05/04/2026
تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (الحدیث)
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Authentic Deen, Educational Research Center, Akora Khattak District Nowshera Tehsil Jehangira, Peshawar.
05/04/2026
تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (الحدیث)
حوالہ :
کتاب: Sahih al-Bukhari
حدیث نمبر: 1957
اصل مفہوم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔
سند کا خلاصہ
یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ امام Muhammad ibn Ismail al-Bukhari نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں روایت کی ہے۔ اس روایت کو صحابی رسول Sahl ibn Sa'd al-Sa'idi سے نقل کیا گیا ہے۔ امام بخاری تک اس حدیث کی سند متصل اور معتبر راویوں پر مشتمل ہے، اسی وجہ سے محدثین کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔
تفسیر اور تشریح
اس حدیث میں افطار جلدی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب سورج غروب ہو جائے تو فوراً روزہ کھول لینا چاہیے اور بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
علماء نے اس حدیث کی تشریح میں چند اہم نکات بیان کیے ہیں۔
پہلا نکتہ
افطار میں جلدی کرنا سنت ہے۔ جیسے ہی سورج غروب ہو جائے روزہ کھول لینا چاہیے۔ اس میں تاخیر کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہے۔
دوسرا نکتہ
اس عمل میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت بھی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ دوسری امتیں افطار کو تاخیر سے کرتی تھیں، اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ سورج غروب ہوتے ہی افطار کریں۔
تیسرا نکتہ
اس میں امت کے لیے آسانی اور رحمت ہے۔ اسلام دینِ فطرت اور آسانی کا دین ہے، اس لیے غیر ضروری سختی سے منع کیا گیا ہے۔
چوتھا نکتہ
اس حدیث میں "خیر پر رہنے" کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مسلمان سنت کی پیروی کرتے رہیں گے اور دین میں خود ساختہ سختیاں پیدا نہیں کریں گے تب تک ان میں خیر اور برکت باقی رہے گی۔
محدثین کی آراء
امام Yahya ibn Sharaf al-Nawawi اور Ibn Hajar al-Asqalani جیسے محدثین نے بیان کیا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ افطار میں جلدی کرنا مستحب اور سنت ہے، بشرطیکہ سورج کے غروب ہونے کا یقین ہو جائے۔
خلاصہ
یہ حدیث صحیح اور معتبر ہے اور اس میں واضح تعلیم یہ دی گئی ہے کہ مسلمان سورج غروب ہوتے ہی افطار کریں۔ اس سنت پر عمل کرنے میں خیر، برکت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے۔
نبی کریم محمد ﷺ نے فرمایا ؛
“جب کوئی بھول کر کھا پی لے تو اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔”
راوی
یہ حدیث صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ امام محمد بن اسماعیل البخاری نے اسے اپنی کتاب صحیح بخاری میں نقل کیا ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ حدیث صحیح اور مضبوط سند کے ساتھ ثابت ہے۔
توضیح
اس حدیث میں روزے کے ایک اہم مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے۔ اگر روزہ دار کو بھول ہو جائے اور وہ کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جیسے ہی اسے یاد آئے اسے فوراً رک جانا چاہیے اور باقی دن روزہ جاری رکھنا چاہیے۔
اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ بھول انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ جب انسان واقعی بھول جائے تو شریعت اس پر گناہ یا مواخذہ نہیں کرتی۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا، یعنی یہ اس کی طرف سے معافی اور آسانی ہے۔
فقہی فائدے
اگر کوئی شخص واقعی بھول کر کھا پی لے تو روزہ صحیح رہتا ہے۔
یاد آتے ہی فوراً رک جانا لازم ہے۔
اگر یاد آنے کے بعد بھی جان بوجھ کر کھاتا رہے تو پھر روزہ ٹوٹ جائے گا۔
یہ حکم فرض روزے اور نفلی روزے دونوں کے بارے میں ہے۔
اہل علم کی وضاحت
محدثین اور فقہاء جیسے امام نووی اور ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بھول کر کھانا پینا شریعت میں معاف ہے، اور اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
خلاصہ
اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ برقرار رہتا ہے۔ اسے چاہیے کہ یاد آتے ہی رک جائے اور اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ شریعت نے اسے معاف قرار دیا ہے۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعض اوقات کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج نکلنے کے بعد جب تک وہ کچھ بلند نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے۔ اسی طرح عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد سورج ڈوبنے تک بھی کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے۔
اس ہدایت کی اصل وجہ یہ ہے کہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت بعض قدیم اقوام سورج کی عبادت کیا کرتی تھیں۔ اسلام نے عبادت کے طریقوں کو ان باطل رسموں سے الگ اور پاک رکھنے کے لیے ان خاص اوقات میں نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ اس طرح مسلمانوں کی عبادت ہر قسم کی مشرکانہ مشابہت سے محفوظ رہتی ہے۔
علمائے حدیث اور فقہاء نے وضاحت کی ہے کہ اس ممانعت کا تعلق عام نفل نمازوں سے ہے۔ فرض نمازیں اگر کسی وجہ سے رہ جائیں تو ان کی قضا ان اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بعض نمازیں جو خاص سبب کی وجہ سے پڑھی جاتی ہیں جیسے مسجد میں داخل ہونے کی نماز یا جنازہ کی نماز، ان کے بارے میں اہل علم کے درمیان کچھ تفصیل بیان کی گئی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے عبادت کے اوقات کو باقاعدہ منظم کیا ہے۔ سورج نکلنے کے بعد جب وہ اچھی طرح بلند ہو جائے تو اس کے بعد نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے، اور اسی طرح مغرب سے پہلے عصر کے بعد کے وقت میں نفل نماز سے رکنے کا حکم ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مسلمان عبادت کو ان اوقات سے الگ رکھیں جن میں غیر مسلم اقوام سورج کو سجدہ کیا کرتی تھیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ نماز کے مقررہ آداب اور اوقات کی پابندی کریں اور عبادت کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق چلیں، کیونکہ یہی طریقہ عبادت کو خالص اور مقبول بناتا ہے۔
آيَةُ المُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔
ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“منافق کی تین نشانیاں ہیں:
1. جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
2. جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے۔
3. جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔”
تشریح
اس حدیث میں نفاقِ عملی کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان میں یہ عادتیں ہوں تو وہ **منافقوں جیسی عادتیں** اختیار کر رہا ہے، لیکن اس سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا جب تک وہ دل سے ایمان کا انکار نہ کرے۔
ان تین عادتوں کی وضاحت:
1. جھوٹ بولنا
جھوٹ ایمان کے خلاف ہے اور معاشرے میں بےاعتمادی پیدا کرتا ہے۔ مومن کی پہچان سچائی ہے۔
2. وعدہ خلافی
اسلام میں وعدہ پورا کرنا بہت اہم ہے۔ بلا وجہ وعدہ توڑنا منافقانہ عادت ہے۔
3. امانت میں خیانت
امانت صرف مال ہی نہیں بلکہ راز، ذمہ داری اور عہدہ بھی امانت ہوتے ہیں۔ ان میں خیانت کرنا سخت گناہ ہے۔
اہم نکتہ
علماء جیسے Imam al-Nawawi نے وضاحت کی ہے کہ یہ صفات **نفاقِ عملی** کی ہیں، یعنی عمل کے لحاظ سے منافقانہ خصلتیں۔ اگر کوئی شخص ان سے توبہ کر لے تو اللہ اسے معاف فرما دیتا ہے۔
حوالہ
یہ حدیث صحابی رسول Abu Hurairah رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور درج ہے:
Sahih al-Bukhari، حدیث نمبر 33
Sahih Muslim، حدیث نمبر 59
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"یَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا"
ترجمہ: "آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، اور خوشخبری دو، نفرت نہ دلاؤ۔"
حوالہ
کتاب: صحیح بخاری
کتاب العلم
حدیث نمبر: 69
راوی: حضرت انس بن مالکؓ
مختصر تشریح
اس حدیث میں حضرت محمد ﷺ نے دین کی دعوت اور لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا بنیادی اصول بیان فرمایا ہے:
آسانی پیدا کرنا: دین اسلام فطرت کے مطابق آسان دین ہے، اس لئے لوگوں کو دین کی بات اس انداز میں بتائی جائے جو ان کے لئے قابلِ عمل ہو۔
سختی سے بچنا: غیر ضروری سختی، ڈانٹ یا مشکل بنا دینے سے لوگ دین سے دور ہو سکتے ہیں۔
خوشخبری دینا: اللہ کی رحمت، مغفرت اور جنت کی امید دلانا لوگوں کو نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔
نفرت نہ دلانا: ایسا سخت یا تلخ انداز اختیار نہ کیا جائے جس سے لوگ دین سے بددل ہو جائیں۔
حوالہ (Reference):
یہ آیت Surah Al-Jumu'ah آیت 9 ہے۔
(قرآن مجید: 62:9)
آیت:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
تشریح؛
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو حکم دیتے ہیں کہ جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر یعنی نمازِ جمعہ اور خطبہ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور خرید و فروخت اور دنیاوی کام چھوڑ دیں۔
اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان دنیاوی مصروفیات پر دین کو ترجیح دیں اور جمعہ کے اجتماع میں شریک ہو کر اللہ کی یاد، نصیحت اور ہدایت حاصل کریں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے، کیونکہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے۔
حدیث کا خلاصہ
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں:
نبی کریم ﷺ نے ایک ایسا پردہ دیکھا جس پر تصویری نقش و نگار تھے۔ آپ ﷺ نماز پڑھتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوتے رہے۔ نماز کے بعد فرمایا:
"اس پردے کو میرے سامنے سے ہٹا دو، کیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں خلل ڈالتی رہیں۔"
(اور فرمایا کہ اسے ابو جہم کو دے دو اور اس کی سادہ چادر لے آؤ۔)
مفہوم اور وضاحت
اس حدیث سے چند اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں:
1️⃣ نماز میں مکمل توجہ (خشوع) ضروری ہے
کوئی بھی چیز جو نمازی کی توجہ ہٹائے ، چاہے وہ نقش و نگار ہوں یا تصویریں، اسے سامنے نہیں ہونا چاہیے۔
2️⃣ تصویری نقش و نگار ناپسندیدہ ہیں
خاص طور پر ایسی تصاویر جو جاندار کی ہوں، وہ دل کو متوجہ کرتی ہیں اور عبادت میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
3️⃣ سادگی عبادت کے لیے بہتر ہے
نبی ﷺ نے سادہ چادر منگوائی — اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے ماحول میں سادگی زیادہ مناسب ہے۔
(عملی سبق)
نماز ایسی جگہ پڑھیں جہاں سامنے سادہ دیوار ہو۔
جائے نماز یا پردے پر شوخ ڈیزائن یا جاندار تصاویر نہ ہوں۔
موبائل، ٹی وی یا کوئی بھی توجہ بٹانے والی چیز سامنے نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے فجر کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) سورج نکلنے سے پہلے پا لی اس نے فجر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا۔ اور جس نے عصر کی ایک رکعت (جماعت کے ساتھ) سورج ڈوبنے سے پہلے پا لی، اس نے عصر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا۔
Book: Sahih Bukhari
Hadees No: 579
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ
محض ثواب آخرت کے لئے ذکروعبادت میں گزارے، اس کے
گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
میں گواہی دیتا ہوں
کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ 🤍💫
I bear witness!
That no-one is worthy of worship but Allah, the One alone, without partner, and I bear witness That Muhammad (S.A.W) is His servant and Messenger. 🤍💫