M SherJan IKS mart Pak

M SherJan IKS mart Pak Welcome to IKS Mart Pakistan | M.

Sher Jan 🛒
معیاری مصنوعات، مناسب قیمت، اور بہترین سروس کا قابلِ اعتماد مرکز۔
ہم لاتے ہیں آپ کے لیے بہترین کوالٹی، آپ کے گھر کی دہلیز تک۔ 🚛
📞 آرڈر کے لیے ابھی رابطہ کریں:
0349-6651324
0311-1927518

29/09/2026

کاروبار میں خیر وبرکت کے لیے دعا و وظیفہ
سوال
کاروبار میں خیر وبرکت کی دعا اور وظیفہ بتائیں!

جواب
رزق کے معاملہ کا تعلق اللہ تعالی کی تقسیم کے ساتھ ہے، وہ جسے چاہے جب چاہے اور جیسے چاہے رزق دیتا ہے، اس کے فیصلے کے سامنے کوئی منصوبہ نہیں چلتا، لہذا ایک مسلمان کو اس بارے میں اللہ تعالی کے فیصلوں پر ہمیشہ راضی رہنا چاہیے، نیز اس کے ساتھ آپ کو پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت ادائیگی کا اہتمام صبح شام معوذتین (سورہ فلق اور سورہ ناس) اور کثرت سے استغفار کا معمول بنائیں، استغفار کے اہتمام اور کثرت پر وسعتِ رزق کا خداوندی وعدہ قرآنِ مجید میں موجود ہے۔ اللہ تعالی پر یقین رکھیں کہ ان شاء اللہ کاروبار میں برکت ہوگی۔ نیز درج ذیل معمولات کا اہتمام کریں:

1- ہر نماز کے بعد تین بار یہ دعا پڑھیں:

"اَللّٰهُمَّ اكْفِنِیْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ."

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے پاس ایک مکاتب آیا اور کہنے لگا کہ میں اپنا بدل کتابت ادا کرنے پر قادر نہیں ہوں (یعنی مال کتابت ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، مگر میرے پاس مال نہیں ہے؛ اس لیے آپ مال و دعا سے میری مدد کیجیے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ کیا تمہیں وہ دعا نہ بتا دوں جو نبی کریم ﷺ نے مجھے سکھائی تھی کہ جس کی برکت سے اگر تمہارے اوپر پہاڑ کی مانند بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ذمہ سے ادا کر دے گا تو سنو وہ دعا یہ ہے تم اس کو پڑھ لیا کرو:

"اَللّٰهُمَّ اكْفِنِیْ بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ."

ترجمہ: اے اللہ! مجھے حلال مال کے ذریعہ حرام سے بے نیاز کر دے (یعنی مجھے حلال رزق عطا فرما تاکہ اس کی وجہ سے حرام مال سے بے نیاز ہو جاؤں۔ اور اپنے فضل و کرم کے ذریعہ اپنے ماسوا سے مجھے مستغنی کر دے۔ (ترمذی، بیہقی)

نوٹ: " مکاتب" اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اس سے یہ طے کرلے کہ جب وہ اتنا مال یا اتنے روپے ادا کر دے گا تو اس وقت وہ آزاد ہو جائے گا، اور " بدلِ کتابت" اس مال کو کہتے ہیں جس کو ادا کرنے کی ذمہ داری اس مکاتب غلام نے قبول کر لی ہو؛ لہٰذا جب وہ مقررہ مال ادا کر دے گا تو اسی وقت آزاد ہو جائے گا۔

2- وضو کے درمیان اور نمازوں کے بعد درج ذیل دعا کا اہتمام کریں:

" اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَ وَسِّعْ لِي فِي دَارِي، وَ بَارِكْ لِي فِي رِزْقِي."

ترجمہ: اے اللہ!میرے گناہ بخش دیجیے، اور میرے گھر میں وسعت اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔

3- درج ذیل دعا کثرت سے پڑھتے رہیں:

"تَوَكَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الْذِيْ لَایَمُوْتُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَکُنْ لَّهُ شَرِیْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَکْبِيْرًا."

(معارف القرآن، سورہ بنی اسرائیل)

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ایک روز میں رسولِ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلا اس طرح کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا، آپ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا؟
اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگ دستی نے یہ حال کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چند کلمات بتلاتا ہوں وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگ دستی جاتی رہے گی وہ کلمات یہ تھے:

"تَوَكَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الْذِيْ لَایَمُوْتُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَکُنْ لَّهُ شَرِیْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهُ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَکْبِيْرًا."

اس کے کچھ عرصہ بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف تشریف لے گئے تو اس کو اچھے حال میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کا اظہار فرمایا، اس نے عرض کیا کہ جب سے آپ نے مجھے یہ کلمات بتلائے تھے، میں پابندی سے ان کو پڑھتا ہوں۔
(ابویعلی و ابن سنی از مظہری)

4- ہرنماز کے بعد اگر ہوسکے تو سومرتبہ "یَا لَطِیْفُ" اور ایک مرتبہ " اَللّٰهُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ وَ ھُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِیْزُ" پڑھ لیا کریں۔

28/09/2026

صدقہ کی فضیلت
اسلام میں صدقہ دینا ایک انتہائی بابرکت
اور فضیلت والا عمل ہے جو بندے کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔
صدقہ کی اہم فضیلتیں اور فوائد
مصیبتوں سے حفاظت:
صدقہ دینے سے ناگہانی بلائیں اور مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔
گناہوں کا کفارہ:
صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔مال میں اضافہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "صدقہ مال میں کچھ کمی نہیں کرتا" بلکہ اللہ تعالی اس میں برکت عطا فرماتا ہے اور اسے بڑھاتا ہے۔
قیامت کا سایہ:
قیامت کے روز سخت گرمی اور پریشانی میں انسان اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔
اللہ کا غضب ٹھنڈا ہونا:
بالخصوص رات کا چھپا کر دیا گیا صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

27/09/2026

امیری فقیری اور اللہ کی تقسیم۔
امیری اور فقیری بندوں کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے؛ اللہ تعالی کسی کو فراوانی سے اس لئے نوازتا ہے تا کہ وہ دیکھے کہ بندہ حمد وشکر بجالاتا ہے یا سرکش بنتا ہے، اور کسی پر دنیاوی تنگی امتحان لینے کیلئے ڈالتا ہے کہ بندہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے یا جزع فزع کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ} ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں خیر وشر سے آزماتے ہیں، اور ہماری طرف ہی تم لوٹائے جاؤ گے۔[الأنبياء : 35]
لیکن مؤمن کی حالت تعجب خیز ہے؛ اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرکے اسے اپنے لئے بھلائی میں بدل لیتا ہے، اور اگر خوشی ملے تب شکر کرکے نیکی کما لیتا ہے؛ چنانچہ مؤمن زحمت و رحمت کیلئے صبر و شکر سے کام لیتا نظر آتا ہے، جبکہ اللہ تعالی اسکی حالت کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہےاسی لئے فرمایا: {أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ} خبردار! جس نے پیدا کیا ہے وہ انتہائی باریک بین اورباخبر ذات ہے[الملك : 14]
زندگی کے پہیے میں اللہ کی جانب سے رزق کی کمی بیشی سب کیلئے امیری یا فقیری کا تعین کرتی ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے: {وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا} اور ہم نے سب لوگوں کی ایک دوسرے پر درجہ بندی کردی ہے، تا کہ وہ ایک دوسرے کی خدمات حاصل کرسکیں۔[الزخرف : 32] یعنی : تم ایک دوسرے کو ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہو؛ جس سے الفت و انس پیدا ہوتا ہے، اور مالدار لوگ اپنی دولت کی وجہ سے غریب لوگوں کو بطورِ مزدور رکھتے ہیں، اس سے دونوں ایک دوسرے کیلئے ذریعہ معاش ثابت ہوتے ہیں، ایک دولت تو دوسرا محنت کی وجہ سے معاون ثابت ہوتا ہے۔
اللہ ہمیں صبر اور شکر کرنے والے بندے بنائیں۔
آمین۔
ہمت ہو تو ضرور شیئر کریں
شکریہ
رابطہ 03496651324

26/09/2026

حرام مال اور اس کی کمائی کا حکم
سوال
اگر کسی نے کسی کا ناحق مال ہڑپ کرد یا ، یاناجائز طریقے سے حرام مال حاصل کر کے حرام کے پیسوں سے کوئی زمین خرید لی، یا کوئی گاڑی ٹریکٹر وغیرہ خرید لیا، تو وہ حرام مال یا اس کی کمائی اس کے لیے حلال ہے یا حرام ہے؟

جواب
جس نے کسی کا نا حق مال لیا ہے وہ اس کے لیے ہرگز حلال نہیں ہوسکتا،البتہ اس کی کمائی کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ:

1۔ اگر حرام مال بصورتِ غصب یا چوری کے ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اصل رقم اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، یعنی وہ جہاں سے آیا ہے وہیں اسے واپس دے دیا جائے،اور اگر مالک وفات پاچکا ہو تو اس کے ورثاء کو لوٹا دیا جائے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو، یعنی ورثاء کا بھی علم نہ ہو تو مال کے مالک کی طرف سے ثواب کی نیت کرتے ہوئے اسے مستحقِ زکات کو صدقہ کرنا ضروری ہے، تاہم اس نے غصب و چوری کے مال سے کاروبار کرکے جو منافع حاصل کئے ہو تو اس بارے میں حکم یہ ہے کہ اصل سرمایہ مالک کو لوٹانے کے بعد منافع اس کے لیے حلال ہوں گے،اسی قول کو امام کرخی رحمہ اللہ نے ترجیح دی ہے ، اور اسی پر فتوی ہے۔

2۔اور اگر حرام مال سود، جوا ، رشوت کی صورت میں ہو تو اس میں بھی اصل سرمایہ اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، تاہم اس قسم کے حرام مال سے کاروبار کرکے جو منافع حاصل کئے ہیں، وہ اس کے لیے حلال ہوں گے، اور اگر سودی رقم کا کوئی مالک نہ ہو جیسے بینک کا سود تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس قسم کی سودی رقم آئی ہو تو اس کو بلا نیتِ ثواب غرباء میں تقسیم کردیا جائے۔

3۔اور اگر حرام کا مال کسی چیز کے بدلے میں حاصل کیا گیا ہو، جیسے حرام ملازمت وغیرہ کے ذریعے کمائی گئی آمدنی ہو تو اسے مالک کو واپس کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیا جائے۔

24/09/2026

غربت
اسلامی تعلیمات میں صبر، قناعت اور توکل کے ساتھ گزاری جانے والی غربت کے کئی معنوی اور روحانی فضائل بیان کیے گئے ہیں۔
اہم فضائل و فوائدآسان حساب:
مالداروں کے مقابلے میں غریبوں کا یومِ حساب آسان اور مختصر ہوگا، جبکہ مال کی پائی پائی کا حساب امیروں سے سختی سے لیا جائے گا۔جنت میں پہلی حاضری:
احادیث کے مطابق جنت میں داخل ہونے والوں میں فقراء اور مساکین کی تعداد مالداروں سے زیادہ ہوگی۔
تکبر سے حفاظت:
غربت انسان کو مال کی کثرت سے پیدا ہونے والے غرور، تکبر اور خود پسندی سے محفوظ رکھتی ہے۔
توکل کی مضبوطی:
وسائل کی کمی غریب شخص کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ (توکل) اور قناعت سکھاتی ہے۔
دل کی نرمی:
دنیا کی فراوانی نہ ہونے کی وجہ سے غریب افراد کا دل زیادہ نرم اور نیتیں صاف ہوتی ہیں۔
نوٹ: یاد رہے کہ اسلام نے غربت کو بطورِ نظریہ اپنانے یا کوشش ترک کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ حلال رزق کمانے اور غربت کے خاتمے کی بھی بھرپور ترغیب دی ہے۔ یہ فضائل اس غریب کے لیے ہیں جو تنگی میں بھی صبر کرے اور ناشکری سے بچے۔
شیئر کرنے میں مدد دیں شکریہ
رابطہ 03496651324

23/09/2026

برکات
رزق حلال میں بہت سی برکات ہیں’ رزق حلال کے واقعات میں سب سے مشہورحضرت عمربن عبدالعزیزؒ کا واقعہ ہے۔ حضرت عمرؒ نے ساری زندگی اپنی اولاد کو مال حرام سے بچائے رکھا اور تھوڑا بہت جو حلال رزق ملا وہ دے دیا اس عمل کی برکت کا مشاہدہ درج ذیل واقعہ سے ہوتا ہے۔
خلیفہ منصور نے عبدالرحمان بن قاسم بن محمد بن ابی بکر سے ایک مرتبہ کہا کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔
وہ بولے: اپنے مشاہدات سے یا سنی سنائی باتوں میں سے؟ عرض کیا: اپنے مشاہدات میں سے نصیحت فرما دیجئے۔ بولے۔ عمر بن عبدالعزیزؒ نے گیارہ بیٹے چھوڑ کر انتقال فرمایا اور سترہ دینار چھوڑے۔

پانچ دینار تو تجہیز و تکفین پر خرچ ہو گئے اور دو دینار کی قبر خریدی گئی۔ باقی صرف دس دینار بچے اور ہر بچہ کو ایک پورا دینار بھی ورثہ میں نہ ملا اور ہشام ابن عبدالملک فوت ہوئے تو ان کا ترکہ ان کی اولاد میں تقسیم ہوا اور ہر ایک کو دس دس لاکھ دینار ملے۔ میں نے حضرت عمرؒ کی اولاد میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اللہ کی راہ میں ایک دن میں سو گھوڑے صدقہ کیے اور ہشام کی اولاد میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کو صدقہ دیا کرتے تھے
شیئر کریں
شکریہ
03496651324

22/09/2026

خدا کی بندگی و اطاعت میں رزقِ حلال کی بڑی بنیادی حیثیت ہے کہ تقویٰ و خوفِ خدا کا سب سے اہم پہلو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے اور نافرمانی کے کاموں میں رزقِ حرام نہایت شدید اور گھناؤنا ہے۔افسوس کہ لوگ حلال و حرام کمائی کا خیال کرنے میں بہت بے پروا ہوچکے ہیں اور حدیث میں بیان کردہ زمانے کے آثار نظر آتے ہیں کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب آدمی یہ پروا نہیں کرے گا کہ وہ جو کچھ حاصل کررہا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے؟(بخاری،ج 2،ص7، حدیث:2059)

حلال کمانے کی بہت فضیلت ہے، رزقِ حلال کھانے والا جنّتی ہے چنانچہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”جو شخص پاکیزہ یعنی حلال چیز کھائے اور سنت کے مطابق عمل کرے اور لوگ ا س کے شر سے محفوظ رہیں تو وہ جنّت میں داخل ہو گا۔“ (ترمذی،ج4،ص233،حدیث:2528)رزقِ حلال کھانے والے کی دعائیں قبول ہوتی ہیں
چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی کہ یَارَسولﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مُسْتَجَابُ الدَّعوَات بنادے (یعنی ميری سب دعائیں قبول ہوں)رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”لقمۂ حلال اپنے لئے لازم کرلو تو مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات ہوجاؤگے گے۔“(معجم اوسط،ج 5،ص34، حدیث:6495، الترغیب والترہیب،ج2،ص345،حدیث:8)

21/09/2026

1. حضرت عمر بن خطاب اور دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا واقعہ
ایک رات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے کہ ایک غریب دودھ بیچنے والی ماں اور بیٹی کی آواز سنی۔ ماں نے بیٹی سے کہا کہ دودھ میں پانی ملا دو تاکہ مقدار زیادہ ہو جائے۔ بیٹی نے جواب دیا: "کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر نے دودھ میں پانی ملانے سے منع کیا ہے؟" ماں بولی: "عمر یہاں کہاں دیکھ رہا ہے؟" بیٹی نے بہت خوبصورت جواب دیا: "اگر عمر نہیں دیکھ رہا تو عمر کا خدا تو دیکھ رہا ہے!"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ ایمان افروز بات سن کر بہت متاثر ہوئے۔ آپ نے اس بچی کی سچائی اور دیانت کی وجہ سے اپنے بیٹے حضرت عاصم کا نکاح اس پاک دامن بچی سے کر دیا، جس کی نسل سے آگے چل کر حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ جیسے عادل حکمران پیدا ہوئے۔

2. امام ابن جریر طبری کا حلال رزق اور علم کا حصولمشهور مفسر اور محدث امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کا واقعہ ہے کہ جب آپ حصولِ علم کے لیے گھر سے نکلے تو آپ کے والد نے انتہائی دیانت داری اور محنت کی کمائی سے آپ کو سو (100) دینار حلال رزق کے طور پر دیے اور تاکید کی کہ اسے بہت احتیاط اور حلال طریقے سے خرچ کرنا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے وہ سو دینار دو سال تک نہایت احتیاط سے خرچ کیے اور اس حلال مال کی برکت سے دین کا بیش قیمت علم حاصل کیا۔

20/09/2026

(رزق میں برکت)
رزق میں برکت اور کشادگی کے لیے احادیثِ مبارکہ میں کئی جامع دعائیں وارد ہوئی ہیں۔
اہم نبوی دعائیں گھر اور رزق میں برکت کی دعا
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ، وَوَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ، وَبَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ
ترجمہ: اے اللہ! میرے گناہ بخش دیجیے، میرے گھر میں وسعت عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔(سنن ترمذی
قرض سے نجات اور حلال رزق کی دعا
اَللّٰھُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ
ترجمہ: اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے حرام سے بچا اور اپنے فضل سے اپنے سوا ہر ایک سے بے نیاز کر دے.(جامع ترمذی میں حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ یہ دعا پہاڑ جتنا قرض بھی ہو تو اللہ تعالی کی مدد سے ادا ہو جاتا ہے).
صبح کے وقت کی برکت کی دعا
اَللّٰھُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِيْ فِيْ بُكُوْرِھَا
ترجمہ: اے اللہ! میری امت کے صبح کے وقت (کاموں) میں برکت عطا فرما.
رزق میں برکت کے نبوی و قرآنی ذرائع استغفار کی کثرت:
کثرت سے استغفار کرنے سے اللہ تعالیٰ تنگی کو دور فرماتا ہے اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے گمان بھی نہ ہو (سنن ابن ماجہ)
سورۃ الواقعہ کی تلاوت:
ہر رات سورۃ الواقعہ پڑھنا غربت اور فاقہ سے بچاتا ہے (مشکوٰۃ المصابیح)۔

19/09/2026

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر سے پناہ مانگی ہے۔
محدثین کرام نے اس کی درج ذیل شروحات بیان فرمائی ہیں کہ:

· اس فقر سے مراد ایسا فقر ہے جو کفران نعمت(ناشکری) کی طرف لے جائے اوراللہ تعالی کے ذکرسے غفلت کاباعث بنے۔

· یا مراد ایسےدل سے پناہ ہے جو مال جمع کرنے پر حریص ہو۔

· یا دل کے فقر سے پناہ مراد ہے ۔

یہ یاد رہے !غربت کی حالت میں جو اللہ تعالی کی رضا پر راضی اور توکل و صبرکرنے والا ہو اور اس کا دل مال کی محبت و جمع مال سے آزاد ہو تو اس کی ایسی غربت اچھی ،قابل فضیلت و محمود چیز ہے،یہ ہر گز مذموم نہیں ۔

سنن ابی داؤد شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ"أن النبي صلى اللہ عليه وسلم كان يقول: «اللهم إني أعوذ بك من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بك من أن أظلم، أو أظلم»
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :اے اللہ میں فقر،قلت اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں،اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔(سنن ابی داؤد،جلد2،صفحہ91، حدیث نمبر1544، مکتبہ عصریہ،بیروت)

اس حدیث پاک کے الفاظ (اعوذبک من الفقر)کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے" أي: فقر القلب، أو من قلب حريص على جمع المال، أو من الفقر الذي يفضي بصاحبه إلى كفران النعمة في المآل ونسيان ذكر المنعم المتعال"ترجمہ:یعنی دل کے فقر سے یا ایسے دل سے جو مال جمع کرنے پر حریص ہو یا اس فقر سے جو اپنے صاحب کو انجام کار کفران نعمت کی طرف لے جائے اور نعمت دینے والے بلند (اللہ عزوجل )کے ذکر سے بُھلا دے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،جلد4،صفحہ1709،دار الفکر،بیروت)
شیئر کرنے میں ہمارا مدد کریں شکریہ
رابطہ 03496651324

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M SherJan IKS mart Pak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category