Physics notes

Physics notes

Share

“Every #positive thought is a silent prayer which will change your life.”
~Bryant McGill

24/07/2022
24/07/2022

Please answer?

23/07/2022

Mention your CR
Please share and like page

15/07/2022

غلط فہمیاں، E = mC² بارے

1905 میں مشہور زمانہ سائنسدان آئن سٹائن نے اپنے چار ریسرچ پیپر پبلش کئیے۔ جن میں سے ایک پیپر ماس اور انرجی کے تعلق۔پر مشتمل تھا، جسے آج ہم E=mC^2 بھی کہتے ہیں۔ آپ نے یقینا اس مساوات کے بارے سنا ہوگا۔ E=mC^2 ایک مشہور زمانہ مساوات ہے جس کے بغیر ماڈرن فزکس ادھوری ہے۔لیکن فزکس میں جس مساوات بارے لوگوں میں غلط فہمی ہائی جاتی یے وہ یہی مساوات ہے۔ اکثر لوگ اس مساوات بارے یہی تصور رکھتے ہیں کہ یہ مادہ کو انرجی میں بدلنے کی ایک مساوات ہے۔ فرض کریں کہ m ہمارے پاس ایک ماس ہے تو اگر وہ روشنی کی رفتار یعنی C سے سفر کررہا ہو تو وہ انرجی یعنی E میں تبدیل ہوجائے گا یاں یوں کہئیے کہ ہم مادہ کو انرجی یا انرجی کو مادہ میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ تمام باتیں ٹیکنیکلی غلط ہیں اور خقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس کی وجہ یہ یے کہ بقول آئن سٹائن کے حصوصی نظریہ اضافیت، اگر کوئی بھی چیز جس کا ماس ہو وہ کبھی بھی روشنی کی رفتار سے سفر نہیں کرسکتی۔ ہم اس مساوات کے کچھ پہلووں کو دیکھتے ہیں کہ دراصل اس کا مطلب کیا ہے۔

اگر ہم اس مساوات کو دیکھیں۔


• E = mC²

یہاں E سے مراد انرجی ہے، m سے مراد کسی مادہ کا ماس ہے۔ جبکہ C ایک کانسٹنٹ نمبر ہے جو مادہ اور انرجی کے درمیان ایک تعلق ہے۔ یہاں جو بات یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اس مساوات میں یہ مربع قیمت ہے۔ اکثر لوگوں میں اس بارے بھی غلط فہمی ہائی جاتی یے کہ C کی قیمت دوگنی کیوں ہے۔ دوگنی ہونے اور مربع ہونے میں فرق ہے۔ انرجی اور ماس کا تعلق کسی جسم کی رفتار کے مربع پر متعین ہوتا ہے۔

سب سے پہلی بات یہ مساوات ایسی بلکل نہیں, یعنی یہ مکمل مساوات نہیں۔ مکمل مساوات کچھ اس طرع ہے۔

• E² = p²c² + m²c⁴

اس مکمل مساوات سے ہم اس چیز کی انرجی معلوم کرسکتے ہیں جو خرکت کررہی ہے، لیکن اگر ہم کسی ایسے جسم کی انرجی معلوم کرنا چاہیں جو ساکن ہے تو p کی قیمت صفر ہوجائے گی۔

• p = 0

تو پھر یہ مساوات کچھ اس طرع ہوگی۔

• E² = (0)² . c² + m² . c⁴


جو کہ کچھ اس طرع بن جائے گی۔

• E² = m² . c⁴

اں جب ہم اس مساوات کا اسکئیر روٹ لیتے ہیں تو یہ کچھ اس طرع بن جائے گی۔

• ✓E² = √m² . c⁴



• E = mC²


اس مساوات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مساوات خرکت کرنے والے اجسام بارے نہیں۔ یہ مساوات ان اجسام کے لیے ہے جو ساکن ہیں۔ لہزا یہ کہنا کہ اس مساوات کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم سپیڈ آف لائٹ سے سفر کریں تو ماس انرجی میں بدل جائے گا، بلکل غلط ہے۔ یہ مساوات ہمیں یہ چیز بتاتی ہے کہ اگر کوئی جسم ساکن ہے تو اس میں کتنی انرجی مجود ہے۔ یعنی ایک کلو ماس کو اگر ہم سپیڈ آف لائٹ جو کہ تقریباََ تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے سے ضرب دیں تو اس ماس میں مجود انرجی کو ہم معلوم کرسکتے ہیں۔

یہاں ایک غلط فہمی جو یہ پھیلی ہے کہ مادہ کو انرجی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یا انرجی کو ماس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔ ایسا ہرگز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مساوات ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ مادہ اور انرجی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ مادہ بھی انرجی سے مل کر بنتا ہے۔ تو دراصل اس مساوات کے مطابق ہم انرجی ہی کی ایک قسم مادہ کو انرجی یا انرجی کو مادہ میں تبدیل کررہے ہوتے ہیں۔ یعنی انرجی ہی کی ایک شکل کو دوسری شکل میں منتقل کررہے ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس مادہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس انرجی ہے۔

یہ مساوات کچھ اس طرع ہے۔

• m = C²\E

فرض کریں ہمارے پاس کسی چیز کا ماس 1Kg ہے اور اگر ہم ماس انرجی مساوات سے اس کی انرجی معلوم کرنا چائیں تو ہم اسے سپیڈ آف لائٹ سے ضرب دینگے۔ تو یہ کچھ اس طرع ہوگا۔

• E = (1) .3 x 10^8

• E = 3x10^8 kJ

یعنی کہ ایک کلو ماس والے مادہ میں اس قدر زیادہ انرجی مجود ہے۔

آئین سٹائن کے اوریجینل پیپرز میں یہ مساوات کچھ اس طرع تھی۔

• m = L\C²

اس مساوات میں L انرجی کو ہی ظاہر کررہا ہے لہزا آسانی کے لیے ہم L کی جگہ E لکھ لیتے ہیں۔

• m = E\c^2

اس مساوات کو دیکھیں تو یہ چیز واضع ہے کہ کسی جسم کی اندرونی انرجی دراصل اس جسم کے ماس میں حصہ دال رہی ہوتی ہے۔ اور اسی بدولت ماس کم ہورہا ہوتا ہے۔ اس چیز کو ہم اس مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں

ہمارا سورج ایک بہت برا توانائی کا گولہ ہے جو ہر وقت، ہر لمحے شعائیں خارج کرتا رہتا ہے، یہ شعائیں آٹھ منٹ اور چھ سیکینڈ میں زمین تک پہنچتی ہیں۔ سورج سے آنی والی یہ توانائی ایک سیکنڈ میں 4x10^26 جول ہوتی ہے۔ اگر ہم اس مساوات سے سورج کی اس انرجی کا ماس معلوم کریں تو وہ کچھ اس طرع ہوگا۔

• m = 4 x 10^26 J\s \ 3 x10^8

• m = 4 x 10^9 kg\s

یعنی سورج ہر سیکینڈ میں اپنا اتنا ماس ضائع کرتا ہے۔لیکن فکرمند نہ ہوں، یہ سورج کی کیمیت کے مقابلے بہت کم ہے اور ابھی تک سورج کا صرف 0.097٪ ہی ماس ضائع ہوا ہے۔ دراصل سورج کے اندر مجود پاڑٹیکلز کی انرجی ضائع ہورہی ہوتی ہے جس کی بدولت اس کا ماس بھی ضائع ہورہا ہوتا ہے۔
Physics World Hassan Shehata Physics

15/07/2022

15/07/2022


Follow me for more updates Physics notes

15/07/2022

When physics Students obsess with Coffee😀.
Follow me for more updates Physics notes

Photos from Maths & Physics's post 23/04/2022
Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Peshawar