Second Shift School Teacher's Association Khyber Pakhtunkhwa

Second Shift School Teacher's Association Khyber Pakhtunkhwa Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Second Shift School Teacher's Association Khyber Pakhtunkhwa, Education, Batkhela District Malakand, Peshawar.

Official page of the Second Shift Schools Teacher's of Khyber Pakhtunkhwa reporting about their activities, issues, news, and demands from the Government.

سیکنڈ شفٹ اساتذہ کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور حقائقتاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طبقے نے اپنے جائز حقوق کی بات کی، تو اس کے ...
16/07/2026

سیکنڈ شفٹ اساتذہ کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور حقائق

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طبقے نے اپنے جائز حقوق کی بات کی، تو اس کے خلاف کردار کشی، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کا بازار گرم کر دیا گیا۔ افسوس کہ آج یہی صورتحال خیبر پختونخوا کے سیکنڈ شفٹ اساتذہ کو درپیش ہے۔ وہ اساتذہ جنہوں نے انتہائی کم معاوضے، محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کو سنوارنے میں اپنی زندگیاں کھپا دیں، آج انہی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حکومت خیبر پختونخوا نے 2022ء میں سیکنڈ شفٹ پروگرام کا آغاز کیا۔ مقصد واضح تھا کہ وہ ہزاروں طلبہ و طالبات جو سرکاری تعلیمی اداروں میں نشستوں کی کمی کی وجہ سے داخلوں سے محروم رہ جاتے تھے، انہیں بھی معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ الحمدللہ، یہ پروگرام آج صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ لاکھوں طلبہ اس سے مستفید ہو رہے ہیں اور کئی اداروں میں سیکنڈ شفٹ کے طلبہ نے بورڈ امتحانات میں ایسی شاندار کارکردگی دکھائی کہ باقاعدہ ریگولر اداروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

اس کامیابی کے پیچھے وہ اساتذہ کھڑے ہیں جن میں اکثریت ایم فل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی اساتذہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب نتائج اچھے آتے ہیں تو تعلیمی افسران اس پروگرام کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں، تعریفی اسناد وصول کرتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب انہی اساتذہ کے جائز حقوق، بقایاجات یا ملازمت کے تحفظ کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے انہی پر وار کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں ضلع باجوڑ میں ضلعی تعلیمی انتظامیہ کی جانب سے سیکنڈری سکولوں میں دوبارہ بھرتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جو حکومت خیبر پختونخوا کی سیکنڈ شفٹ پالیسی کے برعکس قرار دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں ایسا کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ اساتذہ نے بارہا نوٹیفکیشن واپس لینے کی درخواست کی، مگر ضلعی انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ بالآخر اساتذہ کے پرامن احتجاج اور اعلیٰ حکام کی مداخلت کے بعد یہ نوٹیفکیشن ختم کرنا پڑا۔ یہ واقعہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ کہاں تھا۔

یہاں ایک تلخ حقیقت کا ذکر بھی ضروری ہے۔ باجوڑ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی نیا تعلیمی افسر آتا ہے، ابتدا میں قانون، میرٹ اور انصاف کی بات کرتا ہے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد چند مفاد پرست، کرپٹ اور منافق عناصر کے حصار میں آ جاتا ہے۔ سرگوشیوں، ذاتی مفادات اور خوشامد کے ذریعے ایسے فیصلے کروائے جاتے ہیں جن سے نہ صرف ادارے متاثر ہوتے ہیں بلکہ افسران کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ 2022ء سے یہ نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ نہ بھرتیوں پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے آیا، نہ شفافیت پر کوئی سوال اٹھا۔ بھرتی کا پورا عمل ضلعی تعلیمی انتظامیہ کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ آج بھی تعلیمی افسران، مانیٹرنگ ٹیمیں اور متعلقہ ادارے باقاعدگی سے اداروں کا دورہ کرتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی بے ضابطگی ہوتی تو یقیناً اس کا نوٹس لیا جاتا۔

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب انہی اساتذہ نے اپنے بقایاجات کا مطالبہ کیا۔ 2024ء سے تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی رقم التوا کا شکار ہے۔ افسوس کہ جیسے ہی اساتذہ نے اپنے جائز حق کی بات کی، بعض حلقے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ دھمکیوں، دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حالانکہ کسی بھی ملازم کا اپنے جائز حق کا مطالبہ کرنا نہ جرم ہے، نہ بغاوت، بلکہ آئین پاکستان، انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات بھی اس حق کی تائید کرتی ہیں۔

اب چند ٹک ٹاکرز، مفاد پرست ٹولے اور خود ساختہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 2022ء کی بھرتیاں غلط تھیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے۔ ان حضرات سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہ بھرتیاں غلط تھیں تو آپ چار سال کہاں تھے؟ کیا آپ 2022ء میں سو رہے تھے؟ کیا 2023ء، 2024ء اور 2025ء میں آپ کو یہ "غلطی" نظر نہیں آئی؟ آج اچانک چار سال بعد آپ کو حق و باطل کی تمیز کیسے یاد آ گئی؟ یہ سوال صرف ہم نہیں، ہر باشعور شہری پوچھنے کا حق رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب انہی اساتذہ نے نہایت کم معاوضے پر، صرف نو ماہ کی بنیاد پر، انتھک محنت، صبر اور خلوص کے ساتھ نظام کو کامیاب بنایا۔ اب جب حکومت کی جانب سے ان کے مسائل کے حل اور کسی ممکنہ ریلیف کی امید پیدا ہوئی تو کچھ مفاد پرست عناصر بے چین ہو گئے ہیں۔ انہیں اساتذہ کی خدمت، طلبہ کا مستقبل یا تعلیم کا معیار عزیز نہیں، بلکہ اپنے مفادات اور اپنے لوگوں کو نظام میں لانے کی فکر لاحق ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جو عزائم انصاف، میرٹ اور پالیسی کے خلاف ہوں، ان کا انجام ہمیشہ رسوائی ہی ہوتا ہے۔

تعلیم کا میدان سیاسی انتقام، ذاتی مفادات اور سوشل میڈیا کی سستی شہرت کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ سیکنڈ شفٹ اساتذہ نے اس نظام کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔ اگر آج ان کے جائز حقوق کی بات ہو رہی ہے تو یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے۔

قوموں کے معماروں کو بدنام کرنے سے قومیں مضبوط نہیں ہوتیں۔ اگر واقعی تعلیم سے محبت ہے تو ان ہاتھوں کو مضبوط کیجیے جو قلم تھام کر مستقبل روشن کر رہے ہیں، نہ کہ ان پر الزامات کی بارش کیجیے۔ کیونکہ جب استاد کمزور ہوتا ہے تو دراصل پوری قوم کمزور ہو جاتی ہے، اور جب استاد کو انصاف ملتا ہے تو آنے والی نسلوں کا مستقبل
محفوظ ہو جاتا ہے-

Second Shift Teacher's Association District Bajaur
Second Shift Teacher,s Association Dir Upper
Directorate General Information & PRs, KP
Double Shift School Charsadda unofficial
Second Shift School Teacher's Association Haripur
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
KP Elementary & Secondary Education Department
Second Shift School Teacher's Association
Second Shift Teachers Association Distt: Swat
Second Shift Teachers Association Distt Swabi
Second shift Teachers Dir Lower
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
Government of Khyber Pakhtunkhwa
PMRU Khyber Pakhtunkhwa
PCC, Education Monitoring Authority, KP
سیکنڈ شفٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا
Second Shift Teachers Association Malakand
Second Shift Schools Chitral Lower/Upper
Second Shift Teacher Association Mansehra
GHSS Barsafari second shift school

16/07/2026
چار سال کی خدمت، قربانیاں اور تجربہ… کیا ان کی کوئی قدر نہیں؟سیکنڈ شفٹ کے اساتذہ گزشتہ چار سال سے نہایت ایمانداری، محنت ...
16/07/2026

چار سال کی خدمت، قربانیاں اور تجربہ… کیا ان کی کوئی قدر نہیں؟
سیکنڈ شفٹ کے اساتذہ گزشتہ چار سال سے نہایت ایمانداری، محنت اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ہماری بھرتی کسی سفارش یا تعلق کی بنیاد پر نہیں ہوئی بلکہ ہمارا باقاعدہ ڈیمو انٹرویو لیا گیا، ہماری ڈگریوں اور تمام کاغذات کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی، اور میرٹ کی بنیاد پر ہمارا انتخاب کیا گیا۔
ان چار سالوں میں ہم نے صرف تدریس کا فریضہ انجام نہیں دیا بلکہ سیکنڈ شفٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال وقف کیے۔ ہم نے پالیسی میں تبدیلیوں کے لیے آواز اٹھائی، مشکلات برداشت کیں، احتجاج کیے، اور ایسے بچوں کو دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل کیا جن کی تعلیم مختلف وجوہات کی بنا پر ادھوری رہ گئی تھی۔
آج اگر سیکنڈ شفٹ کامیابی سے چل رہی ہے تو اس میں انہی اساتذہ کی محنت، تجربے اور قربانیوں کا بڑا کردار ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کچھ لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ چار سال سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو نکال کر نئے افراد کو بھرتی کیا جائے۔
ان نئے گریجویٹ لوگوں کو کورونا کے دوران فری میں 100 پرسنٹ نمبر دیے گئے، جس سے وہ اپنے آپ کو بہت قابل سمجھنے لگے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ لوگ اتنے قابل ہوتے تو یہ فریش گریجویٹ ہوتے ہوئے ایٹا، پبلک سروس کمیشن جیسے مقابلے کے ٹیسٹ کوالیفائی کر چکے ہوتے، تاکہ انہیں مستقل نوکریاں مل جاتیں۔
ہم کسی کے روزگار کے مخالف نہیں، ہر نوجوان کو آگے بڑھنے کا حق ہے، لیکن کسی کے حق اور روزگار کو ختم کر کے دوسرے کے لیے راستہ بنانا انصاف نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سیکنڈ شفٹ کے بہت سے اساتذہ اب عمر کی بالائی حد (اوورایج) کے قریب پہنچ چکے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین چار سال اسی نظام کو دیے ہیں۔ اگر آج انہیں بے روزگار کیا گیا تو ان کی محنت، تجربہ اور مستقبل کے کئی مواقع متاثر ہوں گے۔
ہم صرف یہ پوچھتے ہیں:
اگر آج چار سال خدمت کرنے والے اساتذہ کو نکال دیا جائے، تو کل نئے بھرتی ہونے والوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا تو کیا یہ ان کی زندگیوں اور خاندانوں کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہوگا؟
اسلام ہمیں انصاف، امانت اور محنت کرنے والوں کی قدر کرنے کا درس دیتا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ جو لوگ کسی نظام کو اپنی محنت سے مضبوط کریں، ان کی خدمات کو تسلیم کیا جائے۔
ہم کسی کے خلاف نہیں، ہم صرف انصاف کے حق میں ہیں۔







15/07/2026

اساتذہ ء کرام سے سیکنڈ شفٹ ٹیچر محمد اقبال یاغی مخاطب ہے ۔

باجوڑ (میاں وقاص احمد): ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر باجوڑ کی جانب سے سیکنڈ شفٹ اساتذہ کو فارغ کیے جانے کے حالیہ احکامات کے خلا...
15/07/2026

باجوڑ (میاں وقاص احمد): ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر باجوڑ کی جانب سے سیکنڈ شفٹ اساتذہ کو فارغ کیے جانے کے حالیہ احکامات کے خلاف سینکڑوں مرد و خواتین اساتذہ نے سول کالونی خار میں محکمہ تعلیم کے دفتر پر پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈس اینگیجمنٹ کا فیصلہ واپس لینے کے مطالبات درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین کا موقف تھا کہ محکمہ تعلیم کے اس اچانک اور غیر منصفانہ فیصلے نے نہ صرف سینکڑوں اساتذہ کو راتوں رات بے روزگار کر دیا ہے بلکہ اس سے علاقے کے ہزاروں طلباء و طالبات کا تعلیمی سلسلہ اور مستقبل بھی شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اساتذہ کے نمائندوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ ڈس اینگیجمنٹ کا یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے اور اساتذہ کے بقایا جات بھی فوری ادا کیے جائیں۔ مظاہرین نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کر کے انہیں بحال نہ کیا گیا، تو وہ اپنے اس پرامن احتجاج کا دائرہ کار باجوڑ سے بڑھا کر پورے صوبے تک وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

الحمداللہ! باجوڑ کے ڈبل شفٹ اساتذہ کرام کا مسئلہ آج خوش اسلوبی اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر لیا گیا۔ صوبائی کا...
15/07/2026

الحمداللہ! باجوڑ کے ڈبل شفٹ اساتذہ کرام کا مسئلہ آج خوش اسلوبی اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر لیا گیا۔ صوبائی کابینہ، ڈبل شفٹ اساتذہ کرام خیبر پختونخوا اور سیکنڈ شفٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ باجوڑ معزز رکنِ صوبائی اسمبلی سابقہ منسٹر و (ایم پی اے) جناب انور زیب خان صاحب باجوڑ، وزیرِ تعلیم جناب ارشاد ایوب صاحب، اور سیکرٹری ایجوکیشن جناب خالد صاحب، کا دلی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس اہم معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور مثبت انداز میں حل کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا۔

اس فیصلے کے مطابق باجوڑ میں نئی بھرتیوں (New Hiring) کا عمل ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ موجودہ ڈبل شفٹ اساتذہ کرام اپنی سابقہ ذمہ داریوں پر بدستور خدمات انجام دیتے رہیں گے اور کسی بھی استاد کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا جائے گا۔

ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ڈبل شفٹ اساتذہ کرام کے جائز مسائل اسی جذبۂ خیر سگالی کے ساتھ حل کیے جائیں گے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنے تعلیمی فرائض انجام دیتے رہیں۔
سیکنڈ شفٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ باجوڑ۔
رضوان اللہ سالار صاحب

سیکنڈ ٹیچر ایسوسی ایشن کے اساتذہ کا برطرفی کے نوٹیفکیشن کے خلاف احتجاج، بحالی اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہباجوڑ کے ...
15/07/2026

سیکنڈ ٹیچر ایسوسی ایشن کے اساتذہ کا برطرفی کے نوٹیفکیشن کے خلاف احتجاج، بحالی اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ

باجوڑ کے صدر مقام خار میں سول کالونی کے مقام پر سیکنڈ ٹیچر ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین اساتذہ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کی جانب سے جاری کردہ برطرفی کے نوٹیفکیشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔
احتجاجی اساتذہ کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم نے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے موجودہ اساتذہ کو فارغ کرکے نئے اساتذہ کی بھرتی کا اعلان کیا ہے، جو ان کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ہر نو ماہ بعد ان کے معاہدوں کی تجدید کی جاتی رہی، تاہم اب اچانک انہیں ملازمتوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔
مظاہرین نے مزید کہا کہ سال 2024 کے بقایاجات بھی تاحال انہیں ادا نہیں کیے گئے، جس کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ برطرفی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے کر انہیں دوبارہ بحال کیا جائے اور ان کے واجبات کی جلد از جلد ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
اساتذہ نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنے حقوق کے حصول تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

Address

Batkhela District Malakand
Peshawar
23020

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Second Shift School Teacher's Association Khyber Pakhtunkhwa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Second Shift School Teacher's Association Khyber Pakhtunkhwa:

Shortcuts

Share

Category