17/08/2026
چیٹ جی پی ٹی کا پوری دنیا میں استعمال ہوتا ہے لیکن پاکستانی اسے انسٹال کرکے باؤلے ہی ہوگئے . شاید لوگوں کو علم نہیں کہ chat gpt پر ایک سادہ سوال کے جواب کے لیے بھی بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں پروسیسرز چلتے ہیں، اور وہ پروسیسرز اتنی حرارت پیدا کرتے ہیں کہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے مسلسل پانی اور بجلی خرچ ہوتی ہے ۔ ایک سوال پر جو بجلی خرچ ہوتی ہے وہ ایک عام گوگل سرچ سے دس گنا زیادہ ہو سکتی ہے، اور پانی کی مقدار 1 ملی لیٹر سے پانچ سو ملی لیٹر تک جا سکتی ہے ۔
سوچیے جب لاکھوں لوگ ایک ہی وقت میں فضول سوالات پوچھتے ہیں، تو یہ چھوٹے چھوٹے سوالات مل کر کتنی انرجی ضائع کرتے ہوں گے ؟ سوشل میڈیا پر لوگ فخر سے بتاتے ہیں میں نے یہ فضول سوال میں نے اے ائی سے کیا اور یہ جواب آیا ۔ سوال یہ ہے کہ یہ جواب آپ کی زندگی میں کتنا کام ایا؟
آپ اے ائی سی لینگویج سیکھ سکتے ہیں ، زندگی کو بہتر بنانے کے گُر سیکھ سکتے ہیں، اپنی انکم کو بڑھانے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں، اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں اور بیماریوں کے بارے میں جان سکتے ہیں ، نئی کتابوں اور جگہوں کی معلومات لے سکتے ہیں ، سائنس اور ٹیکنالوجی کی معلومات۔۔۔ کیا کچھ نہیں ہے اے ائی کے پاس ، جو آپ کی زندگی بدل سکتا ہے مگر یہاں اسے ڈگڈگی پر بندر کی طرح نچایا جاتا ہے ۔
۔ میں نے کبھی چیٹ جی پی ٹی سے یہ نہیں پوچھا کہ تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو، یا میں مر گئی تو کیا ہوگا، یا میں تمہیں انسٹال کرنے لگی ہوں تو تمہارا کیا ری ایکشن ہے ۔۔۔۔۔۔
آپ نہ صرف خود وقت کا زیاں کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ترغیب دیتے ہیں کہ اے آئی کو یہ پرامپٹ دیں اور پھر تماشا دیکھیں ۔ پلیز اس سے وہ کام لیں جو آپ کے کچھ کام ائے اس سے محلے کا تندور نہ سمجھیں۔
آصفہ عنبرین قاضی