Big Bio

Big Bio

Share

Big Bio is dedicated to popularization of Science in Pakistan

08/07/2025

سوال ہی سب سے بڑا سوال ہے.
پاکستانی جامعات پیچھے کیوں رہ گئیں؟
اقبال لطیف

یہ بات دل شکستہ ضرور کرتی ہے، لیکن اب حیران کن نہیں رہی کہ دنیا کی ٹاپ 350 یونیورسٹیوں میں پاکستان کی ایک بھی جامعہ شامل نہیں۔ مگر اصل مسئلہ صرف درجہ بندیوں کا نہیں، بلکہ علمی جمود کی وہ گہری بیماری ہے جو ہمارے فکری ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ چکی ہے۔ یہ صرف اداروں کی ناکامی نہیں، یہ سوال اٹھانے کے عمل کی موت ہے۔

ذرا X (سابقہ ٹوئٹر) پر نظر ڈالیں۔ وہاں کیا نظر آتا ہے؟ کوئی تحقیق، کوئی فکری گہرائی؟ نہیں۔ صرف الزامات، ردعمل، اور سطحی جذبات۔ ہمارا معاشرتی نظام تحقیق پر انعام نہیں دیتا، یہ غصے، تعصب، اور پوائنٹ اسکورنگ کو ابھارتا ہے۔

اب جب کہ ہمارے پاس Grok جیسے AI ٹولز دستیاب ہیں، ہم ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے انہیں تضحیک، تصدیقِ تعصب، یا مسخری کے ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ بات درست ہے یا غلط؟ یا اس بیانیے کا متبادل کیا ہے؟ ہم AI سے صرف تصدیق چاہتے ہیں، تحقیق نہیں۔

مگر قصور Grok یا AI کا نہیں۔
یہ نہ ہمہ دان ہے، نہ قادرِ مطلق، نہ ہی سچائی کا کوئی ابدی منبع۔ یہ بھی ایک مشین لرننگ سسٹم ہے، جو وہی کچھ واپس دیتا ہے جو ہم اسے کھلاتے ہیں۔ اگر آپ اسے X کی شور زدہ، متعصب دنیا سے فیڈ کریں گے، تو یہ بھی وہی شور، وہی تعصب لوٹائے گا۔

اور یہی ایک تلخ حقیقت ہے:
AI کا معیار انسان کے سوالوں کے معیار پر منحصر ہوتا ہے
اگر سوال سطحی ہوں گے تو جوابات اس سے بھی زیادہ کھوکھلے ہوں گے۔ اگر آپ کا مقصد تمسخر ہے، تو آپ کا ہتھیار بھی تمسخر میں ڈھل جائے گا۔ اگر آپ خود تحقیق، شک، اور تجزیے کی تربیت نہیں دیتے، تو کوئی AI آپ کو نہیں بچا سکتا۔

آپ کی ذہانت آپ کے سوالوں میں چھپی ہوتی ہے۔

اور یہی وہ وجہ ہے کہ ہماری جامعات زوال کا شکار ہیں۔

جب تحقیق کی جگہ شور لے لے

آج پاکستان میں X پر جو موضوعات "معلوماتی" سمجھے جاتے ہیں وہ صرف دو قبائل کے الزامات ہیں: ایک طرف نواز شریف اور آصف زرداری کی مبینہ کرپشن، جو PTI کے حامی رٹے کی طرح دہراتے ہیں؛ دوسری طرف عمران خان کا اخلاقی زوال، جسے ان کے مخالفین انتقامی جوش سے بیان کرتے ہیں۔

کیا ہم توقع کرتے ہیں کہ AI ان مباحثوں سے کچھ سیکھے گا؟ جب انسان خود سیکھنا چھوڑ دے، تو مشین لرننگ کیسے آگے بڑھے گی؟

یہ کوئی مکالمہ نہیں، بلکہ ڈیجیٹل کیچڑ اچھالنے کا ایک تماشا ہے، جو "مصروفیت" کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔

اس شور میں:
شک کرنا گناہ بن گیا ہے۔
تنقیدی سوچ جرم ٹھہری ہے۔
خود تحقیق کو دھتکار دیا گیا ہے۔

نتیجہ؟
ایک ایسا معاشرہ جہاں علم پسپا ہے، اور فکری زوال ایک تہذیبی حقیقت بن چکا ہے۔

عظیم جامعات کیسے بنتی ہیں؟

جامعات صرف بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے فکری ماحول سے جن میں سوال پوچھنا عبادت ہوتا ہے۔ جہاں تقلید نہیں، تحقیق کو عزت دی جاتی ہے۔ جہاں نوبیل انعام یافتہ سائنسدان پیدا ہوتے ہیں، بیوروکریسی کی وجہ سے نہیں، بلکہ سوال پوچھنے کی ثقافت کی وجہ سے۔

خود سے پوچھیں:
ہم فزکس، کیمسٹری، میڈیسن یا AI میں نوبیل سطح کی تحقیق کیوں نہیں کرتے؟
ہم تجسس کے بجائے تابعداری کو کیوں انعام دیتے ہیں؟
ہمارے ہاں پی ایچ ڈی ایک علمی کارنامہ کیوں نہیں، بلکہ صرف ایک رتبہ کیوں ہے؟

جواب صاف ہے:
ہم نے درست سوال پوچھنے چھوڑ دیے ہیں۔
ہم رٹتے ہیں، نقل کرتے ہیں، اور کبھی بھی کتب یا اساتذہ کے بیانات پر سوال نہیں اٹھاتے۔
ہم نہیں پوچھتے:
"کیا یہ غلط ہو سکتا ہے؟"
"اس میں کیا کمی ہے؟"
"میں اس میں کیا اضافہ کر سکتا ہوں؟"

فکری تجدید کی پکار

سوال کیا ہے؟
یہی تو سوال ہے!

اور یہی وہ مقام ہے جہاں فکری انقلاب جنم لیتا ہے۔

آئیے، پاکستانی طلبہ، محققین اور مفکرین اس کھوئی ہوئی میراث—سوال کی طاقت—کو دوبارہ حاصل کریں۔
Grok جیسے AI ٹولز کو تعصب کی تصدیق نہیں، بلکہ حقیقت کی تلاش کے لیے استعمال کریں۔
جامعات کو حفظ کی عبادت گاہوں کے بجائے شک کے تجربہ گاہیں بنائیں۔

اگر ہم نے سوالوں کا معیار بلند کر لیا،
تو صرف پانچ سال میں اس ملک کی علمی فضا بدل سکتی ہے۔

اور تب شاید، ہم نہ صرف عالمی درجہ بندیوں میں جگہ بنائیں گے،
بلکہ انسانی علم کی عظیم عالمی گفتگو کا حصہ بھی بن سکیں گے۔

اقبال لطیف

07/07/2025

تعلیم پر آئن سٹائن کے خیالات
تحریر: مبارک علی خان

البرٹ آئن سٹائن کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف علم منتقل کرنا نہیں بلکہ سوچنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ ان کے مشہور قول "Imagination is more important than knowledge" میں تعلیم کی روح پوشیدہ ہے۔ آئن سٹائن کا ماننا تھا کہ محض یادداشت پر مبنی علم ایک مشین کی مانند ہے، اصل فرق تخیل اور نئی راہیں تلاش کرنے کی جستجو سے پڑتا ہے۔
آئن سٹائن نے اکثر سکولوں کے سخت نصاب، یادداشت پر مبنی امتحانات اور بے جان تعلیمی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے نزدیک سیکھنا ایک فطری عمل ہے جو تجسس، سوال اٹھانے اور دریافت کے جذبے سے جڑا ہوا ہے۔ وہ کہتے تھے:

"It is a miracle that curiosity survives formal education."

یہ قول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح موجودہ تعلیمی نظام انسان کی فطری جستجو کو دبا دیتا ہے۔

آئن سٹائن کے نزدیک ایک استاد کا اصل کام یہ نہیں کہ وہ بچوں کو سلیبس رٹوا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اُن کے اندر سیکھنے کا شوق اور دریافت کا جذبہ پیدا کرے۔ ان کے مطابق:

"The teacher's task is not to train individuals into a specific mold but to awaken joy in creative expression and knowledge."

یعنی استاد کا کام ذہن کو آزاد کرنا ہے، قید کرنا نہیں۔

آئن سٹائن نے کہا تھا کہ:

"Education is not the learning of facts, but the training of the mind to think."

یہ سوچ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد خود سے سوال کرنا، مشاہدہ کرنا اور دلیل سے بات کو پرکھنا سکھانا ہے۔ آئن سٹائن کے نزدیک وہ تعلیم ناکام ہے جو بچوں کو محض معلومات کا انبار دے دے لیکن ان کے ذہنوں کو تجزیہ کرنے کے قابل نہ بنائے۔
ان کے مطابق سیکھنے کا بہترین ماحول وہ ہوتا ہے جو خوف اور سزا سے آزاد ہو، جہاں طالب علم کو اپنے سوال پوچھنے اور تجربات کرنے کی مکمل اجازت ہو۔ وہ کہتے تھے:

"The only thing that interferes with my learning is my education."

یہ طنزیہ انداز میں کہا گیا جملہ رسمی تعلیم کے ان نقصانات کی نشاندہی کرتا ہے جو تخلیقی سوچ کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

آئن سٹائن کے مطابق تعلیم صرف ذاتی کامیابی کے لیے نہیں، بلکہ معاشرتی بہتری اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے ہونی چاہیے۔ وہ کہتے تھے:

"Most people say that it is the intellect which makes a great scientist. They are wrong: it is character."

یعنی تعلیم صرف دماغ نہیں، بلکہ کردار بھی سنوارنی چاہیے۔

آئن سٹائن کے خیالات تعلیم کے اس ماڈل کے خلاف ہیں جو طالب علم کو ایک مشین سمجھ کر صرف معلومات بھرتا ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم ایک روحانی اور اخلاقی تربیت ہے جو ذہنوں کو آزاد، تجسس سے بھرپور اور ذمہ دار بناتی ہے۔ ان کے خیالات آج بھی دنیا بھر کے تعلیمی ماہرین کے لیے مشعل راہ ہیں۔

06/07/2025

"فزکس کے استاد کی نصیحتیں"
تحریر: مبارک علی خان
نوبیل انعام یافتہ ماہرِ طبیعیات اور تدریس کے ماہر Richard Feynman تعلیم، سیکھنے کے عمل، اور تدریسی طریقوں پر بہت بصیرت افروز خیالات رکھتے تھے۔ وہ نہ صرف سادہ زبان میں پیچیدہ تصورات سمجھانے کے ماہر تھے، بلکہ اُن کا تعلیمی فلسفہ آج بھی دنیا بھر میں اساتذہ اور طلبا کے لیے مشعل راہ ہے۔

فائنمین کے نزدیک تعلیم کا مطلب صرف یاد کرنا نہیں بلکہ "اصل مفہوم کو سمجھنا" ہے۔ وہ کہتے تھے:

"If you can't explain something in simple terms, you don't understand it.
"سمجھنے" کو "یاد کرنے" پر ترجیح دو

فائنمین ٹیکنیک (Feynman Technique) یہ اُن کا سیکھنے کا مشہور طریقہ ہے، جو چار مراحل پر مشتمل ہے:

1. موضوع کو چنو — جو تم سیکھنا چاہتے ہو۔

2. اسے سادہ الفاظ میں لکھو — جیسے کسی بچے کو سمجھا رہے ہو۔

3. جہاں رُک جاؤ، وہاں دوبارہ پڑھو — جو سمجھ نہ آئے، اس پر واپس جاؤ۔

4. سادہ اور واضح زبان میں دوبارہ لکھو — بغیر کسی تکنیکی jargon کے۔

سوال پوچھو، رٹے نہ لگاؤ:

"I learned very early the difference between knowing the name of something and knowing something."

فائنمین ہمیشہ کہتے تھے کہ سیکھنے کی سب سے بڑی طاقت "دلچسپی" اور "تجسس" ہے، نہ کہ نمبر لینا۔

غلطی سے نہ ڈرو: وہ کہتے تھے:

"I would rather have questions that can't be answered than answers that can't be questioned."

خود سے تجربہ کرو: سیکھنے کا بہترین ذریعہ تجربہ ہے۔ صرف کتابیں نہیں، عمل اور مشاہدہ بھی ضروری ہے۔

غیر روایتی سوچ اپناؤ: ان کے نزدیک تعلیم وہ ہے جو ذہن کو آزاد کرے، محدود نہ کرے۔
ایک استاد کو کیا کرنا چاہیے؟
تعلیم کو زندہ اور دلچسپ بنانا:

"The highest forms of understanding we can achieve are laughter and human compassion."

فائنمین کے لیکچرز dry نہیں ہوتے تھے، وہ زندگی سے بھرپور، مثالوں، مزاح، اور سادہ انداز سے لبریز ہوتے تھے۔
وہ استاد کو facilitator سمجھتے تھے، جو سوالوں کو inspire کرے، جواب نہ تھوپے۔
"میں نہیں جانتا" کہنا سکھانا:
فائنمین خود کہتے تھے:
"I don't know" is not a failure—it's the first step toward real knowledge.
فائنمین کے مطابق تعلیمی نظام کا مقصد نمبر لینا نہیں بلکہ سچائی تک پہنچنا ہونا چاہیے۔
فائنمین اکثر تعلیمی اداروں میں رٹے، خوف، اور چپ چاپ بیٹھنے کو علم کا دشمن قرار دیتے تھے۔

نصاب نہیں، فطری تجسس پر مبنی تدریس — بچے کے سوالات کو سنجیدہ لینا اور اس کی فطری دلچسپی کو سیکھنے میں تبدیل کرنا اصل تدریس ہے۔

آزادی فکر اور غیر روایتی سوچ کی تربیت — جہاں "کیوں" کا سوال دبایا نہ جائے، بلکہ اس کو celebrate کیا جائے۔

فائنمین کی تعلیمات آج کے rigid تعلیمی نظاموں کے لیے ایک انقلاب سے کم نہیں۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ:

سیکھنا درحقیقت زندہ رہنے کا ایک فن ہے۔ جس دن سوال ختم ہو جائیں، علم مر جاتا ہے۔

06/07/2025

شعور اور فوق الانسان: نیٹشے کا اوورمین بمقابلہ اقبال کا شاہین

از مبارک علی خان

تاریخِ فکر میں کچھ ایسے لمحات آتے ہیں جب دو مختلف تہذیبوں کے مفکرین ایک ہی سوال کی مختلف مگر متوازی تعبیرات پیش کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک فکری تقابل فریڈرک نیٹشے کے Übermensch یعنی اوورمین اور علامہ اقبال کے شاہین کے تصور کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ دونوں شخصیات نے انسان کے ارتقائی سفر، اس کی معنوی بلندی، اور اس کے شعور کی معراج پر اپنے اپنے تناظر سے روشنی ڈالی ہے۔

نیٹشے کے ہاں اوورمین ایک ایسا فرد ہے جو روایتی اخلاقیات، سماجی جکڑ بندیوں اور تقلیدی نظامِ فکر سے بلند ہو چکا ہے۔ وہ اپنے لیے خود قانون بناتا ہے، خود معنی تخلیق کرتا ہے، اور اپنے وجود کو فطری حیوانیت سے نکال کر ایک نئی تخلیقی جہت میں داخل کرتا ہے۔ نیٹشے کا یہ تصور بنیادی طور پر ایک خود تخلیقی ارادے (Will to Power) کی بنیاد پر قائم ہے—ایک ایسی قوت جو انسان کو اپنی پست حقیقت سے بلند کر کے ایک نئی "مقدس دنیا" کا بانی بناتی ہے۔

دوسری جانب، اقبال کا شاہین بھی محض رسمی مذہب یا تقلیدی ایمان کا نمائندہ نہیں۔ وہ بھی ایک تخلیقی انسان ہے، مگر اس کی تخلیق کا منبع "عشقِ الٰہی" ہے۔ اقبال کا انسان خودی کے سفر سے گزرتا ہے، جس میں وہ اپنے باطن کو پہچانتا، مضبوط کرتا، اور بالآخر نیست سے ہست کے مرحلے تک پہنچتا ہے۔ اس کی معراج فنا میں بقا ہے—خدا کی رضا میں اپنی خودی کا اثبات۔

یہاں پہلا فرق نمایاں ہوتا ہے: نیٹشے کا اوورمین خدا کے تصور کو رد کرتا ہے تاکہ اپنی خلاقی قوت کو آزاد کرے، جبکہ اقبال کا شاہین اپنی خودی کو خدا کی ذات سے ہم آہنگ کر کے اپنی تکمیل پاتا ہے۔ نیٹشے کے لیے خدا کا انکار ایک فکری آزادی ہے، اقبال کے لیے خدا کی معرفت ایک وجودی نجات۔

تاہم، دونوں کے ہاں "عام انسان" سے نجات کی جستجو مشترک ہے۔ نیٹشے "رعیت" کے اخلاق کو غلامی کی علامت سمجھتا ہے، اور اقبال بھی "اقوامِ مغلوب" کے ذہنی جمود کو روحانی زوال کہتا ہے۔ دونوں چاہتے ہیں کہ انسان اپنی داخلی قوت، ارادے، اور شعور سے ایک نئی دنیا تخلیق کرے—نیٹشے کے لیے وہ دنیا فرد کی خود ساختہ کائنات ہے، اور اقبال کے لیے وہ روحانی انقلاب کی دنیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نیٹشے کا اوورمین بنیادی طور پر مغربی تہذیب کی مذہبی شکست کے بعد پیدا ہونے والا تصور ہے، جبکہ اقبال کا شاہین ایک نئی اسلامی تجدیدِ فکر کا نمائندہ ہے۔ نیٹشے ماضی کے خدا کو مردہ قرار دیتا ہے، اور اقبال اس خدا کو زندہ کر کے انسان کو مردہ دلوں میں حیاتِ نو کا پیغام دیتا ہے۔

ایک اور پہلو جہاں دونوں کا اشتراک سامنے آتا ہے، وہ "خوف سے آزادی" ہے۔ نیٹشے کا اوورمین کسی سزا، گناہ یا سماجی ردعمل سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اقبال بھی کہتا ہے:

"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟"

یہ مصرعہ گویا نیٹشے کے "اپنے لیے خود قانون سازی" کے تصور کا روحانی ہمزاد بن جاتا ہے۔

آخرکار، سوال یہ ہے کہ کیا نیٹشے کا اوورمین اور اقبال کا شاہین ایک ہی انسانی آرزو کے دو چہرے ہیں؟ یا ان کے مابین وہی فرق ہے جو خالقِ قانون اور تابعِ وحی کے درمیان ہوتا ہے؟ شاید حقیقت ان دونوں کے درمیان کہ somewhere in between lies the struggle of the modern human being—کبھی نیٹشے کے ساتھ اپنے خدا کو رد کرتے ہوئے، اور کبھی اقبال کے ساتھ اس خدا کی تلاش میں سرگرداں..

06/07/2025

"ہماری کامیابی صرف پاورپوائنٹ میں"
تحریر: مبارک علی خان

ہم وہ خوش نصیب قوم ہیں جن کے تمام نظام — تعلیمی، صحت، انصاف، ٹرانسپورٹ، اور یہاں تک کہ نظامِ تنفس بھی — کاغذ پر مکمل، فائل میں کامیاب، اور پاورپوائنٹ میں عالمی معیار کے مطابق ہیں۔

مثلاً ہسپتالوں میں ہر مریض کو بروقت علاج ملتا ہے… سلائیڈ نمبر 12 پر۔
بچوں کو معیاری تعلیم دی جا رہی ہے… پاورپوائنٹ کے انی میٹڈ چارٹ میں۔
انصاف ہر شہری کو یکساں مل رہا ہے… رپورٹ کے آخری پیراگراف میں۔
ہر گاؤں میں صاف پانی کی سہولت موجود ہے… جی آئی ایس میپ میں نشان لگا ہوا ہے۔
بیروزگاری ختم ہوچکی ہے… ایکسل شیٹ کے فارمولے سے۔

پالیسی میکرز کہتے ہیں کہ گراؤنڈ پر جو ہو رہا ہے وہ تو وقتی بات ہے، اصل تو وہ ہے جو رپورٹ میں ہے!
اصل ترقی تو وہ ہوتی ہے جو “summary slide” پر 3 bullet points میں آ جائے:

1. Target achieved

2. KPIs fulfilled

3. Sustainable Impact ensured

جب کوئی عام بندہ سوال کرے کہ "سر! یہ ترقی ہمیں کیوں نظر نہیں آتی؟"
تو افسر مسکرا کر کہتا ہے:
آپ کی نظر کمزور ہے، یا آپ نے ہماری نئی رپورٹ نہیں پڑھی؟
ہمارے سسٹمز کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ زمین پر نہیں، فائلوں میں چلتے ہیں۔
وزیروں کی کامیابی پاورپوائنٹ کی theme پر ہوتی ہے۔
افسروں کا وژن slide transition effects میں چھپا ہوتا ہے۔
مگر یاد رکھیں!
اگر آپ نے کبھی حقیقت دکھانے کی کوشش کی، تو آپ کو بتایا جائے گا آپ منفی سوچ کے حامل ہیں، جبکہ ہم Vision 2047 پر کام کر رہے ہیں!

آخر میں صرف اتنا کہوں گا: ہم ترقی یافتہ قوم ہیں…
بس ترقی نے ابھی زمین پر اترنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

05/07/2025

"سائنس: محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ تنقیدی فہم کا نظام"
(کتاب: "آخری سوال کے جواب میں" کا ایک مجوزہ باب)
تحریر: مبارک علی خان

اکثر لوگ جب سائنس کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً ذہن میں راکٹ، موبائل فون، میڈیکل ٹیکنالوجی، یا روبوٹس آتے ہیں۔ گویا سائنس محض ایک "چیزیں بنانے والی فیکٹری" بن کر رہ گئی ہے۔ لیکن درحقیقت سائنس کا اصل مقصد چیزیں بنانا نہیں، بلکہ حقیقت کو سمجھنا، سوال اٹھانا، اور شواہد کی بنیاد پر دنیا کی گتھیاں سلجھانا ہے۔
سائنس ایک علمی روایت (intellectual tradition) ہے، جو سوال، شک، تنقید اور تجربے سے جڑی ہوئی ہے۔
سائنس دراصل ایک طریقۂ کار (methodology) ہے، جب کہ ٹیکنالوجی اس کا ضمنی نتیجہ (by-product) ہے۔
سائنس کا دائرہ سوالات، مشاہدات، تجربات، اور نظریات کے گرد گھومتا ہے۔ جبکہ ٹیکنالوجی ان نظریات کی اطلاقی شکل (applied form) ہے۔
ٹیکنالوجی کا استعمال سائنس کے بغیر ممکن نہیں، لیکن سائنس کی بنیاد صرف آلات بنانے پر نہیں — بلکہ علم، فہم، تنقید، اور دریافت پر ہے۔

کارل پوپر (1902–1994) بیسویں صدی کے سب سے بااثر فلسفیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سائنس کو اس کی تنقیدی روح (critical spirit) کے ساتھ پرکھا۔ ان کے مطابق ایک سائنسی نظریہ وہی ہوتا ہے جو قابلِ تردید (falsifiable) ہو۔
یعنی سچ وہ نہیں جو تسلیم کر لیا جائے، بلکہ وہ ہے جو سوال اٹھانے کے بعد بھی قائم رہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی کہے "تمام ہنس سفید ہوتے ہیں"، تو یہ دعویٰ تبھی سائنسی ہوگا جب ہم اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں.. یعنی اگر کوئی کالا ہنس ملا، تو نظریہ رد ہو گیا۔
لیکن اگر کوئی نظریہ ایسا ہو جسے کبھی غلط ثابت ہی نہ کیا جا سکے، تو وہ سائنسی نہیں — بلکہ عقیدہ یا تصوراتی مفروضہ ہے۔
کارل پوپر کے نزدیک سائنس ہمیشہ عارضی صداقت (tentative truth) فراہم کرتی ہے — یعنی ہم کسی نظریہ کو درست مانتے ہیں، جب تک کوئی بہتر ثبوت اسے رد نہ کر دے۔

سائنس کا اصل جوہر کسی چیز کو تسلیم کرنا نہیں، بلکہ اس پر سوال اٹھانا ہے۔
مذہب، عقائد، یا سیاست میں اکثر سوالات کو دبایا جاتا ہے۔ لیکن سائنس کا حسن یہی ہے کہ وہ سوالات کی گنجائش پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں سائنس زیادہ ترقی کرتی ہے، کیونکہ وہ آزادی، تنقید، اور شواہد پر مبنی بحث کی فضا فراہم کرتے ہیں۔
Science as a Social Construct
تاریخی طور پر، سائنس ہمیشہ تنہائی میں نہیں پھلی پھولی، بلکہ اس نے اپنے وقت کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی نظاموں سے گہرا اثر لیا۔ گلیلیو نے جب زمین کی حرکت کا نظریہ پیش کیا تو چرچ نے اسے دبانے کی کوشش کی۔ ڈارون کی ارتقا پر مبنی تھیوری آج بھی کئی مذہبی حلقوں میں متنازعہ ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں اکثر طلبا کو سائنس امتحان پاس کرنے کے ہتھیار کے طور پر پڑھائی جاتی ہے، نہ کہ دنیا سمجھنے کے ایک سوالی (inquisitive) طریقے کے طور پر۔

بدقسمتی سے پاکستان میں سائنس کو صرف ٹیکنیکل یا پریکٹیکل فائدے کے لیے سکھایا جاتا ہے۔

سائنس بطور تنقیدی علم نہ تو یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے، نہ میڈیا یا معاشرے میں اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
ایسی فضا میں نہ سائنسدان بنتے ہیں، نہ موجد — بلکہ محض ٹیکنیشن اور صارفین پیدا ہوتے ہیں۔

کارل پوپر نے سائنس کو ایک "اوپن سوسائٹی" کے لازمی جزو کے طور پر دیکھا۔ یعنی ایسی سوسائٹی جہاں لوگ سوال کریں، اختلاف کریں، تجربہ کریں، اور سیکھیں۔

اگر ہم صرف سائنس کی مصنوعات (products) سے متاثر ہو کر اسے اپناتے ہیں، لیکن سائنس کی سوچ (mindset) کو اپنانے سے کتراتے ہیں — تو ہم ترقی نہیں کر سکتے۔

سائنس وہ چراغ ہے جو ہمیں نہ صرف راہ دکھاتا ہے، بلکہ ہمارے سائے بھی سامنے لاتا ہے۔ اگر ہم سچ میں ترقی چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف سائنسی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ سائنسی ذہن پیدا کرنا ہوگا۔

17/09/2024

یہ امتحانی پرچہ پاکستان بننے سے پہلے کا ہے اور ہمارے سامنے سوچنے کے کئی در وا کرتا ہے۔
۔ پرچے میں پوچھے گئے تقریباً تمام سوالات Higher order thinking سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہی طالب علم جواب دے سکتا ہے جو موازنہ کرنا ، تجزیہ کرنا ،جانچ کرنا اور تخلیق کرنا جانتا ہو۔ محض رٹے کی بنیاد پر اس پرچے کو حل کرنا ممکن نہیں۔

وہ جو ہم کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں کا پانچ پڑھا آج کے ایم اے کے برابر ہے یہ پرچہ دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ یہ محاورہ کیسے درست ہے۔

04/03/2024

and other Indians' extravagant weddings are a clear indication of excessive spending. This trend is rooted in the 0.1% of the extraordinarily rich Indian elite, who surpass the normal 1.4 billion Indians.

This newfound wealth often leads to ostentatious displays that mimic the extravagant lifestyles of the Maharajas from princely states like 565. Despite India's substantial GDP, the per capita income is only $2590, highlighting significant income inequality. Touch and feel your common people freely! It is the sublime wealth.

The disconnect between the wealthy and the common man is palpable, even with their best efforts.

Marriages should be family events rather than networking opportunities. Why invite Gates Zuckerberg Musk and everyone on the world's top ten rich lists? It is sadly a complex trying to climb up the global social ladder.

It is a painful reality. If you are rich everyone will call you a friend. The poor man has no friends in our sub-continental society. If riches are the yardstick that helps you define your friends you got it wrong. It is a courtesy to help the longevity of relationships that should define us.

While it's acceptable to have some extravagance with close ones, replicating regal affairs like the one I saw at Palace Versailles can be seen as vulgar and wasteful, as even Parisians found it laughable.

In contrast, observing Musk in Paris last year at Cheval Blanche, where he was invited by the LVMH chairman alongside other wealthy individuals like Buffett, revealed a reserved and contained demeanour. Buffett's perspective on money as a tool rather than an expression of persona contrasts with the ostentatious displays seen elsewhere.

The restrained and dignified expression of wealth among the rich in America stands out. Over time, traditional ways of expressing wealth in a restrained and dignified manner have evolved.

Historically, old wealth, nobility and aristocracy showcase their affluence through refined manners, cultural patronage, and subtle displays of luxury.

Wealth is a trust in our hands let's use it to promote virtue and excellence. This is a sign of extreme banality to worship power, and dingy wealth instead of struggling humankind.

Iqbal Latif

18/09/2023

17/09/2023

16/09/2023

Evolution of technology

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Peshawar