08/07/2025
سوال ہی سب سے بڑا سوال ہے.
پاکستانی جامعات پیچھے کیوں رہ گئیں؟
اقبال لطیف
یہ بات دل شکستہ ضرور کرتی ہے، لیکن اب حیران کن نہیں رہی کہ دنیا کی ٹاپ 350 یونیورسٹیوں میں پاکستان کی ایک بھی جامعہ شامل نہیں۔ مگر اصل مسئلہ صرف درجہ بندیوں کا نہیں، بلکہ علمی جمود کی وہ گہری بیماری ہے جو ہمارے فکری ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ چکی ہے۔ یہ صرف اداروں کی ناکامی نہیں، یہ سوال اٹھانے کے عمل کی موت ہے۔
ذرا X (سابقہ ٹوئٹر) پر نظر ڈالیں۔ وہاں کیا نظر آتا ہے؟ کوئی تحقیق، کوئی فکری گہرائی؟ نہیں۔ صرف الزامات، ردعمل، اور سطحی جذبات۔ ہمارا معاشرتی نظام تحقیق پر انعام نہیں دیتا، یہ غصے، تعصب، اور پوائنٹ اسکورنگ کو ابھارتا ہے۔
اب جب کہ ہمارے پاس Grok جیسے AI ٹولز دستیاب ہیں، ہم ان سے فائدہ اٹھانے کی بجائے انہیں تضحیک، تصدیقِ تعصب، یا مسخری کے ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ بات درست ہے یا غلط؟ یا اس بیانیے کا متبادل کیا ہے؟ ہم AI سے صرف تصدیق چاہتے ہیں، تحقیق نہیں۔
مگر قصور Grok یا AI کا نہیں۔
یہ نہ ہمہ دان ہے، نہ قادرِ مطلق، نہ ہی سچائی کا کوئی ابدی منبع۔ یہ بھی ایک مشین لرننگ سسٹم ہے، جو وہی کچھ واپس دیتا ہے جو ہم اسے کھلاتے ہیں۔ اگر آپ اسے X کی شور زدہ، متعصب دنیا سے فیڈ کریں گے، تو یہ بھی وہی شور، وہی تعصب لوٹائے گا۔
اور یہی ایک تلخ حقیقت ہے:
AI کا معیار انسان کے سوالوں کے معیار پر منحصر ہوتا ہے
اگر سوال سطحی ہوں گے تو جوابات اس سے بھی زیادہ کھوکھلے ہوں گے۔ اگر آپ کا مقصد تمسخر ہے، تو آپ کا ہتھیار بھی تمسخر میں ڈھل جائے گا۔ اگر آپ خود تحقیق، شک، اور تجزیے کی تربیت نہیں دیتے، تو کوئی AI آپ کو نہیں بچا سکتا۔
آپ کی ذہانت آپ کے سوالوں میں چھپی ہوتی ہے۔
اور یہی وہ وجہ ہے کہ ہماری جامعات زوال کا شکار ہیں۔
جب تحقیق کی جگہ شور لے لے
آج پاکستان میں X پر جو موضوعات "معلوماتی" سمجھے جاتے ہیں وہ صرف دو قبائل کے الزامات ہیں: ایک طرف نواز شریف اور آصف زرداری کی مبینہ کرپشن، جو PTI کے حامی رٹے کی طرح دہراتے ہیں؛ دوسری طرف عمران خان کا اخلاقی زوال، جسے ان کے مخالفین انتقامی جوش سے بیان کرتے ہیں۔
کیا ہم توقع کرتے ہیں کہ AI ان مباحثوں سے کچھ سیکھے گا؟ جب انسان خود سیکھنا چھوڑ دے، تو مشین لرننگ کیسے آگے بڑھے گی؟
یہ کوئی مکالمہ نہیں، بلکہ ڈیجیٹل کیچڑ اچھالنے کا ایک تماشا ہے، جو "مصروفیت" کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔
اس شور میں:
شک کرنا گناہ بن گیا ہے۔
تنقیدی سوچ جرم ٹھہری ہے۔
خود تحقیق کو دھتکار دیا گیا ہے۔
نتیجہ؟
ایک ایسا معاشرہ جہاں علم پسپا ہے، اور فکری زوال ایک تہذیبی حقیقت بن چکا ہے۔
عظیم جامعات کیسے بنتی ہیں؟
جامعات صرف بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے فکری ماحول سے جن میں سوال پوچھنا عبادت ہوتا ہے۔ جہاں تقلید نہیں، تحقیق کو عزت دی جاتی ہے۔ جہاں نوبیل انعام یافتہ سائنسدان پیدا ہوتے ہیں، بیوروکریسی کی وجہ سے نہیں، بلکہ سوال پوچھنے کی ثقافت کی وجہ سے۔
خود سے پوچھیں:
ہم فزکس، کیمسٹری، میڈیسن یا AI میں نوبیل سطح کی تحقیق کیوں نہیں کرتے؟
ہم تجسس کے بجائے تابعداری کو کیوں انعام دیتے ہیں؟
ہمارے ہاں پی ایچ ڈی ایک علمی کارنامہ کیوں نہیں، بلکہ صرف ایک رتبہ کیوں ہے؟
جواب صاف ہے:
ہم نے درست سوال پوچھنے چھوڑ دیے ہیں۔
ہم رٹتے ہیں، نقل کرتے ہیں، اور کبھی بھی کتب یا اساتذہ کے بیانات پر سوال نہیں اٹھاتے۔
ہم نہیں پوچھتے:
"کیا یہ غلط ہو سکتا ہے؟"
"اس میں کیا کمی ہے؟"
"میں اس میں کیا اضافہ کر سکتا ہوں؟"
فکری تجدید کی پکار
سوال کیا ہے؟
یہی تو سوال ہے!
اور یہی وہ مقام ہے جہاں فکری انقلاب جنم لیتا ہے۔
آئیے، پاکستانی طلبہ، محققین اور مفکرین اس کھوئی ہوئی میراث—سوال کی طاقت—کو دوبارہ حاصل کریں۔
Grok جیسے AI ٹولز کو تعصب کی تصدیق نہیں، بلکہ حقیقت کی تلاش کے لیے استعمال کریں۔
جامعات کو حفظ کی عبادت گاہوں کے بجائے شک کے تجربہ گاہیں بنائیں۔
اگر ہم نے سوالوں کا معیار بلند کر لیا،
تو صرف پانچ سال میں اس ملک کی علمی فضا بدل سکتی ہے۔
اور تب شاید، ہم نہ صرف عالمی درجہ بندیوں میں جگہ بنائیں گے،
بلکہ انسانی علم کی عظیم عالمی گفتگو کا حصہ بھی بن سکیں گے۔
اقبال لطیف