11/05/2026
خیبر وادی تیراہ: مہربان کلی میجر گلفام ایجوکیشن سسٹم میں ’’معرکۂ حق‘‘ تقریب، پاک فوج سے بھرپور یکجہتی کا اظہار
خیبر وادی تیراہ کے علاقے مہربان کلی میں ’’معرکۂ حق‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تیراہ ملیشیا 213 وِنگ کے لیفٹیننٹ کرنل وقاص نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں قبائلی مشران، طلباء، اساتذہ، سماجی شخصیات اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاک فوج و سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر طلباء نے ملی نغمے، تقاریر اور ٹیبلو پیش کیے جن میں وطن سے محبت، قومی اتحاد، امن، قربانی اور شہداء کی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ’’معرکۂ حق‘‘ حق اور باطل کے درمیان جاری اس جدوجہد کی علامت ہے جس میں پاکستان کی بہادر افواج نے امن کے قیام اور ملک کی سالمیت کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ پاک فوج کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی ہر مشکل گھڑی میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
مقامی مشران نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، اتحاد، قومی شعور اور حب الوطنی کو فروغ دے کر ملک کو درپیش چیلنجز کا متحد ہو کر مقابلہ کریں۔
تیراہ ملیشیا 213 وِنگ کے لیفٹیننٹ کرنل وقاص نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقا، ترقی اور استحکام کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور عوام کے درمیان مضبوط رشتہ ہی ملک کی اصل طاقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان منفی سرگرمیوں سے دور رہتے ہوئے تعلیم، تحقیق اور قومی خدمت کے میدان میں آگے بڑھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عوام کی قربانیاں اور حب الوطنی ناقابلِ فراموش ہیں اور یہی جذبہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تقریب کے دوران شرکاء نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے جبکہ شہداء کی یاد میں خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ آخر میں ملک کی سلامتی، امن و استحکام اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔