17/05/2026
بعض قومیں وقت کے سمندر میں اس طرح ڈوب جاتی ہیں کہ نہ ان کا نام باقی رہتا ہے نہ کوئی نشان، نہ کوئی داستان اور بعض قومیں ایسی بھی گزری ہیں کہ صدیوں کے گرد و غبار کے باوجود آج بھی ان کے آثار، ان کی تہذیب، ان کے خیالات، ان کے معبد، ان کے فلسفے اور ان کے قدموں کے نشان زمین کے سینے پر ثبت ہیں
میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
میرے ذہن میں اس کی ایک وجہ یہ آتی ہے کہ جو قومیں اپنی ثقافت سے محبت کرتی ہیں اپنے علم کو سنبھالتی ہیں اپنے ادب، فن آرٹس اور ٹیکنالوجی کو وقت کے ساتھ ترقی دیتی ہیں، اور سب سے بڑھ کر اتحاد کو تھامے رکھتی ہیں… وہ قومیں مٹتی نہیں، تاریخ کے حافظے میں زندہ رہتی ہیں۔
قومیں صرف تلواروں سے نہیں، شعور سے زندہ رہتی ہیں
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی بدھ مت کا نام زندہ ہے، اس کی تاریخ موجود ہے، اس کے آثار باقی ہیں، اور اس کے کھنڈرات آج بھی خاموش ہو کر انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں
اسی سلسلے میں کل CLADO نے، CHANAN ،ڈائریکٹریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا” اور “Aman Rang کے اشتراک سے ایک راہِ امن ٹور ارینج کیا تھا۔ ایک ایسا ٹور جو محض سیر نہیں تھا، بلکہ شعور، تاریخ، ثقافت اور انسانیت کے کئی در وا کرتا تھا
ہم پشاور سے روانہ ہوئے، اور ہماری منزل تھی تخت بھائی
ویسے میں نے ہمیشہ اسے تخت بھائی سنا تھا مگر اس سفر میں پہلی بار یہ بات کنفرم ہوئی کہ اصل نام تخت باہی ہے۔
وہاں موجود لوگوں سے اور کچھ مطالعے سے یہ بات سمجھ آئی کہ “تخت” بلند جگہ یا اونچی مقام کو کہتے ہیں، جبکہ “باہی” اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پانی ہو یا جہاں سے پانی نکلتا ہو۔ یوں “تخت باہی” یعنی “پانی والی بلند جگہ”۔ وقت کے ساتھ زبان نے کروٹ لی، لہجوں نے تبدیلی کی، اور “تخت باہی” آہستہ آہستہ “تخت بھائی” بن گیا۔
زبانیں بھی عجیب شے ہیں، وقت کے ساتھ لفظوں کے لباس بدل دیتی ہیں۔
اکثر ہم نوجوان یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارے لیے کچھ نہیں ہو رہا، نوجوانوں کے لیے مواقع نہیں ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کام ہو رہا ہوتا ہے، بس کبھی ہماری نگاہ وہاں تک نہیں پہنچتی۔
یہ ٹور بھی انہی خوبصورت کوششوں میں سے ایک تھا۔
ہم پشاور صدر کے قیوم اسٹیڈیم سے روانہ ہونے والے تھے۔ سخت ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ اگر کوئی ساڑھے سات بجے سے لیٹ ہوا تو بس اس کا انتظار نہیں کرے گی۔
یہ ہدایات عبدالرحمان سر جو کلاڈو کے فاؤنڈر ہیں کی طرف سے تھیں۔
اور اس پوری ایکٹیویٹی کی لیڈرشپ ابو ہریرہ کو دی گئی تھی۔ ابو ہریرہ نے بھی گروپ میں بڑے سنجیدہ انداز میں وہ تمام انسٹرکشنز دوبارہ شیئر کیں۔ یہاں تک کہا گیا کہ اگر کوئی اپنے ساتھ ایسا دوست لے آیا جو انوائٹڈ نہ ہو، تو دونوں کو واپس بھیج دیا جائے گا۔
ہم نے پوری کوشش کی وقت پر پہنچ جائیں… مگر قسمت کو شاید ہلکی سی شرارت منظور تھی۔
ہم ساڑھے سات کے بجائے تقریباً سات پینتالیس پر پہنچے۔
لیکن وہاں پہنچ کر جو سب سے دلچسپ انکشاف ہوا، وہ یہ تھا کہ عبدالرحمان سر خود لیٹ تھے۔
سو، جو قانون دوسروں کے لیے بنایا گیا تھا، وقت نے وہی قانون ان پر بھی آزما دیا۔
ہم نے دل ہی دل میں سوچا:
“قانون واقعی سب کے لیے برابر ہونا چاہیے… مگر کبھی کبھی گھڑی بھی انسان سے بدلہ لے لیتی ہے۔”
وہاں کئی ایسے دوست ملے جنہیں بہت عرصے بعد دیکھا۔ کچھ چہرے یادوں کے دریچے کھول رہے تھے، کچھ لوگ وقت کی گرد سے نکل کر دوبارہ سامنے آ گئے تھے۔ پھر ہم بسوں میں بیٹھے اور سفر شروع ہوا۔
راستے بھر سانگز چلتے رہے، کہیں قہقہے تھے، کہیں ہلکی موسیقی، کہیں دوستوں کا شور، کہیں خاموش کھڑکیوں سے باہر جھانکتی نظریں۔
کچھ لوگ رقص میں مصروف تھے، کچھ ویڈیوز بنا رہے تھے، اور کچھ صرف لمحوں کو محسوس کر رہے تھے۔
یوں ہنستے مسکراتے ہم تخت باہی پہنچ گئے۔
وہاں ہمارے لیے ایک گائیڈ بھی موجود تھا، جو اس تاریخی مقام کے بارے میں بتا رہا تھا۔
تخت باہی کے کھنڈرات ایک بلند مقام پر واقع ہیں، اس لیے وہاں تک پہنچنے کے لیے بے شمار سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں۔
اور وہ سیڑھیاں… واقعی انسان کے صبر کا امتحان لے لیتی ہیں۔
چند لمحوں کے لیے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ تک پہنچنے کے لیے حال کو پسینہ بہانا پڑتا ہے۔
میں اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ اوپر جا رہا تھا۔
زفر بھائی، علی عمران بھائی، آفاق، رفیع اللہ، دلراج،حارث,
روحُ اللہ,
عظمتُ اللہ, محمد اویس، کائنات، فاطمہ،ماریہ, ثروت انیس، ملیحہ…
یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ مختلف ایونٹس اور ایکٹیویٹیز میں ملاقات ہوتی رہتی ہے، اور عجیب بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ہر محفل کو خوبصورت بنا دیتے ہیں۔
ابو ہریرہ چونکہ انتظامی کاموں میں مصروف تھا، اس لیے ہمارے ساتھ مسلسل نہ رہ سکا۔
وہیں توقیر بھی آیا ہوا تھا، جو ہمارے بہت اچھے دوستوں میں سے ہے۔
اسی دوران میرے کزن محمود الحسن بھی ہمارے ساتھ تھے، اور سفر میں اپنائیت کا ایک الگ ہی رنگ شامل کیے ہوئے تھے۔
محمد انور سر بھی موجود تھے، جو میرے استاد بھی ہیں اور دوست بھی۔ ان کے ساتھ میں نے PLF میں ڈیزائننگ کا کام کیا تھا، اور سچ کہوں تو ڈیزائننگ کے حوالے سے بہت کچھ انہی سے سیکھا۔ بعض لوگ صرف استاد نہیں ہوتے، وہ انسان کے ہنر کے دروازے کھولتے ہیں۔
محمد عمار بھی اس سفر کا حصہ تھے، جو “Tour de Peshawar” کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ پشاور آنے والے لوگوں کو وہ جس محبت سے اس شہر کی تاریخ، گلیاں، ثقافت اور روح سے متعارف کرواتے ہیں، وہ خود بھی کسی چلتی پھرتی داستان سے کم نہیں۔
اور پھر وردہ شہزادی…
میں نے انہیں پہلی بار پشاور لٹریری فیسٹیول میں دیکھا تھا۔ ایک باوقار، باصلاحیت اور متاثر کن شخصیت۔ اس ٹور میں ان کی موجودگی نے بھی محفل کو ایک الگ رنگ دیا۔ بعض لوگ شور نہیں کرتے، مگر ان کی موجودگی خود ایک خوبصورت احساس بن جاتی ہے۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے دوست تھے، کچھ کے نام ذہن میں رہ گئے، کچھ وقت کی دھند میں کہیں چھپ گئے۔ مگر بعض لوگ ناموں سے نہیں، احساسوں سے یاد رہتے ہیں۔ اور یہ سفر انہی احساسوں سے بھرا ہوا تھا۔
جب ہم کھنڈرات کے اندر گئے تو گائیڈ نے بدھ مت، اس کی تاریخ، اس کے فلسفے اور وہاں موجود مختلف حصوں کے بارے میں بتایا۔
وہاں سیکھنے کی جگہیں تھیں، کلاسز تھیں، مختلف شعبے تھے، اساتذہ ہوتے تھے۔
یہ محض عبادت گاہ نہیں تھی، یہ ایک مکمل علمی مرکز تھا۔
وہاں میڈیٹیشن کے لیے الگ مقامات تھے، جہاں لوگ خاموشی میں بیٹھ کر خود کو تلاش کیا کرتے تھے۔
مجھے وہاں جا کر شدت سے یہ احساس ہوا کہ جو قومیں علم، تربیت، روحانیت اور نظم کو اہمیت دیتی ہیں، وہ اپنے بعد بھی نشان چھوڑ جاتی ہیں۔
اینٹیں ٹوٹ جاتی ہیں، مگر فکر باقی رہتی ہے۔
اس سفر کی ایک اور خوبصورت بات یہ تھی کہ ہمارے ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔
ہندو دوست بھی تھے، سکھ بھی، عیسائی بھی، مسلمان بھی۔
ہمارے عقائد مختلف تھے، نظریات مختلف تھے، مگر ہم ایک دوسرے کے مخالف نہیں تھے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم انسان اکثر وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو ہمیں تقسیم کرتی ہیں، مگر وہ چیزیں نہیں دیکھتے جو ہمیں ایک کرتی ہیں۔
اور ان سب میں سب سے بڑی مشترک چیز “امن” ہے۔
ہندو کو بھی امن چاہیے۔
مسلمان کو بھی امن چاہیے۔
سکھ کو بھی امن چاہیے۔
عیسائی کو بھی امن چاہیے۔
پھر آخر ہم امن کے نام پر اکٹھے کیوں نہیں ہو جاتے؟
یہ خطہ صدیوں سے ظلم، بربریت، استحصال اور بے چینی کا شکار رہا ہے۔
لیکن اگر ہم ان چیزوں پر متحد ہو جائیں جو ہم سب میں مشترک ہیں، تو شاید بہت سے مسائل ختم ہو جائیں۔
مجھے اس ٹور میں سب سے خوبصورت منظر یہی لگا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی بات سن رہے تھے، احترام دے رہے تھے، اختلاف کے باوجود برداشت کر رہے تھے۔
یہ منظر شاید کسی بھی کھنڈر سے زیادہ خوبصورت تھا۔
مجھے واقعی خوشی ہوئی کہ میں ان لوگوں کے ساتھ اس ایکٹیویٹی میں گیا۔
میں نے بہت کچھ سیکھا، اور یقیناً باقی دوستوں نے بھی بہت کچھ سیکھا ہوگا۔
پھر ہمیشہ کی طرح آفاق بھائی تصویروں اور ویڈیوز میں مصروف تھے۔
ایک کیمرہ مین بھی ہمارے ساتھ تھا، جبکہ علی عمران بھائی اپنے ساتھ ڈرون کیمرہ بھی لے آئے تھے۔
میں نے سوچا کہ آج موبائل کم استعمال کروں گا، لمحوں کو زیادہ محسوس کروں گا۔
اس لیے میں نے زیادہ تصویریں نہیں بنائیں۔
سوچا، “جو منظر دل میں محفوظ ہو جائے، اسے گیلری کی ضرورت نہیں رہتی۔”
ایکٹیویٹی ختم ہونے کے بعد ہم ایک ہوٹل گئے، جہاں لنچ کیا۔
ہم سب بری طرح تھکے ہوئے تھے، مگر ذہنی طور پر بہت تازہ تھے۔
لنچ سے پہلے عبدالرحمان سر نے ایک خوبصورت ایکٹیویٹی رکھی، جس میں سب نے بتایا کہ انہوں نے کیا سیکھا، ان کے ذہن میں کیا سوالات آئے، اور اس سفر نے انہیں کیا سوچنے پر مجبور کیا۔
اس ایکٹیویٹی میں نہ صرف بہت کچھ سیکھنے کو ملا بلکہ نئے لوگوں سے نیٹ ورکنگ بھی ہوئی۔
کئی نئے دوست بنے، کئی نئی سوچیں سننے کو ملیں۔
آخر میں، میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں ان تمام لوگوں کا جنہوں نے اس ٹور کو خوبصورت بنایا۔
اور خاص طور پر “کلاڈو”، “چنان”، “ڈائریکٹریٹ آف یوتھ افیئرز خیبر پختونخوا”، “راہِ امن” اور عبدالرحمان سر کو داد دیتا ہوں کہ وہ اس طرح کی سرگرمیاں ارینج کرتے ہیں تاکہ نوجوان اپنی تاریخ، اپنی ثقافت، اپنی تہذیب اور اپنے خطے سے دوبارہ جڑ سکیں۔
کیونکہ جو قوم اپنی تاریخ سے جڑ جائے…
وہ شاید کبھی مکمل طور پر نہیں مرتی۔
16/05/2026
طبیعت سادہ ہے… بس انداز تھوڑا فلمی ہے
16/05/2026
اتنی کتابیں دیکھ کر دماغ نے کہا بھائی پہلے پچھلی والی تو ختم کر لو لائبریری میں آیا تھا پڑھنے…
14/05/2026
کبھی کبھی زندگی ہمیں اُن لوگوں سے بہت پہلے ملا دیتی ہے، جن کی اہمیت کا احساس وقت بعد میں دلاتا ہے۔
یہ 2023 کی تصویر ہے، اور میرے بائیں جانب کھڑے آفاق خان اُس وقت میرے لیے ایک اجنبی تھے۔ ہم ایک ہی منظر کا حصہ تھے، مگر ایک دوسرے کی کہانیوں سے ناواقف۔
عجیب بات ہے کہ انسان اکثر اُن رشتوں کی قدر بعد میں سمجھتا ہے، جو خاموشی سے اُس کی زندگی میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔
وقت نے اجنبیت کو دوستی میں بدلا، اور دوستی کو ایسے اعتماد میں، جہاں لفظ کم اور سمجھ زیادہ ہوتی ہے۔
کچھ لوگ شور سے نہیں، قسمت کے پُرسکون اشاروں سے ہماری زندگی میں آتے ہیں۔
12/05/2026
Alhamdulillah! I am delighted to receive the Networking Academy Learn-A-Thon 2026 Learner Achievement Award from Cisco Networking Academy.
This achievement motivates me to continue learning, growing, and improving my skills in the field of networking and technology. Grateful for this opportunity and looking forward to achieving more in the future.
10/05/2026
ماں ایک ایسا خلا جو وقت بھی پُر نہ کر سکا
آج Mother’s Day ہے۔
لوگ تصویریں لگا رہے ہیں دعائیں لکھ رہے ہیں، کہیں پھول ہیں کہیں کیک کہیں ہنسی کے شور میں امی بار بار پکاری جا رہی ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے یہ دن خوشی سے زیادہ خاموشی لے کر آتا ہے
میں بھی اُنہی لوگوں میں سے ایک ہوں۔
میری ماں کو اس دنیا سے گئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں، مگر عجیب بات ہے کہ وقت نے اُن کی جدائی کو پرانا نہیں ہونے دیا بعض رشتے مرنے کے بعد ختم نہیں ہوتے، بلکہ انسان کے اندر منتقل ہو جاتے ہیں۔ ماں بھی شاید انہی رشتوں میں سے ایک ہے۔ وہ اب گھر میں نہیں، مگر میری آواز کے لہجے میں موجود ہے میری خاموشیوں میں، میری دعاؤں میں، میرے خوف میں، میری تھکن میں… ہر جگہ
ماں دراصل ایک فرد نہیں ہوتی، ایک مکمل کائنات ہوتی ہے
وہ انسان کو صرف جنم نہیں دیتی، وہ اُسے دنیا برداشت کرنا بھی سکھاتی ہے
جب دنیا پہلی بار انسان کے خلاف کھڑی ہوتی ہے تو ماں اُس کے حق میں کھڑی نظر آتی ہے۔ شاید اسی لیے انسان پوری دنیا جیت لے، مگر ماں کے بغیر اندر سے یتیم ہی رہتا ہے
میں نے اکثر سوچا ہے کہ ماں کے جانے کے بعد آخر ایسا کیا ختم ہو جاتا ہے؟
گھر تو وہی رہتا ہے، لوگ بھی وہی ہوتے ہیں، دروازے بھی، دیواریں بھی، مگر پھر بھی سب کچھ اجنبی کیوں لگنے لگتا ہے؟
شاید اس لیے کہ ماں گھر میں موجود واحد ایسی ہستی ہوتی ہے جو انسان کو “دنیا” نہیں سمجھتی، اپنا بچہ سمجھتی ہے۔
دنیا آپ سے قابلیت مانگتی ہے، کامیابی مانگتی ہے، مضبوطی مانگتی ہے… مگر ماں صرف آپ کو مانگتی ہے۔
اب کبھی کبھی رات کے آخری پہر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی ایک لمبا سفر ہے اور ماں اُس سفر کا وہ سایہ تھی جو دھوپ اپنے اوپر لے لیتی تھی۔
اُن کے جانے کے بعد دھوپ براہِ راست روح پر پڑتی ہے۔
میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جن لوگوں کی مائیں زندہ ہوتی ہیں، وہ اکثر اس نعمت کے عادی ہو جاتے ہیں۔
انہیں لگتا ہے کہ ماں ہمیشہ رہے گی۔
مگر موت بڑی خاموش چور ہے… وہ دروازہ نہیں توڑتی، بس ایک دن انسان کے گھر سے “ماں” چرا لیتی ہے، اور پھر باقی ساری زندگی انسان ہر ہجوم میں ایک آواز ڈھونڈتا رہتا ہے۔
آج اگر میری ماں زندہ ہوتیں تو شاید میں اُن کے لیے کوئی تحفہ لاتا، اُن کے ہاتھ چومتا، اُن سے کہتا کہ میں بڑا ہو گیا ہوں۔
مگر ماں کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ انسان چاہے جتنا بڑا ہو جائے، ماں کے بغیر اُس کے اندر ایک بچہ ہمیشہ روتا رہتا ہے۔
کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے۔
یہ جملہ شاید اُن لوگوں نے کہا ہوگا جنہوں نے ماں نہیں کھوئی۔
ماں کی جدائی زخم نہیں، انسان کی شخصیت کا ایک مستقل حصہ بن جاتی ہے۔
وہ درد نہیں رہتی، مزاج بن جاتی ہے۔
اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان دعا کرتے ہوئے بھی رک جاتا ہے، کیونکہ اُسے یاد آتا ہے کہ پہلے ایک ہستی تھی جو اُس کے مانگنے سے پہلے اُس کے لیے مانگ لیا کرتی تھی۔
آج Mother’s Day پر میری خواہش صرف اتنی ہے کہ جن لوگوں کی مائیں زندہ ہیں، وہ اُن کے ساتھ وقت گزاریں۔
کیونکہ ماں کی موجودگی دنیا کی واحد نعمت ہے جس کا اصل مطلب انسان کو اُس کے چلے جانے کے بعد سمجھ آتا ہے۔
اور اُن لوگوں کے لیے جن کی مائیں اس دنیا میں نہیں رہیں…
اللہ اُن کی قبروں کو نور سے بھر دے۔
کیونکہ کچھ عورتیں مرنے کے بعد بھی اپنے بچوں کی زندگی میں دعا بن کر زندہ رہتی ہیں۔
02/05/2026
افسانہ: پسِ پردہ کہانی پشاور لٹریری فیسٹیول سیزن 3
قسط سوم: پیر… اصل امتحان (آغاز) اتوار کی رات…
وہ رات جس میں ہم نے یہ سوچا تھا کہ
"آج تو جلدی فارغ ہو جائیں گے
مگر…یہ بھی اُن وعدوں میں سے تھا
جو صرف خود سے کیے جاتے ہیں… اور ٹوٹ جاتے ہیں رات کافی ہو چکی تھی
اور آخرکار… عبدالرحمٰن نے اپنی دانشمندی سے ایک بہترین فیصلہ کیا
پیزا آرڈر اور سچ پوچھیں تو…وہ اس وقت صرف کھانا نہیں تھا وہ ایک نعمت تھا ہم سب اکٹھے تھے
میں، افاق، ہریرہ،
ولید، شہاب الدین، اور اعجاز ہم نے پیزا اس طرح کھایا
جیسے کسی محاذ سے واپس آئے ہوں ہنسی مذاق بھی تھاتھکن بھی تھی اور ایک عجیب سی تسکین بھی
کہ آج کا دن کسی نہ کسی طرح گزر گیا۔
پھر…
ہم سب اپنے اپنے راستوں پر نکل گئے۔
میں اور افاق…
ساتھ ہاسٹل کی طرف روانہ ہوئے راستے میں میں نے ایک اہم فیصلہ کیا میں نے موبائل بند کر دیا۔
کیونکہ میں جانتا تھا موبائل آن ہوگا تو نیند آف ہو جائے گی اور اگر رات کے تین بجے بھی کوئی میسج آ گیا تو ہم وہ دیکھے بغیر نہیں رہتے۔
میں نے کہا آج نہیں آج بس سونا ہے ہم ہاسٹل پہنچے اور وقت دیکھا…
تقریباً تین بجے تھے۔
ہم لیٹ گئے…
اور نیند نے ہمیں فوراً اپنی آغوش میں لے لیا۔
صبح…
ایک آواز آئی:
اٹھو یہ افاق کی آواز تھی اور حیرت کی بات یہ تھی میں ایک ہی آواز پر اٹھ گیا ورنہ گھر میں ابو کو تین چار بار کہنا پڑتا ہے"اٹھ جاؤ… نماز پڑھو…"
کبھی آواز…
کبھی جھنجھوڑنا
مگر یہاں…
ایک آواز کافی تھی۔اب یہ راز کیا ہے یہ آپ مجھے کمنٹس میں ضرور بتائیں
ہم نے جلدی جلدی اپنے آپ کو فریش کیا اور بغیر ناشتے کے ہی نکل پڑے۔
میں اور افاق…
پھر شہاب الدین کی موٹر سائیکل پر
فیسٹیول کی طرف روانہ ہو گئے۔اور جیسے ہی ہم اس مقام پر پہنچے
جہاں کل پولیس والے نے ہمیں روکا تھاوہی سین…
دوبارہ repeat ہو گیا۔
پولیس نے اشارہ کیا:
رک
اس بار… ہم رُک گئے
اور نتیجہ؟
چالان۔
میں نے دل میں کہا:
"پشاور لٹریری فیسٹیول کا پہلا دن…
اور آغاز چالان سے
صبح کے تقریباً ساڑھے چھ بج رہے تھے اور ہم…
اپنے دن کا آغاز
چالان دے کر کر رہے تھے۔
خیر…
ہم نے چالان بھر دیا اور نشتر ہال روانہ ہے
پہنچ کرمین نے دیکھاابھی خاموشی تھی مگر ہمیں پتہ تھا…
یہ خاموشی زیادہ دیر نہیں رہے گی جو بنیادی لوگ تھےوہ پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔
میں سیدھا کنٹرول روم میں گیا کیونکہ میرا محاذ وہی تھا۔
شہاب الدین اور
عبدالرحمٰن نے
پہلے ہی ایک لسٹ بنا رکھی تھی آج کے کاموں کی۔
ایک مکمل پلان کہ کون سا ڈیزائن،کس پینل کے لیے،کس وقت تک بناناہے۔
میں نے لیپ ٹاپ کھولا اور کام شروع کر دیا۔ مگر ایک فرق تھاآج میں نے ایک فیصلہ پہلے ہی کر لیا تھا۔
میں نے اعجاز کو بلایا…
محمود کو پیسے دیے…
اور کہا:
جاؤ، چولےاور روٹی لے آؤ کیونکہ…
رفیع اللہ کے حوالے سے
مجھے اب حقیقت کا اندازہ ہو چکا تھا میں نے سوچا ناشتہ انتظار سے نہیں…
انتظام سے آتا ہے ہم نے پہلے ناشتہ کیا…
تھوڑا سکون لیااور پھر میں دوبارہ اپنے کام پر بیٹھ گیا۔
کیونکہ آج کا دن اصل امتحان تھا۔میں نے اپنا کام شروع کیا…
اور ابھی میں پوری طرح اپنے کام میں ڈوبا ہوا تھا کہ دروازہ کھلا۔
اور کمرے میں داخل ہوئے…
ڈاکٹر سید زبیر شاہ
میرے استادِ محترم۔
اگر میں ان کے بارے میں چند الفاظ میں کہوں تو وہ صرف ایک استاد نہیں…
بلکہ ایک ایسے mentor ہیں
جنہوں نے میری ادبی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔
جب میں گورنمنٹ سپیریئر سائنس کالج میں پڑھ رہا تھا تو جو کچھ میں آج لکھ رہا ہوں…
اور جو کچھ پہلے لکھ چکا ہوں وہ سب کسی نہ کسی طرح
ان کی محنت کا نتیجہ ہے وہ اچانک کنٹرول روم میں داخل ہوئے…
اور مجھے دیکھ کر مسکرا دیے۔
میں اُس وقت مین سیٹ پر بیٹھا تھا لیپ ٹاپ سامنے،
اور کام اپنے عروج پر۔
انہوں نے فوراً اپنا موبائل نکالااور ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کر لی اور یہاں…
سر، اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو وہ ویڈیو kindly مجھے send کر دیجئے گا
ورنہ میں پھر آپ کو personally message کر دوں گا!
کافی عرصے بعد ان سے ملاقات ہوئی تھی۔
جب سے میں اسلام آباد گیا ہوں بہت سے اساتذہ اور دوست ایسے ہیں
جن سے ملاقات صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو گئی ہے۔
اور سچ پوچھیں تو…
یہ ایک عجیب سا خلا چھوڑ دیتی ہے۔
مگر آج…
وہ خلا کچھ لمحوں کے لیے بھر گیا تھا۔
انہوں نے مسکرا کر کہا:
"حسین، تم اپنا کام کرو…
مجھے پتہ ہے تم بہت busy ہو۔"
پھر خود ہی کہنے لگے
کہ وہ صبح سویرے اسی لیے آئے ہیں
کیونکہ یہی ان کا وقت تھا۔
اور سچ یہی ہے
ڈاکٹر سید زبیر شاہ
ان لوگوں میں سے ہیں
جو وقت پر نہیں…
بلکہ وقت سے پہلے پہنچتے ہیں۔
انہیں اور ڈاکٹر قدرت اللہ خٹک کو
یہ ذمہ داری دی گئی
کہ وہ اپنے کالج کے طلبہ کو
فیسٹیول میں لے کر آئیں۔
انہوں نے اپنے اسٹوڈنٹس کو پہلے ہی remind کر دیا تھا
"میں وہاں پہنچوں گا…
تم نے بھی آنا ہے۔"
اور وہ پہنچ گئے۔
میں نے دوبارہ اپنا کام شروع کر دیا…
مگر اب ماحول بدل چکا تھا کیونکہ…
اصل دن شروع ہونے والا تھا۔
ہم انتظار کر رہے تھے—
اوپن سرمنی
ٹائم تھا نو بجے…
مگر…
یہ سرمنی بھی ہماری طرح
تھوڑا late ہو گئی
اور شروع ہوئی تقریباً دس بجے یہ جو چلڈرن لٹریری فیسٹیول تھا
یہ تھیٹر ہال میں ہونا تھا…
مگر اوپننگ نشتر ہال کے
مین ہال میں ہوئی۔
مجھے شہاب الدین نے کہا:
"اسٹیج کے پیچھے اپنی سیٹ لگا لو۔"
میں نے اسٹیج کے پیچھے اسکرین کے قریب اپنی کرسی اس انداز سے رکھی
کہ مجھے اسٹیج بھی نظر آئے…
اور تھوڑی سی آڈیئنس بھی۔
دوسری کرسی پر میں نے اپنا لیپ ٹاپ رکھا…
اور بیچ میں تھوڑا سا راستہ چھوڑ دیا
تاکہ اگر کوئی اسٹیج پر جانا چاہے
تو اسے گزرنے میں آسانی ہو۔
میں نے وہاں بیٹھ کر دوبارہ کام شروع کر دیا…
مگر اس بار…
میں صرف کام نہیں کر رہا تھا
میں ایک منظر کا حصہ بن چکا تھا۔
اوپننگ سرمنی شروع ہوئی
سب سے پہلے…
عبدالرحمٰن آئے
اور اپنی خطابت سے سرمنی کا آغاز کیا۔
پھر تلاوت ہوئی…
(اگرچہ مجھے یاد نہیں کہ کس نے کی
مگر اُس لمحے کی کیفیت آج بھی یاد ہے)
اور پھر…
قومی ترانہ۔
جیسے ہی ساؤنڈ سسٹم میں ترانہ بجا ہم سب کھڑے ہو گئے۔
وہ ایک ایسا لمحہ تھا
جہاں نہ کام یاد رہا…
نہ تھکن…
بس ایک احساس تھا
وطن کا۔
ہم نے احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر
قومی ترانہ سنا بھی…
اور دل ہی دل میں پڑھا بھی۔
اور اُس لمحے…
مجھے لگا
یہ صرف ایک ایونٹ نہیں…
یہ ایک احساس ہے۔
مگر…
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
کیونکہ…
اصل ہلچل،
اصل دباؤ،
اور اصل امتحان
ابھی پروگرام ہونا تھا۔
قومی ترانے کے بعد…
محفل نے باقاعدہ سانس لینا شروع کیا۔
اب باری تھی تعارف کی
اور اس تعارف میں ایک ایسی بات تھی
جو میں پہلے بھی محسوس کر چکا تھا…
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ
"لیڈر" ہوناصرف ایک designation ہے مگر…
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔
کیونکہ…
لیڈر وہ نہیں ہوتا
جو صرف نام میں آگے ہو
بلکہ وہ ہوتا ہے
جو سب سے زیادہ کام کر رہا ہوتا ہے۔
اور یہ بات…
میں نے یہاں آ کر نہ صرف دیکھی بلکہ محسوس بھی کی۔
اسی لمحے…
عبدالرحمٰن نے
اسٹیج پر ایک نام پکارا
شہاب الدین
اور انہیں آڈینس کے سامنے بطور لیڈر متعارف کروایا۔
وہ اسٹیج پر آئے…
مگر اگر سچ کہوں
تو وہ صرف اسٹیج پر نہیں آئے تھے وہ پہلے ہی ہر جگہ موجود تھے۔
کیونکہ…
وہ اُن لوگوں میں سے تھے
جو صرف لیڈر نہیں ہوتے
بلکہ پورا نظام ہوتے ہیں۔
اس کے بعد…
کور ٹیم کے دیگر اراکین کو بھی بلایا گیا—
جن میں انور سر بھی شامل تھے
جو نہ صرف ایک بہترین ڈیزائنر ہیں
بلکہ اس ایونٹ کی core team کا اہم حصہ بھی تھے۔
ایک ایک کر کے…
چہرے سامنے آتے گئے—
اور ایک تصویر مکمل ہوتی گئی۔
اور پھر…
وہ لمحہ آ گیا
جس کا اصل رنگ دیکھنے کے لیے
یہ سب اہتمام کیا گیا تھا۔
چلڈرن لٹریری فیسٹیول کی ایکٹیویٹیز شروع ہو گئیں۔
نشتھال کے مین ہال میں
اب صرف ایکٹیویٹی نہیں ہو رہی تھی
بلکہ ایک جشن تھا۔
پشاور اور حیات آباد کے مختلف اسکولز سے آئے ہوئے بچے
اپنی اپنی دنیا لے کر اسٹیج پر آ رہے تھے۔
کوئی ملی نغمے گا رہا تھا…
کوئی ان پر پرفارم کر رہا تھا…
کوئی ڈرامہ پیش کر رہا تھا
اور کوئی پاکستان کے مختلف ثقافتی رنگوں کو
اپنے لباس میں سموئے ہوئے تھا۔
پنجاب…
سندھ…
بلوچستان…
اور پختونخوا
ہر صوبہ…
چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذریعے
اسٹیج پر زندہ ہو رہا تھا۔
کسی نے پنجابی لباس پہنا ہوا تھا…
کسی نے سندھی ٹوپی…
کسی نے بلوچی شلوار…
اور کسی نے پختون ثقافت کو اپنے انداز میں پیش کیا۔
وہ صرف بچے نہیں تھے—
وہ ایک مکمل پاکستان تھے۔
اور سچ کہوں…
یہ منظر مجھے بہت پسند آیا۔
کیونکہ اس میں…
سادگی بھی تھی،
خلوص بھی تھا،
اور ایک امید بھی۔
اسی دوران…
چند معزز اساتذہ اور ادیبوں نے بھی خطاب کیا
جن میں ڈاکٹر ثاقب اور دیگر شامل تھے۔
انہوں نے بچوں کے ادب کی اہمیت پر بات کی
کہ کیوں ضروری ہے
کہ بچے کتابوں سے جڑیں…
کہ کیوں ضروری ہے
کہ کہانیاں صرف سنی نہ جائیں—
بلکہ سمجھی بھی جائیں۔
اور پھر…
ایک اہم بات سامنے آئی
آج کے دور کا سب سے بڑا مسئلہ۔
موبائل۔
یہی وہ چیز ہے
جو بچوں کو ادب سے دور کر رہی ہے۔
اس پر تفصیل سے بات ہوئی—
کہ کیسے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے…
کیسے بچوں کو دوبارہ کتابوں کی طرف لایا جا سکتا ہے…
اور بچوں کو بھی سمجھایا گیا
کہ ادب صرف کہانیاں نہیں ہوتا…
بلکہ زندگی جینے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔
میں یہ سب دیکھ بھی رہا تھا…
اور ساتھ ساتھ کام بھی کر رہا تھا۔
اور شاید اسی لیے—
بہت سے نام ذہن میں مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے۔
مگر…
وہ لمحے…
وہ احساسات…
وہ سب کہیں نہ کہیں محفوظ ہو گئے۔
کیونکہ…
یہ صرف ایک ایونٹ نہیں تھا—
یہ ایک سیکھنے کا عمل تھا۔
مگر…
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
کیونکہ…
اصل دباؤ،
اصل رفتار
ابھی باقی تھی
جاری۔۔۔۔
01/05/2026
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو