آج کی بدلتی دنیا کی حقیقت
"بے پناہ دفاعی طاقت رکھنے والا ملک ہی محفوظ رہ سکتا ہے-"
الحمدللہ! وطن عزیز پاکستان دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر ہو چکا ہے-
Engr. Mudassir Jalal Shah
Engineer/KP Govt Officer|Tech Enthusiast|Digital Marketer|Data Science and AI Researcher|Reader|Foodie|
ذرا سوچئیے کہ اس دنیا کو ترقی یافتہ بنانے اور یہاں تک پہنچانے میں کتنے لوگوں نے دن رات محنت کی ہو گی
کتنے معیشت دانوں نے دنیا کا معاشی نظام ترتیب دینے میں انتھک کوششیں کی ہونگی
کتنے لوگوں نے انفراسٹرکچر کو جدید اور لوگوں کی سہولت کے مطابق بنانے کے لیے محنت کی ہو گی
کتنے سائینسدانوں کی محنت شاقہ شامل ہو گی
اسکی گہرائی میں جائیں تو آپ بھی یہ جان سکتے ہیں کہ دنیا کو رہنے کی بہتر جگہ بنانے میں کس قدر محنت کی گئی مگر ۔۔۔۔۔۔۔
دو پاگل بندوں نے دنیا کو ایک عزاب میں مبتلا کر دیا اور پوری دنیا اس وقت ان دو پاگل بندوں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔۔۔
اور المیہ یہ ہے کہ دونوں کوئی ڈکٹیٹر نہیں جمہوری طور پر منتخب لیڈران ہیں۔۔
میں اس آڑ میں ڈکٹیٹر شپ کی حمایت نہیں کر رہا مگر میں جو کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ جمہوریت اب دم توڑ رہی ہے تو بلاوجہ نہیں لکھتا۔
آپ اسکی بے شمار وجوہات دے سکتے ہیں مگر اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ دنیا پر یہ عذاب اس وقت دو جمہوری لیڈران کا پیدا کردہ ہے۔
ناصر بٹ
پٹرول بچانے کیلئے
سکول اور تعلیم بند کرنے کی بجائے، سب کا مفت پٹرول بند ہو جانا چاہیے۔ ایک تشریف کو ادھر سے ادھر لے جانے کیلئے 40 گاڑیوں کی بجائے ایک ہی گاڑی استعمال میں لائ جاۓ۔ فریضہ سمجھ کر یہ مہم چلائی جائے۔ ہمارے حکمران مثالیں بڑی دیتے ہیں کہ جی فلاں ملک کا وزیر اعظم سائیکل پر دفتر آتا ہے، اور فلاں ملک کا پیدل چل کر، عمل کوئی نہیں کرنی- اسطرح کی سب سے بڑی بھڑکیں وہ حکمران مارتا تھا جو آج جیل میں ہے، 24 گھنٹے برطانیہ اور مغرب کی مثالیں دے دے کر منہ نہیں تھکتا تھا لیکن جب اقتدار میں آیا تو سب کا ریکارڈ توڑ ڈالا اور گاڑی استعمال کرنے کے بجائے دفتر جانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کر کے قوم کے شعور کو بڑھاتا رہا-
انجنیئر مدثر جلال شاہ
مجھ ان لوگوں کی باتوں پر ہنسی آتی ہے جو کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا کوئی اعتبار نہیں وہ کسی بھی وقت آنکھیں پھیر لے گا اور پاکستان کچھ کر نہیں پائے گا۔
ایک عظیم تجزیہ نگارو آپکے خیال میں جن کے ہاتھ میں پاکستانی سیکیورٹی کا نظام ہے انہیں اتنی بھی سمجھ نہیں جتنی آپکو گھر بیٹھے ملی ہوئی ہے اور انہیں یہ بالکل بھی معلوم نہیں کہ ٹرمپ کس طرح کا دوغلا آدمی ہے؟
پاکستانی فیصلہ ساز ٹرمپ کی نس نس کو جانتے ہیں اور جتنا وہ جانتے ہیں حالیہ تاریخ میں ایسا کوئی ملک موجود نہیں جو ان سے زیادہ جاننے کا دعویٰ کر سکے اور یہ بات ہم نہیں کر رہے عالمی جرائد اور لیڈران کر رہے ہیں۔
پاکستان خراب سے خراب صورتحال کی تیاری کر چکا ہے جو لوگ اگلی باری اگلی باری کا ورد کر رہے ہیں وہ خاطر جمع رکھیں انکل سام نے جو کٹا ایران میں کھولا ہے اسے باندھے گا تو اگلی باری کسی کی آئے گی۔
فی الحال تو پورا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ رہا ہے اور ایرانی حکومت نہایت کمزور پوزیشن کے باوجود کامیابی سے جنگ کو پھیلا کر امریکہ اور اسکی سٹپنی کو پریشان کر رہی ہے۔
آج کی خبر یہ ہے کہ دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس کریش ہو رہی ہیں،تیل گیس کی قیمتوں میں ایک دن میں پانچ فیصد اضافہ ہو گیا ہے امریکہ کا ایف 15 طیارہ کویت میں مار گرایا گیا ہے اب اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا تو برائے مہربانی پوگو دیکھیں۔
میں ان لوگوں میں سے نہیں جو ممولے کو شہباز سے لڑا کے ممولے کی جیت کی پیشگوئیاں بھی کرتے ہیں مگر یہ بات اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ایران جنگ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو گی جتنا امریکی عینک سے دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں۔
ملکی دفاع بارے جتنی کم بات کی جائے بہتر ہوتی ہے اسلیے ڈیڑھ سیانے بننے کی بجائے جو یہ کام کر رہے ہیں ان پر اعتماد رکھیں ہاں اگر کسی کی خواہش ہے کہ پاکستان کی باری فوری طور پر آئے تو ان بے غیرتوں پر چار حرف بھیجتے ہوئے یہ ضرور کہوں کا کہ اللہ کے کرم سے پاکستان کدو کھیرا نہیں ہے دنیا کے سات ممالک میں شامل ہے جو ایٹمی طاقت ہیں۔
اور ایٹمی طاقت ہونے کا مطلب سمجھتے ہیں آپ؟
ناصر بٹ
آپ کا ذہن ایک کھیت کی طرح ہے؛ جس بیج کو آپ بوئیں گے، ویسی ہی فصل اُگے گی۔ اگر آپ امید اور اچھے خیالات کے بیج ڈالیں گے تو کامیابی اور خوشگوار نتائج حاصل کریں گے۔ ✨
تمام اہل اسلام کو رمضان المبارک کی آمد مبارک ہو، اللہ تعالی اس مہینے کو ہمارے لیے رحمت اور نجات کا ذریعہ بنا دے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح اور دوٹوک ارشاد ہے:
“اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ”
(سورۃ البقرہ، آیت 208)
اس آیتِ مبارکہ کی مختصر مگر جامع تشریح یہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام کو بطورِ دین قبول کرتا ہے تو اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اسلامی تعلیمات کو نافذ کرے۔ چاہے وہ سیرت ہو یا صورت، ظاہر ہو یا باطن، عبادات ہوں یا معاملات، رہن سہن ہو یا میل جول، تجارت ہو یا ملازمت، حتیٰ کہ زندگی اور موت کے فیصلے بھی سب کچھ دینِ اسلام کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ اسلام آدھے ادھورے طرزِ عمل یا دوہرے معیار کی اجازت نہیں دیتا۔ “آدھا تیتر آدھا بٹیر” بننا دراصل اسی واضح قرآنی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بالکل اسی اصول کی بنیاد پر ریاستِ پاکستان کا آئین تشکیل دیا گیا ہے۔ آئینِ پاکستان کی تمہید (Objectives Resolution) واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے، اور ریاست کو یہ اختیار ایک مقدس امانت کے طور پر دیا گیا ہے تاکہ اسے قرآن و سنت کے مطابق استعمال کیا جائے۔ مزید یہ کہ آئین کی متعدد شقیں اس امر کی پابند کرتی ہیں کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا۔
قرآنِ کریم نے شراب کو نہایت واضح انداز میں حرام قرار دیا ہے، اور اسے “رجس” یعنی گندگی اور شیطانی عمل کہا گیا ہے۔ چنانچہ ایک ایسی ریاست جو خود کو اسلامی جمہوریہ کہتی ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے قوانین اور پالیسیوں کو اسلامی احکامات کے مطابق ڈھالے، اور شراب جیسے صریحاً حرام فعل پر مکمل اور غیر مبہم پابندی عائد کرے۔
اسی تناظر میں حالیہ سندھ اسمبلی میں پیش آنے والا واقعہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ ایک غیر مسلم رکنِ اسمبلی کی جانب سے شراب پر مکمل پابندی کے حق میں قرارداد پیش کی گئی، جو بظاہر آئین اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق تھی۔ مگر اس کے برعکس، مسلمان اراکینِ اسمبلی، جن میں سندھ کے وزیرِ داخلہ بھی شامل تھے، نے اجتماعی طور پر اس قرارداد کی مخالفت کی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف فکری تضاد کا مظہر ہے بلکہ ایک کھلی نظریاتی منافقت بھی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ قرارداد کس نے پیش کی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطورِ ریاست اور بطورِ قوم کس راستے کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ اگر پاکستان کو عملاً ایک سیکولر ریاست کے طور پر چلانا مقصود ہے تو پھر دیانت داری کا تقاضا ہے کہ اس کا کھل کر اعلان کیا جائے، تاکہ آئین، قانون اور ریاستی بیانیہ اسی کے مطابق ترتیب دیا جا سکے۔ اور اگر ہم خود کو ایک اسلامی ریاست کہتے ہیں جیسا کہ آئین میں درج ہے تو پھر ہمیں پورے خلوص اور جرات کے ساتھ اسلامی ریاست کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا، نہ کہ صرف نعروں اور رسمی دعوؤں تک خود کو محدود رکھا جائے۔
اسلام ہمیں اصولی، واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اب یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم آئین اور قرآن کو محض کتابی حوالہ سمجھتے ہیں یا واقعی ان کی روشنی میں اپنے اجتماعی نظام کو چلانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ابہام، دوغلا پن اور مصلحت پسندی نہ دین کے حق میں ہے اور نہ ہی ایک اسلامی ریاست کے مستقبل کے لیے۔
تحریر: انجنئیر مدثر جلال شاہ
24/08/2025
جرمن سائنسدانوں نے ایک انقلابی انجیکٹ ایبل جیل متعارف کرائی ہے جو خراب شدہ جوڑوں میں دوبارہ کارٹلیج اُگا سکتی ہے، اور گھٹنے اور کولہے کی تبدیلی (replacement) کی بہت سی سرجریوں کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ یہ بایو ایکٹیو ہائیڈروجل گروتھ فیکٹرز، کولیجن فائبرز اور اسٹیم سیل اٹریکٹینٹس سے بھری ہوئی ہے جو قدرتی کارٹلیج کی مرمت کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے۔
جب اسے کسی خراب جوڑ میں انجیکٹ کیا جاتا ہے تو یہ جیل ایک لچکدار ڈھانچہ (scaffold) بناتی ہے جو اصلی کارٹلیج کی نقل کرتی ہے۔ یہ جسم کے اپنے اسٹیم سیلز کو اپنی طرف کھینچتی ہے، جس سے تہہ در تہہ کارٹلیج کی دوبارہ افزائش شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ڈھانچہ حرکت کے مطابق ڈھلتا ہے اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ کلینیکل ٹرائلز میں شدید اوسٹیو آرتھرائٹس کے مریضوں میں صرف 60 دنوں کے اندر نمایاں کارٹلیج کی دوبارہ پیداوار دیکھی گئی، ساتھ ہی درد میں کمی اور حرکت میں بہتری بھی نوٹ کی گئی۔
روایتی امپلانٹس کے برعکس، اس جیل کے لیے سرجری کی ضرورت نہیں، طویل مدتی خرابی یا ردّ عمل کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا، اور یہ بغیر کسی بعد از آپریشن دوا کے سوزش کو بھی کم کر دیتی ہے۔ جب علاج مکمل ہو جاتا ہے تو یہ جیل قدرتی طور پر ختم ہو جاتی ہے اور صحت مند، فعال جوڑ کی بافت (tissue) پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔
یہ علاج لاکھوں مریضوں کے لیے زندگی بدلنے والا ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر نوجوان مریضوں اور کھلاڑیوں کے لیے جو بغیر سرجری صحتیاب ہونا چاہتے ہیں۔ یورپ میں اس کی ریگولیٹری منظوری جلد متوقع ہے، اور جرمنی کا منصوبہ ہے کہ 2026 تک یہ شاندار تھراپی کلینکس میں دستیاب ہو جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آرتھوپیڈک میڈیسن میں ایک نئے دور کی شروعات ہو سکتی ہے، جس میں مصنوعی جوڑوں کی جگہ جسم کی اپنی قدرتی شفا لے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایپل کو امریکہ میں ہی آئی فونز بنانے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کمپنیاں ملک کے اندر ہی پروڈکشن کریں۔ ایپل نے بھی وعدہ کیا کہ وہ اگلے چار سال میں امریکہ میں 500 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کرے گا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ میں نہ فیکٹریاں ہیں، نہ وہ ماہر لوگ، اور نہ ہی وہ سپلائرز کا جال جو چین یا ایشیا میں موجود ہے۔
ہم سب سمجھتے ہیں کہ آئی فون چین میں صرف اس لیے بنتے ہیں کیونکہ مزدوری سستی ہے، یہ ایک پرانی بات ہو چکی ہے۔ اصل کہانی تھوڑی زیادہ دلچسپ ہے، اور خود ایپل کے سی ای او ٹِم کُک نے ایک ویڈیو میں یہ سب کچھ کھول کر بیان کیا ہے۔
ٹم کُک کہتے ہیں کہ ’لوگ سمجھتے ہیں کمپنیاں چین مزدوری بچانے کے لیے جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین اب سستا نہیں رہا۔ مزدوری اب وہاں بھی کافی مہنگی ہو چکی ہے۔‘
تو پھر سوال بنتا ہے کہ ایپل آخر اپنے آئی فونز چین میں ہی کیوں بناتا ہے؟
ٹم کُک نے بتایا کہ اصل وجہ ہے مہارت۔ یعنی وہاں ایسے کاریگر اور انجینئرز موجود ہیں جن کے پاس جدید ٹولز سے کام کرنے کا بہت گہرا تجربہ ہے، اور نہ صرف تجربہ، بلکہ تعداد میں بھی وہ ہزاروں میں ہیں۔
امریکہ میں اگر ٹولنگ انجینئرز جو مشینیں بناتے اور چلاتے ہیں ان کی میٹنگ بلائی جائے تو شاید ایک چھوٹا سا کمرہ بھرے۔ لیکن چین میں آپ ایسے ماہرین سے فٹبال کے کئی میدان بھر سکتے ہیں۔
ٹم کُک نے کہا، ’ہم جو چیزیں بناتے ہیں اُن میں بہت باریکی اور ایک خاص قسم کی مہارت چاہیے، جو چین میں باآسانی مل جاتی ہے۔‘
امریکہ میں ابھی اس لیول کی فیکٹریاں، اتنے تجربہ کار لوگ، اور وہ سارے سپلائرز کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے، جو چین یا اب انڈیا جیسے ملکوں میں بن چکا ہے۔
ایپل اب چین کے بعد انڈیا کو اپنا دوسرا بڑا مینوفیکچرنگ مرکز بنانے میں لگا ہوا ہے۔
پچھلے 12 مہینوں میں ایپل نے انڈیا میں 22 ارب ڈالر کے آئی فونز بنائے! مطلب چین سے تھوڑا تھوڑا پیچھے ہٹ کر، ایپل انڈیا کی طرف موو کر رہا ہے تاکہ سب کچھ ایک جگہ پر نہ رہے۔
20/03/2025
نوجوان نسل کا مستقبل: بے مقصد موضوعات یا جدید ٹیکنالوجی؟
حالیہ دنوں ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل پر رمضان ٹرانسمشن میں ایک موصوف جنات کی شکل و صورت پر بحث و مباحثہ کرہے تھے- یہ سن اور دیکھ کر بڑا افسوس ہوا ہمارے ملک کے میڈیا پالیسیوں کے اوپر-
دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے، نئی ٹیکنالوجیز ہر لمحہ ہماری زندگیوں کو بدل رہی ہیں، اور قومیں مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI)، بائیوٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کرنسی، سائبر سیکورٹی اور اسپیس سائنس جیسے موضوعات پر عالمی سطح پر تحقیق ہو رہی ہے، اور ملکوں کی ترقی کا انحصار ان ہی علوم پر ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے موضوعات کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔
ہمارے ٹی وی چینلز پر اگر نظر دوڑائی جائے تو زیادہ تر گفتگو جنات، عملیات، علم نجوم، اور دیسی ٹوٹکوں اور انٹرٹینمنٹ پر ہوتی نظر آتی ہے۔ ان پروگراموں میں نوجوانوں کو ایسے غیر سائنسی نظریات اور واحیات میں الجھا دیا جاتا ہے جن کا ان کی عملی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں۔ ہم ایسے فضول مباحث میں الجھے رہتے ہیں جبکہ دنیا میں مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، روبوٹکس، اور نیورل نیٹ ورکس پر بات ہو رہی ہے۔ پڑوسی ملک کے ٹیلی وژن پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ان کی میڈیا پالیسی کے مطابق، ان کے میڈیا چینلز سے نشر کیے جانے والے اشتہارات میں بھی جدید دور کے ٹیکنالوجیز کے حوالے سے آگاہی کی جھلک نظر آتی ہے-
یہی موضوعات نوجوان نسل کی سوچ کو محدود کر رہے ہیں اور انہیں حقیقت سے دور لے جا رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہم آنے والے وقت میں دیگر قوموں سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی میڈیا پالیسی کو از سر نو ترتیب دیں۔
1. ٹیکنالوجی پر مبنی پروگرامز: صبح و شام کے ٹاک شوز میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بلاک چین، اور روبوٹکس جیسے جدید موضوعات پر بحث ہونی چاہیے۔
2. سائنس اور تحقیق کو فروغ دینا: نوجوانوں کو سائنسی تحقیقات کی طرف راغب کرنے کے لیے ٹی وی پر ایسے ماہرین کو بلایا جائے جو عملی میدان میں کامیاب ہیں۔
3. تعلیم و ہنر پر مباحثے: ہمارے چینلز کو نوجوانوں کو ہنر سکھانے پر توجہ دینی چاہیے، جیسے پروگرامنگ، فری لانسنگ، اور ڈیجیٹل سکلز۔
4. نئی ایجادات پر بات چیت: ہم ہر وقت ماضی کی کہانیوں میں الجھے رہتے ہیں، جبکہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نئی ایجادات، نئی سائنسی تحقیقات، اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر گفتگو کریں۔
نتیجہ
اگر ہم نے اپنی میڈیا پالیسی نہ بدلی اور وہی پرانے، غیر حقیقی، اور فضول موضوعات کو اہمیت دیتے رہے، تو ہماری قوم ترقی کے بجائے مزید پستی میں چلی جائے گی۔ ہمیں وہی موضوعات اپنانے ہوں گے جن پر ترقی یافتہ قومیں کام کر رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کریں، ورنہ دنیا ہمیں پیچھے چھوڑ کر بہت آگے نکل جائے گی۔ اللہ ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دے۔
16/03/2025
Pi is a new digital currency developed by Stanford PhDs, with over 55 million members worldwide now.
Pi Network doesn’t rely on traditional Proof-of-Work (PoW) mining like Bitcoin. Instead, it uses a consensus algorithm called Stellar Consensus Protocol (SCP), which doesn’t require high computational power.
Mining Pi is designed to be energy-efficient and mobile-friendly. Whether you use a smartphone or a high-end GPU, the mining speed remains the same because it depends on your activity and trustworthiness within the network, not your device’s processing power.
To claim your Pi, follow this link https://minepi.com/Mudi36074 and use my username (Mudi36074) as your invitation code.
🌈👏💸
Pi Network - Home Page Pi is a network of tens of millions of humans mining Pi cryptocurrency to use and build the Web3 app ecosystem.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000