Beauty spot

Beauty spot

Share

Folk Awarness

06/09/2024
02/09/2023

ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں
جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
بہت جلد میندک مر جائے گا۔۔۔
یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
"وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
سوچیئے!
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
مینڈک کو مارنے والی چیز وہ " انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
لیکن،
سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
پاکستان کے عوام کا بھی یہی حال ہے ہر بندہ پریشان ہے مہنگائی سے بجلی کے بلوں سے روز مرہ کی ضروریات سے لیکن خاموش ہیں بس گردن جھکا کر انتظار میں ہیں کہ ہمارا باڈی ٹمپریچر جب تک برداشت کرتا ہے کرتے رہو۔۔۔
کیونکہ بحثیت قوم ہم غلام ہیں۔۔
Copy

12/07/2023

کامیابی کی ہر سیڑھی پر ایک نئے کتے سے آپ کا واسطہ پڑے گا اس سے الجھے بغیر آگے بڑھنے والا منزل تک پہنچتا ہے۔ اس لیے کسی کتے سے مت الجھیئے

08/07/2023

مرنے کے بعد اگر پتہ چلا کہ اللّہ کا وجود نہیں ہے؟
ہریش کمار۔ فزکس میں PhD کے بعد بھارت کی ایک اہم یونیورسٹی میں لیکچرار پوسٹ ہوا۔ ہندو دھرم سے پہلے ہی متنفر تھا۔ 1986 لندن میں دوران تعلیم اسٹیفین ہاکنگز کے لیکچرز اور کتب سے ایسا متعارف ہوا کہ خدا کا ہی منکر ہو گیا۔ اور ایسا منکر کہ بڑے بڑے مسلم، عیسائی اور یہودی علماء سے بھرپور مباحثہ کرتا۔
یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی مجھے قائل نہ کر سکے۔
ڈاکٹر بتاتے ہے۔کہ 2005 کی چھٹی کے دن کی ایک صبح مسلم سبزی فروش نے بیل کی۔ ہم گزشتہ 20 سال سے سبزی اسی سے خرید رہے تھے۔ اس دن میں نے اسے چائے کی آفر کی تو اس نے قبول کر لی۔ حسب معمول خدا یا اللّہ کے وجود پر اس سے بحث شروع کر دی۔ 30 منٹ کی گفتگو سے معلوم ہوا وہ سیدھا سادہ مسلمان ہے۔ جو 5 وقت نماز پڑھتا ہے۔ ہاں وہ سودے میں بہت ہی صاف گو اور ایماندار تھا۔ مناسب دام میں بیچتا تھا۔ آخر چلتے ہوئے اس نے ایک ایسی بات کی جس نے میری زندگی ہی بدل دی۔ وہ کیا تھی:-
ڈاکٹر جی! تم نے خود بولا کہ تقریبا 6000 سے 10000 سال سے انسانی تاریخ میں پیغمبروں کی کہانیاں چل رہی ہیں اور سب کے سب ایک اللّہ، اور جنت دوزخ کی بات کرتے ہیں۔ اور سائنس مرنے کے بعد کے حالات کا جواب ہی نہیں دے سکتی۔ تو اب 2 ہی امکانات ہیں؛
1۔۔۔ اللّہ کا وجود نہیں ہے
2۔۔۔ اللّہ ہے
*اگر تو اللّہ کا وجود نہ ہوا* تو مرنے کے بعد ہم دونوں برابر ہونگے۔
لیکن *اگر آگے جا کر اللّہ موجود ہوا* آپ تو پھر پکڑے جائیں گے۔
دونوں صورتوں میں فائدے میں کون ہوا۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لینا۔
اس لئے بہتر یہ ہے اللّہ کو مان لیں اور اس کے کہنے پر چلیں۔ اس کا قرآن تو انسان کا سیدھی راہ پہ چلنے کا کہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ساری زندگی Probability کے لیکچرز دیئے۔ لیکن اس کے جانے کے بعد سوچا کہ اس Probability کی طرف تو کبھی میرا دھیان ہی نہیں گیا۔ کہ دونوں صورتوں میں *اللّہ کو ماننے والا فائدہ میں ہے* ۔
قصہ مختصر اس سوچ کے بعد خیال آیا کونسا آسمانی مذہب بہتر ہے۔ مذاہب کا علم تو مجھے پہلے ہی کافی تھا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ایک لیکچر میں 1400 سال سے پورا قرآن مجید کا حرف بحرف ایک ہونے کا سنا تو انگلینڈ میں کرسچن مشنری ادارے سے اس کی حقیقت دریافت کی۔ تو سب نے اس بات کی تصدیق کی۔
الحمداللہ آج مجھے اور میرے سارے گھر کو مسلمان ہوئے 15 سال ہو گئے۔ ۔ میں اسلامی تعلیمات کے لئے کیرالہ شفٹ ہو گیا۔
میری 3 بیٹیاں حافظ قرآن ہیں۔ اور اللّہ کریم نے میری زندگی ہی بدل دی۔ لیکن اس سبزی والے عبد الاحد سے دوبارہ میری ملاقات نہ ہو سکی۔ لیکن میں نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام بھی عبد الاحد رکھا۔کیونکہ وہ ایک سچا مسلمان تھا۔

28/06/2023

بچھو کا نشہ!!

(انتباہ: کسی بھی طرح کا نشہ صحت کے لیے مضر ہے اور اس سے آپکی جان بھی جا سکتی ہے)-

آپ نے یقیناً لوگوں کو شراب، چرس، کوکین، ہیروئن وغیرہ کا نشہ کرتے سنا یا دیکھا ہو گا مگر کیا آپ نے کبھی سنا کہ لوگ بچھو کا نشہ کرتے ہوں۔ وہ بھی ایسے نہیں، بچھو کو جلا کر اسکا دھواں سونگھنے کا۔

جی ہاں، یہ نشہ خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں لوگ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مکمل اعداو شمار تو موجود نہیں تاہم میڈیا میں کچھ رپورٹس موجود ہیں۔ ایسی ہی ایک خبر 2016 میں ڈان نیوز میں چھپی جس میں پشاور کے گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے صحبت خان ، جو اس نشے کے عادی تھے، اس بارے میں بتاتے ہیں۔

بقول صحبت خان، وہ یہ نشہ ایوب خان کے دور سے یعنی 60 کی دہائی سے کر رہے تھے۔ 2016 کی اس رپورٹ کے وقت اُنکی عمر 74 برس تھی۔
صحبت خان کہتے ہیں کہ اب انہوں نے یہ نشہ چھوڑ دیا ہے تاہم افیم وہ اب ںھی لیتے ہیں۔ اُنکے بقول : چرس او پاؤڈر خو گپ دی" یعنی بچھو کے نشے کے مقابلے میں چرس اور ہیروئن کا نشہ مذاق ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس نشے کی عادت تب لگی جب وہ بیس برس کے تھے۔ ایک روز انہیں پشاور کے مشہور جلیل کباب ہاؤس کے پاس ایک شخص ملا جو ایک سے دو روپے میں بچھو بیچتا تھا۔ یہ بچھو وہ قریبی علاقے متنی سے جمع کرتا جہاں گرم موسم کے باعث بچھو کثیر تعداد میں تھے۔ بچھو کا نشہ کرنے کے لیے اسے مار کر دھوپ میں سکھایا جاتا ہے اور کوئلے پر جلا کر اسکا دھواں سونگھا جاتا ہے۔
صحبت خان کے مطابق بچھو کی دم کا زہر جلنے سے نشہ زیادہ ہوتا ہے۔

بھارت کی کچھ ریاستوں میں بھی لوگ بچھو کا نشہ کرتے ہیں تاہم اُنکا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ وہاں کچھ لوگ بچھو لیکر گھوم رہے ہوتے ہیں اور جنکو یہ نشہ چاہیے ہوتا یے وہ انہیں سو یا دو سو روپے دیکر بچھو سے خود کو ڈنگواتے ہیں۔ بچھو کے زہر سے ان میں نشے کی کیفیت آتی ہے۔
دراصل ایسا کیوں ہے؟ اس حوالے سے ہمیں زیادہ معلومات نہیں البتہ اتنا معلوم ہے کہ بچھو کے زہر میں کئی طرح کے کیمیکل ہوتے ہیں جنکا مقصد اپنے شکار کے جسم پر اثر انداز کر کے اسے نڈھال کرنا ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچھوؤں کی 1750 اقسام ہیں جن میں 25 کی انسانوں کے لیے جان لیوا ہو سکتی ہیں۔ بچھو کا زہر دھواں بنا کر سونگھنے سے دماغ پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن میں یاداشت کا جانا سرِ فہرست ہے۔ اسکے علاوہ بھوک کا نہ لگنا، نیند خراب ہونا، ہیجان پیدا ہونا، ہیولے نظر انا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
بچھو کا نشہ کرنے والے افراد کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دیگر نشوں کی طرح اس کی بھی عادت بری ہے۔

خیبر پختونخوا کے اینٹی نارکوٹکس کے ڈیپارٹمنٹ کے سابقہ آفیسر کے بقول انہوں نے اس نشے نے عادی افراد کو کوہاٹش بنو، دیر، چارسدہ اور کرک میں بھی دیکھا ہے۔
اس حوالے سے حکومتی اعداد و شمار ناپید ہیں۔

27/06/2023

حلال جانور کے سات حرام اعضاء

24/06/2023

پورے ملک میں موجودہ صورتحال میں صرف یہ دو اپنی ڈیوٹی وقت پر ادا کرتے ہیں باقی اللہ معاف کرے.

09/05/2023

کچھ عرصہ پہلے بھکر کے قریب تربوزوں سے بھرا ٹرک اُلٹ گیا۔
قُرب و جوار میں رہنے والے لوگوں نے فوراً پہنچ کر انسانی ہمدردی کی بنا پر امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے۔😜😁😁

08/05/2023

جمع ایک اور منفی ایک کا واقعہ

جماعت دہم کی ریاضی میں لوگارتھم کے باب میں ہم نے 1+ اور 1- کا عمل کیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سنت ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہے۔
تین بندے آپ (رض) کے پاس 17 اونٹ لے کر آئے۔ کہنے لگے ان اونٹوں میں سے ایک بندے کے آدھے اونٹ یعنی ایک بٹا دو حصہ ہے۔ دوسرے کا ایک تہائی حصہ یعنی ایک بٹا تین۔ تیسرے کا نواں حصہ یعنی ایک بٹا 9 اونٹ ہیں۔ انھیں ہم سب میں برابر تقسیم کیجیے۔

اب 17 اونٹوں کی تقسیم ایک معما بن گیا۔ جس بندے کے آدھے اونٹ تھے وہ ساڑھے آٹھ اونٹ نہیں لے سکتا تھا۔ اسی طرح ایک تہائی اور نواں حصہ لینے کا مسئلہ بھی تھا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے خادم سے کہا کہ ان میں میرا ایک اونٹ شامل کرو۔ چنانچہ ایک اونٹ شامل کرنے سے تعداد 18 ہو گئی۔

المختصر؛
ایک نے 18 کا آدھا حصہ لیا۔ جس کے 9 اونٹ بنتے ہیں۔
18÷2=9

دوسرے نے ایک تہائی لیا۔ یعنی مجموعی تعداد سے اس نے ہر تیسرا اونٹ لیا۔ اسے 6 اونٹ مل گئے۔
18÷3=6

تیسرے نے نواں حصہ لیا۔ اسے 2 اونٹ مل گئے۔
18÷9=2

تینوں کو مشترکہ طور پر 9، 6 اور 2 اونٹ ملے۔ تعداد 17 بن گئی۔ وہ اپنے اپنے اونٹ لے گئے۔ پیچھے آپ (رض) کا اپنا ایک اونٹ رہ گیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خادم سے فرمایا۔
تم اپنا اونٹ واپس لے جاؤ۔

اس واقعے سے اندازہ لگا لیجئے کہ اس وقت وہ دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ علم ریاضی میں کتنے آگے تھے۔ ایک ایسے وقت میں جب ابھی تک اعداد رائج نہیں ہوئے تھے۔ آپ نے وہ حساب ایک عجیب منطق سے انجام تک پہنچایا۔

میں سوچتا ہوں کہ ہندسوں کا اجراء ابھی تک نہیں ہوا تھا تو کسری اعداد کیسے عمل پذیر ہوئے؟

(کسری اعداد یعنی fractions)

تحریر: اسماعیل بہزاد

16/04/2023

شہد کا ایک قطره زمین پر گر گیا. ایک چھوٹی سی چیونٹی آئی اور اُس نے اس شہد کے قطرے سے تھوڑا سا چکھا۔ اُسے بڑا مزا آیا۔
اسے کام سے جانا تھا تو جب وہ جانے لگی تو اس شہد کا مزہ اس کے منہ میں مزید پانی لانے کا سبب بنا، اُس کا منہ بھر آیا:
کیا زبردست اور مزے دارشہد ہے۔
کتنا میٹھا!
آج تک ایسا شہد نہیں کھایا!!
وہ لوٹی اور شہد میں سے تھوڑا سا اور چکھ لیا...
اس نے دوبارہ جانے کا عزم کیا مگر اُس نے محسوس کیا کہ یہ تھوڑا سا شہد کھانا کافی نہیں ہے، اُسے اور کھانا چاھئے۔
وہ رکی اور اس مرتبہ کھانے کے بجائے شہد پر گر پڑی تا کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرلے!
وہ چیونٹی شہد میں غوطہ زن ہو گئی اور لطف اندوز ہونے لگی۔
مگر افسوس کہ وہ شہد سے باہر نہ نکل سکی۔
شہد کی چکنائی کی وجہ سے اس کے پیر زمین سے چپک گئے تھے اور اس میں انہیں ہلانے کی طاقت نہ رہی...!
وہ شہد میں رہ گئی یہاں تک کہ وہ اسی میں ہی مر گئی !
اس کی لذت اندوزی نے شہد کو ہی اس کی قبر میں تبدیل کر دیا!
ایک دانا کا قول ھے:
دنیا شہد کے ایک بہت بڑے قطرے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے!
پس جو بھی اس قطرہ شہد میں سے تھوڑا اور بقدر کفایت کھانے پر اکتفاء کرے گا وہ نجات پا جائے گا اور جو بھی اس شیرینی میں غوطہ زن ہو گا ہلاکت اس کا مقدر بن جائے گی

Photos from Beauty spot's post 12/04/2023

ایک تصویر سوئٹزرلینڈ کے بس اسٹاپ کو دکھاتی ہے اور دوسری تصویر میں ہمارے ملک کے بس اسٹاف کو دکھایا گیا ہے۔ اب خود اندازہ لگائیں اور اپنی رائے دیں۔ ہم ترقی کیوں نہیں کر پاتے اور آٹے کے تھیلے کے لیے کتنے ذلیل ہوتے۔

09/04/2023

پاکستان میں۔ پڑھا لکھا بندہ ایسے ذلیل ہوتا ہے
فرانس سے PHD کر کے پاکستان واپس آنے والا ڈاکٹر سندھ میں.فرانس میں ایک گھنٹہ پڑھانے کا 30000 پاکستانی روپیہ لیتا تھا اس نے کہا میں پاکستان میں جا کر پڑھاوں گا 😭😭
کچھ دن پہلے شہید ھونے والے آرٹیفشل انٹیلیجنس کے پروفیسر ڈاکٹر اجمل ساوند کی آخری تصویر۔جب ان کو گھیرکر گاڑی سے اتار کر زمین پر بٹھادیا گیا اس وقت بھی مسکراہٹ اس کے چہرے پر قائم رھی ۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ھے

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Peshawar
25000