اساتذہ کے لیے لائسنس: ایک مثبت قدم
تعلیم ایک ایسا میدان ہے جس میں وقت کے ساتھ تبدیلی اور بہتری ناگزیر ہے۔ استاد کی حیثیت ایک رہنما کی ہے جو نہ صرف علم فراہم کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی تشکیل بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کے لیے مسلسل مطالعہ اور خود کو بہتر بناتے رہنا لازمی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے اساتذہ کے لیے لائسنس جاری کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ ایک خوش آئند اور انقلابی قدم ہے۔ اس فیصلے سے تدریس کے معیار میں بہتری آئے گی اور صرف وہی افراد اس پیشے میں خدمات انجام دے سکیں گے جو واقعی اہل اور مستند ہوں گے۔ اساتذہ کو اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور نئے رجحانات سے واقف رہنے کی ترغیب ملے گی۔
یقیناً یہ اقدام نہ صرف تعلیمی معیار بلند کرے گا بلکہ ہماری نئی نسل کے مستقبل پر بھی دیرپا مثبت اثرات مرتب کرے گا۔
Adn@n
Engr. Adnan Science Academy
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Engr. Adnan Science Academy, Education, Peshawar.
نوجوانوں کی تعلیم اور دورِ حاضر کے تقاضے
By Adn@n
پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ آج کے معاشی اور سماجی حالات میں ضروری ہے کہ نوجوان ایسی تعلیم حاصل کریں جو روزگار فراہم کرے اور ملک کی ترقی میں مددگار ہو۔
سب سے اہم ضرورت ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کی تعلیم ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبے نوجوانوں کو دنیا بھر میں مواقع دے سکتے ہیں۔
انجینئرنگ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن میں روبوٹکس، آٹومیشن اور قابلِ تجدید توانائی (سولر، ونڈ) کے شعبے توانائی بحران کے حل میں مددگار ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس لیے جدید کھیتی باڑی، پانی کے مؤثر استعمال اور فوڈ ٹیکنالوجی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کاروبار اور انٹرپرینیورشپ نوجوانوں کو خود مختار بناتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار، ای-کامرس اور ایکسپورٹ پر مبنی بزنس ملکی معیشت کو مضبوط کرتے ہیں۔
ساتھ ہی اخلاقی تربیت بھی لازمی ہے۔ قائدانہ صلاحیت، اچھی گفتگو، ایمانداری اور خدمت کا جذبہ ہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہیں۔
اگر نوجوان ان شعبوں پر توجہ دیں تو وہ اپنا مستقبل بہتر بنا کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔
Adn@n
ہمیں ہنسی کیوں آتی ہے؟
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں اچانک ہنسی کیوں آ جاتی ہے؟
کچھ باتیں یا حرکتیں ہمیں اتنی مضحکہ خیز لگتی ہیں کہ ہم ہنسنے لگتے ہیں۔
لیکن سائنس کہتی ہے کہ ہنسی صرف خوشی کی علامت نہیں، بلکہ دماغ کی ایک زبردست مشق بھی ہے۔
ہنسی کے پیچھے تین بڑے راز ہیں:
1. دماغ کا ردِعمل:
جب دماغ کسی بات کو دلچسپ یا حیران کن پاتا ہے تو وہ اعصاب کے ذریعے پورے جسم کو سگنل بھیجتا ہے اور ہم بے اختیار ہنس پڑتے ہیں۔
2. صحت کا تعلق:
ہنسی دل اور پھیپھڑوں کے لیے بہترین ورزش ہے۔
یہ خون کی روانی بہتر کرتی ہے اور ذہنی دباؤ کم کرتی ہے۔
3. سماجی رابطہ:
ہنسی ہمیں دوسروں کے قریب لاتی ہے۔
اسی لیے جب ہم کسی کے ساتھ مل کر ہنستے ہیں تو ہمارا رشتہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دن میں چند بار ہنس لینا
آپ کی عمر بڑھا سکتا ہے اور دماغ کو تازہ رکھتا ہے۔
یاد رکھیں، ہنسی صرف ایک جذبہ نہیں،
بلکہ قدرت کا دیا ہوا مفت علاج بھی ہے۔
Adn@n
انسان کو جمائی کیوں آتی ہے؟
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہمیں اچانک جمائی کیوں آ جاتی ہے؟ کبھی بوریت میں، کبھی نیند آنے پر، اور کبھی بغیر کسی وجہ کے بھی! یہ ایک عام سی عادت لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے سائنس چھپی ہوئی ہے۔
جمائی دراصل ہمارے دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کا قدرتی طریقہ ہے۔ جب ہم تھکے ہوتے ہیں یا نیند آ رہی ہوتی ہے تو دماغ زیادہ گرم محسوس کرتا ہے۔ جمائی لینے سے ہم زیادہ گہری سانس لیتے ہیں، تازہ ہوا اندر جاتی ہے، خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور دماغ کو ٹھنڈک ملتی ہے۔ اس طرح دماغ پھر سے چوکنا ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمائی چھوت کی طرح پھیلتی بھی ہے۔ اگر کوئی ہمارے سامنے جمائی لے تو ہمیں بھی فوراً آ جاتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ انسانی دماغ کے اندر موجود ہمدردی کے نظام کی وجہ سے ہوتا ہے، یعنی ہم لاشعوری طور پر دوسروں کے رویے کو کاپی کرتے ہیں۔
اگلی بار جب آپ کو جمائی آئے، تو سمجھ جائیں کہ آپ کا
دماغ خود کو ریفریش کر رہاہے
Adn@n
03/08/2025
ایس ایس ٹی SST (جنرل) کے امتحان کا نیا تصور: علم، مہارت اور توازن
پاکستان میں SST جنرل استاد کی ذمہ داری بہت اہم ہے۔ اسے کلاس 8، 9 اور 10 کے طلبہ کو اردو، اسلامیات، پاکستان اسٹڈیز، جنرل سائنس اور بنیادی انگریزی جیسے کئی مضامین پڑھانے ہوتے ہیں۔ لیکن موجودہ امتحانی سلیبس دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ 60 سے 65 فیصد وزن صرف انگریزی پر ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ امتحان SST جنرل کا نہیں بلکہ SST انگلش کا ہے۔
کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ذمہ دار اداروں کی سوچ اب بھی غلامانہ ہے۔
کتنی بار سمجھایا گیا کہ انگلش زبان intelligence کا پیمانہ نہیں ہے۔
اسی وجہ سے ہمارے بچوں کو بچپن سے ہی انگلش رٹائی جاتی ہے، اور اصل conceptual learning اور تخلیقی سوچ پیچھے رہ جاتی ہے۔
ہم آزاد ملک میں رہ رہے ہیں، پھر بھی پالیسی وہی ہے جو انگریز اپنے فائدے کے لیے بناتے تھے،
جب انہیں صرف ایسے لوگ چاہیے تھے جو انگریزی جان کر ان کے کام آسان کر سکیں۔
اسی سوچ کے تحت SST جنرل کا متوازن سلیبس کچھ یوں ہونا چاہیے:
حصہ مجوزہ ویٹیج
انگلش (گرامر + comprehension) 20%
اردو (گرامر + comprehension) 15%
جنرل سائنس 20%
اسلامیات + پاکستان اسٹڈیز 15%
جنرل نالج + ریاضی کی بنیادیں 10%
پیڈاگوجی / تدریسی مہارت 20%
یہ متوازن سلیبس ایسے استاد پیدا کرے گا جو:
ہر مضمون کی بنیادی سمجھ رکھتے ہوں
کلاس روم میں تخلیقی اور موثر تدریس کر سکیں
اور رٹہ سسٹم سے نکل کر بچوں کو اصل تصور اور سیکھنے کا ذوق دے سکیں
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی تعلیمی پالیسی پر دوبارہ سوچیں۔
Adn@n
02/08/2025
آئیں! زبان کی غلامی سے نکل جائیں
ہمارے ملک میں پرائمری سے ہی انگریزی کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا حکومتی اور عدالتی نظام انگریزی پر کھڑا ہے۔
CSS اور PMS جیسے اعلیٰ امتحانات، عدالتی فیصلے، سرکاری نوٹیفکیشن—سب انگریزی میں ہوتے ہیں۔
یہاں تک کہ انٹرویوز میں بھی امیدوار کو انگریزی بولنے پر مجبور کیا جاتا ہے، گویا اپنی زبان میں بولنا کسی کمی کی نشانی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم کب زبان کی غلامی سے نکلیں گے؟
جب جج، وکیل اور فریق سب اردو جانتے ہیں تو فیصلے انگریزی میں کیوں؟
جب نوکری پاکستان میں ہے، عوام پاکستانی ہیں، تو قانون اور فائلیں اپنی زبان میں کیوں نہیں؟
آج ہم AI کے دور میں ہیں۔
اگر کوئی قانون، فیصلہ یا نوٹیفکیشن دنیا سے شیئر کرنا ہو تو AI چند سیکنڈز میں اسے انگریزی یا کسی بھی زبان میں ترجمہ کر دے گا۔
لہٰذا اپنی زبان کو حقیر سمجھ کر انگریزی کی غلامی جاری رکھنے کی اب کوئی ضرورت نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
تمام سرکاری نوٹیفکیشن اور عدالتی فیصلے اردو میں ہوں۔
انٹرویوز میں امیدوار کو اختیار ہو کہ وہ اردو میں بات کرے۔
CSS اور PMS میں اردو کا لازمی آپشن دیا جائے۔
انگریزی ضرور سکھائی جائے، لیکن صرف ایک زبان کے طور پر،
اسے ذہانت یا قابلیت کا معیار نہ بنایا جائے۔
جب ہم اپنی زبان کو عزت دیں گے تو تعلیم رٹّا سسٹم سے نکل کر تخلیقی اور عملی بنے گی۔
اصل آزادی تب آئے گی جب ہم اپنی زبان میں سوچنا، لکھنا اور فیصلہ کرنا شروع کریں گے۔
Adn@n
02/08/2025
جب بچہ رٹّا لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے…
ہمارے اسکولوں میں پرائمری کے معصوم بچوں کو انگریزی میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، جبکہ زیادہ تر بچے اردو یا مادری زبان بولتے ہیں۔
ایسی صورت میں وہ سب سے پہلے الفاظ میں پھنس جاتے ہیں۔
ذہن میں سوال ہوتا ہے: Evaporation کیا ہے؟ Condensation کا مطلب کیا ہے؟
یوں اصل تصور پیچھے رہ جاتا ہے اور بچہ تصوراتی سمجھ کے بجائے رٹّا لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچے کتاب کے جملے یاد تو کر لیتے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔
کلاس 3 کا بچہ اگر کہے:
"Photosynthesis is the process by which plants make their food."
تو وہ اسے دہرا تو دے گا، لیکن اگر آپ پوچھیں:
"پودے کھانا کیسے بناتے ہیں؟"
تو وہ خاموش ہو جائے گا۔
کیونکہ اس نے الفاظ یاد کیے، Concept نہیں سمجھا۔
تعلیمی نفسیات اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔
Jean Piaget کے مطابق پرائمری بچے Concrete Stage میں ہوتے ہیں، وہ تبھی سیکھتے ہیں جب تعلیم اپنی زبان اور تجربے سے جڑی ہو۔
Vygotsky کہتے ہیں: زبان سوچ کا آلہ ہے۔ جب زبان سمجھ نہ آئے تو سوچ رک جاتی ہے اور Creativity مر جاتی ہے۔
ریسرچ بھی یہی کہتی ہے۔
HEC (2018) کے مطابق 78٪ بچے سائنس اور ریاضی میں Concept نہیں سمجھ پاتے کیونکہ زبان رکاوٹ بن جاتی ہے۔
UNESCO (2022) کے مطابق ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو Conceptual Learning اور تخلیقی سوچ زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔
سبق یہ ہے کہ پہلے بچے کو اس کی زبان میں سمجھائیں، پھر انگریزی سکھائیں۔
جب بنیاد مضبوط ہو گی تو بچے تخلیقی بھی ہوں گے اور رٹّا از خود ختم ہو جائے گا۔
Adn@n
سکون اور بے سکونی: دو دنیائیں، دو حقیقتیں
دنیا کے نقشے پر اگر ہم سکون، خوشحالی اور انسانی وقار کو تلاش کریں تو کچھ ممالک اپنی سنجیدہ پالیسیوں، عوامی فلاح و بہبود، اور پرامن معاشرت کی بدولت فوراً نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ان ہی میں ایک نام ہے آئس لینڈ کا—یورپ کا ایک چھوٹا مگر ترقی یافتہ ملک جو کئی برسوں سے دنیا کا سب سے پرامن ملک قرار پایا ہے۔
آئس لینڈ میں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے، لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں، اور ریاستی ادارے شفافیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہاں پولیس عام طور پر بغیر ہتھیار کے گشت کرتی ہے کیونکہ ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ حکومت کی پالیسیاں عوام کی بہتری پر مرکوز ہیں، تعلیم و صحت ہر فرد کو میسر ہے، اور سب سے اہم بات: یہاں کوئی باقاعدہ فوج موجود نہیں۔ ایک چھوٹی آبادی، سادہ طرزِ زندگی، اور مضبوط فلاحی نظام نے آئس لینڈ کو دنیا کے پر سکون ترین ممالک میں سرفہرست رکھا ہوا ہے۔
اس کے برعکس اگر ہم نظر دوڑائیں دنیا کے ان خطوں پر جہاں انسانی زندگی آئے روز خطرے میں ہے، تو جمہوریہ کانگو ایک افسوسناک مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ قدرتی وسائل جیسے سونا، ہیرے، اور کوبالٹ سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ ملک غربت، بدامنی، اور کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ سیاسی استحکام کا فقدان، مختلف مسلح گروہوں کی کارروائیاں، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی نے عوام کو شدید بے یقینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
کانگو میں ایک طرف چند طاقتور طبقے دولت کے انبار پر بیٹھے ہیں، تو دوسری طرف کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف جیسی سہولیات صرف مخصوص حلقوں تک محدود ہیں۔ عام آدمی خوف میں جیتا ہے کہ نہ جانے کب، کہاں سے خطرہ نمودار ہو جائے۔
ایک طرف آئس لینڈ ہے، جہاں ریاست ماں جیسا کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری طرف کانگو ہے، جہاں عوام کو اپنی جان، عزت اور روزی کے لیے ہر دن جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ یہ دونوں ممالک ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ خوشی، سکون، اور انسانی ترقی کا تعلق صرف دولت سے نہیں بلکہ نظام، انصاف، اور قیادت سے ہوتا ہے۔
Adn@n
اس دفعہ 8 لاکھ تھے، اگلی بار 12 لاکھ ہوں گے!
ایٹا ٹیسٹ میں اس سال امیدواروں کی تعداد 8 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے، تو اگلے 2 سے 3 سال میں یہ تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
یہ صرف ایک اعداد و شمار کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک خاموش طوفان ہے جو آ رہا ہے — اگر ہم نے سنجیدگی سے نہ سوچا تو مایوسی، بے روزگاری اور بداعتمادی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس مسئلے کی جڑ کو سمجھیں اور اصلاحات کی بنیاد رکھیں:
🔹 پرائمری سطح سے ہی تعلیم کو معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کریں۔
🔹 رٹے کی بجائے تخلیقی کام پر زور دیں۔
🔹 بچپن سے ہی محنت اور اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
🔹 میٹرک تک ہر طالب علم کو عملی میدان میں کوئی کام سکھائیں – جیسے کہ چھوٹا کاروبار، چیزیں بیچنا، یا بات چیت کی عملی مہارتیں۔
جب ہر شعبے میں متعلقہ نوکریاں دستیاب ہوں گی، تو تعلیم کا بوجھ صرف تدریسی شعبے پر نہیں پڑے گا۔
ورنہ انجینئرز، فارماسسٹ، نرسز اور ڈی وی ایم جیسے لوگ بھی مجبوری میں ٹیچنگ کی طرف آئیں گے۔
👷♂️ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو معاشرے میں عزت دیں۔
📚 طلباء کو یہ احساس دلائیں کہ تعلیم کے ساتھ ہنر بھی عزت والا ہے، شرمندگی والا نہیں۔
🚀 چھوٹے کاروبار، ٹیکنیکل فیلڈز، اور انڈسٹریز کو فروغ دیں تاکہ ہنر مند افراد اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بآسانی روزگار ملے۔
یاد رکھیں! صرف بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے سے حکومت کی ذمہ داری پوری نہیں ہو جاتی۔
ہمیں نظام کو نتیجہ خیز، باعمل اور معاشرتی حقیقتوں سے جڑا ہوا بنانا ہوگا۔
ورنہ یہ 8 لاکھ صرف آغاز ہے — اگر ہم نے ابھی اصلاحات نہ کیں، تو کل یہ 12 لاکھ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ ایک المیہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے، عمل کرنے اور اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Adn@n
عنوان: تعلیم کی بنیاد — سچائی، نظم و ضبط، خود احتسابی اور صفائی
سوچیے…
میٹرک کے بعد ہمارا طالبعلم نہ تکنیکی طور پر مضبوط ہوتا ہے، نہ اس میں نظم و ضبط، سچائی، صفائی یا اخلاقیات کا شعور ہوتا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ ہمارا تعلیمی نظام بچوں کی کردار سازی کے بجائے صرف یہ سکھانے پر زور دیتا ہے کہ "مچھر" کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں اور "پیٹ" کو کیا کہتے ہیں۔
اس سوچ سے باہر نکلنے کا وقت آ چکا ہے۔
اصلاح کی صورت کیا ہے؟
نرسری سے دسویں جماعت تک کردار سازی کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
ہر جماعت میں بچوں کو سچ بولنے، صفائی رکھنے، صبر، برداشت، خود پر قابو پانے، تہذیب و اخلاق اور ایمانداری کی تعلیم دی جائے۔
یہ مضامین صرف زبانی باتوں یا تقریروں تک محدود نہ ہوں، بلکہ ان پر باقاعدہ کلاسز، عملی سرگرمیاں اور امتحانات لیے جائیں۔
ہر جماعت میں کردار سازی کا ایک مستقل مضمون ہو، جیسے اردو، ریاضی یا سائنس ہوتا ہے۔
تب جا کر ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہمارا طالبعلم واقعی تعلیم یافتہ ہے۔
چاہے وہ نوکری کے قابل ہو یا نہ ہو، لیکن وہ ایک بااخلاق، خود نظم و ضبط رکھنے والا، سچا اور مہذب انسان ضرور ہوگا۔
یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ذہنی غلامی سے نکال کر حقیقی ترقی کی طرف لے جائے گا۔
فیصلہ اب ہمارے تعلیمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کے ہاتھ میں ہے۔
Adn@n
ہمیں ذہنی غلامی سے آزادی چاہیے
انگریزی کو قابلیت یا سوسائٹی میں اسٹیٹس کا معیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ صرف ایک زبان کے طور پر سیکھنا چاہیے۔ یہ سیکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے، مگر بچوں کو ہر مضمون اپنی قومی زبان میں سمجھانا چاہیے۔ سائنس، ریاضی یا آرٹس میں ذہانت کا معیار انگریزی نہیں، بلکہ سمجھ بوجھ ہے۔ آج کے مصنوعی ذہانت کے دور میں ضروری ہے کہ بچے موضوع کو سمجھیں، نہ کہ صرف انگریزی میں یاد کریں۔ تعلیم کا مقصد سمجھ بوجھ پیدا کرنا ہے، اور یہ مقصد قومی زبان میں بہتر حاصل ہو سکتا ہے۔
Adn@n
کیا ہمارے اساتذہ SLO کی بنیاد پر تدریس کے لیے تیار ہیں؟
تمام تعلیمی بورڈز نے فیصلہ کیا ہے کہ اب امتحانات SLO (Student Learning Outcomes) کی بنیاد پر لیے جائیں گے تاکہ طلبہ کے تصورات (Concepts) کو پرکھا جا سکے۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے، مگر ایک اہم سوال ہے:
کیا ہمارے اساتذہ SLO پر مبنی تدریس کے لیے تیار ہیں؟
میرے خیال میں 90٪ ہائی اسکول اساتذہ اس کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہیں۔
جب طلبہ کو SLO کی بنیاد پر پڑھایا ہی نہیں گیا تو ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ SLO کی بنیاد پر امتحان دیں گے؟
میری تجویز ہے:
تمام اساتذہ، خصوصاً سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے لیے آن لائن تربیتی کورسز کا انعقاد کیا جائے تاکہ وہ SLO کی بنیاد پر تدریس کے بنیادی اصول سیکھ سکیں۔ یہ تربیت آسان، قابل رسائی اور عملی ہونی چاہیے۔
اب اس تربیت کو مؤثر بنانا ہمارے تعلیمی حکام کی ذمہ داری ہے۔
تعلیم کو صرف تبدیلی کے اعلانات سے نہیں، بلکہ اساتذہ کو تیار کر کے بہتر بنایا جا سکتا ہے.
Adn@n
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Peshawar