10/04/2025
ہمارے بہت مسلمان یہ۔ بات کرتا ہیں کہ ہمارے بائکاٹ سے کیا ہںوگا آوو بیوقوف لوگو اللّٰہ تعالیٰ نیتو پر فیصلے کرتے ہیں اگر آپ کے بس میں اور کچھ نہیں ہیں کم ازکم بائکاٹ تو کرسکتے ہںوں انسان اس چیز پر مکلف ہیں جھو انسان کے بس میں ہںوں ابرھیم علیہ کا واقعہ تو سب کو معلوم ہیں
---
واقعہ: ابراہیم علیہ السلام، پرندہ اور مینڈھا (یا مینڈکی/مخلوق)
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کے حکم پر بڑی آگ میں ڈالا جا رہا تھا، تو یہ ایک ایسا منظر تھا کہ زمین و آسمان کی مخلوقات خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔
1. ایک چھوٹا پرندہ اپنی چونچ میں پانی کا قطرہ لے کر بار بار آگ پر ڈالنے آیا۔
کسی نے اس سے کہا:
"کیا تیرے اس قطرے سے یہ آگ بجھ جائے گی؟"
پرندے نے کہا:
"مجھے معلوم ہے یہ آگ بجھنے والی نہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرا نام اللہ کے نبی کے دشمنوں کے ساتھ نہ لکھا جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا شمار مدد کرنے والوں میں ہو، نہ کہ خاموش تماشائیوں میں۔"
2. دوسری طرف ایک اور مخلوق (کہا جاتا ہے کہ ایک مینڈھا یا مینڈک) آگ جلانے والوں کی مدد کر رہا تھا، یا لکڑیاں اکٹھی کر کے لا رہا تھا۔
اس پر لعنت کی گئی اور اسے ظالموں کا ساتھی شمار کیا گیا، کیونکہ اس نے ناحق کے کام میں حصہ لیا۔
---
پیغام:
یہ دونوں کردار ہمیں ایک عظیم سبق دیتے ہیں:
حق و باطل کے درمیان خاموشی بھی ایک موقف ہوتی ہے، اور اللہ کے ہاں ہر چھوٹا عمل شمار ہوتا ہے۔
اگر ہم ظالم کی مدد نہیں کرتے، لیکن ظلم کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھاتے، تو ہم کہاں کھڑے ہیں؟
پرندے جیسا بنو، جو اپنی حیثیت میں چھوٹا تھا، مگر حق کے ساتھ کھڑا تھا۔
ظالموں کی مدد نہ کرو، چاہے وہ تمہارے قریبی ہوں، کیونکہ اللہ کے ہاں عدل، اخلاص اور نیت سب سے اہم ہیں۔
آپ کی بات میں دو کرداروں کا ذکر ہے:
1. وہ پرندہ یا چھوٹا جانور جو اپنی چونچ میں پانی لے کر آگ بجھانے کی کوشش کرتا تھا۔
2. دوسرا کردار جو آگ جلانے میں مدد کر رہا تھا۔
یہ واقعہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کے وقت کے متعلق مشہور ہے، اور عموماً اخلاقی سبق کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اصل میں یہ روایت ضعیف الاسناد ہے، لیکن اس کا مفہوم بہت سبق آموز اور دینی تعلیمات کے مطابق ہے۔
پہلا کردار: پرندہ جو پانی لے کر جا رہا تھا
علماء نے اسے نیکی کی نیت اور اخلاص کی علامت قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس کی کوشش بظاہر ناکافی تھی، لیکن وہ اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔ اسلام میں نیت اور کوشش کو اہمیت دی گئی ہے:
> "إنما الأعمال بالنيات"
(اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے) – صحیح بخاری
اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی نیک نیت کے ساتھ، جتنی اس میں طاقت ہو، نیکی کرے تو وہ قابلِ قدر ہے۔
دوسرا کردار: جو آگ جلانے میں مدد کر رہا تھا
یہ کردار ظلم کا ساتھ دینے کی علامت ہے۔ اسلام میں ظلم کی حمایت کو بھی ظلم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
> "من أعان على قتل مؤمن بشطر كلمة، لقي الله مكتوب بين عينيه: آيس من رحمة الله"
(جو کسی مؤمن کے قتل میں آدھے لفظ سے بھی مدد دے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا: "اللہ کی رحمت سے مایوس") – ابن ماجہ
نتیجہ:
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں:
نیکی کے لیے کوشش کرنے والے کو اللہ کے ہاں اجر ملتا ہے، چاہے اس کی کوشش بظاہر چھوٹی ہو۔
ظلم میں مدد کرنا حرام ہے، خواہ وہ عملی ہو یا زبانی، اور ایسا شخص گناہ میں شریک ہوتا ہے۔
10/06/2024
01/03/2024
20/02/2024
18/02/2024
18/02/2024