Islamia Political Science Society

Islamia Political Science Society

Share

Students are the real stakeholders in the University. There is need to involve them actively in both curricular and extra-curricular activities.

16/06/2023

Daily Maidan June 16, 2023

08/05/2021

والدہ کو افسر بن جانے کا بتایا تو خوشی سے روپڑیں'

خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلع چترال سے تعلق رکھنے والی شازیہ اسحاق نے مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد پولیس سروسز آف پاکستان جوائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ان کے پورے گاؤں میں خوشی کا سماں ہے۔

شازیہ اسحاق کا تعلق چترال بالا کے ایک دور دراز گاؤں جنالی کوچ کے ایک متوسط گھرانے سے ہے (تصاویر: شازیہ اسحاق)

'میں انٹرویو سے مطمئن تھی اور مجھے امید تھی کہ پاس ہو جاؤں گی لیکن ڈر صرف اس بات کا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ جس گروپ (پولیس سروس) کا انتخاب میں نے کیا ہے، اس کے میرٹ پر پورا نہ اتروں، لیکن نتیجہ آنے کے بعد خوشی کی انتہا نہیں تھی۔ سب سے پہلے جا کر امی کو خوش خبری سنائی تو ان کے خوشی سے آنسو نکل آئے۔'

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلع چترال سے تعلق رکھنے والی شازیہ اسحاق کا، جنہوں نے مقابلے کا امتحان یعنی سینٹرل سپیریئر سروس (سی ایس ایس) پاس کرنے کے بعد پولیس سروسز آف پاکستان جوائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شازیہ کے مطابق وہ چترال کی پہلی خاتون ہیں، جو پولیس سروسز یعنی پی ایس پی جوائن کریں گی، ان کی پہلی تعیناتی بحیثیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) کی جائے گی، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کی پہلی خاتون ہیں، جو پولیس سروس میں بحیثیت پی ایس پی افسر بھرتی ہوں گی۔

شازیہ نے بتایا: 'پورے گاؤں میں خوشی کا سماں ہے کیونکہ ہمارے پورے گاؤں میں خاتون تو کیا کوئی مرد بھی سی ایس پی افسر نہیں ہے۔ لوگ مبارک باد دینے کے لیے گھر آرہے ہیں۔'

شازیہ اسحاق کا تعلق چترال بالا کے ایک دور دراز گاؤں جنالی کوچ کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ ان کے والد پاکستانی فوج سے بحیثیت صوبیدار ریٹائرڈ ہوئے ہیں جبکہ شازیہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کا ایک بھائی تیسری اور ایک بارہویں جماعت میں زیر تعلیم ہے جبکہ ان کی بہن سرکاری سکول میں استاد ہیں۔

شازیہ نے بتایا کہ انہوں نے پہلی سے ساتویں جماعت تک تعلیم گاؤں میں واقع پامیر پبلک سکول سے حاصل کی ہے اور آٹھویں سے بارہویں تک تعلیم آغا خان ہائر سیکنڈری سکول سے حاصل کی۔

ابتدائی اور انٹر کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شازیہ نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں داخلہ لیا اور 2018 میں پولیٹیکل سائنس میں بی ایس ڈگری حاصل کی۔

پولیس سروس ہی کیوں؟

شازیہ نے بتایا کہ بی ایس کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ٹھان لیا تھا کہ وہ مقابلے کا امتحان دے کر پولیس سروس میں جائیں گی، کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ پولیس میں رہ کر وہ علاقے کی بہتر طریقے سے خدمت کر سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا: 'میں خصوصاً اس مقصد کے لیے پولیس سروس میں جا رہی ہوں کہ چترال کی طرح پسماندہ اضلاع کی خواتین کے وہ مسائل، جو پولیس سروس سے جڑے ہیں، کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔'

سی ایس ایس میں کامیاب ہونے والی پانچویں بہن
دوسروں کے لیے مثال بننے کے حوالے سے شازیہ نے بتایا کہ 'لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس سروس میں آنا خواتین کا کام نہیں ہے کیونکہ یہ کام صرف مرد ہی کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہےکہ میں ان فرسودہ اور گھسے پٹے نظریات اور خیالات کو ختم کرنے کے لیے پولیس میں آئی ہوں اور دنیا کو دکھانا چاہتی ہوں کہ مرد و خواتین سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن صرف ہمت کی ضرورت ہے۔'

شازیہ نے بتایا: 'میرے پولیس سروس میں آنے سے پسماندہ اضلاع کی خواتین کو ایک حوصلہ ملے گا کہ اگر مجھ جیسی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی، چترال کے ایک پسماندہ گاؤں میں رہنے والی پولیس سروس میں جا سکتی ہے، تو باقی خواتین کیوں نہیں جاسکتیں۔'

مقابلے کا امتحان دینا کتنا مشکل؟

بہت سے لوگ مقابلے کے امتحان کا نام سن کر ڈر جاتے ہیں، تاہم شازیہ سمجھتی ہیں کہ یہ امتحان اتنا بھی مشکل نہیں ہے جتنا لوگ سوچتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: 'میں نے امتحان کی تیاری 2019 میں پورا سال کی۔ امتحان کی تیاری کے لیے راولپنڈی میں رہتی تھی اور چار مہینے وہاں کوچنگ اکیڈمی جوائن کی تھی۔'

شازیہ کہتی ہیں کہ شہروں میں پڑھنے والے یا کسی پسماندہ ضلعے میں رہنے والے طلبہ کے تعلیمی معیار میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ ایک ہی امتحان میں بیٹھ کر ایک ہی پرچہ حل کرتے ہیں، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے کہا: 'شہر کے کسی ایلیٹ سکول میں تعلیم حاصل کرنے والا کس طرح پسماندہ ضلع کے سرکاری سکول میں پڑھنے والے کا مقابلہ کر پائے گا ؟ میں سمجھتی ہوں کہ مقابلے کے امتحانات میں صوبے کے علاوہ پسماندہ اضلاع میں رہنے والے امیدواروں کو بھی تھوڑا ریلیف ملنا چاہیے۔'

09/01/2018

The Following Candidates are hereby informed to appear for Interview to be held on Jan 11, 2018 in the Department of Political Science,ICP. The qualifying marks for interview are 50. Below 50 marks are being advised not to take pain to come as they failed.

29/12/2017

Ms/ M Phil Political Science Screening Schedule

16/05/2017

The National Security Policy Paradox in Pakistan:
Strategic Constraints, Ramifications and Policy
Recommendations
Amir Ullah Khan,∗Zafar Nawaz Jaspal∗∗& Samina Yasmin∗∗∗


Abstract
The people of Pakistan have always faced with the paradoxical
national security policy. It has also remained a mind boggling
for the security policy makers in Pakistan. They have failed to
engineer a unanimously accepted national security policy so as
to establish a balance between the security of Pakistan and
security of its citizens. While framing security policy the
strategists in different eras have underestimated the balance
between the external and internal security threats to Pakistan
and its citizens. Extremism in shaping security policy in either
form is dangerous for the solidarity and survival of the nation.
The recent establishment of military courts under 21st Constitutional amendment and accentuation on external security has severe futuristic repercussions. Instead of relying on one extreme form or the other form of security, the government with the consensus of all political and constitutional institutions needs to designs a balanced national security doctrine to ensure both the security of the country and its citizens as well.

23/04/2017

Modern Politics makes citizens as unintentional worshipers of their political pundits, instead of Allah-The Almighty. It takes the people away from spirituality to materialism. It has made men irrational being, instead of rational-being.

Photos 07/04/2017
Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Peshawar