کا نام لیا جاسکتا ہے تو وہ صرف اور صرف علمائے ہند بالخصوص علمائے دیوبند اور ان کے پیروکاروں کا ہی نام ملے گا،
2 حتیٰ کہ مسلم قیادت کے غیرعلماء میں سے کوئی بھی نامی گرامی شخصیت ایسی نہیں ہے جس نے آزادیٔ وطن کے لیے جان دی ہو ،یا کم ازکم جیل یاترا کی سعادت پائی ہو،کیونکہ قربانی محض مذہبی وایمانی جذبہ کا ہی ثمرہ ہوا کرتا ہے اور مذہب وایمان سے بھلا علماء سے بڑھ کس کا رشتہ ہوسکتا ہے۔ان علماء میں سرفہرست ۱۷۵۸ء میں تحریک آزادی اور قیام خلافت کا ابتدائی بیج بونے والے شاہ ولی اللہؒ، ان کا خاندان، شاہ عبدالعزیزؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ اورسیداحمدشہیدؒ، ان کے بعدحاجی امداداللہ مہاجرمکیؒ ،حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ،حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا جعفر تھانیسریؒ، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا سیدحسین احمدمدنیؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا احمد سعیددہلویؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانامحمدعلی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولاناعبیداللہ سندھیؒ، مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ، مولاناعبدالماجدقادری بدایونیؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ،مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا محمدمیاں انصاریؒ، مولانا عبدالقدوسؒ، مفتی محمدصادق کراچویؒ وغیرہ (w)شامل ہیں۔ جب علماء کی قربانیوں کے نتیجے میں آزادیٔ ہندکی تحریک پھیلنے لگی تواس کے وسیع دائرے میں کئی مسلم وغیرمسلم سیاسی رہنمابھی شریک سفربنتے چلے گئے، اسی طرح۱۸۸۵ء میں ہندوستانی قومیت کی بنیاد پر اجنبی دشمن سے آزادیٔ ہند کے لیے ایک بڑاالائنس (کانگریس) بھی وجود میں آگیا، جس میں مسلم اور ہندو سیاسی قیادت یکجا دکھائی دینے لگی، یہ وحدت محض سیاسی وحدت تھی اور اس نکتہ پر قائم ہوئی تھی کہ ارض ہند پر اقتدار کا حق اہل ہند کو ہے، اجنبی قابضین کو ملک بدر ہونا چاہیے،
یہ سیاسی فکر اسلامی اصولوں سے متصادم نہیں، بلکہ ہم آہنگ تھی، اور اس اتحاد کی بنا پر ہندو اکثریت مسلمانوں کی جانب سے اُٹھائی گئی تحریک آزادی کی سپورٹر ثابت ہو رہی تھی،
جس کے نتیجے میں قابض سامراج ملک بدری کے لیے مجبور ہورہا تھا، چنانچہ اس نے جاتے جاتے ایک اور شاطرانہ چال چلائی کہ پہلے مسلم و ہندو اتحادمیں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی جس میں کسی حد تک کامیاب رہا، لیکن انگریز کو اس سے بڑی کامیابی بایں طور حاصل رہی کہ سامراج کے خلاف بغاوت میں بنیادی کردار ادا کرنے والی مسلم قوم سے انتقام لینے کے لیے اسے ایسی راہ پرالجھا گیا کہ وہ اپنی حقیقی مطلوبہ منزل (کل ہندوستان پردوبارہ حکومت) کو ہرگز نہ پاسکیں، انگریز کو یہ بڑی کامیابی اس وقت میسر آئی جب مسلم قیادت جمعیت علمائے ہند اور مسلم لیگ کے عنوان سے تقسیم ہوکر آزادیِ ہندکے فارمولے پر ایک دوسرے سے جداگانہ مطالبے کی حامل بن گئی، جمعیت علمائے ہند اپنے پرانے مطالبے (کل ہند کی آزادی) کو آزادی سمجھنے پر مصر تھی، جبکہ مسلم لیگ تقسیم ہند کے فارمولے کو آزادی سمجھ رہی تھی۔
ہمارے اس نظریاتی اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریز بہادر قاضیِ انصاف بن کر کرسی قضا پر براجمان ہوا اور فریقین کے طور پر فیصلہ سنانے کے لیے ہمیں سامراجی کٹہرے میں لا کھڑا کیا، انصاف سے دیکھاجائے تو تقسیم کے فارمولے پر رضامند ہونا مسلم لیگ سے زیادہ جمعیت علمائے ہند کی سیاسی و فکری خودکشی تھی، کیونکہ استخلاص وطن کے لیے ان کے آبا واجداد کی کاوشیں ملک کے کسی ایک حصہ کے لیے نہی، پوری ارضِ ہند کے لیے تھیں، اسی بنا پر ان کا مؤقف یہ تھا کہ ملک کا بٹوارا آزادیِ ہند کے شہداء کے خون اور غازیوں کی جدوجہد سے غداری ہے، نیز یہ کہ ہماری دھرتی ہم سے چھینی گئی ہے تو غاصب کو ہمارے درمیان کسی بھی نوع کے فیصلے اور انصاف کا کیا حق ہے؟ اس کا انصاف تو فقط یہ ہے کہ وہ ناجائزقبضہ ختم کرے،ہماری دھرتی کی تقسیم کا اسے کوئی اختیارنہیں۔ مگر دوسری طرف تقسیم کے حق میں مسلم و ہندو قومیتوں کے درمیان اشتراکی عمل کو سیاسی مسئلہ سے آگے بڑھا کر مذہبی و فقہی مسئلہ بھی بنادیا گیا تھا، اور مسلم لیگی قیادت نے مسلم و غیرمسلم کے اشتراک عمل کو ہم نوا دینی قیادت کے ذریعہ ایساحرام و ناجائز باور کرایا کہ ملک کی سیاسی تقسیم، اسلامی و فقہی جغرافیہ بن کے رہ گئی، اور پاکستان کا مطلب کیا: ’’لاالہ الااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ‘‘ کا جذباتی نعرہ ایسا بلند ہوا کہ مسلمانانِ ہند کی کثیر تعداد کلمہ طیبہ کے احترام میں اور اس کے ضمن میں ظاہر کردہ نیک مقاصد کی تلاش میں تقسیم ہند کے فارمولے پر رضامند ہوگئی۔ اور شاطر انگریز، مسلم قوم کو پوری ہندوستانی سلطنت و حکومت لوٹانے کی بجائے ایک ایسے حصے پر قانع کرگیا جو پہلے ہی سے مسلم اکثریتی آبادی پر مشتمل تھا، اگر انگریز بہادر نے اپنی روایت کے مطابق واقعی انصاف فراہمی کا فریضہ نبھانا تھا تو اولاً مساویانہ تقسیم ہوتی، آدھا ہندوستان مسلم قوم اور آدھا غیرمسلم قوم کو دے دیتا، یا کم ازکم ہندو اکثریتی علاقوں میں سے کچھ حصہ ہندوؤں سے لے کر مسلمانوں کو دے دیتا، جسے انگریز کی طرف سے مسلم قوم کے لیے ’’دین‘‘ اور ’’عطائ‘‘ کہا جاسکتا، کیونکہ انگریز سرکار کا طریقہ بھی یہی تھا کہ وہ کسی کی بھی زمین لے کر اپنی وفاداری کے صلے میں کسی اور کو دے دیا کرتا تھا، مگر ایسا بھی نہ ہوا۔ اگر مسلم اکثریتی خطوں کی بنیاد پر تقسیم ہی انگریزی مذہب کے عہد عتیق میں رقم تھی تو کم ازکم تقسیم کی جغرافیائی لکیر، لفظ ’’پاکستان‘‘ کے گمنام خالق مرحوم چوہدری رحمت علی کے مجوزہ فارمولے کے مطابق ہوجاتی، یعنی عثمانستان، بانگ اسلام اور پاکستان تومسلمانوں کوبٹوارے میں فائدہ ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے ایسا بھی نہ ہوسکا، بلکہ پہلے سے ہمارے زیر ملک ہماری زمین ہمیں ہی خیرات میں چھوڑ کر ہمیں اپنا ممنون احسان بناکر انگلستان سدھار گیا، اور طوقِ غلامی اپنے ہاتھ سے اپنے بڑے بھائی (امریکہ) کے ہاتھ تھما کر چلا گیا، اور ہم سادگی میں آزادی کے شادیانے ہی بجاتے رہ گئے۔ اور تقسیم کے حوالے سے اپنے نفع ونقصان کی درست تشخیص نہ کر پائے۔ اگر اس تاریخی پس منظر کے تناظرمیں دیکھاجائے توکوئی عالم دین اور سیاسی شعور کا حامل انسان شاید ہی ایسی تاریخ کا حصہ شمارہونے کے لیے رضامند ہوسکے، مگر طرفہ یہ کہ مکار دشمن کی چالوں کو سمجھنے اور ان کے فارمولوں کو ٹھکرانے والے انگریز دشمن علماء کو ’’قیام پاکستان کا دشمن ‘‘ قراردیا جاتا ہے، اس انگریز دشمنی کو پاکستان دشمنی کہنا ایسے ہی غلط ہے جیسے تقسیم کو آزادی کہنا۔ اگر آزادیِ وطن کے روایتی مفہوم اور قیام پاکستان کے دینی نعرے کے نام پر قربانی کے عنوان سے علماء کا کردار سمجھنا چاہیں تو بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ قیام پاکستان کے دینی نعرے کی بنیادوں سے لے کر پہلی قومی پرچم کشائی تک اکابر علمائے دیوبند میں سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اوران کے متوسلین کی تائید و حمایت نہ ہوتی تو قیام پاکستان کو کبھی بھی دینی نعرے کی بنیاد پر حاصل نہ کیا جاسکتا تھا، مسلم قوم محض لیگی قیادت کے تدین کی بنیاد پر تقسیم کے فارمولے کو کفر و اسلام کا فارمولا ماننے کے لیے ہرگز تیار نہ ہوتی، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت قائداعظم سے سوال کیا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی صحت وسندکے لیے کون سے علمائے مذہب آپ کے ساتھ ہیں؟ تو قائد کا جواب تھا: ’’مسلم لیگ کے ساتھ ایک بہت بڑا عالم (حضرت تھانوی) ہے، جس کا علم و تقدس و تقویٰ سب سے بھاری ہے، اور وہ ہیں مولانا اشرف تھانوی، جو چھوٹے سے قصبے (تھانہ بھون) میں رہتے ہیں، مسلم لیگ کو ان کی حمایت کافی ہے۔‘‘ حضرت تھانوی تو قیام پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتے نہ دیکھ سکے، لیکن ان کی فکر کے حامل ان کے خواہرزادے شیخ الاسلام حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی اورعلامہ ظفراحمدعثمانی قیام پاکستان کی باقاعدہ رسومات میں اول دستہ رہے، چنانچہ مغربی پاکستان میں علامہ شبیر احمد عثمانی نے پرچم کشائی فرمائی اورمشرقی پاکستان میں علامہ ظفر احمد عثمانی نے قومی پرچم لہرایا اور ان ہی بزرگوں کی کاوشوں سے قراردادِ مقاصد تیار و منظور ہوئی۔ یہاں تک پاکستان کی آزادی اور پاکستان کے قیام میں علماء کی ضرورت اور کردار کا ایک پہلو سمٹ جاتا ہے، اور قیام پاکستان کا دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے بعد وطن عزیز انگریز کی پروردہ تربیت یافتہ بیوروکریسی کے حوالے ہوجاتا ہے، اب پاکستان کے مطلب کی تعیین، تشریح اورعملی تطبیق انہیں ’’مخلصین دین وملت‘‘ کے سپرد ہوجاتی ہے اور گویا علماء کی ضرورت پوری ہوگئی اور ان کے ’’ناتواں کندھوں‘‘ سے پاکستان کے مطلب کی تعیین و تطبیق کا بوجھ اٹھالیا جاتا ہے، یہاں تک کہ قائداعظم کی خواہشات وسفارشات کو بھی بڑھاپے کی ناکارہ آرزؤوں کی ٹوکری میں پھینک کر مغرب کی کورانہ تقلید کی رسم بڑھائی جاتی ہے اور ماہ و سال کے گزرنے کے ساتھ یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔
لیکن اب بھی علمائے اسلام ان حقائق سے بخوبی آگاہ و آشنا ہونے کے باوجود قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور تقسیم کے فارمولے سے دور اندیشانہ سیاسی اختلاف کے حاملین علماء ہوں یا ہندوستان کی تقسیم کو شرعی تقسیم کہنے والے علماء‘ سب کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ پاکستان کے نام سے معرضِ وجودمیں آنے والی مملکت خداداد کا تحفظ ودفاع اور اسے اس کی حقیقی منزل تک لے جانا تمام علمائے امت کا مذہبی فریضہ بن چکا ہے، تقسیم کے نتیجے میں ایک حقیقت سامنے آجانے کے بعد اب یہی کہا جاسکتا ہے کہ کسی مقام پر مسجد کے بننے نہ بننے میں اختلاف ممکن ہے ، لیکن اختلاف کے باوجود جب اسی مقام پر مسجد بن جائے تو اس کا تقدس و تحفظ اور تعمیر و ترقی، مذہبی ضرورت اور فریضہ بن جاتا ہے،
لہٰذا جمعیت علمائے ہند کے نظریۂ آزادی کے حامل علماء ہوں یا مسلم لیگ کے نظریۂ تقسیم و آزادی کے حامل علماء ہوں، بلکہ کسی بھی مسلک کے علماء ہوں، سبہی یکجا ہوکر ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ، دفاع اور بقا و استحکام کے لیے ہر ممکن تگ و دو کرتے چلے آئے ہیں، مگر انصاف سے کہا جائے تو قیام پاکستان کے بعد پاکستان کو ’’لا إلٰہ إلااللّٰہ محمدرسول اللّٰہ‘‘ کے مطلب و مقصد کی گم کردہ منزل کی طرف لے جانے میں ان علماء کاحصہ زیادہ ہے جو عام طور پر قیام پاکستان کی مخالفت کے الزام اور پروپیگنڈے کا نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔ چنانچہ آزادی کے بعد علماء کی ایک جماعت کی پیش کردہ متفقہ قراردادِ مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے، ۱۹۵۲ء کا آئین اور ۱۹۷۳ء کا آئین علماء ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے، اور تحریک نظام مصطفی کے لیے قربانیاں بھی علماء نے دیں، قراردادِ مقاصد سے لے کر یہاں تک جن علماء کے نام لیے جاسکتے ہیں، ان میں شیخ الاسلام علامہ شبیراحمدعثمانی، محدث بے مثال علامہ ظفر احمد عثمانی، علامہ سیدسلیمان ندوی، علامہ شمس الحق افغانی، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع،مولانااحتشام الحق تھانوی ،مولانابدرعالم میرٹھی، مولانا محمد ادریس کاندہلوی، مولانا خیر محمد جالندھری، علامہ محمد یوسف بنوری، مولانا احمد علی لاہوری ضیغم اسلام مولاناغلام غوث ہزاروی، مفکراسلام مولانامفتی محمود، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، قاضی عبدالصمد سربازی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حبیب اللہ ٹھیٹری، مولانامحمدصادق کراچوی رحمہم اللہ جمیعاً کے اسماء گرامی پاکستان کی آئینی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اب بھی الحمدللہ! انہی بزرگوں کی روحانی اولاد وطن عزیز کو قیام پاکستان کے حقیقی مقصد تک پہنچنے کے لیے ہر محاذ پر کوشاں ہے، مگر سامراج سے متأثر طبقہ نہ صرف یہ کہ علماء دین کو قیام پاکستان کے مقصد کی طرف بڑھنے نہیں دیتا، بلکہ اس طرف توجہ دلانے کو ملک دشمنی اور ملک سے غداری قرار دیتا ہے، لیکن بہی خواہانِ پاکستان کو مژدہ ہو کہ یہ علماء کرام ان روحانی ہستیوں کے فیض یافتہ ہیں جو تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اللہ کی مدد کے ساتھ اپنے اس مقصد پر کاربند بھی رہیں گے اور قیام پاکستان کے اصل مقصد کو بھی عوام کے سامنے تازہ کرتے رہیں گے اور اس خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، کیونکہ علماء کرام کا یہ طبقہ مملکت خداداد پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے دعا گو ہے، اسی طرح اس کی نظریاتی حدود کی حفاظت کا اپنے کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔ مذکورہ بالا تاریخی حقائق کامنصفانہ اورحق جویانہ مطالعہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل کتابوں کامطالعہ مفید رہے گا
: ۱:…برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا؟، ازحضرت مولانا حسین احمد مدنی
۲:…علمائے ہندکاشاندارماضی، ازمولاناسید محمدمیاں
۳:…تاریخ دعوت وعزیمت ،ازمولانا
ابوالحسن علی ندوی
4:…تحریک پاکستان میں علماء کا سیاسی وعلمی کاکردار،ازڈاکٹر ایچ بی خانؒ
۵:…سیاسی ڈائری از مولانا حسین احمد مدنی حواشی وحوالہ جات 1:…
’’۱۸۵۷ء کے چشم دید حالات المعروف داستان غدر‘‘ مطبوعہ حاجی حنیف اینڈ سنز لاہور۔ --
طفیل احمد منگلوریؒ نے بھی اس دور میں انگریز کے مظالم کی کچھ روداد خود فرنگی مورخین ہومز، تھامسن، ولیم میور اور فریڈرک کوپر کے اعترافات کی صورت میں نقل کی ہے، دیکھیں: مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص:۸۰ تا ۸۲۔
--غدر کی وجوہات پر سید احمد خان کی ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ بھی قابل مطالعہ ہے۔
3:…کانگریس کے قیام کی تاریخ ومقاصد اور علمائے ہند کے اس سے تعلق کے متعلق مستند تفصیلات کے لیے دیکھئے: علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے، باب چہارم وپنجم، مطبوعہ الجمعیۃ پبلیکیشنز۔
4:… اس مناسبت سے بابر کی وہ وصیت بھی پڑھتے جایئے جو مغلیہ سلطنت کا سنگ بنیاد اورکئی صدیوں کے ہندو مسلم باہمی خوشگوار تعلقات کی بنیاد واساس ہے، بابر نے ہمایوں سے کہا تھا: ’’اے پسر! سلطنت ہندوستان مختلف مذاہب سے پر ہے، الحمدللہ! اس کی بادشاہت تمہیں عطا فرمائی، تمہیں لازم ہے کہ تمام تعصباتِ مذہبی کو دل سے دھو ڈالو اور عدل وانصاف میں ہر مذہب وملت کے طریق کا لحاظ رکھو،جس کے بغیر تم ہندوستان کے لوگوں پر قبضہ نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح انسان کے جسم میں مل جل کر چار عناصر کام کررہے ہیں، اسی طرح مختلف مذاہب رعایا کو ملا جلا کر رکھو اور ان میں اتحادِ عمل پیدا کرو، تاکہ جسم سلطنت مختلف امراض سے محفوظ رہے ۔‘‘ ( علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے، ص:۴۰)
اس کے برعکس’’لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کے فلسفے پر عمل پیرا شاطر انگریز کا طریقۂ واردات کیا تھا؟ جان میکلم کی سنئے: ’’اس قدر وسیع سلطنت میں ہماری غیر معمولی قسم کی حکومت کی حفاظت اس امر پر منحصر ہے کہ ہماری عملداری میں جو بڑی جماعتیں ہیں، ان کی عام تقسیم ہو، اور پھر ہر ایک جماعت کے ٹکڑے مختلف ذاتوں اور فرقوں اور قوموں میں ہوں، جب تک یہ لوگ اس طریقے سے جدا رہیں گے، اس وقت تک غالباً کوئی بغاوت اٹھ کر ہماری قوم کے استحکام کو متزلزل نہ کرے گی۔‘‘ (ایضا، ص:۴۱)
5:…اس اجمال کی تفصیل کے لیے دیکھئے: آزادی ہند از مولانا ابوالکلام آزاد
--برطانوی سامراج نے ہمیں کیسے لوٹا؟ از مولانا حسین احمد مدنی
6:…ملاحظہ فرمائیے: چوہدری رحمت علی کا کتابچہ : ’NOW OR NEVER‘‘ شریعہ اکیڈمی اسلام آباد نے اپنی مطبوعہ کتاب ’’تصورِ پاکستان، بانیان پاکستان کی نظر میں‘‘ کے آخر میں یہ مختصر تحریر بھی شائع کردی ہے۔
7:… بانی پاکستان کے بعض افکار وارشادات کے لیے ملاحظہ کیجئے: ’’تصور پاکستان، بانیان پاکستان کی نظر میں‘‘
8:… حضرت مولانا حسین احمد مدنی v کا اس نوع کا جملہ تو مشہور ہے، مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی کہا تھا:’’پاکستان وجود میں آگیا ہے تو اب اُسے باقی رہنا چاہیے، اس کا بگڑنا سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا۔‘‘ ( نوائے وقت،۲۳ مارچ ۱۹۷۳ئ)

06/08/2024

#نور الدین زنگی کا مختصر تعارف اور حالات

نورالدین زنگیؒ ابو قاسم ابن عمادالدین زنگی سلطنت کے بانی عمادالدین زنگی کے بیٹے تھے۔انہوں نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نورالدین زنگی 1118ءمیں پیدا ہوئے ۱ور15 مئی 1174ءکو وفات پائی۔ کہا جاتا ہے بلکہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک شخص خاشین نے انہیں زہر دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے گلے میں سوزش ہوئی اور اسی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔انتقال کے وقت ان کی عمر 58سال تھی۔نورالدین زنگی نے1146 سے1177ءتک دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ پر28سال حکومت کی۔نورالدین زنگی کے اقتدار کے زمانے میں بیت المدس پر صلیبیوں کا قبضہ تھا۔نورالدین زنگی نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے ایک مضبوط حکومت قائم کی تھی۔ اس وقت مسلمان حکمران چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے باشاہ تھے۔ آپس میں اتفاق نہیں تھا۔ چناچہ نورالدین زنگی نے ان تمام چھوٹے چھوٹے مسلمانوں کی حکومت پر لڑ کر قبضہ کیا۔ہمیں معلوم ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ جب اسلامی فوجوں نے بیت المقدس کو فتح کیا توپادریوں نے مسلمان فاتحین سے درخواست کی تھی کہ ہم شہر کی چابیوں آپ کے خلیفہ کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں۔ مسلمان کمانڈروں نے عیسائی پادریوں کی یہ درخواست منظور کی تھی۔ مدینہ سے جب چلے مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمرؓ اور ایک غلام ساتھ ساتھ تھے۔دونوں باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔ جب دونوں بیت المقدس پہنچے۔ تو اونٹ پر سواری کی باری غلام کی تھی۔جب بیت المقدس پہنچے تو اونٹ کی مہار خلیفہ حضرت عمرؓ کے ہاتھ تھی اور غلام سواری کر رہا تھا۔ یہ نظارہ پادریوں اور دنیا نے دیکھا تھا۔ پھر پادریوں نے شہر کی چابیاں مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمرؓکے ہاتھ میں دیں۔ اصل میں ان کو ڈر تھا کہ شہر میں داخل ہو کر مسلمان فاتح فوجیں قتل و غارت کریں گی۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ جب صلیبیوں نے بیت المقدس مسلمانوں سے چھینا تھا تو قتل غارت کا وہ بازار گرم کیا تھا، جسے شیطان کو بھی شرم محسوس ہوئی تھی۔ مگر مسلمان فوجوں نے حضرت عمرؓ کے دور اور پھرنورالدین زنگی کی نائب صلاح الدینؒ کے دور میں عیسائیوں اچھا سلوک کیا تھا۔ کسی کو بھی قتل نہیں تاریخ کے اوراق اس خدا ترسی کے واقعا ت سے بھرے پڑے ہیں۔ پادریوں نے اپنی عبادت گاہ میں حضرت عمر ؓ کو نماز پڑھنے کی بھی درخواست کی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے ایسا کرنے سے انکار کیا کہ کہیں شاہد میرے بعد اس عبادت گاہ کو مسجد نہ بنا لیں ۔ مسلمانوں نے بیت المقدس میں ایک دوسری جگہ پرحضرت عمرؓ کے نام سے ایک مسجد تعمیر کی۔ نورالدین زنگی نے بیت المقدس کو فتح کرنے کیلئے چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں کو فتح کر کے ایک مضبوط فوج بنائی تھی۔ شروع میں نورالدین زنگی کا دارلحکومت حلب میں تھا۔ جب انہوں نے دمشق فتح کیا تو دارلحکومت دمشق میں منتقل کیا۔اس کے بعد صلیبیوں پر حملہ کر کے کئی علاقے فتح کیے۔ اس کے بعد ریاست ایڈیسا پر قبضہ کر لیا۔ اس فتح سے صلیبیوں کو بیت المقدس سے نکالنے کی راہ ہموار ہوئی۔ صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملہ کر کے اسے بھی نورالدین زنگی نے قبضہ کر لیا۔ دوسری صلیبی جنگ میں عیسائیوں نے دمشق پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس پر سیف الدین غازی، معین الدین کی مدد سے اسے ناکام بنایا۔ دوسری صلیبی جنگ میں فتح کے بعد تیسری صلیبی جنگ میں نورالدین زنگی کے نائب صلاح الدین نیبیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔اس زمانے میں مصر پر فاطمی حکومت تھی جو کمزور پڑھ گئی تھی۔ کیونکہ مصر فلسطین کے برابر تھا۔ صلیبی اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ نورالدین زنگی نے آگے بڑھ کر خود مصر کو فتح لر لیا۔ پہلی صلیبی جنگ کی ہولناکیوں اور تباکاریوں نے مسلمان حکمرانوں کو موقعہ فراہم کر دیا تھا کہ وہ آپس میں اختلافات کو ختم کر کے اپنی مشترکہ دشمن کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ اس سلسلے میں کوششیں بھی کی گئیں مگر ناکامی ہوئی اور اتحاد نہ ہو سکا۔خلفاءبغداد نے بھی بڑی کوششیں کیں۔پھر مذید تباہی سے بچانے کی لیے اللہ کی طرف سے مدد آئی۔ بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے غیبی مدد آئی اوردنیا کے نقشہ پر نورالدین زنگی سامنے آئے۔ نورالدین زنگی کی وجہ سے عام مسلمانوں میں حوصلہ پیدا ہوا۔ جب نورالدین زنگی نے ایڈیسا اور انطاکیہ پر قبضہ کر لیا تو عیسائیوں کو ہیبت زدہ کر دیا تھا۔عیسائیوں نے گھبرا کر یورپ کے عیسائیوں سے مدد طلب کی۔ان کی مدد کے لیے سینٹ برنارڈ نے عیسائیوں میں مذہبی جوش پیدا کیا۔
1147ء میں جرمنی کا بادشاہ کرنراڈ سوم اور فرانس کا بادشاہ لوئی ہفتم ایک بڑی فوج لے کر اپنے عیسائیوں کی مدد کے لیے مذہبی جوش سے آگے بڑھے۔ ان کی متحدہ فوج نو لاکھ کے قریب تھی۔ لیکن فوج پر ہر قسم کی بداخلاقی کی حدود سے آزاد تھی۔ جنسی آوارگی کا دور دورہ تھا۔ دوسری طرف نورالدین زنگی ایک دین دار بادشاہ اور ان کی فوج صرف اسلامی اوصاف والی فوج تھی۔اس
بڑی فوج کو نورالدین اور اس کی اتحادی سلجوقیوں کے ہاتھ مختلف مقامات پر شکستیں کھانی پڑیں۔ ان کی فوج کا ایک بڑا حصہ برباد ہو گیا۔مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین زنگی نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاری کر لی تھی۔ بیت المقدس کی مسجد عمرؓ میں رکھنے کے لیے ایک بڑا اعلیٰ ممبر بھی تیار کروا لیا تھا۔ نورالدین زنگی کی خواہش تھی کے اپنے ہاتھ سے یہ ممبر مسجد عمرؓ میں رکھے گا۔لیکن شاید اللہ کو یہ منظور نہیں تھا۔ابھی حملے کی تیاریوں کر ہی رہے تھے کہ خشاشین نے اسے ایسا زہر دیا جس سے اس کے گلے میں سوزش ہوئی اور اسی مرض سے نورالدین زنگی ایک دین دار عادل باشاہ اللہ کو پیارے گئے۔ صلاح الدین، نورالدین زنگی کے نائب اور مصر کے حکمران نے نورالدین کی زندگی کے بعد بیت المقدس فتح کیا۔نورالدین اپنے باپ عمادالدین زنگی کے طرح بہادر تھے۔ ایک بار اسے دشمنوں کی صفوں میں بار بار گھستے دیکھ دیکھ کر ایک مصاحب قطب الدین نے درخواست کی اور کہا”اے ہمارے بادشاہ! اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالیں۔ اگر آپ کو شہیدکر دیا گیا تو دشمن ان ملک کو فتح کر لیں گے۔ اور مسلمانوں کی حالت تباہ ہو جائے گی“ نورالدین زنگی کو اس بات نے ناراض کر دیا۔ اور کہا”قطب الدین زبان کو روکو۔ تم اللہ کے حضور گستاخی کر رہے ہو۔مجھ سے پہلے اس دین اور ملک کا محافظ اللہ کے سوا کون تھا“ نورالدین زنگی ایک دین دار نیک سیرت اور شریعت پر چلنے والے بادشاہ تھے۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی شریعت کا پابند بناتے تھے۔ انہیں دیکھ کر دوسرے ان کی تقلید کرتے تھے۔ اسی وجہ سے نورالدین زنگی کی حکمرانی کے دوران عوام میں اسلام پرعمل کرنے کا جذبہ پیدا ہواتھا۔ لوگ شریعت کے خلاف کام کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔ نورالدین زنگی صرف ایک کامیاب فاتح ہی نہیں تھے بلکہ شفیق حکمران اور علم پرور بادشاہ تھے۔ ان کی حکومت میں مدرسوں اور شفاخانوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ان کے انصاف کے قصے دور دور تک مشہور تھے۔ وہ اپنی ذاتی اخرجات کے لیے بیت المال سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتے تھے۔ مال غنیمت کے پیسوں چند دکانیں خرید لی تھیں۔ ان دوکانوں کے کرایہ سے گھر کا خرچ چلایا کرتے تھے۔انہوں نے دوسرے حکمرانوں کی طرح اپنے ذاتی استعمال کیلئے بڑے بڑے محل تعمیر نہیں کروائے تھے۔بیت المال کے پیسوں سے مدرسوں شفاخانوں اور مسافر خانوں اور رفاءعام کے کام کیے۔دمشق میں ایک بڑا شفا خانہ قائم کیا۔ جس کی اس وقت کی دنیا میں مثال نہیں ملتی تھی۔ اس میں مریضوں کا مفت علاج ہوتا تھا۔ داوئیاں مفت ملتی تھیں۔ کھانے پینے اور رہائش کا مفت انتظام تھا۔نورالدین زنگی نے عوام پر سارے ناجائز ٹیکس ختم کر دیے تھے۔ نورالدین زنگی مظلوموں کی شکایت خود سنتے اور خود اس کی تحقیق کرتے تھے۔ نورالدین کی ان خوبیوں کی وجہ سے اس وقت کے کے ایک مورخ ابن تاثیر نے لکھا ہے کہ خلفائے راشدینؓ اور عمر بن عبدالعزیز کے سوا نورالدین زنگی سے زیادہ بہتر فرمانروا میری نظر سے نہیں گزرا۔برصغیر میں مغل بادشاہوں ں میں ایک دین دار اور عادل بادشاہ اوزنگزیب عالم گیربھی گزرے ہیں۔ وہ بھی بیت المال سے اپنی ذاتی زندگی پر ایک پیسا بھی خرچ نہیں کرتے تھے۔ قرآن کی خطاطی اور ٹوپیاں سی کر اپنا گزرا کرتے تھے۔ اورنگ زیب عالم گیر پورے برصغیر،جس میں کابل بھی شامل تھا کے حکمران تھے۔ انہوں نے پچاس سال حکومت کی تھی۔ نورالدین زنگی کی زندگی کا واقعہ بھی تاریخ میں درج ہے کہ۔ انہیں خواب میں رسول اللہ کی زیارت ہوئی تھی۔ اور ان کو کہا گیا تھا کہ دو شخص اس اس حلیہ کے میری قبر کو نقصان پہنچانا چاہے ہیں۔ نورالدین زنگی ان کی تلاش میں مدینہ شریف گئے۔ ان کو تلاش کر کے قتل کیا تھا۔ اللہ دیندار عادل بادشاہ کی قبر نور سے بھر دے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Peshawar