The RASL School System

The RASL School System

Share

For Education Purpose

09/09/2025

*نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے، مگر وہاں، جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا*

گرد و پیش زمین خشک تھی آسمان بلکل صاف، نہ بادل تھے نہ بارش کی کوئی آہٹ۔
لیکن نوحؑ کے کانوں میں وحی کی بازگشت تھی.
"ایک طوفان آنے والا ہے۔ زمین ڈوب جائے گی۔ سرکش غرق ہوں گے۔"
یہ عام آدمی کے لیے ایک دیوانے کا خواب ہو سکتا تھا، مگر نوحؑ کے لیے یہ رب کا وعدہ تھا۔
اللہ کا حکم تھا: "کشتی بناؤ"
اور وہ بنانے لگے۔ درختوں کو کاٹا گیا، لکڑیاں جوڑی گئیں، کیل ٹھونکے گئے۔ اور وہ تین منزلہ کشتی خشکی پر اٹھنے لگی۔
قوم کے سردار روز گزرتے، ہنستے، طعنے دیتے، اور کہتے: "کیا سمندر اب تمہارے خوابوں سے نکلے گا؟"
نوحؑ نے جواب دیا، جو قرآن میں آج بھی محفوظ ہے:
"وَيَصۡنَعُالۡفُلۡكَوَكُلّمَا مَرّعَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ سَخِرُوۡا مِنۡهُؕ قَالَاِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنّا فَاِنّا نَسۡخَرُمِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَؕ"
(سورہ ہود: 38)
"اگر تم ہم پر ہنستے ہو، تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے، جیسے تم ہنستے ہو۔"
یہ کشتی نہیں بن رہی تھی، یہ یقین لکڑی سے جوڑ بنا رہا تھا ، توکل کے کیلوں سے جُڑی ہوئی یہ کشتی، صبر کے پانی سے سیراب کی گئی تھی۔ نوحؑ نے قوم کے قہقہوں کو نہیں سنا، صرف رب کے حکم کو سنا۔
طوفان آیا۔
وہی زمین جسے لوگ خشک سمجھتے تھے، سمندر بن گئی۔ جو کل مذاق کر رہے تھے، آج مدد کیلئے چیخ رہے تھے۔ لیکن وقت گزر چکا تھا۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔
نجات صرف اُس کشتی میں تھی، جو وقت پر اللہ کے حکم پر بنائی گئی تھی۔
نوحؑ علیہ السلام پیغمبر تھے ، مگر ہم خاتم النبیین ﷺ کے اُمتی ہیں۔ ہمارے لیے بھی احکام ہیں، ہدایات ہیں، اور کچھ طوفان ہمارے ایمان، وقت، نسل، اور اقدار کو بہا لے جانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
آج ہمیں بھی خشکی پر اپنی کشتی بنانی ہے محنت کی، دعا کی، علم کی، اور نیت کی۔
بہت مذاق اڑے گا رکاوٹیں آئیں گی، تاخیر بھی ہوگی۔
مگر حکم ہو چکا ہے۔
کشتی بنانی ہے۔ اپنے ایمان کو بچانا ہے.
*پانی کا انتظار تو بس ڈوبنے کا دوسرا نام ہے یہ ایمان کا سفر ہے یہی بندگی کا امتحان ہے*
منقول
🤲 *جزاکم اللہ خیرا*
🌹 *صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم*

06/09/2025

*`کیا آپ کو معلوم ہے؟`*

ایک انسانی جسم کے اندر 39 ٹریلین خلیے ہوتے ہیں یعنی 390000000000000 خلیے جبکہ ایک 10 سالہ بچے میں 17 ٹریلین خلیے ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ھے کہ ہر ایک خلیے میں 46 کروموسومز ہوتے ہیں اور ہر کروموسوم میں دو DNA ہوتے ہیں, DNA کے اندر ایک دھاگہ ہوتا ھے اس دھاگے کی لمبائی چھ 6 فٹ ہوتی ہے۔ اب اگر ہم ایک بالغ انسان کے تمام خلیوں کے ڈی این اے کو زمین پر بالکل ایک سیدھی لائن میں رکھ دیں تو اس کی لمبائی 60 ٹریلین فٹ یا 10 ارب کلومیٹر بنتی ہے، دس ارب کلومیٹر کا یہ فاصلہ ہماری زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے سے 70 گنا سے بھی زائد ہے۔ سورج زمین سے تقریباً 149 ملین کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ جبکہ ان تمام خلیوں کے DNA ایز کے کل، دھاگوں کی لمبائی 10 ارب ہے۔

885 کلومیٹر فی گھنٹہ (550 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرنے والے اسپس کرافٹس سورج تک پہنچنے میں تقریباً 19 سال کا وقت لیتے ہیں،،، جبکہ 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والے اسپیس کرافٹس 177 سال کا وقت لیتے ہیں۔۔ یہ فاصلہ ایک جدید ترین الٹرا سونک طیارہ جس کی رفتار آواز سے آٹھ گنا تیز ہوتا ہے اس فاصلے کو 150 سال میں طے کرے گا اتنی لمبائی رکھنے کے باوجود یہ انتہائی کم جگہ گھیرتا ہے۔
الیکٹرانک ڈیزائنرز ایک سرکٹ میں کافی چیزوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرتے ہیں اور پھر کمپیوٹر کے ذریعے اسکو ایک دوسروں سے کنیکٹ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی کنیکشن میں جب پانی کا کوئی چھوٹا سا قطرہ بھی آجاتا ہے تو سارا سرکٹ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، جبکہ یہ 39 ٹریلین خلیے 24 گھنٹے پانی میں ادھر ادھر "تیرتے" رہتے ہیں اور ہر لمحہ ایک دوسرے سے رابطے میں بھی ہوتے ہیں مقصد یہ کہ ہمارا رب ایک بہترین سافٹ ویئر انجینئر بھی ہے کیوں کہ اس نے ہر انسان کے ہر خلیۓ اندر ہر ایک مکمل سافٹ ویئر انسٹال کر رکھا ہے,
ہمارے جسم میں ہر ایک خلیے کا DNA تقریباً 3 گیگا بائٹ جگہ گھیرتا ہے ایک گیگا بائٹ ایک ارب (1000000000) بائٹ کے برابر ہوتا ہے۔ یہ سوچ کر بندے کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کائنات کو بنانے والا بہت عظیم ھے کہ جس نے ایک پانچ فٹ انسان کے اندر ایک ایسا حیرانکن نیٹورک بنا کر رکھا ہوا ہے جسے ہم مائیکرو سکوپ کے بغیر دیکھ بھی نہیں سکتے۔

ایک انسان کے تمام خلیوں کی معلومات یا "Information" لکھنے کے لیے روئے زمین کے تمام وسائل ناکافی ہیں۔ اس لیے تو کائنات کے مالک سورہ لقمان آیت نمبر 27 میں فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔ "زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر دوات بن جائیں جسے سات (7) مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی۔ بےشک اللہ زبردست اور حکیم ہے"۔۔۔

05/08/2025
05/04/2025
04/04/2025

Innovate your children' s future with our System.

12/03/2025

کسی زمانے میں ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اس سے پوچھا گیا کے اسلام کی کس بات نے تجھے متاثر کیا.
تو وہ بولا کہ صرف ایک واقعہ میری ہدایت کا سبب بن گیا.
کہا مجلس رسول صلہ اللہ علیہ وسلم لگی ہوئی تھی لوگوں کا ہجوم تھا.
ایک شخص نے عرض کی حضورﷺ میرے لیے دعا کر دیں میرا بچہ کئی دنوں سے مل نہیں‌رہا مل جائے.
قبل اس کے کہ حضور کے ہاتھ اٹھتے ۔۔۔۔
ایک شخص مجلس میں موجود تھا , کھڑا ہو گیا حضورﷺ میں ابھی ابھی فلاں باغ سے گزر کر آیا ہوں .
اس کا بچہ وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا.باپ نے جب سنا کہ میرا بچہ فلاں باغ میں ہے تو اس نے دوڑ لگا دی.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو روکو واپس بلاٶ۔۔
اس نے کہا حضورﷺ
آپ جانتے ہیں کے ایک باپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں.کہا اچھی طرح سے آگاہ ہوں.. لیکن تمہیں بلایا ہے بلانے کا بھی ایک مقصد ہے. اس نے کہا جی حضور ﷺ ارشاد فرمائیں.
کہا جب باغ میں جاؤ بچوں کے ساتھ اپنے بچے کو کھیلتا ہوا دیکھ لو تو بیٹا بیٹا کہہ کر آوازیں نا دینے لگ جانا.
جو نام رکھا ہے اس نام سے پکارنا کہا حضور میرا بیٹا ہے اگر میں بیٹا کہہ کر بلاؤں تو حرج بھی کیا ہے.
فرمایا تم کئی دنوں کے بچھڑے ہو تمہارے لہجے میں بلا کا رس ہو گا
اور تم نہیں جانتے کے کھیلنے والوں میں کوئی یتیم بھی ہو.
اور جب تم اپنے بیٹے کو بیٹا کہہ کر پکارو گے اتنا میٹھا لہجہ ہو گا تو اس کے دل پر چوٹ لگے گی اور کہے گا کاش آج میرا بھی باپ ہوتا مجھے بیٹا کہہ کر پکارتا.فرمایا یہ شوق گھر جا کر پورا کرنا.
آپ نے فرمایا کسی بیوہ کے سامنے اپنی بیوی سے پیار نہ کرو،غریب کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کرنے سے روکا گیا.
حضور صل اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کے اپنے گوشت کی خوشبو سے اپنے ہمسائے کو تنگ نا کرو.
اس غیر مسلم نے کہا کے حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم کے اس واقعے نے
کہ کسی یتیم کے سامنے اپنے بیٹے کو بیٹا کہہ کر نہ پکارو
اس نے مجھے بتایا کہ اسلام کیا ہے۔“

❤صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم❤
💚💛💜

02/02/2025

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Peshawar