16/07/2026
سیکنڈ شفٹ اساتذہ کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور حقائق
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طبقے نے اپنے جائز حقوق کی بات کی، تو اس کے خلاف کردار کشی، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کا بازار گرم کر دیا گیا۔ افسوس کہ آج یہی صورتحال خیبر پختونخوا کے سیکنڈ شفٹ اساتذہ کو درپیش ہے۔ وہ اساتذہ جنہوں نے انتہائی کم معاوضے، محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کو سنوارنے میں اپنی زندگیاں کھپا دیں، آج انہی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حکومت خیبر پختونخوا نے 2022ء میں سیکنڈ شفٹ پروگرام کا آغاز کیا۔ مقصد واضح تھا کہ وہ ہزاروں طلبہ و طالبات جو سرکاری تعلیمی اداروں میں نشستوں کی کمی کی وجہ سے داخلوں سے محروم رہ جاتے تھے، انہیں بھی معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ الحمدللہ، یہ پروگرام آج صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ لاکھوں طلبہ اس سے مستفید ہو رہے ہیں اور کئی اداروں میں سیکنڈ شفٹ کے طلبہ نے بورڈ امتحانات میں ایسی شاندار کارکردگی دکھائی کہ باقاعدہ ریگولر اداروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
اس کامیابی کے پیچھے وہ اساتذہ کھڑے ہیں جن میں اکثریت ایم فل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی اساتذہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب نتائج اچھے آتے ہیں تو تعلیمی افسران اس پروگرام کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں، تعریفی اسناد وصول کرتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب انہی اساتذہ کے جائز حقوق، بقایاجات یا ملازمت کے تحفظ کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے انہی پر وار کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں ضلع باجوڑ میں ضلعی تعلیمی انتظامیہ کی جانب سے سیکنڈری سکولوں میں دوبارہ بھرتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جو حکومت خیبر پختونخوا کی سیکنڈ شفٹ پالیسی کے برعکس قرار دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں ایسا کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ اساتذہ نے بارہا نوٹیفکیشن واپس لینے کی درخواست کی، مگر ضلعی انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ بالآخر اساتذہ کے پرامن احتجاج اور اعلیٰ حکام کی مداخلت کے بعد یہ نوٹیفکیشن ختم کرنا پڑا۔ یہ واقعہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ کہاں تھا۔
یہاں ایک تلخ حقیقت کا ذکر بھی ضروری ہے۔ باجوڑ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی نیا تعلیمی افسر آتا ہے، ابتدا میں قانون، میرٹ اور انصاف کی بات کرتا ہے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد چند مفاد پرست، کرپٹ اور منافق عناصر کے حصار میں آ جاتا ہے۔ سرگوشیوں، ذاتی مفادات اور خوشامد کے ذریعے ایسے فیصلے کروائے جاتے ہیں جن سے نہ صرف ادارے متاثر ہوتے ہیں بلکہ افسران کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 2022ء سے یہ نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ نہ بھرتیوں پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے آیا، نہ شفافیت پر کوئی سوال اٹھا۔ بھرتی کا پورا عمل ضلعی تعلیمی انتظامیہ کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ آج بھی تعلیمی افسران، مانیٹرنگ ٹیمیں اور متعلقہ ادارے باقاعدگی سے اداروں کا دورہ کرتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی بے ضابطگی ہوتی تو یقیناً اس کا نوٹس لیا جاتا۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب انہی اساتذہ نے اپنے بقایاجات کا مطالبہ کیا۔ 2024ء سے تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی رقم التوا کا شکار ہے۔ افسوس کہ جیسے ہی اساتذہ نے اپنے جائز حق کی بات کی، بعض حلقے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ دھمکیوں، دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حالانکہ کسی بھی ملازم کا اپنے جائز حق کا مطالبہ کرنا نہ جرم ہے، نہ بغاوت، بلکہ آئین پاکستان، انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات بھی اس حق کی تائید کرتی ہیں۔
اب چند ٹک ٹاکرز، مفاد پرست ٹولے اور خود ساختہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 2022ء کی بھرتیاں غلط تھیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے۔ ان حضرات سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہ بھرتیاں غلط تھیں تو آپ چار سال کہاں تھے؟ کیا آپ 2022ء میں سو رہے تھے؟ کیا 2023ء، 2024ء اور 2025ء میں آپ کو یہ "غلطی" نظر نہیں آئی؟ آج اچانک چار سال بعد آپ کو حق و باطل کی تمیز کیسے یاد آ گئی؟ یہ سوال صرف ہم نہیں، ہر باشعور شہری پوچھنے کا حق رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب انہی اساتذہ نے نہایت کم معاوضے پر، صرف نو ماہ کی بنیاد پر، انتھک محنت، صبر اور خلوص کے ساتھ نظام کو کامیاب بنایا۔ اب جب حکومت کی جانب سے ان کے مسائل کے حل اور کسی ممکنہ ریلیف کی امید پیدا ہوئی تو کچھ مفاد پرست عناصر بے چین ہو گئے ہیں۔ انہیں اساتذہ کی خدمت، طلبہ کا مستقبل یا تعلیم کا معیار عزیز نہیں، بلکہ اپنے مفادات اور اپنے لوگوں کو نظام میں لانے کی فکر لاحق ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جو عزائم انصاف، میرٹ اور پالیسی کے خلاف ہوں، ان کا انجام ہمیشہ رسوائی ہی ہوتا ہے۔
تعلیم کا میدان سیاسی انتقام، ذاتی مفادات اور سوشل میڈیا کی سستی شہرت کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ سیکنڈ شفٹ اساتذہ نے اس نظام کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔ اگر آج ان کے جائز حقوق کی بات ہو رہی ہے تو یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے۔
قوموں کے معماروں کو بدنام کرنے سے قومیں مضبوط نہیں ہوتیں۔ اگر واقعی تعلیم سے محبت ہے تو ان ہاتھوں کو مضبوط کیجیے جو قلم تھام کر مستقبل روشن کر رہے ہیں، نہ کہ ان پر الزامات کی بارش کیجیے۔ کیونکہ جب استاد کمزور ہوتا ہے تو دراصل پوری قوم کمزور ہو جاتی ہے، اور جب استاد کو انصاف ملتا ہے تو آنے والی نسلوں کا مستقبل
محفوظ ہو جاتا ہے-
Second Shift Teacher's Association District Bajaur
Second Shift Teacher,s Association Dir Upper
Directorate General Information & PRs, KP
Double Shift School Charsadda unofficial
Second Shift School Teacher's Association Haripur
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa
KP Elementary & Secondary Education Department
Second Shift School Teacher's Association
Second Shift Teachers Association Distt: Swat
Second Shift Teachers Association Distt Swabi
Second shift Teachers Dir Lower
Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa
Government of Khyber Pakhtunkhwa
PMRU Khyber Pakhtunkhwa
PCC, Education Monitoring Authority, KP
سیکنڈ شفٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا
Second Shift Teachers Association Malakand
Second Shift Schools Chitral Lower/Upper
Second Shift Teacher Association Mansehra
GHSS Barsafari second shift school