Maududi’s school of thoughts

Maududi’s school of thoughts

Share

Islamic exploration

28/08/2025
21/07/2025

مولانا مودودی کے مخالفین اور معترضین کا چھوڑا ہوا ایک بڑا شوشہ یہ ہے کہ ہندوستان کے کئی بڑے علماء ابتداء میں جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے تھے لیکن کچھ ہی سالوں میں وہ مولانا مودودی اور ان کی جماعت کی فلاں اور فلاں "گمراہیوں" کو دیکھ کر ان سے بدظن ہوگئے اور ان کو چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ تو مولانا مودودی صاحب کے عقائد درست تھے اور نہ ہی ان کی جماعت ، جماعت اسلامی راہ حق پر چلنے والی جماعت تھی۔ ورنہ علماء انہیں چھوڑ کر الگ نہ ہوتے!

اصل میں بعض علماء (میں ان کے نام نہیں لینا چاہتا) نے اس زمانے کی دوسری جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی کو بھی دین کے نام پر مذہبی دکانداری اور حلوہ خوری کا ایک پلیٹ فارم تصور کر لیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس جماعت میں بغیر کافی سوچ بچار اور تحقیق کے صرف شغل میلے کی نیت سے شمولیت اختیار کی تھی لیکن یہاں آکر کچھ وقت گزارنے کے بعد جلد ہی ان کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ یہاں تو اپنی دال گلنے والی نہیں ہے ، بلکہ اس جماعت میں شمولیت کا تو مطلب یہ ہے کہ اس میں اپنے وقت ، سرمایے اور صلاحیت سب چیزوں کو واقعی خدا کی راہ میں ہمیں کھپانا پڑے گا ، وہ بھی دنیا میں حلوہ کھانے کی امید رکھے بغیر۔۔۔۔!

اب ظاہر ہے وہ علماء جو جماعت اسلامی میں اپنی شمولیت پر پچھتا رہے تھے ، یہاں سے کھسکنے (escape) کے وقت پبلک میں یہ اعتراف تو نہیں کر سکتے تھے کہ ہم جماعت اسلامی میں خدا کے دین کیلئے اپنے مال اور آرام کی قربانی دینے سے چونکہ عاجز تھے اس لیے جماعت اسلامی کو چھوڑ کر جا رہے ہیں! لہٰذا انہوں نے جماعت اسلامی سے باعزت و محفوظ واپسی (safe & honourable exit) کے لئے ایک نہایت مکروہ چال چلی۔

چنانچہ ان میں سے ہر ایک نے جماعت سے اپنی مبینہ "بیزاری" کا کمزور اور پھسپھسا عذر یعنی بہانہ بھی مذہبی نوعیت کا ایجاد کرنا شروع کیا۔ کسی نے کہا مولانا مودودی نے اسلاف پر کھلی تنقید کے کلچر کو فروغ دیا ، کسی نے کہا وہ اپنی شخصیت کا سحر طاری کرنا چاہتے تھے ، کسی نے انبیاء و صحابہ کی گستاخی کے الزامات لگائے ، کسی نے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کو غلط قرار دے کر بہانہ بنایا ، کسی نے اس جماعت میں خود کو کوئی اہمیت نہ دئیے جانے کا شکوہ کیا۔ کسی نے جماعت والوں کے لباس ، وضع قطع وغیرہ جیسی ثانوی درجے کے معاملات کو جماعت سے نفرت کا بہانہ بنایا۔

در حقیقت یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ مولانا مودودی نے اپنے پورے دور امارت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی پسند و ناپسند یا مخصوص افراد کی پسند و ناپسند کی بنیاد پر جماعت پر مسلط نہیں کیا ، بلکہ شفاف شورائیت کے نظام کے تحت ارکان جماعت کی کثرت رائے سے انہوں نے سارے بڑے فیصلے کئے جس کا ان خود پسند علماء حضرات کو سخت قلق تھا۔ یہ بات بھی جماعت کے ریکارڈ (روداد جماعت اسلامی) میں درج ہے کہ ارکان جماعت ہر اجتماع عام میں مولانا مودودی کا ان کے ایک ایک اقدام پر سخت ترین محاسبہ کیا کرتے تھے جس کے نتیجے میں مولانا کو مخالفین کو جواب دینے کی طرح ارکان جماعت کو بھی مفصل جوابات دے کر مطمئن کرنا پڑتا تھا۔ بارہا یہاں تک بات پہنچی کہ مولانا مودودی نے ارکان کو درخواست کی کہ خدارا مجھ سے بہتر کوئی بندہء خدا ڈھونڈ کر یہ ذمہ داری اس کے کندھوں پر منتقل کر دو اور میری معذرت قبول کرو۔ لیکن ارکان نے ہر بار ان کی اس استدعا کو بھی مسترد کیا۔ لیکن ساتھ ان کا محاسبہ بھی جاری رکھا۔

ظاہر ہے جماعت سے مبینہ طور پر "بددل" مذکورہ علماء اپنے دلوں میں امارت کی بھی ضرور کوئی نہ کوئی خواہش رکھتے تھے (آرام طلب اور جاہ پسند علماء اس چیز سے پاک ہو ہی نہیں سکتے) لیکن جماعت کے امیر کے محاسبے کا یہ نظام ان کی طبیعت ، مزاج اور مذاق کے قطعی خلاف تھا ، چنانچہ وہ جانتے تھے کہ جس جماعت کا امیر بننے کی صورت میں ان کو ارکان کی طرف سے کڑے احتساب کا سامنا کرنا پڑے ، اس جماعت کا امیر بننے کا کیا فائدہ؟ اور جس جماعت میں امیر بننے کا کوئی دنیاوی فائدہ نہ ہو اس میں رکن اور کارکن بن کر کام کرنے کا کیا فائدہ؟؟؟

امیر کے احتساب کا یہ نظام جماعت اسلامی پاکستان / بھارت/ بنگلہ دیش کی ایک ایسی صفت ہے جو عہد خلافت راشدہ کے بعد (ہندوستان میں) صرف سید مودودی کی اسلامی تحریک اور (مصر میں) امام حسن البنا شہید کی اسلامی تحریک میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے

ہمارا خیال ہے کہ دین کے مشکل راستے میں ثابت قدم رہنے اور صاحب عزیمت قرار پانے کی بجائے رخصت ، سہولت اور آسانی کے متلاشی ان علماء کرام کو چاہئیے تھا کہ جماعت اسلامی میں شمولیت سے پہلے وہ اس جماعت اور اس کے پورے نظام اور سٹرکچر کا کئی سالوں تک خوب اچھی طرح مطالعہ کرتے اور اس کے بارے میں سب کچھ علیٰ وجہ البصیرت جان لیتے ، اور اس کے بعد کہیں جاکر اس میں شمولیت کا فیصلہ کرتے تاکہ بعد میں ان کو کم از کم جھوٹ گھڑ کر اسے چھوڑنے کی ضرورت تو نہ پڑتی۔

13/06/2024

امام مودودیؒ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ ان کا لٹریچر پڑھ کر انسان فرقہ واریت اور مسلکی قید سے نکل کر صرف مسلمان بن جاتا ہے.

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Peshawar
18300