ZakirUllah Online Quran Academy

ZakirUllah Online Quran Academy Hafiz e Quran and Tajweed Qirrat
Dars e Nizami (8 years)
FA completed
Experience: 6 years of Teaching

19/09/2026
⚜️☙⁂اُسّــــُّــــ͢ـٖٜ۬ـلَامُ  عَلَــٓــ͢ـٖٜ۬ــ͡ـيْكم وَرَحْــ͢ـٖٜ۬ــ͡ـمةُ اللّٰــّ͢ـٖٜ۬ــ͡ــہ.وَبــــــ͢ـٖٜ۬ــ͡ـرَكَاتُ...
27/08/2026

⚜️☙⁂اُسّــــُّــــ͢ـٖٜ۬ـلَامُ عَلَــٓــ͢ـٖٜ۬ــ͡ـيْكم وَرَحْــ͢ـٖٜ۬ــ͡ـمةُ
اللّٰــّ͢ـٖٜ۬ــ͡ــہ.وَبــــــ͢ـٖٜ۬ــ͡ـرَكَاتُهُ⁂☙⚜️

┅═❁اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم۔❁═┅
ـ ┓━━━🕌🕋🕌━━━┏
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيْم
لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ
"اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ
الصلوةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ
بیشک نماز نیند سے بہتر ھے
❣️"الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِ حَالَ"🫀*
اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر ، اور آخرت میں بھلائی عطا کر ، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا
آمِیْن أَللّٰھُمَّ آمِیْن یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْن
🌹صبح بخیر زندگی ❤️
🤲اللہ آپ سے راضی ہو🌸
~____________________________~ _*🌙 13 💠 ربيع اؤل 1448ھِجْــرِی✺*_
~___________________________~
_*🌤☜ 12 💠 بھادروں 2083بِکرمِی​✺*_
~___________________________~
*_🌤☜ 27 💠 اگست 2026 عِیسَوِی​✺_*
~__________________________~
_*🗒☜بــــــروز جمعرات*🇵🇰
📖
*《☆ارشاد باری تعالٰی ہے☆》*
شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔۞

الۤرٰ۔ ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں، پھر انھیں کھول کر بیان کیا گیا ایک کمال حکمت والے کی طرف سے جو پوری خبر رکھنے والا ہے۔۞
یہ کہ الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔۞
اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تمہیں ایک معین مدت تک اچھا سازوسامان دے گا اور ہر زیادہ عمل والے کو اس کا زیادہ ثواب دے گا اور اگر تم پھرگئے تو یقینا میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔۞
الله ہی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔۞
سن لو ! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں، تاکہ اس سے چھپے رہیں، سن لو ! جب وہ اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ لیتے ہیں وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بیشک وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔۞
اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق الله ہی پر ہے اور وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے، سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔۞
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ اور یقینا اگر تو کہے کہ بیشک تم موت کے بعد اٹھائے جانے والے ہو تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ضرور ہی کہیں گے یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔۞
اور بلاشبہ اگر ہم ان سے عذاب کو ایک گنی ہوئی مدت تک مؤخر کردیں تو یقینا ضرور کہیں گے اسے کیا چیز روک رہی ہے ؟ سن لو ! جس دن وہ ان پر آئے گا تو ان سے ہٹایا جانے والا نہیں اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ؏۞
*《بحوالہ سورہ ھود 1تا8》*

Beautiful cabin crew 🌹🌸🌹Scarlett Johansson💋🥰
27/08/2026

Beautiful cabin crew 🌹🌸🌹
Scarlett Johansson💋🥰








﷽ *ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ*      *لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲِ**ای...
27/08/2026

﷽
*ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ*
*لَآ اِلٰهَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲِ*
*ایمان بخیر زندگی*

*تجہیز و تکفین و تدفین حضرت محمدمصطفیﷺ نماز جنازہ پڑھنے میں منگل13 ربیع‌الاول کا پورا دن اور بدہ کی بیشتر رات گزرگئ اس کےبعد آنحضرت ﷺ کا جسد مبارک سپرد خاک کردیا۔ مسند احمد 62/6و 271*

جب اللہ تعالی کے حبیب ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو آپ ﷺ کی اس دنیا میں آمد کی خوشی کا پیغام اللہ تعالی کی تمام مخلوقات تک پہنچا اور تمام مخلوقات نے رسول اللہﷺ کے اس دنیا میں تشریف لانے کی خوشی منائی
مگر جب آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے جانے لگے تو
فضاء غمزدہ اور سوگوار تھی۔ وہ حقیقت رو نما ہوئی تھی کوئی اس کا گمان نہ کرتا تھا چہرے اداس اور آنکھیں اشک بار تھیں، اک بے یقینی کی سی کیفیت ہر طرف منڈلا رہی تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔اورامت انتشار کے دہانے پر کھڑی تھی۔ اس پوسٹ کو خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

باہر صحابہ ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔حضرت عمر رضی الله عنہ کی حالت اتنی پریشان کن تھی کہ مسجد نبوی کے ایک کونے میں کھڑے ہوگئے،اور لوگوں کو مخاطب ہوکر کہنے لگے:
"اللّٰہ کی قسم!رسول اللّٰہ کا انتقال نہیں ہوا...رسولﷺ کی وفات اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وہ منافقوں کے ہاتھ پیر نہیں توڑ دیں گے۔اور اگر کسی نے یہ کہا کہ آنحضرتﷺ کی وفات ہوگئی ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا... بعض منافق یہ کہہ رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ وفات پاگئے ہیں ،حالانکہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ وہ اسی طرح اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام گئے تھے اور پھر چالیس راتوں کے بعد اپنی قوم میں واپس آگئے تھے،جب کہ لوگ ان کے بارے میں کہنے لگے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی ہے۔اللّٰہ کی قسم!رسولﷺ بھی اسی طرح واپس تشریف لائیں گے جیسے موسیٰ علیہ السلام لوٹ آئے تھے...پھر ان لوگوں کے ہاتھ پیر کٹوائیں گے۔"
حضرت عمر رضی الله عنہ غم کی زیادتی کی وجہ سے ابھی یہ باتیں کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ تشریف لائے اور منبر پر چڑھے۔انہوں نے بلند آواز میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
"لوگو!جو شخص محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا،وہ جان لے کہ محمدﷺ انتقال ہوگیا۔"
یہ کہہ کر انہوں نے سورۃ آل عمران کی آیت 144 تلاوت فرمائی۔اس کا مفہوم یہ ہے:
"اور محمد رسول ہی تو ہیں ۔ان سے پہلے اور بھی بہت رسول گذر چکے ہیں ۔سو اگر ان کا انتقال ہوجائے یا وہ شہید ہوجائے تو کیا تم لوگ الٹے پھر جاؤ گے...اور جو شخص الٹے پیروں پھر بھی جائے گا تو اللّٰہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور اللّٰہ تعالیٰ جلد ہی حق شناس لوگوں کو بدلہ دے گا۔"
حضرت عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں ۔
"یہ آیت سن کر مجھے لگا جیسے میں نے آج سے پہلے یہ آیت سنی ہی نہیں تھی۔"
اس کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ نے کہا:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ ،صَلَوَٰتٌۭ وَسَلَامٌ عَلَى رْسَولِہ صلی الله علیہ وسلم
(بے شک ہم سب اللّٰہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔اس کے ﷺ پر درود و سلام ہو۔)
حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ نے قرآن کریم کی اس آیت سے سب کے لیے موت کا برحق ہونا ثابت فرمایا اور فرمایا:
"اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ سے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔
"آپ کو بھی مرنا ہے اور انہیں ( عام مخلوق کو)بھی مرنا ہے۔"( سورۃ الزمر : آیت 30)
پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے ہاتھ پر تمام مسلمانوں نے بیعت کرلی۔اس کے بعد لوگ آنحضرت ﷺ کی تجہیز و تکفین کی طرف متوجہ ہوئے۔

آنحضرتﷺ کو غسل دیا گیا۔ غسل حضرت علی،حضرت عباس اور ان کے بیٹوں فضل اور قثم رضی الله عنہم نے دیا۔حضرت فضل اور حضرت اسامہ رضی الله عنھما غسل دینے والوں کو پانی دے رہے تھے۔غسل کے وقت آنحضرتﷺ کی قمیص نہیں اتاری گئی۔غسل کے بعد آنحضرتﷺ کو
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں (ان کی خالہ) ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ کو یمن کے تین سفید سوتی دھلے ہوئے کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ۔
(صحیح بخاری 1264)

عود وغیرہ کی دھونی دی گئی۔اس کے بعد آنحضرتﷺ کو چار پائی پر لٹاکر ڈھانپ دیا گیا۔پھر آپکی چار پائی قبر کے کنارے رکھ دی گئی۔
نماز جنازہ کی کسی نے امامت نہیں کی۔سب نے علیحدہ علیحدہ نماز پڑھی ۔ سب سے پہلے آپ ﷺ کے خانوادے نے نماز پڑھی، پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے، پھر بچوں نے، پھر عورتوں نے، یعنی جتنے لوگ حجرہ مبارک میں آسکتے تھے،بس اتنی تعداد میں داخل ہوکر نماز ادا کرتے اور باہر آجاتے،پھر دوسرے صحابہ اندر جاکر نماز ادا کرتے۔

(موطا امام مالک 487 )
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جنازہ کی نماز بغیر وضو کے کوئی نہ پڑھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے وفات کی دو شبنہ کے روز اور دفن کئے گئے منگل کے روز اور نماز پڑھی آپ ﷺ پر لوگوں نے اکیلے اکیلے کوئی ان کا امام نہ تھا پھر کہا بعض لوگوں نے دفن کئے جائیں آپ ﷺ منبر کے پاس اور بعض نے کہا بقیع میں تو آئے حضرت ابوبکر اور کہا سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے نہیں دفن کیا گیا کوئی نبی مگر اس مقام میں جہاں اس کی وفات ہوئی پھر کھودی گئی قبر اسی مقام میں جہاں آپ ﷺ کی وفات کی تھی جب غسل کا وقت آیا تو لوگوں نے آپ ﷺ کا کرتہ اتارنا چاہا سو ایک آواز سنی مت اتارو کرتے کو پس نہ اتارا گیا کرتہ آپ ﷺ کا اور غسل دیئے گئے کرتہ پہنے ہوئے۔

حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر رضی الله عنہ چند دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ حجرے میں داخل ہوئے تو ان الفاظ میں سلام کیا۔

پھر تمام مہاجرین اور انصار نےبھی اسی طرح سلام کیا۔نماز جنازہ میں سب نے چار تکبیرات کہیں ۔
انصاری حضرات سقیفہ بنی ساعدہ( ایک جگہ کا نام)میں جمع ہورہے تھے تاکہ خلافت کا فیصلہ کیا جائے۔کسی نے اس بات کی خبر حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنھما کو دی۔یہ دونوں حضرات فوراً وہاں پہنچے،اور خلافت کے بارے میں ارشاد نبوی سنایا۔
خلافت کا مسئلہ طے ہوگیا تو آنحضرتﷺ کو دفن کرنے کا مسئلہ پیدا ہوا...سوال یہ کیا گیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟اس موقع پر بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی الله عنہ آگے آئے اور فرمایا:
"آنحضرتﷺ کو وہیں دفن کیا جائے گا جہاں وفات ہوئی ہے...
میرے پاس ایک حدیث ہے... میں نے آنحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کی روح اسی جگہ قبض کی جاتی ہے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب جگہ ہوتی ہے۔
چنانچہ یہ بات طے ہوگئی کہ ﷺ کو اس جگہ دفن کیا جائے۔
اب یہ سوال اٹھا کہ قبر کیسی بنائی جائے،بغلی بنائی جائے یا شق کی۔۔۔اس وقت مدینہ منورہ میں حضرت ابوطلحۃ بن زید بن سہل رضی اللہ عنہ بغلی قبر کھودا کرتے تھے اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح شق کی قبر کھودتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ان دونوں کو بلالاؤ۔۔۔ان میں سے جو پہلے پہنچے گا، اسی سے قبر بنوالی جائے گی۔
ان کی طرف آدمی بھیجنے کے ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی:
اے اللہ!اپنے رسول کے لئے خیر ظاہر فرما۔
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ پہلے آئے،چنانچہ بغلی قبر تیار ہوئی۔ایک حدیث کے مطابق آنحضرتﷺ نے بھی بغلی قبر ہی کا حکم فرمایا تھا۔ حضرت عباس،حضرت علی،حضرت فضل،حضرت قثم اور حضرت شقران رضی اللہ عنہم نے آنحضرتﷺ کو قبر مبارک میں اتارا۔
حضرت شقران رضی اللہ عنہ نے قبر میں ایک سرخ رنگ کا کپڑا بچھایا۔یہ وہی سرخ کپڑا تھا جو آنحضرت ﷺ سفر پر جاتے وقت اونٹ کے پالان پر بچھاتے تھے۔یہ کپڑا اس لئے بچھایا گیا کہ وہاں نمی تھی۔اس وقت حضرت شقران رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ کہے:
خدا کی قسم!آپ کے بعد اس کپڑے کو کوئی نہیں پہن سکے گا۔
آنحضرتﷺ کی تدفین منگل اور بدھ کی درمیانی رات میں ہوئی۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس روز ہم سب ازواج ایک جگہ جمع ہوکر رورہی تھیں ۔ہم میں سے کوئی سو نہ سکا۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان دی۔ اذان میں آنحضرت ﷺ کا نام مبارک آیا تو سارا مدینہ رونے لگا۔لوگ اس قدر روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں ۔اس سے بڑا صدمہ ان پر کبھی نہیں گذرا تھا اور نہ آئندہ کبھی کسی پر گذرے گا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
تمہارے دلوں نے کیسے برداشت کرلیا کہ تم رسول اللہﷺ پر مٹی ڈالو؟۔
اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ہاں !لیکن اللہ تعالیٰ کے حکموں کو پھیرنے والا کوئی نہیں ۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ آدمی اسی مٹی میں دفن ہوتا ہے جہاں سے اس کا خمیر اٹھایاجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرتﷺ ،حضرت عیسیٰ علیہ اسلام اور حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر رضی اللہ عنہما ایک ہی جگہ کی مٹی سے تخلیق کئے گئے تھے۔
آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپﷺ کی اونٹنی نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور بھوکی پیاسی مر گئی۔
علمائےاسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس جگہ آنحضرتﷺ دفن ہیں ،وہ جگہ روئے زمین میں تمام مقامات سے افضل ہے۔
آنحضرتﷺ واقعۂ فیل والے سال میں پیدا ہوئے۔۔۔یعنی جس سال ابرہہ بادشاہ نے کعبہ پرچڑھائی کی تھی۔اس واقعہ کے چالیس یا پچاس دن بعد آپ ﷺ کی ولادت باسعادت صبح طلوع فجر کے وقت ہوئی۔وہ پیر کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اس روز معتبر قول کے مطابق دو شنبہ(سوموار ) کی صبح تھی 9 ربیع الاول اور کہا جاتا 12ربیع الاول تاریخ تھی۔ اس روز 22 اپریل 571 عیسوی تھی۔ آنحضرت ﷺ کی وفات بھی ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی اور اس روز بھی بارہ ربیع الاول تاریخ تھی۔
اے اللہ درود وسلام ہو اس ذات پر کہ جس نے کفر وشرک کے اندھیروں میں شمع ہدایت روشن کی اور جن کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔وہ تیرے بندے اور رسول اور ہمارے سردار حضرت محمدﷺ کی ذات کامل ہے۔ میدان حشر میں ہمیں ان کے گروہ میں شامل فرما اور ہمیں آپﷺ کی سنت وحدیث کے خادموں میں داخل فرما۔آمین۔ سوائے اللہ رب العزت کی ذات عظیم کے کسی کو دوام حاصل نہیں ۔
وصلی اللہ علی النبی الامی وعلی الہ واصحابہ اجمعین۔
۔۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ اس کے ساتھ ہی قدم بہ قدم کا یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔۔۔،اس پر اللہ کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے، ۔۔۔آنحضرتﷺ کی زندگی مبارک کے ان گنت پہلو پھر بھی اس میں شامل نہ ہوسکے۔۔۔۔اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔۔۔ دنیا کے تمام انسان تمام عمر بھی آنحضرتﷺ کی زندگی مبارک پر لکھتے رہیں ،تب بھی حق ادا نہیں ہوسکتا۔۔۔موجودہ حالات کا تقاضا ہےکہ حضورﷺ کی سیرت کو عام کیا جائے، قول سے، عمل سے یا جس طرح بھی بن پڑے یہ کام ضرور کیا جائے۔ اس وقت انسانیت کو کسی آئیڈیل کی تلاش ہے اور وہ حضورﷺ کی ہی ذات ہو

Sunset and Masjid an Nabawi!
22/04/2026

Sunset and Masjid an Nabawi!

Address

Peshawar

Telephone

+923479079043

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ZakirUllah Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to ZakirUllah Online Quran Academy:

Shortcuts

Share

Category