25/01/2025
looking for teachers
پشاور ہوم ٹیوشن میں خوش آمدید
قابل احترام والدین اپنے بچوں کے لیے روشن مستقبل کے لیے ہوم ٹیوشن شروع کریں
25/01/2025
looking for teachers
25/01/2025
please contact them teacher's
10/01/2023
اسلام علیکم۔۔۔
پشاور میں ہوم ٹویشن کے لئے ربطہ کرے شکریہ۔۔۔۔
Class 1 to 7...
26/01/2022
08/01/2022
بچوں کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں۔۔۔
دین اسلام نے بچوں کے حقوق میں سے ایک حق اس کی اچھی تعلیم و تربیت کو قرار دیا ہے کہ جس میں کوتاہی کی صورت میں اللہ کے یہاں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اس سلسلے میں ہمارے لئے ائمہ معصومین علیھم السلام کے اقوال اور سیرت ہمارے لئے مشعل راہ قرار پاسکتی ہیں۔
بچوں کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
بچے کسی بھی معاشرے کی امیدوں، آرزوو ¿ں اور تمناو ¿ں کا مرکز ہوتے ہیں، اس لیے کہ مستقبل کی تعمیر کا انحصار ان ہی پر ہوتا ہے۔ اس لیے بچے دوسرے تمام طبقات کی بہ نسبت زیادہ توجہ، زیادہ شفقت اور زیادہ محبت چاہتے ہیں۔ معاشرتی حوالے سے بھی بچوں کی اہمیت مسلّم ہے۔ اسی بناپر اسلامی تعلیمات میں جہاں والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت بیان کی گئی ہے وہاں بچوں کے حقوق بھی واضح کیے گئے ہیں۔ اسلام کی معاشرتی زندگی یک رخی نہیں، ہمہ گیر ہے۔ اس لیے والدین اگر اسلامی معاشرے میں بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں تو بچے اس اکائی کا نتیجہ اور ثمرہ ہیں۔ یہ دونوں مل کر معاشرے کی صورت گری کرتے ہیں۔ بچے تو اور بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، کیوں کہ وہ نہ صرف والدین کی شخصی توسیع ہیں بلکہ معاشرے کے ارتقا اور اس کی متحرک زندگی کا عکس ہیں۔
اسلام کی نظر میں بچوں کی اہمیت تربیت کئی وجوہ سے ہے۔ وہ مستقبل کے معمار ہیں، خاندان کی بقا کا ذریعہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہیں، جماعت کی کثرت اور پہچان کا سبب ہیں، نیز اللہ تعالیٰ کی مدد کی ایک صورت ہیں۔ اسلام اپنے زیر اثر معاشرے میں اولاد کو اپنی معاشرتی اور سماجی اقدار کے تعارف، بقا اور تحفظ کا ذریعہ تصور کرتا ہے۔ اسلام اولاد کو نعمتِ عظمیٰ قرار دے کر اس کی نگہداشت کا حکم دیتا ہے۔ اسلام نے خاندان کا جو تصور دیا ہے اس کی ایک اہم اکائی اولاد کی صورت میں بچے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت میں کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہ کی جائے اور اسکے لئے سب سے پہلی اور سب سے بہتر درس گاہ خود اس کا گھر ہے۔
درحقیقت گھر ایک ایسی جنت ہے جہاں بچہ باپ کی شفقت اور ماں کی محبت کی چھاو ¿ں میں پرورش پاتا ہے۔ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درس گاہ کہا جاتا ہے اور بچے کی بنیادی تربیت میں ماں کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ گھر سے اگر بچوں کی تربیت صحیح خطوط پر ہو تو بیرونی دنیامیں بھی ایسے بچے آگے چل کر قابل اعتماد شخصیت بن سکتے ہیں۔ بچوں کی اچھی تربیت کے لئے والدین کی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے تاکہ معاشرے میں اچھی عادات کے بچے جنم لیں اور مجموعی طور پر معاشرے میں بہتری آئے۔
چنانچہ پیغمبر اسلام(ص) ارشاد فرماتے ہیں: تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ حاکم ذمہ دار ہے اوراپنی رعایا کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر کا ذمہ دار ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔
یہ امانت ایک عظیم ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کرنے یا ضائع کرنے سے اللہ تعالی نے خبردار فرمایا ہے۔ارشاد باری ہے: اے ایمان والوں ! تم بچاو ¿اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے تندخو، سخت مزاج ہیں۔ نافرمانی نہیں کر تے اللہ کی جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اس آیت مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ مسلمانوں کو دوزخ کا ایندھن بننے کے سبب سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خود بھی دوزخ کا ایندھن بننے سے بچیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچائیں ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ نار جہنم سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچاسکیں۔ اپنے بچوں کے اخلاق کی نگرانی کریں اور انہیں غفلت اور کو تاہی سے بچائیں۔ جن کاموں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس پر خود بھی عمل کریں اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس کی تلقین کریں اور جن کاموں سے منع کیا ہے اس سے خود بھی بچیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچائیں۔
ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنی اولاد کو دین کی تعلیم دیں اچھی باتیں سکھائیں اور بہترین ادب و ہنر اور اخلاق سکھائیں۔تربیت اولاد کتنا عظیم فریضہ ہے کہ پیغمبروں اور بزرگوں نے اللہ سے دعائیں مانگی ہیں۔ اے اللہ مجھے نیکو کار اولاد عطا فرما۔ پیغمبروں نے نیک سیرت اولاد کے لئے اللہ سے دعائیں مانگی ہیں ایسی اولادیں جن کو دیکھ کر ان کی آنکھیں او ر ان کے دل ٹھنڈے ہوں۔ جیسا کہ نیک اولاد کے سلسلے میں قرآن کریم میں یہ دعا بیان کی گئی ہے۔
اگر سیرت حضرت زہرا (س) کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کہ آپ(س) کی مختلف فضیلتوں میں سے ایک فضیلت بچوں کی تعلیم و تربیت ہے، کہ جسے آپ (س) نے اپنی اور ذمہ داریوں کی طرح اسے بھی بطور احسن انجام دیا،جبکہ آپ ایسی ہستی کی مالک تھیں جوخودوحی الہی کی تربیت یافتہ تھیں گویا آپ(س) یہ جانتی تھیں کہ حسن وحسین (ع) دونوں صاحبزادے اس تربیت کے محتاج نہیں ہیں جس تربیت کے محتاج دنیاکے عام بچے ہواکرتے ہیں پھربھی امت کوتعلیم وتربیت کاسلیقہ سکھانے کے لئے ظاہری طورپراپنے بچوں کوتعلیم وتربیت دیتی ہوئی نظرآتی ہیں، آپ نے ان دو اماموں کی پرورش فرمائی جواسلام کے لئے کام آئے بچوں کی تربیت کواتنامہم سمجھتی تھیں کہ وقت نزع بھی بچوں کی نگہداری سے غافل نہیں رہیں۔
اپنی بچیوں زینب وام کلثوم (س) کی بھی تربیت ونگہداری اس طرح فرمائی جوبعد قتل حسین(ع) دین اسلام اور قربانی حسین اور مقصدحسین(ع) کوزندہ رکھنے میں معاون ثابت ہوئیں. خداوند سے دعاہے کہ وہ ہمیں فاطمہ(س) کی سیرت اور ان کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطافرمائے۔
مگر صد حیف کہ ٹیکنالوجی کے اس دَور میں والدین کی مصروفیت اور غفلت کے باعث بچّے اسلامی تربیت سے تو ایک طرف ‘اخلاقی اور معاشرتی تربیت سے بھی محروم نظر آتے ہیں۔ جس اسکول اور تعلیم پر اکتفا کرلیا جاتا ہے، اس کا مکمل زَور د ±نیاوی علوم پر ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے بچّے دین سے بے زار نظر آتے ہیں اور والدین کے ساتھ اِن کے سلوک کا اندازہ روزمرہ کے واقعات سے کیا جاسکتا ہے۔
آج نوجوانوں میں دِین سے د ±وری کے ر ±جحان کی بڑی وجہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید اوراسلامی تعلیمات سے دوری ہے ،جب کہ اسلام مکمل ضابطہ ¿ حیات ہے ، یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور آسانیاں پیدا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
مطالب بالا سے یہ نتیجہ نکلتا ہے اسلام کا نقطہ ¿ نظریہ ہے کہ چونکہ دیگر نعمتوں کی طرح بچے بھی اللہ کی ایک نعمت ہیں، اس لیے اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ ان کی پرورش اور تربیت پوری اہتمام سے کرنی چاہیے پھر ان کا درجہ امانت کا بھی ہے، اس لیے ان کی تربیت پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ان سے بدسلوکی اور ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں کوتاہی پورے معاشرے کے لیے مضر ہے۔
08/01/2022
اتفاق کرتے ہو تو شئر کرے۔۔۔
08/01/2022
بچوں کی تربیت کیسے کریں؟؟؟
یقینا یہ ایک پیچیدہ اور اہم مسئلہ ہے، ہر ذمہ دار اور نگراں پر اپنے متعلق ماتحتوں کی تربیت کا فریضہ عائد ہوتا ہے، استاذ کے ذمہ اپنے شاگردوں کی،شیخ کے اوپر اپنے مریدین کی، والدین پر اپنی اولاد کی، ان کی نفسیات کا لحاظ رکھ کر صحیح تربیت کرنا لازم اور ضروری ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے، الا کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ. (مشکوٰة،ص:۳۲۰) (مسلمانو! تم میں سے ہر ایک حکمراں ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کی نسبت سوال کیا جائے گا) بچپن میں بچہ کے دل کی تختی چونکہ صاف شفاف ہوتی ہے۔ پھر جیسے ماحول میں بچہ کی نشوونما ہوتی ہے ایسے ہی اثرات اس کے دل ودماغ پر نقش ہوجاتے ہیں اور عام طور سے اسی پر اس کی آئندہ زندگی کی تعمیر ہوتی ہے لہٰذا مربی کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچہ کے لئے خوشگوار ماحول مہیا کریں شریر بچوں سے الگ رکھیں گھریلو زندگی میں بھی کوئی نامناسب بات یا غیرمہذب حرکت بچہ کے سامنے نہ کریں، حرکات وسکنات میں بھی سنجیدگی ومتانت ہو، بول چال میں پیار ومحبت اور تنبیہ میں توازن اور اعتدال قائم رہنا چاہئے، تہذیب و شائستگی کا خیال رکھے، چونکہ غیر محسوس طریقہ پر تمام چیزیں بچہ کے اندر منتقل ہوتی ہیں،اور وہ جس طرح کوئی کام دیکھتا یا کوئی بات سنتا ہے، عملاً اس کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، بچہ کی اخلاقیات پر بھی خاص توجہ دی جائے، محبت میں اس کی عادتیں بگڑنا شروع ہوجاتی ہیں، شریعت مطہرہ نے ہر موقعہ پر اعتدال کی تعلیم دی ہے۔
صحیح تربیت کردینا کروڑوں کی ملکیت سے بہتر ہے
میرے مربی حضرت مفتی مہربان علی شاہ بڑوتی رحمة الله عليه (جنہیں اللہ تعالیٰ نے تربیت کے باب میں خاص ملکہ دیا تھا) اپنے ایک مخصوص وصیت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں: ”بچہ کی صحیح تربیت کردینا کروڑوں کا مالک بنادینے سے بہتر ہے“ مزید فرمایا کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ اولاد کے لئے پریشان ہیں (کہ کوئی اولاد نہیں) اور بہت سے لوگ اپنی اولاد سے پریشان ہے (کہ بچپن میں صحیح تربیت نہیں کی گئی، پیار پیار میں ان کو بگاڑ دیا پھر پریشان ہیں کہ کیا کریں اولاد مطیع نہیں لڑکے نے بدنام کردیا، جینا مشکل کردیا وغیرہ) نیز یہ بھی اس زمانہ کا عام مزاج بناہوا ہے کہ اپنا بچہ اگر کوئی غلطی کردے یا کوئی غلط بات زبان سے نکال دے یا کسی دوسرے کے ساتھ بدتمیزی کرے تو اس کے والدین یا مربی یہ کہہ کر بات ختم کردیتے ہیں کہ بچہ ہی تو ہے آہستہ آہستہ سنور جائے گا، حالانکہ بچپن کا دور ہی بگڑنے سنورنے کا ہوتا ہے،اس وقت مزاج کے اندر فساد اور بگاڑ آگیا تو پھر مستقبل کا سنورنا سنورنا مشکل ہوجاتا ہے، لہٰذا بچہ کی سچی محبت اور اصلی ہمدردی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر ہر موقع پر اس کی نگرانی کی جائے، نامناسب امور میں اسے فہمائش کی جائے، وہ کسی کی جانب لالچ کی نگاہ نہ ڈالے، شروع ہی سے اس کو عادی بنایا جائے کہ وہ ہر چیز کا سوال اللہ سے کرے۔
حضور اکرم صلى الله عليه وسلم حضرت عبداللہ ابن عباس رضى الله تعالى عنه کو بچپن میں تعلیم فرماتے ہیں ”اے بچے! خدا کو یاد رکھ تو اس کو اپنے سامنے پائے گا، اور جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر اور جب تو مدد چاہے تو اللہ ہی سے مدد مانگ اور جان لے اس بات کو کہ اگر تمام لوگ اس بات پر اتفاق کرلیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کچھ نفع نہیں پہنچاسکتے جو کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے اور اگر سب لوگ اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہیں تو ہرگز اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے جو اللہ نے تیرے واسطے لکھ دیا ہے۔(مشکوٰة شریف،ص:۴۵۳)
تربیت کرنے میں کن اُمور کو ملحوظ رکھا جائے
بچپن سے ہی توحید کی بنیاد پر بچہ کی ذہن سازی کی جائے اور اس کا یقین اللہ کی ذات پر پختہ کرادیا جائے تو اس کے اثرات نمایاں محسوس ہوتے ہیں، توہمات سے اس کا دل ودماغ پاک رہتا ہے اس کے اندر غیرت اور خودداری آجاتی ہے اور بچپن میں بناہوا یقین دل میں پختگی کے ساتھ جم جاتا ہے۔ میرے ایک قریبی دوست کا بچہ ہے کم سنی کے باوجود اس کی نیک خصلتیں دیکھ کر بڑی مسرت ہوتی ہے، مثلاً کوئی چیز اسے دے کر واپس لیں تو واپس کردینا، کھانے کی چیز اگر اس کے ہاتھ میں ہے تو پہلے دوسروں کو دے کر پھر خود کھانا پیسے مانگنے کو منع کردیا تو ضد نہ کرنا، رونے پر فہمائش کرنے سے چپ ہوجانا، کلمہ یا سلام جو اسے سکھایا جائے تو اسے ادا کرنا وغیرہ، یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی بنیادی حیثیت ہے، اور بلا شبہ اس میں والدین کی تربیت کا دخل ہوتا ہے۔
یہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ بچہ بہرحال بچہ ہوتا ہے اس کو ہر ہر بات میں اتنا محتاط اور حساس بنادینا کہ وہ اپنی فطری عادتوں اور جائز شرارتوں کو بھی گناہ سمجھنے لگے اور اپنے عمل اور گفتگو سے کوئی بزرگ محسوس ہویہ اس کے بچپن کے ساتھ زیادتی ہے، بڑے ہوکر ایسے بچوں کے جذبات پر یا تو ایک پژمردگی سی آجاتی ہے، یا بچپن کی محرومیوں کا جوانی میں تدارک کرتا ہے جو زیادہ خطرناک ہے، اس لئے اخلاق وعادات کی اصلاح کے ضمن میں اعتدال اور توازن بہت ضروری ہے عموماً بچہ کی عادت پیسے مانگنے کی ہوتی ہے،اس عادت کو حد اعتدال میں رکھا جائے نہ تو یہ کہ اٹھتے بیٹھتے پیسے لینے ہی کو بچہ وظیفہ بنالے اور نہ ایسا کرے کہ بچہ احساس محرومی کا شکار ہوجائے کوئی دوست یا مہمان یا کوئی بھی آدمی کچھ چیز پیسے وغیرہ دے تو بچہ اپنے والدین کی اجازت بلکہ حکم کے بغیر نہ لے، کسی سے یونہی کوئی چیز لینے سے بھی عادت بگڑ جاتی ہے، چنانچہ آئندہ وہ شخص آجائے تو لالچ کی نگاہ بچہ اس پر ڈالتا ہے اوراُمید لگائے ہوتا ہے۔ اگر وہ آدمی دستی وغیرہ نکالنے کے لئے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے تو بچہ سمجھتا ہے کہ میرے لئے پیسے نکال رہے ہیں۔
مربی اس کا بھی خیال رکھے کہ ہمہ وقت بچہ کو ڈانٹ ڈپٹ یا فہمائش نہ کرتا رہے کہ اس سے یقینا وہ بجائے مانوس ہونے کے متوحش ہوجاتا ہے، بلکہ فرمانِ رسول صلى الله عليه وسلم من لم یرحم صغیرنا الخ (جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں) کو ملحوظ رکھ کر اُنس ومحبت کے ساتھ اس کی جائز ضد بھی پوری کی جائے یہ نہ ہو کہ بعض دفعہ تو دس دس روپے دیدئیے اور بعض اوقات جیب خالی ہے تو ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا اس پر بچہ یقینا ضد کرتا ہے اور پریشان ہوتا ہے، عادت چونکہ اس کی خرچ کرنے کی بن چکی ہے، اب اگر اس کے صرفہ میں تنگی ہوتی ہے تو پھر وہ ادھر اُدھر غلط نظر ڈالتا ہے۔ اس طرح چوری وغیرہ کی غلط عادت بھی بن سکتی ہے۔
الحاصل تربیت کا مسئلہ بڑا نازک ہوتا ہے، اس کے کچھ ضابطے، قوانین یا کچھ لکیریں مقرر نہیں کہ ان کو سامنے رکھ کر تربیت کی جاتی رہے، بلکہ تربیت کے طریقے، احوال ومواقع نفسیات وجذبات اور خیالات کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں، جتنے بچے والدین کی زیرتربیت ہیں، یا جس قدر طلبہ یا مریدین استاذ وشیخ کے یہاں حلقہ بگوش ہیں ہر ایک کے مزاج وعمر کے لحاظ سے تربیت کرنا لازم ہے، سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکا جائے۔ محسن انسانیت، مربیٴ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی باب تربیت میں جو تعلیمات ہیں اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کی تربیت کا عملی نمونہ مربی حضرات کے لئے مشعل راہ ہیں، طریق نبوی کے مطابق جو تربیت کی جائے گی بلاشبہ وہ باعث خیروبرکت ہوگی اور اس کے نمایاں اثرات مشاہدہوں گے۔ انشاء اللہ۔
اللّٰہم احسن عاقبتنا فی الامور کلہا.
29/12/2021
اسلام علیکم قابل احترام ولدین ، پشاور میں بچوں کا واحد بہترین ہوم ٹویشین اکیڈمی میں خوش آمدید ۔۔۔۔
قابل احترام ولدین جیسے کے آپ کو معلوم ہے کہ استاد ہی بچے کی مستقبل کو سنوارتا ہے_تو لیں ہم سے اپنے بچوں کی مستقبل کو سنوارنے کیلئے گھر بیٹے پروفیشنل ٹیوٹرز کی خدمات لے ۔
پہلی جمات سے لیکر دسویں جمات تک تمام مضامین تسلی بخش پڑھائے جاتے ہے۔
WhatsApp no : 03479530724
16/12/2021
اسلام علیکم قابل احترام ولدین ، پشاور میں بچوں کا واحد بہترین ہوم ٹویشین اکیڈمی میں خوش آمدید ۔۔۔۔
قابل احترام ولدین جیسے کے آپ کو معلوم ہے کہ استاد ہی بچے کی مستقبل کو سنوارتا ہے_تو لیں ہم سے اپنے بچوں کی مستقبل کو سنوارنے کیلئے گھر بیٹے پروفیشنل ٹیوٹرز کی خدمات لے ۔
پہلی جمات سے لیکر دسویں جمات تک تمام مضامین تسلی بخش پڑھائے جاتے ہے۔
15/12/2021
اسلام علیکم قابل احترام ولدین ، پشاور میں بچوں کا واحد بہترین ہوم ٹویشین اکیڈمی میں خوش آمدید ۔۔۔۔
قابل احترام ولدین جیسے کے آپ کو معلوم ہے کہ استاد ہی بچے کی مستقبل کو سنوارتا ہے_تو لیں ہم سے اپنے بچوں کی مستقبل کو سنوارنے کیلئے گھر بیٹے پروفیشنل ٹیوٹرز کی خدمات لے ۔
پہلی جمات سے لیکر دسویں جمات تک تمام مضامین تسلی بخش پڑھائے جاتے ہے۔
WhatsApp 03479530724