Pharma Nexus Academy

Pharma Nexus Academy

Share

Competitive Pharmacy Exams Training and Coaching Academy

22/11/2024

𝐓𝐫𝐚𝐢𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐀𝐜𝐚𝐝𝐞𝐦𝐲 𝐟𝐨𝐫 𝐀𝐬𝐬𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧𝐭 𝐃𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭𝐨𝐫 𝐃𝐑𝐀𝐏 𝐓𝐞𝐬𝐭!

Pharma Nexus Academy offering Three Weeks comprehensive Coaching and Guidance for upcoming 𝐀𝐬𝐬𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧𝐭 𝐃𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭𝐨𝐫 𝐃𝐑𝐀𝐏 𝐓𝐞𝐬𝐭 at Peshawar.
• Classes on Saturday and Sunday only
• Timing 5:00 PM to 6:00 PM
• Coaching will be provided by various officials working at different Government Pharmacy Sectors
• Mock Tests and Interviews will be conducted

Registration Fee: 3000/- Pkr only
Limited seats are available

For Registration:
Whatsapp No: +92 03155474805

Campus Location:
Imperial Education System
Phase-3 Chowk, Main University Road, Peshawar

27/08/2024

پشاور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ
اک جائزہ و چیدہ نکات
صوبے میں ادوایات کی خرید و فروخت پر قانونی نظر رکھنا ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔ جبکہ اس کی درآمدات، برآمدات ، قیمتوں کا تعین اور تیاری وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں ہر صوبائی حکومت نے اپنے قوانین بنائے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں یہ قانون 1982 میں بنا تھا جس کو ڈرگ رولز 1982 کہا جاتا ہے۔

سال 2017 خیبرپختونخوا کے عوام کیلئے شعبہ صحت میں اک نوید لے کر آیا جب 35 سال بعد ڈرگ رولز 1982 کے قوانین میں ترامیم کا تاریخی ساز فیصلہ ہوا اور صوبائی حکومت خیبر پختونخوا نے سال 2017 میں تقریباً تین دہائیوں بعد ڈرگ رولز میں ترامیم کیں۔ یہ ترامیم راتوں رات نہیں ہوئیں بلکہ تمام متعلقہ تنظیموں اور شعبہ جات کے ماہرین کی باہمی رضامندی سے طے ہوئیں اور عوام سمیت شعبہ صحت سے منسلک افراد نے حکومت خیبر پختونخوا کے اس اقدام کو سراہا۔

اب ان ترامیم کا مقصد کیا تھا ؟ کیا اس سے کسی کا ذاتی فائدہ مقصود تھا یا حکومت اس سے کوئی مالی فائدہ حاصل کرنا چاہ رہی تھی یا کسی کے کاروبار کو ختم کرنے کا ارادہ تھا ؟ کیا ان ترامیم سے مریض کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی یا۔کوئی نقصان پہنچا ؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں !

ان ترامیم کا بنیادی مقصد اس صوبے کی عوام کو معیاری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانا تھا تاکہ کوئی بھی شخص یا مریض اگر دوائی خریدے تو اس اطمینان اور یقین کیساتھ کہ یہ وہی دوائی ہے جو اک مستند اور تصدیق شدہ کمپنی میں بنی ہے۔ اور کوئی بھی کمپنی یا اس کمپنی کا مجاز ادویات کو تقسیم کرنے والا کسی بغیر لائسنس والی دکان کو دوائی نہ بیچے تا کہ غیر لائسنس یافتہ ادویات کے کاروبار کی حوصلہ شکنی ہو۔
اس کے علاوہ اس قانون میں ادویات کی دُکانوں کی الگ پہچان کیلئے مخصوص رنگ کے سائن بورڈز، صفائی اور ادویات کو صحیح اور صاف ستھرے طریقے سے رکھنے اور دکان کا کم سے کم رقبہ بھی وضع کیا گیا تا کہ دوائی اپنی افادیت نہ کھوئے۔ میڈیکل سٹور/فارمیسی میں موجود عوام کو ادویات دینے والا شخص ادویات کی بارے میں علم رکھتا ہو اور اس کو اس حوالے سے کچھ سمجھ بوجھ بھی ہو تاکہ مریض کو ضروری ہدایات اور معلومات بھی دے سکے اور وہ اپنی سند بھی میڈیکل سٹور میں کسی عیاں جگہ پر آویزاں کرنے کا پابند ہو۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے ڈاکٹری نسخے کے بغیر جراثیم کش ادویات یعنی اینٹی بائیوٹکس کی فروخت پر پابندی ہواور حکومت مخصوص وقت کے اندر ادویات کا لائسنس جاری کرے تاکہ درخواست گزار کو غیر ضروری تکلیف سے نہ گزرنا پڑے۔

الغرض ان ترامیم کا بنیادی مقصد صرف و صرف مریضوں اور عوام مفاد تھا۔ ان قوانین سے عوام کو جعل سازی سے پاک اور مناسب قیمت پر اک ماہر ادویات کی نگرانی میں ادویات مکمل معلومات کے ساتھ فراہم کرنے اور ان کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے اک عوام دوست لائحہ عمل دیا گیا تھا جو کہ عوام کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ایک زبردست کوشش تھی۔ ان ترامیم کے پیچھے ماضی میں معزز عدالتوں کے احکامات بھی تھے جس میں حکومت کو احکامات دیئے گئے تھے کہ صوبے میں ادویات سے متعلق قوانین کمزور ہیں اور ان میں ضروری ترامیم کی اشد ضرورت ہے تاکہ جعلی ادویات کی روک تھام اور بیخ کنی ہو۔
یہ خیبرپختونخوا حکومت کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔

مگر ترامیم ہونے کے بعد چند افراد اور تنظیموں نے اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں متعدد کیسسز دائر کئے جو تقریباً چھ سال چلتے رہے اور آخر کار مئی 2024 میں یہ مقدمات منطقی انجام کو پہنچنے اور عدالت عالیہ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس کی رو عدالت عالیہ نے بیان کیا ہے کہ آئین پاکستان نے ہر شہری کو روزگار کا حق دیا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جس کام کیلئے حکومت نے قانون سازی کی ہو یا اس کیلئے خاص قسم کی تعلیم یا لائسنس کی ضرورت ہو وہ کام بھی ہر شخص کرتا پھرے اس چیز کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی یہ ہر کسی کا حق نہیں۔ اس ضمن میں مختلف دیگر فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا کہ جہاں انسانی جانوں کو نقصان ہو یا قانون سازی ضروری ہو وہاں پر انسانی جانوں کا تحفظ ضروری ہے اور اس کاروبار کیلئے مطلوبہ معیار/ قانونی ضرورت پوری کرنا لازمی ہے۔

عدالتی فیصلہ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ادویات کی خرید و فروخت صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ اس سے انسانی زندگیاں وابستہ ہیں اور ایک مخصوص سائنسی کام ہے جو اگر غیر پیشہ ورانہ اور متعلقہ تعلیم سے غیر آراستہ افراد کے ہاتھوں میں ہو تو اس سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ لہذا اس کے لیئے شعبہ فارمیسی کا فارغ التحصیل ہونا،سند ساتھ ہونا اور متعلقہ علم ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ 1982 کے حالات بلکل مختلف تھے اس وقت اتنی تعداد میں پیشہ ورانہ اور متعلقہ تعلیم سے آراستہ لوگ موجود نہیں تھے جبکہ اس وقت ملک کے اندر ہزاروں کی تعداد میں شعبہ فارمیسی سے فارغ التحصیل اور متعلقہ شعبہ میں ماہر افراد موجود ہیں جن سے خدمات لینا نہ مشکل ہے نہ ہی اتنا مہنگا۔

لہذا معزز عدالت نے ڈرگ رولز 2017 کیخلاف دائر تمام درخواستیں خارج کردیں اور حکومتی اقدامات کو درست قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس فیصلہ سے صوبے کے عوام ہی مستفید ہونگے۔

اس ضمن میں ینگ فارماسسٹس کمیونٹی پاکستان ان تمام فارماسسٹ ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتی ہے جو اس کھٹن سفر میں ہمارے ساتھ رہے، متحد رہے، مضبوط رہے، عوام کے حقوق کی خاطر حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، جھکے نہیں، بکے نہیں، کسی دباؤ میں نہیں آئے اور مسلسل چھ سال بھرپور طریقے سے متحرک رہے۔

ان شاءاللّٰه عوام کی خدمت کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا اور متعلقہ قوانین میں خامیوں کو دور کرنے اوران کو مزید بہتر اور عوام دوست بنانے کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔
Team Pharmacy ki Dunia

25/05/2023

Regular Use of Panadol extra could lead you to Liver and kidney damage.

Reason:
Now days use of Panadol extra is more than the need. Panadol extra contains paracetamol+caffeine. Paracetamol is dangerous in case of liver diseases. Now a days fatty liver disease is more common so in this case if you use paracetamol regularly, that will increase the chances of liver damage.
As you know Caffeine causes addiction. In panadol extra the dose of caffeine is 65mg per tablet. After addiction people can't leave this medicine and they're regularly taking, which is concerning. Caffeine also increase load on kidneys. And people now a days taking caffeinated drinks and also they're using this medicine. Which increases the chances of kidney damage.
Caffeine found in coffee, tea, soda, and foods can also place a strain on your kidneys. Caffeine is a stimulant, which can cause increased blood flow, blood pressure and stress on the kidneys. Excessive caffeine intake has also been linked to kidney stones.
Do not use any medicine if you Dont clearly need it. For every medicine you should ask your Pharmacist to avoid adverse effects.

15/05/2023

How price of a Medicine is decided by DRAP ⬇

12/04/2023

Isotretinoin is a medication used to treat severe acne that has not responded to other treatments. It is a form of retinoid, which is a derivative of vitamin A. Isotretinoin works by reducing the production of oil by the glands in the skin, which helps to prevent the formation of pimples, blackheads, and other types of acne lesions. Isotretinoin is available in the form of capsules, and it's usually taken orally with food. This medication has numerous side effects and it is known to cause birth defects, therefore it should only be used under the supervision of a healthcare professional.


Photos from Pharma Nexus Academy's post 19/12/2022

☝️ All about Frostbite ❄

Frostbite 🥶🥶 is a common disease occuring in winter caused by the ❄ cold weather. It usually appears on the nose, ears, cheeks, chin, fingers, toes, etc. In severe cases, please visit a hospital for treatment!

Learn more about frostbite and prevent it! ▶▶▶

-
For more detailed information about YSMZ: 👇👇
https://www.ydp.go.kr/smartmedical-eng/index.do
-

Photos from Pharma Nexus Academy's post 02/12/2022

شعبہ فارمیسی میں وزٹنگ فیکلٹی کلچر کا اجراء جامعہ پشاور نے کیا اور شروع دن سے ہم اس کے خلاف تھے۔ ایک تو یہ فارمیسی کونسل کے قوانین کی خلاف ورزی ہے دوسرا اس کی وجہ سے شعبہ فارمیسی کا تعلیمی معیار دن بدن گر رہا ہے۔

اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ تقریباً صوبہ خیبر پختونخوا کی تمام جامعات میں فارمیسی ڈپارٹمنٹ میں اساتذہ کی تعداد پوری نہیں ہے اور اس کمی کو وزٹنگ فیکلٹی کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف تعلیم کے ساتھ ظلم ہے بلکہ ان ڈگری ہولڈرز کے ساتھ بھی ظلم ہے جو ڈگری کے ہوتے ہوئے بھی بیروزگار ہیں اور اپنی یونیورسٹیاں انہیں ریگولر فیکلٹی میں لینے کی بجائے وزٹنگ فیکلٹی کے نام پر ہراساں کر رہی ہے۔
نوٹ: پشاور یونیورسٹی کا فارمیسی ڈپارٹمنٹ اب یہ چالاکی کر رہا ہے کہ وزٹنگ فیکلٹی نوٹس کو ویب سائٹ پر اپلوڈ نہیں کرتا اس لیے ان کا پرانا نوٹس لگایا ہے۔

26/11/2022

Awareness Seminar by Young Pharmacists Community, University of Peshawar
Date: 28 Nov, Monday
Time: 10:00 AM
Venue: Pashto Museum Hall, University of Peshawar

Handle Antibiotics with Care!✨

03/08/2022

فارمیسی کمیونٹی میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ یہاں جو خود اچھی نوکری حاصل کر لے، اسے اپنے پروفیشن سے پھر کوئی غرض نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر دیکھ لیں 55 سال بعد فارمیسی ایکٹ میں انقلابی ترامیم پیش ہوئیں مگر کسی فیکلٹی ممبر یا سرکاری فارماسسٹ نے ایک پوسٹ تک کرنا گوارہ نہیں کیا۔ یہ مائنڈ سیٹ بدلے گا تو ہماری کمیونٹی ترقی کرے گی۔
🤦‍♂️

01/08/2022

کسی کی دکان بند نہیں ہو گی
ویلڈن سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب💕

31/07/2022

Thank you Sir, your work will be remembered 💕

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Peshawar