Al-Suffa Islamic Academy

Al-Suffa Islamic Academy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Suffa Islamic Academy, Education Website, Peshawar.

🌿 الصفہ اسلامک اکیڈمی | تعارف
الصفہ اسلامک اکیڈمی ایک آن لائن تعلیمی ادارہ ہے جو ہر عمر کے افراد کے لیے قرآن و سنت کی تعلیم کو آسان معیاری اور دلنشین انداز میں فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کو گھر بیٹھے قرآن سکھائی جاتی

16/10/2025

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاق

۱:- حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے لوگوں نے پوچھا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خُلق تھا جس کی حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں تعریف کی ہے؟ حضرت صدیقہ رضی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ’’آپ کا خلق قرآن تھا‘‘ یعنی جس چیز کو حق تعالیٰ نے اچھا فرمایا ہے وہی آپ کی طبیعت چاہتی تھی اور جس چیز کو حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں برائی سے یاد کیا ہے اس سے آپ کی طبیعت کو نفرت تھی اور بعض علماء نے کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق عظیم وہ ہے جو حق تعالیٰ نے اس آیت میں تعلیم فرمایا ہے کہ:’’ خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ‘‘ یعنی ’’لازم پکڑ معاف کرنے کو اور حکم کر نیک کام کا اور کنارہ کر جاہلوں سے‘‘ اور حقیقت میں اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے میں اور دینِ حق کی تائید کرنے میں اس سے سخت تر کوئی چیز نہیں ہے۔
اور حدیث شریف میں وارد ہے: ’’ إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ‘‘ یعنی ’’میں اس واسطے مبعوث ہوا ہوں کہ اگلے تمام پیغمبروں کی بزرگی اور اچھائیوں کو تمام اور پورا کروں۔‘‘
۲:- حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب آیت ’’خُذِ الْعَفْوَ ‘‘کی نازل ہوئی، تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے اس کی تفسیر پوچھی، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا کہ: ’’أُوْتِیْتَ بِمَکَارِمِ الْأَخْلاَقِ أنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ وَتُعْطِيَ مَنْ حَرَمَکَ وَ تَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَکَ‘‘ یعنی ’’یہ آیت پوری آپ کو اخلاقِ عظیمہ کی تعلیم کرتی ہے، سو ان ہی مکارمِ اخلاق میں سے یہ ہے کہ مل اس سے جو تجھ سے کاٹے اور دے اس کو جو تجھ کو محروم رکھے اور نہ دے اور در گزر کر اس سے جو تجھ پر ظلم کرے۔‘‘ سو جو شخص کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے خوب طرح سے واقف ہو جائے اس کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب مرتبوں کو انتہا کے درجے کو پہنچایا تھا کہ اس سے زیادہ کسی بشرکی طاقت نہیں ہے کہ کر سکے۔
۳:- طبرانی ؒ اور حاکمؒ اور ابن حبانؒ اور بیہقی ؒ اور دوسرے قابل اعتبار محدثین نے ایک یہود کے عالم کی زبانی روایت کی ہے جس کا نام زیدبن سعنہ تھا کہ وہ کہتا تھا کہ میں نے اگلی کتابوں میں رسول آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف دیکھی تھی اور وہ سب اوصاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پائے جاتے تھے، مگر دو وصفوں کا حال مجھے معلوم نہ تھا: ایک یہ کہ غصے پر حلم غالب ہو اور دوسرا یہ کہ سخت بات سننے سے غصہ نہ آوے، بلکہ اور نرمی زیادہ ہو، سو میں چاہتا تھا کہ ان دونوں باتوں کو کسی طرح سے آزمائوں۔ مدت تک اس کی انتظار میں رہا، اتفاقات سے ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کھجور بطورقرض خریدے اور اس کے ادا کرنے کی ایک مدت مقرر کی، میں اس مدت سے دو تین دن پہلے آپ کے پاس گیا اور تقاضا اپنے روپوں کا شروع کیا، پھر دیکھا میں نے کہ آپ سن کے چپ ہو رہے اور یہ بھی نہیں کہتے ہیں کہ ابھی تمہارا وعدہ نہیں ہوا، تم تقاضا کیوں کرتے ہو؟ پھر میں نے سخت تقاضا کیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپ کے اصحابؓ بہت سے غصہ میں آئے اور کوئی سخت بات مجھ سے کہیں، لیکن آپ کو ہر گز غصہ نہ آیا، یہاں تک کہ میں نے یہ بھی کہا کہ تمہارے خاندان میں اسی طرح قرض ادا کرتے ہیں؟ حیلہ حوالہ کیا کرتے ہیں؟ کسی قرض خواہ نے تم سے اپنا قرض آسانی سے نہیں وصول کیا ہوگا۔ اس بات کے سننے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور میں اُٹھ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ شریف اور چادر مبارک ہاتھ سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچنے لگا اور غصے کی آنکھوں سے میں نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا کہ: ابھی اٹھو اور میرا قرض ادا کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بے قرار ہو کے تلوار لے کر میرے سر پر آپہنچے اور کہنے لگے کہ: اے دشمن خدا کے! تو باز نہیں آتا ہے، ابھی تیرا سر اڑا دیتا ہوں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ: مجھ کو تم سے یہ توقع نہ تھی، تم کو چاہیے تھا کہ مجھ کو سمجھاتے کہ اس کا قرض اچھی طرح آسانی سے ادا کیجئے اور اس کو سمجھاتے کہ نرمی سے تقاضا کرو، سو اس کے خلاف یہ کیا بات ہے جو تم کہتے ہو ؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت شرمندہ ہوئے اور عرض کی کہ: یا رسول اللہ! اس سے زیادہ مجھ میں صبر نہیں ہے، اگر آپ فرمائیں تو میں اس کا قرض ادا کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جائو اس کا جتنا قرض ہے وہ دو اور بیس صاع اس سے اور زیادہ اس کو دو، تاکہ تمہاری اس بدسلوکی اور سخت گوئی کا عوض ہو جائے ، وہ شخص کہتا ہے کہ میں اس بات کے سنتے ہی ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کا قائل ہوا ۔
۴:- صحیح روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے کچھ باتیں کررہے تھے، پھر وہاں سے اٹھ کر گھر کو تشریف لے چلے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہولیا، راستے میں ایک بدو یعنی گنوار، جنگل کا رہنے والا ملا اور اس نے آپ کی چادر آپ کے سر سے زور سے کھینچی، یہاں تک کہ آپ کی گردن مبارک سرخ ہو گئی اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک دیوار سے جالگے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گنوار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ: تیرا مطلب کیا ہے؟ تو کہہ، اس نے کہا کہ: یہ دونوں میرے اونٹ غلہ سے بھردے، اس واسطے کہ جو تیرے پاس مال ہے وہ مال خدا کا ہے، کچھ تیرا اور تیرے باپ کا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تو سچ کہتا ہے، یہ مال حق تعالیٰ کا ہے ، میرا اور میرے باپ کا نہیں ہے، لیکن یہ جو تونے میری چادر زور سے کھینچی اور مجھ کو رنج پہنچایا، یہ تو میرا حق ہے، اس کا عوض تو میں تجھ سے لوںگا، اس نے کہا کہ میں ہر گز اس کا عوض نہ دوںگا، آپ یہ کلمہ فرماتے تھے اور نہایت خوشی سے مسکراتے جاتے تھے اور وہ بھی جواب دیتا جاتا تھا، جب اسی گفتگو میں تھوڑی دیر گزری، تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلاکر فرمایا کہ: اس کے ایک اونٹ پر کھجوراور دوسرے اونٹ پر جَو بھر کر اس کے حوالے کرو۔ ( ابو دائود، کتاب الادب، جلد :۲، ص:۶۵۸)
۵:-تاریخ طبری میں مذکور ہے کہ ایک روز سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحابؓ سے فرمایا کہ: آج ایک بکری کے کباب بنانا چاہتا ہوں، سب نے عرض کی کہ بہت بہتر، پھر ایک نے ان میں سے کہا کہ: میں ذبح کرتا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ: میں کھال کھینچتا ہوں اور تیسرے نے کہا کہ: گوشت کا درست کرنا اور کوٹنا میرے ذمہ ہے اور چوتھے نے کہا کہ: اس کا پکانا میرے ذمہ ہے۔ حاصل کلام کا سب نے ایک ایک کام اپنے ذمہ پر کرلیا، تاکہ جلد کباب تیار ہو جائیں، اصحابؓ سب اس کام میں مشغول ہوگئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چپکے سے اُٹھے اور جنگل سے ایک گٹھا لکڑی کا تھوڑی دیر میں لے آئے، صحابہؓ نے دیکھا تو عرض کیا کہ: یارسول اللہ! آپ نے کیوں اتنی تکلیف کی؟ یہ بھی ہم میں سے کوئی کرلیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ اس بات کو مکروہ جانتا ہے کہ کوئی شخص اپنے یاروں میں ممتاز ہو کر بیٹھے اور یاروں میں شریک نہ ہو ۔
۶:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستوریوں تھا کہ جب آپ فجر کی نماز سے فراغت پاتے تھے تو اس وقت لونڈیاں اور غلام مدینے والوں کے برتن میں پانی لے کر آتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی کو اپنے دستِ مبارک سے چھولیں، تاکہ وہ پانی متبرک ہوجائے اور اس کو اپنے کھانے اور پینے کی چیزوں میں ڈالیں اور کبھی سردی کا موسم بھی ہوتا تھا اور برتن بہت سے ہوتے تھے، سب میں ہاتھ ڈالنے سے آپ کو تکلیف بھی ہوتی، لیکن باوجود اس رنج اور تکلیف کے آپ کسی کی دل شکنی نہیں کرتے تھے اور سب برتنوں میں اپنا دست مبارک ڈالتے تھے۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاق کی چند جھلکیاں ہیں، جن پر ہمیں بھی عمل کرکے اپنی زندگی بسر کرنی چاہیے۔

01/09/2025

السلام علیکم 🌸
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ یا آپ کے بچے اپنی مادری زبان (اردو) میں آسانی کے ساتھ اور صحیح تجوید کے ساتھ قرآن سیکھیں…
تو الصفحۃ آن لائن قرآن اکیڈمی آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے! 📖✨
📚 نورانی قاعدہ، ناظرہ، حفظ، اور تجوید کورسز
🏠 گھر بیٹھے Zoom / WhatsApp پر
🎁 3 دن کی مفت کلاسز
📞 ابھی WhatsApp پر رابطہ کریں
https://wa.me/923101776052

03/08/2025

Assalam o alikom waramtullah

🌙 Do you want your child to learn Qur’an with Tajweed from home?
📖 Join As-Safhah Online Quran Academy today!
✔️ Certified male & female teachers
✔️ Zoom / WhatsApp classes
✔️ Hifz, Nazra, Tajweed – all courses available
🎁 3 Days Free Trial – No Registration Fee!

🕌 Let your child connect with the Qur’an from the comfort of your home.

📞 Contact us now on WhatsApp: +923101776052

📍 CTA: Send Message / WhatsApp / Learn More

09/07/2025

"خوددار عورت… لاوارث میت"
از قلم: لقمان اختر

سناٹے سے گونجتا کمرہ، بند دروازے کے پیچھے مہینوں سے خاموش پڑی لاش، اور آس پاس نہ کوئی آنکھ اشک بار، نہ کوئی ماتم، نہ کوئی دعا۔ بس دیواریں تھیں، جو چیخ چیخ کر اس عورت کی تنہائی کی گواہ تھیں، جو کبھی اپنی خودمختاری پر نازاں تھی، جس نے رشتوں کے ریشمی بندھنوں کو آزادی کی زنجیر سمجھ کر توڑ دیا، جو فیمینزم کے افیون سے مدہوش ہو کر اپنے خاندان، بھائی، باپ، اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے بھی روٹھ گئی تھی۔

"اداکارہ حمیرا اصغر" ایک خوبصورت چہرہ، ایک آزاد "عورت، ایک مشہور نام" لیکن کیا واقعی وہ کامیاب تھی؟
پولیس اہلکار جب اس کے بھائی کو فون کرتا ہے تو جواب ملتا ہے:
"اس کے والد سے بات کریں"
اور جب والد کو فون کیا جاتا ہے تو ایک باپ کی زبان سے نکلتا ہے:
"ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، ہم بہت پہلے اس سے ناطہ توڑ چکے، لاش ہے تو جیسے چاہو دفناؤ"
فون بند ہو جاتا ہے، مگر سوال کھلا رہ جاتا ہے کہ وہ کون سی زندگی تھی جو باپ کے دل کو اتنا سخت کر گئی؟ وہ کون سا راستہ تھا جو بھائی کی غیرت کو خاموش کرا گیا؟ وہ کون سی سوچ تھی جس نے ایک جیتے جاگتے وجود کو مہینوں لاش بنا کر سڑنے کے لیے چھوڑ دیا؟

یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ فیمینزم کی وہ بھیانک تصویر ہے، جو اشتہارات میں خوشنما، تقاریر میں متاثرکن، اور سوشل میڈیا پر انقلابی لگتی ہے، مگر اندر سے کھوکھلی، تنہا اور اندھیرے سے لبریز ہوتی ہے۔
فیمینزم کا آغاز عورت کے حقوق سے ہوا، مگر انجام اس کی تنہائی پر ہو رہا ہے۔
فیمینزم نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں سے نکال کر صرف "خود" بنا دیا اور یہی "خود" آخرکار اُسے اکیلا کر گیا۔

خاندان کا ادارہ، جسے صدیوں کی تہذیب نے پروان چڑھایا، جس میں قربانیاں، محبتیں، ناراضگیاں، مان، اور رشتہ داریوں کی حرارت موجود تھی، اسے آج کی عورت نے "زنجیر" سمجھ کر کاٹ دیا۔ اور جب وقت کی تیز دھوپ نے جلایا، تو کوئی سایہ دار درخت ساتھ نہ تھا۔
فیس بک کی دوستیں، انسٹاگرام کے فالورز، ٹوئٹر کی آزادی کے نعرے, سب خاموش تھے۔
باپ کا دروازہ بند تھا، بھائی کا دل پتھر ہو چکا تھا، اور ماں شاید برسوں پہلے رو رو کر مر چکی تھی۔

عجیب معاشرہ ہے یہ بھی، جہاں اگر بیٹی نافرمان ہو تو باپ ظالم کہلاتا ہے، اور اگر باپ لاتعلق ہو جائے تو بیٹی کی خودمختاری کا جشن منایا جاتا ہے۔
عورت جب گھر سے نکلے، تو "طاقتور" کہلاتی ہے،
جب طلاق لے، تو "باہمت" بن جاتی ہے،
جب رشتے توڑے، تو "بغاوت" نہیں بلکہ "خود شعوری" قرار پاتی ہے۔
اور جب مر جائے، تنہا، بوسیدہ لاش کی صورت،
تو سارا معاشرہ خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔

کاش حمیرا اصغر نے جانا ہوتا کہ فیمینزم، ماں کی گود جیسا تحفظ نہیں دے سکتا۔
کاش وہ سمجھ پاتی کہ باپ کی ڈانٹ، محبت کی ایک گونج ہوتی ہے، اور بھائی کی غیرت، عزت کی چادر ہوتی ہے۔
کاش وہ جان پاتی کہ مرد دشمنی کا نام عورت دوستی نہیں، بلکہ یہ فکری گمراہی ہے جو عورت کو اس کے رب، اس کے دین، اور اس کی فطرت سے کاٹ دیتی ہے۔

عورت مضبوط ضرور ہو، خودمختار بھی ہو، لیکن وہ اپنے اصل سے جُڑی رہے,
وہ ماں کا پیار، باپ کی شفقت، بھائی کی غیرت، اور شوہر کی رفاقت کو بوجھ نہ سمجھے۔
ورنہ فیمینزم کی راہ میں جو منزل ہے، وہ تنہائی، بے رُخی، اور بے گور و کفن لاش ہے۔

حمیرا اصغر چلی گئی,
لیکن فیمینزم کی دُھند میں گُم اور کتنی بیٹیاں ایسی ہی گم ہو رہی ہیں,
بس ہمیں تب ہوش آتا ہے،
جب تعفن زدہ لاش دیواروں سے سوال کرنے لگتی ہے۔۔۔
"آزادی چاہیے تھی نا؟ لے لو… مگر اب میرے پاس کوئی نہیں!"💔💔💔

فاعتبروا.........

04/07/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
> 📖 الصفہ آن لائن قرآن اکیڈمی
"خیرکم من تعلم القرآن وعلمه"
گھر بیٹھے قرآن سیکھیں، قرآن پڑھیں، قرآن سمجھیں!
👨‍🏫 تجربہ کار حفاظ و قراء اساتذہ
🧒 بچوں اور بچیوں کے لیے علیحدہ کلاسز
🌍 دنیا بھر سے طلبہ کے لیے
💻 Zoom، Skype، WhatsApp کلاسز
🎁 3 دن فری ٹرائل

20/06/2025

یا اللہ! ہم بارش کے محتاج ہو چکے ہیں۔۔۔
کنویں سوکھ چکے ہیں، جانور پیاس سے نڈھال ہیں، زمین بنجر اور مردہ ہو چکی ہے۔۔۔
رحمت کے بادلوں کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں!

کم از کم ایک مرتبہ دل سے یہ دعا پڑھیں۔۔۔
اور زیادہ سے زیادہ دوسروں تک پہنچائیں تاکہ سب مل کر دعا کریں
اور اللہ کی رحمت برسنے لگے!

19/06/2025

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے *رسول اللہ ﷺ* کو فرماتے سنا ۔۔۔!
تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر نہر ہو جس سے وہ پانچ مرتبہ دن میں غسل کرتا ہو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گی؟؟؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گا *آپ ﷺ* نے فرمایا یہی حال پانچ نمازوں کا ہے *اللہ ﷻ* اس سے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں
*بخاری, مسلم*

19/06/2025

*📢 ایک درد بھرا پیغام ہر بہن کے نام*

آج کے دور میں سوشل میڈیا، خاص طور پر TikTok اور Instagram جیسے پلیٹ فارم، ہمارے گھروں میں ایک فتنہ بن چکے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان گھروں کی بیٹیاں، ہماری بہنیں، اپنے حسن و جمال کو دنیا کے سامنے لا رہی ہیں۔
بے پردگی، ناچ گانا، لائکس، فالوورز، اور شہرت کی طلب نے عزت کا مفہوم بدل دیا ہے۔

لیکن یاد رکھو!
اسلام نے عورت کو پردے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔
اسلام نے عورت کو شرم و حیا کا زیور دیا ہے تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے، مردوں کی نگاہوں میں حیاء ہو، اور فتنوں کا دروازہ بند ہو۔

📖 قرآن فرماتا ہے:

> "وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ"
"اور زمانہ جاہلیت کی طرح مت سج دھج دکھاؤ۔"
(سورۃ الاحزاب: 33)

ہماری ماؤں — حضرت فاطمہؓ اور حضرت عائشہؓ — نے سادگی، تقویٰ اور حیا کو اپنی زینت بنایا۔
لیکن آج ہم اپنی بیٹیوں کو کس راہ پر لے جا رہے ہیں؟

ابھی چند دن پہلے ایک دردناک واقعہ سامنے آیا —
اسلام آباد میں ایک لڑکی کو اس کے برتھ ڈے پر ایک لڑکے نے بے دردی سے قتل کر دیا۔
تحقیقات سے پتا چلا وہ لڑکا بار بار دوستی کا مطالبہ کر رہا تھا،
جب لڑکی نے انکار کیا، تو اس نے غصے میں آ کر اس کی جان لے لی۔

لوگ کہتے ہیں:
"ظلم ہوا، زیادتی ہوئی!"
جی ہاں! ظلم ہوا — اور ہمارے دل ٹوٹ گئے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے:
کیا ہم خود وہ ماحول پیدا نہیں کر رہے جہاں یہ فتنہ جنم لیتا ہے؟
کیا ہم نے اسلام کی اس تعلیم کو بھلا نہیں دیا جس میں عورت کو پردے، حیا، اور احتیاط کی تلقین کی گئی ہے؟

⚠️ یاد رکھو!
ظالم کو ظلم کا موقع اکثر وہی ماحول دیتا ہے جو ہم خود بناتے ہیں۔

جب عورت اپنا حسن، چہرہ، جسم اور ادائیں سب پر ظاہر کرتی ہے،
تو وہ مرد، جن میں ایمان کی کمزوری ہے، وہ حدیں توڑ دیتے ہیں۔

اسی لیے اسلام کہتا ہے:

> "مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور عورت پردے میں رہے"
تاکہ معاشرہ محفوظ رہے۔

💔 میری بہنو!
تم فالوورز کے لیے نہیں، فلاح کے لیے پیدا ہوئی ہو۔
تم دنیا کی واہ واہ کے لیے نہیں، رب کی رضا کے لیے پیدا ہوئی ہو۔

---

🌹 اللہ تعالیٰ ہم سب کو، ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو حیا، دین، شعور اور تحفظ عطا فرمائے۔
🌸 ہماری یہ کوشش ہے کہ ہر بہن، ہر بیٹی محفوظ رہے، باحیا رہے، اور اللہ کے دین پر قائم رہے۔
🌸 اللہ ہمیں اس نیت میں اخلاص دے اور ہمارے معاشرے کو فتنوں سے بچائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 13:00 - 23:00
Tuesday 13:00 - 23:00
Wednesday 13:00 - 23:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00