Let,s Explore Islam
This page will help you to know about the basic
of Islam
ایک بحث چل رہی ہے کہ شریعت نے انسان کو ہر چیز کا پابند نہیں کیا ہے بلکہ انسان کو بھی اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جی سکتا ہے اپنی زندگی گزارنے کے لیے حدود اور جو اس کے لیے فائدہ مند ہو اس کا تعین خود عقل سے کرسکتا ہے اس لیے سیاست، معیشت اور حکومت میں مذہب کو درمیان میں لانا درست نہیں بلکہ یہ ایک دنیاوی کام ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا طریقہ کار بدل جاتا ہے جو اس وقت کا انسان اس کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اسکو کس طرح ان کو سر انجام دینا ہے اور شریعت نے اجازت بھی دی ہے کہ "أنتم أعلم بأمور دنياكم" کہ آپ لوگ اپنے دنیاوی کاموں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
اگرچہ اس بحث کو اب جدید دور کے تعلیم یافتہ اور مذہب بیزار انسان نے اٹھایا ہے لیکن یہ درحقیقت بہت پرانی ہے جو خاص کر استعماری قوتوں نے دین فروشوں کے زریعے اس وقت کے مسلمانوں کے ذہن میں بٹھائی تھی کہ دین کا سیاست یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ماضی قریب میں ہمارے بزرگ یہی کہا کرتے تھے کہ ایک عالم کو سیاست، وزرات اور حکومت زیب نہیں دیتی یہی وجہ تھی کہ امام کا کام صرف فضائل بیان کرنا اور ترغیب وترھیب تھا اگر تھوڑا بہت آگے پیچھے ہوجاتا تو مسجد کی امامت سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔
اس تصور پر گفتگو کرنے اور مذکورہ حدیث کا مفہوم سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس طرح قرآن کریم سمجھنے کے لیے شان نزول کی اہمیت ہے اسی طرح احادیث سمجھنے کے لیے شان ورود کی بھی اہمیت ہے اس کے بغیر کئی بار انسان اصل مفہوم سمجھنے سے محروم رہ جاتا ہے اس حدیث کا شان ورود رسول اللہ ﷺ کی کھجور کے پودے مخصوص طریقے سے لگانے کی تجویز تھی جو ناکام ثابت ہوئی تھی اب اس کو مطلق ماننا اور اس کے زریعے ہر کام کو دنیاوی کام قرار دے کر شریعت کی مداخلت کی نفی کرنا علمی، منہجی اور عقلی طور پر درست نہیں۔
یہ بات درست ہے کہ شریعت نے انسان کو دنیاوی کام میں اختیار دیا ہے لیکن یہ مطلق نہیں کہ وہ جو چاہیے کرلیں بلکہ شریعت کو مکمل ضابطہ حیات اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں ہر کام کے کچھ نا کچھ اصول، شروط اور آداب موجود ہیں تاکہ انسان ، انحراف اور افراط وتفریط نا کرے اور جب انسان اس کا خیال رکھتا ہے تو شریعت نے اس کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے دنیاوی کاموں کو نبھا سکتا ہے اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن جب انحراف اور افراط تفریط کرتا ہے تو شریعت مداخلت کرتی ہے۔
اس کی کئی مثالیں اہل علم نے زکر کی ہیں میں ان سے ایک مثال “جنگ” کی زکر کرتا ہوں جو کہ ایک دنیاوی کام ہے وقت کے ساتھ ساتھ جنگ کے طریقہ کار اور آلات میں تبدیلی ہوجاتی ہے لیکن شریعت اس کے باوجود اپنے ماننے والے انسان کو “وأعدوا لهم ما استطعتم"، "خذوا حذركم" اور “خبردار قوت نشانہ بازی میں ہے” کی تاکید کرتا ہے اور ساتھ جنگی اخلاق اور آداب بھی بتاتا ہے کہ مالی غنیمت میں خیانت نا کرے، دشمن کے ساتھ بد عہدی نا کرے، مثلی نا کرے، خواتین، بچوں، بوڑھوں اور جنہوں نے اسلحہ نہیں اٹھایا ہو کو قتل نا کرے لیکن اب جنگ میں کونسا اسلحہ استعمال کرنا ہے یا گھوڑے سے کرنی ہے یا جہاز اور ٹینک سے، تلوار استعمال کرنی ہے یا مشین گن، لیزر گن، راکٹ لانچر اور میزائل یہ انسان پہ چھوڑا ہے کہ وہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے کیوں کہ اس کا تعین کرنا شریعت کا کام ہی نہیں بلکہ وقت کے وزرات دفاع کا کام ہے اور یہی اس حدیث کا مطلب ہے جس کے زریعے ہر کام کو دنیاوی کام قرار دے کر مذہب بیزار لوگ اس کو شریعت کی مداخلت سے آزاد کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں حالاں کہ یہ ایک غلط تصور ہے سیاست ہو یا معیشت اور حکومت، جنگ ہو یا آمن و صلح شریعت نے اس میں انسان کو مطلقا آزادی نہیں دی ہے کہ وہ اپنے کاموں کو اچھی طرح جانتا ہے اس لیے جو چاہے کرسکتا ہے۔
عالم خان _ترکی
_________
(١٣/١٢/٢٠٢٠)
مادہ پرستانہ فلسفے کے ساتھ آدمی کے اندر کسی دیانت کا سؤال پیدا نہیں ہوتا۔
سید ابوالاعلی مودودی رح
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Peshawar