10/06/2026
*باچا خان بابا – 20 سطروں میں پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد*
1. باچا خان بابا کا اصل نام عبدالغفار خان تھا، پیدائش 1890ء میں اتمانزئی، چارسدہ میں ہوئی۔
2. انہیں "سرحد کا گاندھی" اور "باچا خان" کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
3. انہوں نے انگریزوں کی غلامی کے خلاف عدم تشدد کی تحریک چلائی۔
4. 1929ء میں انہوں نے "خدائی خدمتگار تحریک" یا "سرخ پوش" تحریک کی بنیاد رکھی۔
5. اس تحریک کے رضاکار سرخ کپڑے پہنتے تھے، اس لیے "سرخ پوش" کہلائے۔
6. باچا خان کا نعرہ تھا: "تعلیم، امن اور بھائی چارہ"۔
7. انہوں نے پختونوں کے لیے سینکڑوں سکول کھولے تاکہ جہالت ختم ہو۔
8. انگریزوں نے انہیں کئی بار جیل میں ڈالا، لیکن وہ جھکے نہیں۔
9. کانگریس کے ساتھ مل کر انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑی۔
10. ان کا ماننا تھا کہ آزادی بندوق سے نہیں، اتحاد اور اخلاق سے ملتی ہے۔
11. انہوں نے پختونوں کو پیغام دیا: "پختون کو قلم چاہیے، تلوار نہیں"۔
12. 1947ء میں جب پاکستان بنا تو انہوں نے پرامن پاکستان کی حمایت کی۔
13. وہ چاہتے تھے کہ پختون، پنجابی، سندھی، بلوچی سب ایک قوم بن کر رہیں۔
14. انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں انہوں نے 30 سال سے زیادہ جیل کاٹی۔
15. کانگریس نے انہیں ہمیشہ عزت دی کیونکہ وہ سچے اور اصولوں کے پکے تھے۔
16. باچا خان نے کہا: "میں مسلمان ہوں، پختون ہوں، لیکن سب سے پہلے انسان ہوں"۔
17. انہوں نے فرقہ واریت، لسانیت اور نفرت کی سیاست کو ہمیشہ رد کیا۔
18. پاکستان کے لیے ان کا خواب تھا: ایک پرامن، تعلیم یافتہ اور متحد قوم۔
19. 1988ء میں پشاور میں ان کا انتقال ہوا، لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔
20. آج بھی باچا خان بابا ہمیں سکھاتے ہیں کہ ملک ترقی صرف محبت، تعلیم اور قربانی سے کرتا ہے۔
*سبق*: پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے باچا خان کا فلسفہ - "عدم تشدد + تعلیم + اتحاد" - آج بھی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
کوئی خاص واقعہ سننا چاہیں گے ان کی زندگی کا؟