Islamic Tarbiyah School

Islamic Tarbiyah School

Share

Register with PSRA from Play Group to Class 9th

04/01/2026

موبائل: بچوں کی خاموش تباہی
والدین کے لیے ایک سنجیدہ اور بروقت انتباہ👇
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، مگر بدقسمتی سے یہی ترقی ہمارے بچوں کے لیے ایک خاموش خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ موبائل فون جو سہولت، تعلیم اور رابطے کا ذریعہ تھا، اب بچوں کے ہاتھ میں ایک ایسا آلہ بن چکا ہے جو ان کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما کو متاثر کر رہا ہے۔ اکثر والدین اس نقصان کو اُس وقت محسوس کرتے ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
بیہیویئر تھراپی کے مطابق بچہ وہی رویّہ اختیار کرتا ہے جو اسے بار بار ماحول سے ملتا ہے۔ جب بچہ گھنٹوں موبائل اسکرین دیکھتا ہے تو وہ حقیقی دنیا سے کٹنے لگتا ہے۔ وہ آوازوں، چہروں، جذبات اور تعلقات سے سیکھنے کے بجائے ایک ایسی مصنوعی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں سب کچھ خودکار اور بے جان ہوتا ہے۔
موبائل اور بچوں کے رویّوں کی بگاڑ
طبی اور تھراپی مشاہدات کے مطابق موبائل کے زیادہ استعمال سے بچوں میں درج ذیل مسائل عام ہو رہے ہیں:
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنا
نام پکارنے پر ردِعمل نہ دینا
بات کم اور اشاروں پر انحصار
ضد، غصہ اور چڑچڑاپن
توجہ برقرار رکھنے میں شدید دشواری
یہ تمام علامات بیہیویئر تھراپی میں خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہیں۔
بول چال پر اثرات
بولنے کی صلاحیت صرف الفاظ یاد کرنے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ مسلسل انسانی رابطے سے پروان چڑھتی ہے۔ جب بچے کے سامنے موبائل ہو تو وہ:
سننے کا عمل کھو دیتا ہے
مکالمہ نہیں سیکھ پاتا
آوازوں کی نقل نہیں کرتا
نتیجتاً Speech Delay، الفاظ کی کمی اور جملہ سازی میں مشکل سامنے آتی ہے۔ بعض اوقات یہ علامات آٹزم سے مشابہ لگتی ہیں، حالانکہ اصل وجہ صرف اسکرین کی زیادتی ہوتی ہے۔
والدین کی نادانستہ غلطیاں
اکثر والدین بچے کو خاموش رکھنے کے لیے موبائل دے دیتے ہیں۔ بیہیویئر تھراپی کے مطابق یہ عمل بچے کے غلط رویّے کو انعام (Reward) بنا دیتا ہے۔ بچہ سیکھ لیتا ہے کہ رونا، ضد کرنا یا غصہ دکھانا فائدہ مند ہے، کیونکہ اس کے بدلے موبائل مل جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موبائل چھننے پر بچہ شدید ردِعمل دکھاتا ہے، جو ایک واضح علامت ہے کہ بچہ اسکرین پر انحصار کا شکار ہو چکا ہے۔
حل کیا ہے؟
بیہیویئر تھراپی ہمیں سزا کے بجائے مثبت تربیت کا راستہ دکھاتی ہے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ:
دو سال سے کم عمر بچوں کو موبائل سے مکمل دور رکھیں
بڑے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم محدود کریں
موبائل کے متبادل کے طور پر کہانی، کھیل اور بات چیت کو ترجیح دیں
اچھے رویّے پر فوری تعریف کریں
خود بھی موبائل کے کم استعمال کی مثال قائم کریں
یہ تمام اقدامات بچے کے دماغ اور رویّے کو قدرتی طور پر مضبوط کرتے ہیں۔
نتیجہ
موبائل بچوں کو وقتی طور پر خاموش کر دیتا ہے، مگر یہ خاموشی صحت مند نہیں ہوتی۔ یہ خاموشی بچے کے الفاظ، جذبات اور سماجی تعلقات کو دبا دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے پُراعتماد، خوش گفتار اور متوازن شخصیت کے مالک ہوں تو ہمیں اسکرین کے بجائے انسانی توجہ کو ترجیح دینا ہوگی۔
یاد رکھیے:
بچہ موبائل سے نہیں، والدین کے وقت، محبت اور گفتگو سے بنتا ہے۔

تحریر: سائرہ آفتاب (اسپیچ تھراپسٹ)

12/12/2025

خیبر پختونخوا میں تمام پرائیویٹ سکولز کے لیے School Leaving Certificate (SLC) اب صرف سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے جاری ہوگا۔

پورٹل ہر SLC کو خودکار طور پر Unique ID نمبر دے گا جس سے جعلی یا ہاتھ سے لکھے گئے SLC کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

آج سے تمام پرائیویٹ سکولز کو ہدایت ہے کہ ہاتھ سے بنائے گئے SLC فوراً بند کریں اور صرف ڈیجیٹل SLC جاری کریں۔

سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے اب صرف ڈیجیٹل SLC قبول کریں گے۔

غیر رجسٹرڈ سکولز کو SLC جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

تمام متعلقہ محکموں، ڈائریکٹرز اور سکولز کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں کہ اس سسٹم پر مکمل طور پر عمل درآمد کروایا جائے۔

06/12/2025
06/11/2025

**"استاد، میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں… لیکن ان میں سے زیادہ تر بھول گیا ہوں۔ تو پھر پڑھنے کا فائدہ کیا ہے؟"**

یہ ایک تجسس بھرے شاگرد کا سوال تھا جو اُس نے اپنے استاد سے کیا۔
استاد نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس خاموشی سے اُس کی طرف دیکھتے رہے۔

چند دن بعد، وہ دونوں دریا کے کنارے بیٹھے تھے۔ اچانک بوڑھے استاد نے کہا:
**"مجھے پیاس لگی ہے۔ ذرا پانی لے آؤ… مگر اُس پرانے چھلنی (چھاج) سے جو زمین پر پڑی ہے۔"**

شاگرد حیران رہ گیا۔ یہ کیسا عجیب حکم تھا؟
چھلنی میں تو جگہ جگہ سوراخ ہیں — اس میں پانی لانا ناممکن تھا!

مگر اُس نے بحث نہیں کی۔

اُس نے چھلنی اُٹھائی اور کوشش کی۔
ایک بار، پھر دوسری بار، بار بار…

وہ تیز بھاگا، زاویہ بدلا، یہاں تک کہ انگلیوں سے سوراخ ڈھانپنے کی کوشش کی۔
مگر سب بیکار گیا۔ وہ ایک بوند بھی نہیں لا سکا۔

تھک ہار کر، مایوس ہو کر اُس نے چھلنی استاد کے قدموں میں پھینک دی اور کہا:
**"معاف کیجیے، میں ناکام ہوگیا۔ یہ تو ناممکن تھا۔"**

استاد نے نرمی سے مسکرا کر کہا:
**"تم ناکام نہیں ہوئے۔ چھلنی کو دیکھو۔"**

شاگرد نے نیچے دیکھا… اور حیران رہ گیا۔
پرانی، سیاہ اور گندی چھلنی اب چمک رہی تھی۔
پانی، چاہے رکا نہیں، مگر بار بار گزرنے سے اُس نے چھلنی کو بالکل صاف کر دیا تھا۔

استاد نے کہا:
**"پڑھائی بھی یہی کرتی ہے۔ کوئی فرق نہیں پڑتا اگر تمہیں ہر بات یاد نہ رہے۔
کوئی بات نہیں اگر علم ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل جائے…**

**کیونکہ جب تم پڑھتے ہو، تمہارا ذہن تازہ ہوتا ہے۔
تمہاری روح نکھر جاتی ہے۔
تمہارے خیالات میں نئی جان آ جاتی ہے۔
اور چاہے تم فوراً محسوس نہ کرو، تم اندر سے بدل رہے ہوتے ہو۔"**

**یہی پڑھنے کا اصل مقصد ہے۔**
یادداشت بھرنا نہیں…
بلکہ روح کو پاکیزہ اور مالامال کرنا ہے۔

03/11/2025

والدین متوجہ ہوں ⚠️

لڑکا دس سال کا ہوجائے تو اسے والد کے حوالے کردیں عورتوں کی محفلوں سے الگ کردیں....!!

گاڑی کا ٹائر بدلا جا رہا ہے تو اسے سکھاؤ،
مارکیٹ سے سامان لانا ہے تو اسے لے کر جائیں
اور بتائیں کہ جاؤ فلاں فلاں چیزیں لو
اور ساتھ ساتھ سمجھاتے رہو۔

دس سال کے بچے کو پتا ہونا چاہیے کہ
آلو پیاز کی قیمت کیا ہے ؟
قریبی دکان کہاں پر ہے،
فلاں کا گھر کونسا ہے،
کونسا مکینک اچھا کام کرتا ہے،
گھر آئے مرد مہمانوں کا کیسے استقبال کرنا ہے۔

اس کے ساتھ اپنے کپڑے استری کرنا،
اپنا بستر بنانا،
ضرورت کے وقت اپنے لئے کھانا گرم کرنا،
اپنا سبق وقت پر یاد کرنا،
وقت پر سونا وقت پر جاگنا،
یہ صرف کرنی کی باتیں نہیں ہیں اس پر عمل کرنا ہے۔

دس سال کا بچہ اب ایک عشرہ آگے آچکا ہےاب اسے کچھ نیا کرنے کو دل کرتا ہے اب اس کے لئے صرف ماں باپ کا پیار کافی نہیں ہوتا ہے۔

اس عمر میں مخلوط تقریبوں میں لے جانے سے احتیاط کریں اور کوشش کریں کہ جب خواتین کا کوئی پروگرام ہو تو بچے کو کسی اور دلچسپ سے کام میں مصروف کردو اور یہ سب کچھ پیار محبت سے کروانا ہے کہ بچے کو احساس ہو کہ یہ سب میرے خود کے لئے بہتر ہے نہ کہ اسے نوکروں کی طرح حکم دو۔

اگر آپ اسے درست کاموں میں مصروف نہیں کریں گے تو وہ خود اپنے لئے کچھ دلچسپیاں تلاش کرے گا نئے دوست بنائے گا اور ایسی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرے گا جو والدین اس کے لئے بالکل پسند نہیں کریں گے۔

بچے کی تربیت کریں گے تو کل وہ آپ کو سود سمیت لوٹائے گا اور اگر صرف کھانے پینے پر دھیان دوگے تو پھر چیختے چلاتے رہ جاو گے کہ ہم نے تم پر خرچ کیا ہے پڑھایا لکھایا ہے لیکن ان پر اثر نہیں ہوگا اس لئے ان کو وقت دیں نیندیں قربان کریں۔

یہ کام مشکل ہے، بالکل آسان نہیں ہے لیکن یہ کرنا ہے اگر آپ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور والدین کے رتبے پر فائز کیا ہے تو جان مت چھڑائیں، اس عہدے کا پاس رکھیں۔
اچھی تربیت کرنے سے ہی یہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور ممکنہ طور پر پرہیزگاروں کی رہنما بن سکتی ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Badshahi Road Sufaid Dheri
Peshawar
25000

Opening Hours

Monday 08:00 - 13:00
Tuesday 08:00 - 13:00
Wednesday 08:00 - 13:00
Thursday 08:00 - 13:00
Friday 08:00 - 23:00
Saturday 08:00 - 13:00