Gain Knowledge

Gain Knowledge

Share

assalamu alaikum
plz come to my page and gain some knowledge. God bless you. no additional information

23/10/2024

قسط نمبر 58
سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ -
یہودیوں کے سوالات
جونہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان گونجی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے وہ جلدی سے چادر سنبھالتے ہوئے اُٹھے اور تیز تیز چلتے مسجد نبوی میں پہنچے- مسجد میں پہنچ کر انہیں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے خواب کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے عرض کیا :
" اے اللہ کے رسول اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے٬میں نے بھی بالکل یہی خواب دیکھا ہے"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی خواب کی تصدیق سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
"اللّٰہ کا شکر ہے "
اب پانچوں وقت کی نمازوں کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے ان پانچ نمازوں کے علاوہ کسی موقع پر لوگوں کو جمع کرنا ہوتامثلاً سورج گرہن اور چاند گرہن ہوجاتا یا بارش طلب کرنے کے لیے نماز پڑھنا ہوتی تو وہ "الصلاۃ جامعۃ " کہہ کر اعلان کرتے تھے
اس طرح نبی اکرم ﷺ کے زمانے تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ موذن رہے- ان کی غیر موجودگی میں حضرت عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے-
آنحضرت ﷺ کے ظہور سے پہلے مدینہ منورہ کے یہودی قبیلۂ اوس اور قبیلۂ خزرج کے لوگوں سے یہ کہا کرتے تبھے :
" بہت جلد ایک نبی ظاہر ہوں گے ان کی ایسی ایسی صفات ہوں گی(یعنی حضور ﷺ کی نشانیاں بتایا کرتے تھے) ہم ان کے ساتھ مل کر تم لوگوں کو سابقہ قوموں کی طرح تہس نہس کردیں گے- جس طرح قوم عاد اور قوم ثمود کو تباہ کیا گیا-ہم بھی تم لوگوں کو اسی طرح تباہ کردیں گے "
جب نبی پاک ﷺ کا ظہور مبارک ہوگیا تو یہی یہود حضور پاک ﷺ کے خلاف ہوگئے اور سازشیں کرنےلگے-
جب اوس اور خزرج کے لوگ اسلام کے دامن میں آگئے تو بعض صحابہ نے ان یہودیوں نے کہا:
" اے یہودیو! تم تو ہم سے کہا کرتے تھے کہ ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں ان کی ایسی ایسی صفات ہوں گی-ہم ان پر ایمان لاکر تم لوگوں لو تباہ و برباد کردیں گے لیکن اب جبکہ ان کا ظہور ہوگی ہے تو تم ان پر ایمان کیوں نہیں لاتے-تم تو ہمیں نبی کریم ﷺ کا حلیہ تک بتایا کرتے تھے-
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جب یہ بات کہی تو یہودیوں میں سلام بن مشکم بھی تھا- یہ قبیلہ بنی نضیر کے بڑے آدمیوں میں سے تھا اس نے ان کی یہ بات سن کر کہا :
" ان میں وہ نشانیاں نہیں ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے تھے "
اس پر اللّٰہ تعالٰی نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 89 نازِل فرمائی-
ترجمہ : اور جب انہیں کتاب پہنچی(یعنی قرآن) جو اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اس کی بھی تصدیق کرنے والی ہے جو پہلے سے ان کے پاس ہے یعنی تورات٬ حالانکہ اس سے پہلے وہ خود (اس نبی کے وسیلے سے) کفار کے خلاف اللّٰہ سے مدد طلب کرتے تھے٬پھر وہ چیز آپہنچی جس کو وہ خود جانتے پہچانتے تھے (یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی نبوت)تو اس کا صاف انکار کر بیٹھے بس اللہ کی مار ہو ایسے کافروں پر-
اس بارے میں ایک روایت میں ہے کہ ایک رات حضور نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کے ایک بڑے سردار مالک بن صیف سے فرمایا:
"میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے موسی علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی،کیا تورات میں یہ بات موجود ہے کہ اللہ تعالٰی موٹے تازے"حبر" یعنی یہودی راہب سے نفرت کرتا ہے،کیونکہ تم بھی ایسے ہی موٹے تازے ہو،تم وہ مال کھا کھا کر موٹے ہوئے جو تمہیں یہودی لا لا کر دیتے ہیں -"
یہ بات سن کر مالک بن صیف بگڑ گیا اور بول اٹھا:
"اللہ تعالٰی نے کسی بھی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری-"
گویا اس طرح اس نے خود حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب تورات کا بھی انکار کردیا...اور ایسا صرف جھنجھلاہٹ کی وجہ سے کہا- دوسرے یہودی اس پر بگڑے-انھوں نے اس سے کہا:
"یہ ہم نے تمہارے بارے میں کیا سنا ہے-"
جواب میں اس نے کہا:
محمد نے مجھے غصہ دلایا تھا...بس میں نے غصہ میں یہ بات کہہ دی-"
یہودیوں نے اس کی اس بات کو معاف نہ کیا اور اسے سرداری سے ہٹادیا-اس کی جگہ کعب بن اشرف کو اپنا سردار مقرر کیا-
اب یہودیوں نے حضور اکرم ﷺ کو تنگ کرنا شروع کردیا،ایسے سوالات پوچھنے کی کوشش کرنے لگے جن کے جوابات ان کے خیال میں آپ ﷺ نہ دے سکیں گے-مثلاً ایک روز انھوں نے پوچھا:
عبداللّہ فارانی"اے محمد(ﷺ)آپ ہمیں بتائیں ،روح کیا چیز ہے؟-"
آپ ﷺ نے اس سوال کے بارے میں وحی کا انتظار فرمایا،جب وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے-"
یعنی آپ ﷺ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی:
ترجمہ:"اور یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں ،آپ فرمادیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے -"(سورۃ بنی اسرائیل:آیت85)
پھر انھوں نے قیامت کے بارے میں پوچھا کہ کب آئے گی-آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے...اس کے وقت کو اللّہ کے سوا کوئی اور ظاہر نہیں کرےگا-"(سورة الأعراف)
اسی طرح دو یہودی آپ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا:
آپ بتائیے!اللّہ تعالٰی نے موسی علیہ السلام کی قوم کو کن باتوں کی تاکید فرمائی تھی-
جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"یہ کہ اللّہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، بدکاری نہ کرو،اور حق کے سوا(یعنی شرعی قوانین کے سوا) کسی ایسے شخص کی جان نہ لو جس کو اللہ تعالٰی نے تم پر حرام کیا ہے،چوری مت کرو، سحر اور جادوٹونہ کرکے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ،کسی بادشاہ اور حاکم کے پاس کسی کی چغل خوری نہ کرو، سود کا مال نہ کھاؤ، گھروں میں بیٹھنے والی(پاک دامن) عورتوں پر بہتان نہ باندھو-اوراے یہودیو! تم پر خاص طور پر یہ بات لازم ہے کہ ہفتے کے دن کسی پر زیادتی نہ کرو،اس لیے کہ یہ یہودیوں کا متبرک دن ہے -"
یہ نو ہدایات سن کر دونوں یہودی بولے:
"ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی ہیں -"
اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تب پھر تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے؟"
انھوں نے جواب دیا:
"ہمیں ڈر ہے،اگر ہم مسلمان ہوگئے تو یہودی ہمیں قتل کرڈالیں گے-"
دو یہودی عالم ملک شام میں رہتے تھے-انہیں ابھی نبی کریم ﷺ کے ظہور کی خبر نہیں ہوئی تھی-دونوں ایک مرتبہ مدینہ منورہ آئے-مدینہ منورہ کو دیکھ کر ایک دوسرے سے کہنے لگے:
"یہ شہر اس نبی کے شہر سے کتنا ملتا جلتا ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہونے والے ہیں -"
اس کے کچھ دیر کے بعد انہیں پتا چلا کہ آنحضرت ﷺ کا ظہور ہوچکا ہے اور آپ ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے اس شہر مدینہ منورہ میں آچکے ہیں -یہ خبر ملنے پر دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے- انھوں نے کہا:
"ہم آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں ،اگر آپ نے جواب دےدیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے-"
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"پوچھو!کیا پوچھنا چاہتے ہو؟"
انھوں نے کہا:
"ہمیں اللہ کی کتاب میں سب سے بڑی گواہی اور شہادت کے متعلق بتایئے-"
ان کے سوال پر سورۂ آل عمران کی آیت 19 نازل ہوئی-آپ ﷺ نے وہ ان کے سامنے تلاوت فرمائی-
ترجمہ:اللہ نے اس کی گواہی دی ہے کہ سوائے اس کی ذات کے کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں اور فرشتوں نے بھی اور اہل علم نے بھی گواہی دی ہے اور وہ اس شان کے مالک ہیں کہ اعتدال کے ساتھ انتظام کو قائم رکھنے والے ہیں -ان کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں ،وہ زبردست ہیں ،حکمت والے ہیں -بلاشبہ دین حق اور مقبول،اللہ تعالٰی کے نزدیک صرف اسلام ہے-"
یہ آیت سن کر دونوں یہودی اسلام لے آئے-اسی طرح یہودیوں کے ایک اور بہت بڑے عالم تھے-ان کا نام حصین بن سلام تھا-یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے-ان کا تعلق قبیلہ بنی قینقاع سے تھے- جس روز آپ ﷺ ہجرت کرکے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں رہائش پذیر ہوئے،یہ اسی روز آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے-جونہی انھوں نے آپ ﷺ کا چہرۂ مبارک دیکھا،فوراً سمجھ گئے کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہوسکتا-پھر جب انہوں نے آپ ﷺ کا کلام سنا تو فوراً پکار اُٹھے:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں اور سچائی لے کر آئے ہیں -"
پھر ان کا اسلامی نام آپ ﷺ نے عبداللہ بن سلام رکھا-اسلام قبول کرنے کے بعد یہ اپنے گھر گئے-اپنے اسلام لانے کی تفصیل گھر والوں کو سنائی تو وہ بھی اسلام لے آئے

22/10/2024

قسط نمبر 57
سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ -
اسلامی بھائی چارہ
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے یہ قندیلیں مسجد میں لٹکادیں ، پھر رات کے وقت ان کو جلادیا - یہ دیکھ کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ہماری مسجد روشن ہوگئی، اللہ تعالٰی تمہارے لیے بھی روشنی کا سامان فرمائے، اللہ کی قسم! اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اس کی شادی تم سے کردیتا -"
بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد میں قندیل جلائی تھی -
مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ آپ ﷺ نے دو حجرے اپنی بیویوں کے لیے بنوائے تھے - (باقی حجرے ضرورت کے مطابق بعد میں بنائے گئے) - ان دو میں سے ایک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تھا اور دوسرا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا -
مدینہ منورہ میں وہ زمینیں جو کسی کی ملکیت نہیں تھیں ، ان پر آپ ﷺ نے مہاجرین کے لیے نشانات لگادئیے، یعنی یہ زمینیں ان میں تقسیم کر دیں - کچھ زمینیں آپ کو انصاری حضرات نے ہدیہ کی تھیں - آپ ﷺ نے ان کو بھی تقسیم فرمادیا اور ان جگہوں پر ان مسلمانوں کو بسایا جو پہلے قبا میں ٹھہر گئے تھے، لیکن بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ قبا میں جگہ نہیں ہے تو وہ بھی مدینہ چلے آئے تھے -
آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے لیے جو حجرے بنوائے، وہ کچے تھے - کھجور کی شاخوں ، پتوں اور چھال سے بنائے گئے تھے - ان پر مٹی لیپی گئی تھی -
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مشہور تابعی ہیں اور یہ تو آپ کو پتا ہی ہوگا کہ تابعی اسے کہتے ہیں جس نے کسی صحابی کو دیکھا ہو - وہ کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں امہات المومنین کے حجروں میں جاتا تھا، ان کی چھتیں اس قدر نیچی تھیں کہ اس وقت اگرچہ میرا قد چھوٹا تھا، لیکن میں ہاتھ سے چھتوں کو چھو لیا کرتا تھا -
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس وقت پیدا ہوئے تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو ابھی دو سال باقی تھے - وہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی باندی خیرہ کے بیٹے تھے - حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس کسی کام سے بھیجا کرتی تھیں - صحابہ کرام انہیں برکت کی دعائیں دیا کرتے تھے - حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا انہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھی لے گئی تھیں - حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ان الفاظ میں دعا دی تھی:
"اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ عطا فرما اور لوگوں کے لیے یہ پسندیدہ ہوں -"
مسجد نبوی کے چاروں طرف حضرت حارثہ بن نعمان کے مکانات تھے، آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں متعدد نکاح فرمائے تھے، جن میں دینی حکمتیں اور مصلحتیں تھیں ، جب بھی آپ ﷺ نکاح فرماتے تو حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ اپنا ایک مکان یعنی حجرہ آپ ﷺ کو ہدیہ کردیتے - اس میں آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ کا قیام ہوجاتا - یہاں تک کہ رفتہ رفتہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سارے مکان اسی طرح حضور ﷺ کو ہدیہ کردیے -
اسی زمانے میں آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصار مسلمانوں کے سامنے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ کیا - اس معاہدے کی ایک تحریر بھی لکھوائی - معاہدے میں طے پایا کہ یہودی مسلمانوں سے کبھی جنگ نہیں کریں گے، کبھی انہیں تکلیف نہیں پہنچائیں گے اور یہ کہ آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں وہ کسی کی مدد نہیں کریں گے اور اگر کوئی اچانک مسلمانوں پر حملہ کرے تو یہ یہودی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے - ان شرائط کے مقابلے میں مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں کی جان و مال اور ان کے مذہبی معاملات میں آزادی کی ضمانت دی گئی - یہ معاہدہ جن یہودی قبائل سے کیا گیا، ان کے نام بنی قینقاع، بنی قریظہ اور بنی نظیر ہیں -
اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا - اس بھائی چارہ سے مسلمانوں کے درمیان محبت اور خلوص کا بے مثال رشتہ قائم ہوا - اس بھائی چارہ کو مواخات کہتے ہیں - بھائی چارہ کا یہ قیام حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان پر ہوا - یہ بھائی چارہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ہوا - اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
"اللہ کے نام پر تم سب آپس میں دودو بھائی بن جاؤ-"
اس بھائی چارہ کے بعد انصاری مسلمانوں نے مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا - خود مہاجرین پر اس سلوک کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ پکار اٹھے:
"اے اللہ کے رسول! ہم نے ان جیسے لوگ کبھی نہیں دیکھے - انہوں نے ہمارے ساتھ اس قدر ہمدردی اور غم گساری کی ہے، اس قدر فیاضی کا معاملہ کیا ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی... یہاں تک کہ محنت اور مشقت کے وقت وہ ہمیں الگ رکھتے ہیں اور صلہ ملنے کا وقت آتا ہے تو ہمیں اس میں برابر کا شریک کرلیتے ہیں ... ہمیں تو ڈر ہے... بس آخرت کا سارا ثواب یہ تنہا نہ سمیٹ لے جائیں - "
ان کی یہ بات سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
" نہیں ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو گے اور انہیں دعائیں دیتے رہو گے -"
بعض علماء نے لکھا ہیکہ بھائی چارہ کرانا حضور نبی کریم ﷺ کی خصوصیت میں سے ہے - آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی نے اپنے امتیوں میں اس طرح بھائی چارہ نہیں کرایا -
اس سلسلہ میں روایت ملتی ہے کہ انصاری مسلمانوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنی ہر چیز میں سے نصف حصہ دے دیا - کسی کے پاس دو مکان تھے تو ایک اپنے بھائی کو دے دیا - اسی طرح ہر چیز کا نصف اپنے بھائی کو دے دیا - یہاں تک کہ ایک انصاری کی دو بیویاں تھیں انھوں نے اپنے مہاجِر بھائی سے کہا کہ میری دو بیویاں ہیں میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں - عِدّت پوری ہونے کے بعد تم اس سے شادی کرلینا - لیکن مہاجِر مسلمان نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا -
ان کاموں سے فارِغ ہونے کے بعد یہ مسئلہ سامنے آیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو کیسے بلایا کریں - آپ ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا - اس سلسلہ میں ایک مشورہ یہ دیا گیا کہ نماز کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا لہرادیا جائے - لوگ اس کو دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے اور ایک دوسرے کو بتادیا کریں گے - لیکن حضور اکرم ﷺ نے اس تجویز کو پسند نا فرمایا - پھر کسی نے کہا کہ بگُل بجادیا کریں - حضور اکرم ﷺ نے اس کو بھی نا پسند فرمایا کیونکہ یہ طریقہ یہودیوں کا تھا - اب کسی نے کہا کہ ناقوس بجا کر اعلان کردیا کریں آپ ﷺ نے اس کو بھی پسند نا فرمایا - اس لیے کہ یہ عیسائیوں کا طریقہ تھا -
کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ آگ جلادی جایا کرے - آپ ﷺ نے اس تجویز کو بھی پسند نا فرمایا اس لیے کہ یہ طریقہ مجوسیوں کا تھا
ایک مشورہ یہ دیا گیا
ایک شخص مقرر کردیا جائے کہ وہ نماز کا وقت ہونے پر گشت لگالیا کرے " چنانچہ اس رائے کو قبول کرلیا گیا چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اعلان کرنے والا مقرر کردیا گیا –
انہی دنوں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا انہوں نے ایک شخص کو دیکھا اس کے جسم پر دو سبز کپڑے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس (بگُل) تھا حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا " کیا تُم یہ ناقوس فروخت کرتے ہو " ......اس نے پوچھا
"تم اس کا کیا کروگے "
میں نے کہا : "ہم اس کو بجا کر نمازیوں کو جمع کریں گے " اس پر وہ بولا :
" کیا میں تمہیں اس کے لیے اس سے بہتر طریقہ نہ بتادوں "
میں نے کہا: " ضرور بتائیے" ..... اب اس نے کہا...... تم یہ الفاظ پکار کر لوگوں کو جمع کیا کرو "
اور اس نے اذان کے الفاظ دہرادیے - یعنی پوری اذان پڑھ کر انھیں سنادی - پھر تکبیر کہنے کا طریقہ بھی بتادیا -
صبح ہوئی تو حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا یہ خواب سُنایا ..... خواب سُن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
" بے شک ! یہ سچّا خواب ہے ان شاءاللہ! تم جاکر یہ کلمات بلال کو سکھادو تاکہ وہ ان کے ذریعے اذان دیں - ان کی آواز تم سے بلند ہے اور ذیادہ دل کش بھی ہے "
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انھوں نے کلمات سیکھنے پر صبح کی اذان دی,..... اس طرح سب سے پہلے اذان فجر کی نماز کے لیے دی گئی

22/10/2024

قسط نمبر 56
سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ -
مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کا آغاز
مسلمان پتھروں سے بنیادیں بھرنے لگے ۔بنیادیں تقریباً تین ہاتھ(ساڑھے 4 فٹ) گہری تھیں - اس کے لیے اینٹوں کی تعمیر اٹھائی گئی - دونوں جانب پتھروں کی دیواریں بنا کر کھجور کی ٹہنیوں کی چھت بنائی گئی اور کھجور کے تنوں کے ستون بنائے گئے - دیواروں کی اونچائی انسانی قد کے برابر تھی -
ان حالات میں کچھ انصاری مسلمانوں نے کچھ مال جمع کیا - وہ مال آپ ﷺ کے پاس لائے اور عرض کیا:
"اللہ کے رسول! اس مال سے مسجد بنائیے اور اس کو آراستہ کیجیے، ہم کب تک چھپر کے نیچے نماز پڑھیں گے -"
اس پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مجھے مسجدوں کو سجانے کا حکم نہیں دیا گیا -"
اسی سلسلے میں ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
"قیامت قائم ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ لوگ مسجدوں میں آرائش اور زیبائش کرنے لگیں گے جیسے یہود اور نصارٰی اپنے کلیساؤں اور گرجوں میں زیب و زینت کرتے ہیں -"
مسجد نبوی کی چھت کھجور کی چھال اور پتوں کی تھی اور اس پر تھوڑی سی مٹی تھی - جب بارش ہوتی تو پانی اندر ٹپکتا... یہ پانی مٹی ملا ہوتا... اس سے مسجد کے اندر کیچڑ ہو جاتا - یہ بات محسوس کرکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! اگر آپ حکم دیں تو چھت پر زیادہ مٹی بچھا دی جائے تاکہ اس میں سے پانی نہ رِسے، مسجد میں نہ ٹپکے -"
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"نہیں ! یونہی رہنے دو -"
مسجد کے تعمیر کے کام میں تمام مہاجرین اور انصار صحابہ نے حصہ لیا - یہاں تک کہ خود حضور نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے ہاتھوں سے کام کیا - آپ ﷺ اپنی چادر میں اینٹیں بھر بھر کر لاتے یہاں تک کہ سینہ مبارک غبار آلود ہو جاتا - صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آنحضرت ﷺ کو اینٹیں اٹھاتے دیکھا تو وہ اور زیادہ جانفشانی سے ایینٹیں ڈھونے لگے - (یہاں اینٹوں سے مراد پتھر ہیں -) ایک موقع پر آپ ﷺ نے دیکھا کہ باقی صحابہ تو ایک ایک پتھر اٹھا کر لا رہے ہیں اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو پتھر اٹھا کر لا رہے تھے تو ان سے پوچھا:
"عمار! تم بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک پتھر کیوں نہیں لاتے -"
انہوں نے عرض کیا:
اس لیے کہ میں اللہ تعالٰی سے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب چاہتا ہوں -"
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بہت نفیس اور صفائی پسند تھے - وہ بھی مسجد کی تعمیر کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے - پتھر اٹھا کر چلتے تو اس کو اپنے کپڑوں سے دور رکھتے تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں - اگر مٹی لگ جاتی تو فوراً چٹکی سے اس کو جھاڑنے لگ جاتے - دوسرے صحابہ دیکھ کر مسکرادیتے -
مسجد کی تعمیر کے بعد حضور اکرم ﷺ اس میں پانچ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے - اس کے بعد اللہ تعالٰی کے حکم سے قبلے کا رخ بیت اللہ کی طرف ہو گیا - مسجد کا پہلے فرش کچا تھا، پھر اس پر کنکریاں بچھا دی گئیں - یہ اس لیے بچھائی گئیں کہ ایک روز بارش ہوئی، فرش گیلا ہوگیا - اب جو بھی آتا، اپنی جھولی میں کنکریاں بھر کر لاتا اور اپنی جگہ پر ان کو بچھا کر نماز پڑھتا - تب نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ سارا فرش ہی کنکریوں کا بچھا دو -
پھر جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو نبی کریم ﷺ نے مسجد کو وسیع کرنے کا ارادہ فرمایا - مسجد کے ساتھ زمین کا ایک ٹکڑا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تھا، یہ ٹکڑا انہوں نے ایک یہودی سے خریدا تھا - جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مسجد کو وسیع کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے زمین کا یہ ٹکڑا جنت کے ایک مکان کے بدلے میں خرید لیں -"
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے زمین کا وہ ٹکڑا ان سے لے لیا - مسجد نبوی کے بارے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اگر میری یہ مسجد صنعا کے مقام تک بھی بن جائے(یعنی اتنی وسیع ہوجائے) تو بھی یہ میری مسجد ہی رہے گی، یعنی مسجد نبوی ہی رہے گی -"
اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ، آپ نے مسجد نبوی کے وسیع ہونے کی اطلاع پہلے ہی دے دی تھی اور ہوا بھی یہی - بعد کے ادوار میں اس کی توسیع ہوتی رہی ہے اور اس کا سلسلہ جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا -
مسجد نبوی کے ساتھ ہی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے لیے دو حجرے بنائے گئے - یہ حجرے مسجد نبوی سے بالکل ملے ہوئے تھے - ان حجروں کی چھتیں بھی مسجد کی طرح کھجوروں کی چھال سے بنائی گئی تھیں - مسجد نبوی کی تعمیر تک آپ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام پذیررہے - آپ ﷺ نے ان کے مکان میں نچلی منزل میں قیام فرمایا تھا، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نے آپ ﷺ سے درخواست کی تھی:
"حضور! آپ اوپر والی منزل میں قیام فرمائیں -"
اس پر آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا:
"مجھے نیچے ہی رہنے دیں ... کیونکہ لوگ مجھ سے ملنے کے لیے آئیں گے، اسی میں سہولت رہے گی -"
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
" ایک رات ہماری پانی کی گھڑیاں ٹوٹ گئی - ہم گھبرا گئے کہ پانی نیچے نہ ٹپکنے لگے اور آپ ﷺ کو پریشانی نہ ہو...تو ہم نے فوراً اس پانی کو اپنے لحاف میں جذب کرنا شروع کردیا... اور ہمارے پاس وہ ایک ہی لحاف تھا اور دن سردی کے تھے -"
اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے پھر آپ ﷺ سے اوپر والی منزل پر قیام کرنے کی درخواست کی... آخر آپ ﷺ نے ان کی بات مان لی -
ان کے گھر کے قیام کے دوران آپ ﷺ کے لیے کھانا حضرت اسعد بن زرارہ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے ہاں سے بھی آتا تھا -
اس تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت زید بن رافع رضی اللہ عنہما کو مکہ بھیجا تاکہ حضور اکرم ﷺ کے گھر والوں کو لے آئیں - حضور اکرم ﷺ نے انہیں سفر میں خرچ کرنے کے لیے 500 درہم اور دو اونٹ دئیے - رہبر کے طور پر ان کے ساتھ عبداللہ بن اریقط کو بھیجا - سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ اخراجات برداشت کیے - ان کے گھر والوں کو لانے کی ذمے داری بھی انہیں ہی سونپی گئی - اس طرح یہ حضرات مکہ معظمہ سے آپ ﷺ کی صاحب زادیوں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو، آنحضرت ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا، اور دایہ ام ایمن رضی اللہ عنہا( جو زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں )اور ان کے بیٹے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو لے کر مدینہ منورہ آگئے۔حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی دایا کے بیٹے تھے اور آپ ﷺ کو حد درجے عزیز تھے۔
آپ ﷺ کی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا چونکہ شادی شدہ تھیں اور ان کے شوہر اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔اس لیے انہیں ہجرت کرنے سے روک دیا گیا۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بعد میں ہجرت کی تھی اور اپنے شوہر کو کفر کی حالت میں مکہ ہی چھوڑ آئی تھیں ۔ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ تھے۔یہ غزوہ بدر کے موقع پر کافروں کے لشکر میں شامل ہوئے، گرفتار ہوئے، لیکن انہیں چھوڑ دیا گیا، پھر یہ مسلمان ہوگئے تھے۔
آپ ﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہلے ہی حبشہ ہجرت کرگئی تھیں ۔یہ بعد میں حبشہ سے مدینہ پہنچے تھے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والے بھی ساتھ ہی مدینہ منورہ آگئے۔ان میں ان کی زوجہ محترمہ حضرت ام رومان، حضرت عائشہ صدیقہ اور ان کی بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہا شامل تھیں ۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ آئے۔حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا۔
"جس شخص کو جنت کی حوروں میں سے کوئی حور دیکھنے کی خواہش ہو، وہ ام رومان کو دیکھ لے۔"
ہجرت کے اس سفر میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے قبا میں ٹھہرنا پڑا۔ان کے ہاں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔بچے کی پیدائش کے بعد مدینہ پہنچیں اور اپنا بچہ آپ ﷺ کی گود میں برکت حاصل کرنے کے لیے پیش کیا - یہ ہجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں پہلا بچہ تھا - ان کی پیدائش پر مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی، کیونکہ کفار نے مشہور کر دیا تھا کہ جب سے رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین مدینہ آئے ہیں ، ان کے ہاں کوئی نرینہ نہیں ہوئی کیونکہ ہم نے ان پر جادو کردیا ہے - حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر ان لوگوں کی یہ بات غلط ثابت ہوگئی، اس لیے مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی -
مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوگئی تو رات کے وقت اس میں روشنی کا مسئلہ سامنے آیا - اس غرض کے لیے پہلے پہل کھجور کی شاخیں جلائی گئیں - پھر حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو وہ اپنے ساتھ قندیلیں ، رسیاں اور زیتون کا تیل لائے -

06/10/2024

قسط نمبر 55
سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ -
مسجد نبوی کی تعمیر
جمعہ کی یہ پہلی نماز مدینہ منورہ کے محلے بنی سالم کی جس مسجد میں آپ نے جمعہ ادا کیا، اب اس مسجد کو "مسجد جمعہ" کہا جاتا ہے۔یہ قبا کی طرف جانے والے راستے کے بائیں طرف ہے۔اس طرح یہ پہلی نماز جمعہ تھی۔حضور ﷺ نے اس نماز سے پہلے خطبہ بھی دیا تھا۔اس پہلے خطبے میں جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کا کچھ حصہ یہ تھا۔
"پس جو شخص اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانا چاہتا ہے تو ضرور بچالے۔چاہے وہ آدھے چھوہارے کے برابر ہی کیوں نہ ہو، جسے کچھ بھی نہ آتا ہو، وہ کلمہ طیبہ کو لازم کرلے، کیونکہ نیکی کا ثواب دوگنا سے لے کر سات سو گنا تک ملتا ہے اور سلام ہو اللہ کے رسول پر اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو۔"
نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ جانے کے لیے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے۔اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑدی، یعنی اسے اپنی مرضی سے چلنے کی اجازت دی۔اونٹنی نے پہلے دائیں اور بائیں دیکھا، جیسے چلنے سے پہلے فیصلہ کررہی ہوکہ کس سمت میں جانا ہے، ایسے میں بنی سالم کے لوگوں ( یعنی جن کے محلے میں جمعے کی نماز ادا کی گئی تھی)نے عرض کیا۔
"اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے ہاں قیام فرمایئے، یہاں لوگوں کی تعداد زیادہ ہے - یہاں آپ کی پوری حفاظت ہو گی... یہاں دولت بھی ہے، ہمارے پاس ہتھیار بھی ہیں ... ہمارے پاس باغات بھی ہیں اور زندگی کی ضرورت کی سب چیزیں بھی موجود ہیں -"
آپ ﷺ ان کی بات سن کر مسکرائے، ان کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا:
"میری اونٹنی کا راستہ چھوڑدو، یہ جہاں جانا چاہے، اسے جانے دو، کیونکہ یہ مامور ہے -"
مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالٰی کے حکم سے اونٹنی خود چلے گی اور اسے اپنی منزل معلوم ہے - آپ ﷺ نے ان حضرات کو دعا دی:
"اللہ تعالٰی تمہیں برکت عطا فرمائے -"
اس کے بعد اونٹنی روانہ ہوئی - یہاں تک کہ بنی بیاصہ کے محلے میں پہنچی - یہاں کے لوگوں نے بھی آپ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے ہاں ٹھہریں ، آپ ﷺ نے انہیں بھی وہی جواب دیا جو بنی سالم کو دیا تھا - اسی طرح بنی ساعدہ کے علاقے سے گزرے - ان حضرات نے بھی یہ درخواست کی - آپ ﷺ نے یہی جواب فرمایا - اونٹنی آگے بڑھی - اب یہ بنی عدی کے محلے میں داخل ہوئی، یہاں آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب کی ننھیال تھی - ان لوگوں نے عرض کیا:
"ہم آپ کے ننھیال والے ہیں ، اس لیے یہاں قیام فرمایئے - یہاں آپ کی رشتہ داری بھی ہے، ہم تعداد میں بھی بہت ہیں - آپ کی حفاظت بھی بڑھ چڑھ کر کریں گے، پھر یہ کہ ہم آپ کے رشتہ دار بھی ہیں ، سو ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں -"
آپ ﷺ نے انہیں بھی وہی جواب دیا کہ یہ اونٹنی مامور ہے، اسے اپنی منزل معلوم ہے - اونٹنی اور آگے بڑھی اور اسی محلے میں ایک جگہ بیٹھ گئی - یہ جگہ بنی مالک بن نجار کے محلے کے پاس تھی اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے کے قریب تھی -
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا نام خالد بن زید نجار انصاری تھا - یہ قبیلہ خزرج کے تھے - بیعت عقبہ کے موقع پر موجود تھے - ہر موقع پر حضور ﷺ کے ساتھ رہے - حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بہت قریبی معاونین میں سے رہے - ان کی وفات یزید کے دور میں قسطنطنیہ کے جہاد کے دوران ہوئی -
اونٹنی بیٹھ گئی، ابھی آپ ﷺ اس سے اُترے نہیں تھے کہ وہ اچانک پھر کھڑی ہوگئی... چند قدم چلی اور ٹھہر گئی... آپ ﷺ نے اس کی لگام بدستور چھوڑے رکھی تھی - اونٹنی اس کے بعد واپس اس جگہ آئی جہاں پہلے بیٹھی تھی - وہ دوبارہ اسی جگہ بیٹھ گئی - اپنی گردن زمین پر رکھ دی اور منہ کھولے بغیر ایک آواز نکالی - اب نبی اکرم ﷺ اس سے اترے - ساتھ ہی فرمایا:
"اے میرے پروردگار! مجھے مبارک جگہ پر اتارنا اور تو ہی بہترین جگہ ٹھہرانے والا ہے -"
آپ ﷺ نے یہ جملہ چار مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر فرمایا:
"ان شاء اللہ! یہی قیام گاہ ہوگی -"
اب آپ ﷺ نے سامان اتارنے کا حکم دیا - حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"کیا میں آپ کا سامان اپنے گھر لے جاؤں -"
آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی - وہ سامان اتار کر لے گئے - اسی وقت حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ آگئے - انہوں نے اونٹنی کی مہار تھام لی اور اونٹنی کو لے گئے، چنانچہ اونٹنی ان کی مہمان بنی -
بنی نجار کے ہاں اترنے پر ان کی بچیوں نے دف ہاتھوں میں لے لیے اور خوشی سے سرشار ہوکر ان کو بجانے لگیں اور یہ گیت گانے لگیں :
ترجمہ:"ہم بنی نجار کے پڑوسیوں میں سے ہیں ، کس قدر خوش قسمتی کی بات ہے کہ محمد ﷺ ہمارے پڑوسی ہیں -"
ان کی آواز سن کر نبی اکرم ﷺ باہر نکل آئے - ان کے نزدیک آئے اور فرمایا:
"کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟"
وہ بولیں :
"ہاں ! اے اللہ کے رسول -"
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :
"اللہ جانتا ہے، میرے دل میں بھی تمہارے لیے محبت ہی محبت ہے -"
آنحضرت ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر اس وقت تک ٹھہرے جب تک کہ مسجد نبوی اور اس کے ساتھ آپ ﷺ کا حجرہ تیار نہیں ہوگیا -آپ تقریباً گیارہ ماہ تک وہاں ٹھہرے رہے -
آپ ﷺ جب قبا سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو ساتھ اکثر مہاجرین بھی مدینہ منورہ آگئے تھے - اس وقت انصاری مسلمانوں کا جذبہ قابل دید تھا - ان سب کی خواہش تھی کہ مہاجرین ان کے ہاں ٹھہریں - اس طرح ان کے درمیان بحث ہوئی - آخر انصاری حضرات نے مہاجرین کے لیے قرعہ اندازی کی - اس طرح جو مہاجر جس انصاری کے حصہ میں آئے، وہ انہی کے ہاں ٹھہرے، انصاری مسلمانوں نے انہیں نہ صرف اپنے گھروں میں ٹھہرایا بلکہ ان پر اپنا مال اور دولت بھی خرچ کیا -
مہاجرین کی آمد سے پہلے انصاری مسلمان ایک جگہ باجماعت نماز ادا کرتے تھے - حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے تھے - جب آپ ﷺ تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد بنانے کی فکر ہوئی - آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دی - اونٹنی چل پڑی، وہ اس جگہ جاکر بیٹھ گئی جہاں آج مسجد نبوی ہے، جس جگہ مسلمان نماز ادا کرتے رہتے تھے، وہ جگہ بھی اس کے آس پاس ہی تھی، اس وقت وہاں صرف دیواریں کھڑی کی گئی تھیں ... ان پر چھت نہیں تھی - اونٹنی کے بیٹھنے پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"بس! مسجد اس جگہ بنے گی -"
اس کے بعد آپ ﷺ نے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
"تم یہ جگہ مسجد کے لیے فروخت کردو -"
وہ جگہ دراصل دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی تھی اور اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ان کے سرپرست تھے - یہ روایت بھی آئی ہے کہ ان کے سرپرست معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے - آپ ﷺ کی بات سن کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"آپ یہ زمین لے لیں ، میں اس کی قیمت ان دونوں کو ادا کردیتا ہوں -"
آپ ﷺ نے اس سے انکار فرمایا اور دس دینار میں زمین کا وہ ٹکڑا خرید لیا - یہ قیمت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مال سے ادا کی گئی (واہ! کیا قسمت پائی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہ قیامت تک مسجد نبوی کے نمازیوں کا ثواب ان کے نامہ اعمال میں لکھا جارہا ہے -)
یہ روایت بھی ہے کہ آپ ﷺ نے ان دونوں یتیم لڑکوں کو بلوایا - زمین کے سلسلے میں ان سے بات کی - ان دونوں نے عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! ہم یہ زمین ہدیہ کرتے ہیں -"
آپ ﷺ نے ان یتیموں کا ہدیہ قبول کرنے سے انکار فرمادیا اور دس دینار میں زمین کا وہ ٹکڑا ان سے خرید لیا - حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں دس دینار ادا کردیں ، چنانچہ انہوں نے وہ رقم ادا کردی -
زمین کی خرید کے بعد آپ ﷺ نے مسجد کی تعمیر شروع کرنے کا ارادہ فرمایا، اینٹیں بنانے کا حکم دیا، پھر گارا تیار کیا گیا - آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پہلی اینٹ رکھی - پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ دوسری اینٹ وہ رکھیں - انہوں نے آپ ﷺ کی لگائی ہوئی اینٹ کے برابر دوسری اینٹ رکھ دی - اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا - انہوں نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اینٹ کے برابر تیسری اینٹ رکھی - اب آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا - انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اینٹ کے برابر چوتھی اینٹ رکھی - ساتھ ہی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"میرے بعد یہی خلیفہ ہوں گے -" (مستدرک حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے)
پھر حضور اقدس نے ﷺ نے عام مسلمانوں کو حکم فرمایا:
"اب پتھر لگانا شروع کردو -"

05/10/2024

قسط نمبر54
سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: مدینہ منورہ میں آمد

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ایک برتن لاؤ -"
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا ایک برتن اٹھا لائیں ... وہ اتنا بڑا تھا کہ اس سے آٹھ دس آدمی سیراب ہوسکتے تھے - غرض حضور ﷺ نے بکری کا دودھ نکالا - اس کے تھنوں میں دودھ بہت بھر گیا تھا - آپ ﷺ نے وہ دودھ پہلے اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کو دیا - انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا، اس کے بعد ان کے گھر والوں نے پیا - آخر میں نبی کریم ﷺ نے خود دودھ نوش فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا:
"قوم کو پلانے والا خود سب سے بعد میں پیتا ہے -"
سب کے دودھ پی لینے کے بعد آپ ﷺ نے پھر بکری کا دودھ نکال کر اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور وہاں سے آگے روانہ ہوئے -
شام کے وقت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کے شوہر ابو معبد ؓ لوٹے، وہ اپنی بکریوں کو چرانے کے لیے گئے ہوئے تھے - خیمے پر پہنچے تو وہاں بہت سا دودھ نظر آیا - دودھ دیکھ کر حیران ہوگئے، بیوی سے بولے:
"اے آُمّ معبد! یہ یہاں دودھ کیسا رکھا ہے... گھر میں تو کوئی دودھ دینے والی بکری نہیں ہے؟"
مطلب یہ تھا کہ یہاں جو بکری تھی، وہ تو دودھ دے ہی نہیں سکتی تھی - پھر یہ دودھ کہاں سے آیا؟
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا بولیں :
"آج یہاں سے ایک بہت مبارک شخص کا گزر ہوا تھا -"
یہ سن کر حضرت ابو معبد ؓ اور حیران ہوئے، پھر بولے:
"ان کا حلیہ تو بتاؤ -"
جواب میں اُمّ معبد رضی اللہ عنہا نے کہا:
"ان کا چہرہ نورانی تھا، ان کی آنکھیں ان کی لمبی پلکوں کے نیچے چمکتی تھیں ، وہ گہری سیاہ تھیں ، ان کی آواز میں نرمی تھی، وہ درمیانے قد کے تھے - (یعنی چھوٹے قد کے نہیں تھے) - نہ بہت زیادہ لمبے تھے، ان کا کلام ایسا تھا جیسے کسی لڑی میں موتی پرو دئیے گئے ہوں ، بات کرنے کے بعد جب خاموش ہوتے تھے تو ان پر باوقار سنجیدگی ہوتی تھی - اپنے ساتھیوں کو کسی بات کا حکم دیتے تھے تو وہ جلد از جلد اس کو پورا کرتے تھے، وہ انہیں کسی بات سے روکتے تھے تو فوراً رک جاتے تھے - وہ انتہائی خوش اخلاق تھے، ان کی گردن سے نور کی کرنیں پھوٹتی تھیں ، ان کے دونوں ابرو ملے ہوئے تھے - بال نہایت سیاہ تھے - وہ دور سے دیکھنے پر نہایت شاندار اور قریب سے دیکھنے پر نہایت حسین و جمیل لگتے تھے - ان کی طرف نظر پڑتی تو پھر دوسری طرف ہٹ نہیں سکتی تھی - اپنے ساتھیوں میں وہ سب سے زیادہ حسین و جمیل اور بارعب تھے - سب سے زیادہ بلند مرتبہ تھے -"
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کا بیان کردہ حلیہ سن کر ان کے شوہر بولے:
"اللہ کی قسم! یہ حلیہ اور صفات تو انہی قریشی بزرگ کی ہے، اگر میں اس وقت یہاں ہوتا تو ضرور ان کی پیروی اختیار کرلیتا اور میں اب اس کی کوشش کروں گا -"
چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت اُمّ معبد اور حضرت ابومعبد رضی اللہ عنہما ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تھے اور انہوں نے اسلام قبول کیا تھا -
حضرت اُمّ معبد رضی اللہ عنہا کی جس بکری کا دودھ آپ ﷺ نے دوہا تھا، وہ بکری حضرت عمر ؓ کی خلافت کے زمانے تک زندہ رہی -
ادھر مکہ میں جب قریش کو نبی کریم ﷺ کا کچھ پتہ نہ چلا تو وہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دروازے پر آئے - ان میں ابوجہل بھی تھا - دروازے پر دستک دی گئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بڑی بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا باہر نکلیں - ابوجہل نے پوچھا:
"تمہارے والد کہاں ہیں ؟"
وہ بولیں :
"مجھے نہیں معلوم -"
یہ سن کر ابوجہل نے انہیں ایک زوردار تھپڑ مارا - تھپڑ سے ان کے کان کی بالی ٹوٹ کر گرگئی -
اس پر بھی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے انہیں کچھ نہ بتایا - ابوجہل اور اس کے ساتھی بڑبڑاتے ہوئے ناکام لوٹ گئے -
ادھر مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ اللہ کے رسول مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے ہیں ... اب تو وہ بے چین ہوگئے - انتظار کرنا ان کے لیے مشکل ہوگیا - روزانہ صبح سویرے اپنے گھروں سے نکل پڑتے اور حرہ کے مقام تک آجاتے جو مدینہ منورہ کے باہر ایک پتھریلی زمین ہے - جب دوپہر ہوجاتی اور دھوپ میں تیزی آجاتی تو مایوس ہوکر وآپس لوٹ آتے - پھر ایک دن ایسا ہوا... مدینہ منورہ کے لوگ گھروں سے مقام حرہ تک آئے - جب کافی دیر ہوگئی اور دھوپ میں تیزی آگئی تو وہ پھر وآپس لوٹنے لگے - ایسے میں ایک یہودی حرہ کے ایک اونچے ٹیلے پر چڑھا - اسے مکہ کی طرف سے کچھ سفید لباس والے آتے دکھائی دئیے - اس قافلے سے اٹھنے والی گرد سے نکل کر جب آنحضرت ﷺ واضح طور پر نظر آئے تو وہ یہودی پکار اٹھا :
"اے گروہِ عرب! جن کا تمہیں انتظار تھا، وہ لوگ آگئے -"
یہ الفاظ سنتے ہی مسلمان وآپس دوڑے اور حرہ کے مقام پر پہنچ گئے - انہوں نے حضور اقدس ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو ایک درخت کے سائے میں آرام کرتے پایا -
ایک روایت میں ہے کہ پانچ سو سے کچھ زائد انصاریوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا -
وہاں سے چل کر حضور اقدس ﷺ قبا تشریف لائے - اس روز پیر کا دن تھا - آپ ﷺ نے قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کلثوم بن معدم ؓ کے گھر قیام فرمایا - بنی عمرو کا یہ گھرانہ قبیلہ اوس میں سے تھا - ان کے بارے میں روایت ملتی ہے کہ آپ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے -
قبا میں حضور ﷺ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی - اس کا نام مسجد قبا رکھا - اس مسجد کے بارے میں ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص نے مکمل طور پر وضو کیا، پھر مسجد قبا میں نماز پڑھی تو اسے ایک حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا... حضور اقدس ﷺ اکثر اس مسجد میں تشریف لاتے رہے - اس مسجد کی فضیلت میں اللہ تعالٰی نے سورۃ التوبہ میں ایک آیت بھی نازل فرمائی -
قبا سے آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے - جونہی آپ کی آمد کی خبر مسلمانوں کو پہنچی، ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی - حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ والوں کو آنحضرت ﷺ کی آمد پر جتنا خوش دیکھا، اتنا کسی اور موقع پر نہیں دیکھا... سب لوگ آپ ﷺ کے راستے میں دونوں طرف آکھڑے ہوئے اور عورتیں چھتوں پر چڑھ گئیں تاکہ آپ کی آمد کا منظر دیکھ سکیں - عورتیں اور بچے خوشی میں یہ اشعار پڑھنے لگے:
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّهِ دَاعِ
أَيُّهَا الْمَبْعُوْثُ فِيْنَا
جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ
ترجمہ:"چودھویں رات کا چاند ہم پر طلوع ہوا ہے - جب تک اللہ تعالٰی کو پکارنے والا اس سر زمین پر باقی ہے، ہم پر اس نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے - اے آنے والے شخص جو ہم میں پیغمبر بناکر بھیجے گئے ہیں آپ ایسے احکامات لےکر آئے ہیں جن کی پیروی اور اطاعت واجب ہے -"
راستے میں ایک جگہ حضور ﷺ بیٹھ گئے - حضرت ابوبکر ؓ حضور ﷺ کے پاس کھڑے ہوگئے - حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوچکے تھے جب کہ حضور اقدس ﷺ جوان نظر آتے تھے - حضور اقدس ﷺ کے بال سیاہ تھے، اگرچہ آپ ﷺ عمر میں حضرت ابوبکر ؓ سے دو سال بڑے تھے -
اب ہوا یہ کہ جن لوگوں نے پہلے آپ ﷺ کو نہیں دیکھا تھا، انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کے بارے میں خیال کیا کہ اللہ کے رسول یہ ہیں اور گرم جوشی سے ان سے ملنے لگے - یہ بات حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً محسوس کرلی... اس وقت تک دھوپ بھی حضور اکرم ﷺ پر پڑنے لگی تھی، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی چادر سے حضور اکرم ﷺ پر سایہ کردیا - تب لوگوں نے جانا اللہ کے رسول یہ ہیں -
پھر نبی کریم ﷺ اس جگہ سے روانہ ہوئے - آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے اور ساتھ ساتھ بہت سے لوگ چل رہے تھے - ان میں سے کچھ سوار تھے تو کچھ پیدل - اس وقت مدینہ منورہ کے لوگوں کی زبان پر یہ الفاظ تھے:
"اللہ اکبر! رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے -"
راستے میں آپ کی خوشی میں حبشیوں نے نیزہ بازی کے کمالات اور کرتب دکھائے... ایسے میں ایک شخص نے پوچھا:
"اے اللہ کے رسول! آپ جو یہاں سے آگے تشریف لے جارہے ہیں تو کیا ہمارے گھروں سے بہتر کوئی گھر چاہتے ہیں ؟"
اس کے جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مجھے ایک ایسی بستی میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے جو دوسری بستیوں کو کھالے گی -"
اس کا مطلب یہ تھا کہ دوسری بستی کے لوگوں پر اثر انداز ہوجائے گی یا دوسری بستیوں کو فتح کرلے گی -
یہ جواب سن کر لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کا راستہ چھوڑ دیا - اس بستی کے بارے میں سب کو بعد میں معلوم ہو گیا کہ وہ مدینہ منورہ ہے -
مدینہ منورہ کا پہلا نام یثرب تھا - یثرب ایک شخص کا نام تھا - وہ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا - مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی آمد جمعہ کے روز ہوئی، چنانچہ اس روز پہلا جمعہ پڑھا گیا.

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Peshawar