21/08/2026
#مدرسہ #مشکوةالعلوم
# گلشنِ عُمر کی خوشبو، مشکاۃ العلوم کی فضا میں
زندگی میں بعض ملاقاتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف دو انسانوں کا آمنا سامنا نہیں ہوتیں، بلکہ بیتے ہوئے زمانوں کے دروازے کھول دیتی ہیں۔ وہ دل پر جمی ہوئی یادوں کی گرد جھاڑ دیتی ہیں اور انسان کو پھر سے ان گلیوں میں لے جاتی ہیں، جہاں اخلاص، محبت اور رفاقت نے اپنی پہلی منزلیں طے کی تھیں۔
آج ایسی ہی ایک سعادت نصیب ہوئی، جب **مدرسہ مشکاۃ العلوم پشاور** میں ہمارے دیرینہ دوست، جامعہ **Usmania** پشاور گلشنِ عمر کے ساتھی، محترم **مولانا محمد عظمت صاحب** سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ طالب علمی کے ایام سے ہماری باہمی محبت، خلوص اور بے تکلفی کا ایک خوبصورت رشتہ قائم ہے۔ وہ ہمیشہ جامعہ عثمانیہ کی خدمت میں پیش پیش رہے اور **عثمانیہ ویلفیئر ٹرسٹ** کے صدر کی حیثیت سے بھی خاموشی، دیانت اور اخلاص کے ساتھ گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ برسوں بعد یہ ملاقات یوں محسوس ہوئی جیسے وقت نے ایک بار پھر ہمیں طالب علمی کے انہی روشن دنوں میں لا کھڑا کیا ہو۔
ان کی دعوت پر جب مشکاۃ العلوم پہنچے تو دل ایک خوشگوار حیرت میں ڈوب گیا۔ ایک مختصر سے احاطے میں ایسا محسوس ہوا جیسے جامعہ عثمانیہ پشاور کی پوری روح سمٹ آئی ہو۔ ہر گوشہ، ہر ترتیب، ہر نظم اور ہر منظر جامعہ عثمانیہ کی یاد تازہ کر رہا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے گلشنِ عمر کی خوشبو یہاں کی فضا میں رچ بس گئی ہو، اور اس ادارے کی بنیاد اینٹوں سے نہیں بلکہ اخلاص، تربیت اور حسنِ انتظام سے رکھی گئی ہو۔
مولانا محمد عظمت صاحب نے اپنے مخلص اساتذۂ کرام اور رفقائے کار کے ساتھ مل کر جس علمی و تربیتی ماحول کو پروان چڑھایا ہے، وہ دل کو خوش کرنے والا ہے۔ یہاں ہر استاد اپنے منصب کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک امانت سمجھ کر ادا کر رہا ہے۔ ان کی پوری ٹیم جس محبت، اتحاد اور لگن کے ساتھ اس ادارے کی تعمیر میں مصروف ہے، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب نیتیں خالص ہوں تو وسائل کی کمی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
طلبہ سے ملاقات بھی نہایت خوشگوار رہی۔ ان کی خوشخطی میں ذوقِ جمال جھلکتا تھا، تجوید کے لیے سیکنڈ ٹائم کلاسز کی بہترین ترتیب نے بے حد متاثر کیا، بزمِ ادب کی علمی و ادبی فضا نے دل موہ لیا، اور طلبہ کا نظم و ضبط دیکھ کر بے اختیار رشک آیا۔ محسوس ہوا کہ یہاں صرف کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں بلکہ کردار تراشے جاتے ہیں، صرف اسباق نہیں دہرائے جاتے بلکہ نسلوں کی تعمیر کی جاتی ہے۔
اس چھوٹے سے ادارے کو دیکھ کر دل نے گواہی دی کہ اداروں کی عظمت ان کی عمارتوں کی وسعت سے نہیں، بلکہ ان کے خوابوں، حوصلوں اور مقاصد کی بلندی سے ہوتی ہے۔ بعض چراغ بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر ان کی روشنی دور دور تک پھیلتی ہے۔ مشکاۃ العلوم بھی انہی روشن چراغوں میں سے ایک محسوس ہوا، جس کی لو اخلاص کے تیل سے روشن ہے اور جس کی کرنیں مستقبل کی راہوں کو منور کر رہی ہیں۔
اس ملاقات میں صرف حال کی باتیں نہیں ہوئیں، بلکہ گلشنِ عمر اور جامعہ عثمانیہ پشاور کے وہ سنہرے ایام بھی دیر تک گفتگو کا حصہ رہے، جن میں اساتذۂ کرام کی شفقت، دوستوں کی رفاقت، علم کی محفلیں اور زندگی کے بے شمار یادگار لمحات سمٹے ہوئے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے چند لمحوں کے لیے اپنی رفتار روک دی ہو اور یادوں نے پھر سے زندگی اوڑھ لی ہو۔
واپسی کا وقت آیا تو دل محبت، شکرگزاری اور دعاؤں سے لبریز تھا۔ مولانا محمد عظمت صاحب کی محبت، خلوص، حوصلہ افزائی اور پرخلوص میزبانی نے اس ملاقات کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ مدرسہ **مشکاۃ العلوم پشاور** کو روز افزوں ترقی عطا فرمائے، اس کے اساتذہ، طلبہ اور منتظمین کی محنت کو شرفِ قبولیت بخشے، اور اسے علم، عمل، اخلاص اور کردار کا ایسا روشن مینار بنائے جس کی روشنی آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے۔ آمین۔
(شعبہ نشرواشاعت مدرسہ مشکوةالعلوم )