01/05/2024
#پاراچنار
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے کچھ لوگ سامنے آئے ہیں۔ مزید سامنے آنے اور سب کو سنگین سزا دینے کیلئے ہم مرکز (انجمن) اور تحریک حسینی سے التماس کرتے ہیں کہ بھرپور سزا دی جائے۔
حکومتی سطح پر سزا دینے کے ساتھ ان کے گھر بھی جلائے جائے۔
07/04/2024
لازمی شئیر کریں تاکہ سب تک پیغام پہنچ جائے۔
#پاراچنار
زخمیوں اور جانبحق افرادکو جب ڈی ایچ کیو ہسپتال لائے گئے تو طوری قوم جوک در جوک ایمرجنسی پہنچ گیا تو کوئی زخمیوں کو مرہم پٹی اور خون کے لئے بھاگ دوڑ کی تو کسی نے ساتھ والے چھوٹے بچے کو سینے سے لگا کر تسلی دی اور ساتھ ہی ایک زخمی باپ اپنے بیٹے سے بار بار مخاطب ہوکر کہنے لگا بیٹا گھبرانا نہیں یہ ہمارا اپنا ہسپتال ہے اپنے ہی لوگ ہیں زحمی کے چہرے پر اطمینان تھا
یقینا ہم سارے ایک ہی ہیں لہذا یہ کون لوگ ہیں جو ہمیں جینے نہیں دے رہے ہیں؟
20/03/2024
تاریخ و تمدن کا ایک صفحہ
#پاراچنار
کرم کی بڑی قدیم تہوار جسے عام لوگ “ إتڑ ” کے نام سے مناتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ لفظ “ یوی تڑ” ہے “ ہل باندھنا ” یعنی کھیتی باڑی کا آغازکرنا ۔ یہ تہوار سردیوں کے آخری مہینے( تورے چیلے) یعنی نوروز سے قبل منایا جاتا ہے.
اب عموما زمانے کے اقدار بدلنے کی وجہ سے اکثر و بیشتریہ تہوار متروک ہوچکا ہے ، لیکن کچھ دیہات میں اب بھی اسے مختلف اندازسے مناتے ہیں۔ یہ تہوار تاریخی لحاظ ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے کرم کے دو حصے ہیں۔
1- رود غاڑہ : دریاے کرم کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ دونوں کناروں پر آباد علاقوں کو رود غاڑہ کہتے ہیں ۔ ابتدائی تاریخ میں اصل لفظ “کورمہ” ان علاقوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ بطور مثال ملانہ کے معمر طوریوں کو یاد ہوگا کہ جب وہ سدرہ یا ڈل جاتے تھے تو کہا کرتے تھے “ کورمے تہ لاڑ وم”
2- دامان: یعنی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ڈھلوان وادیاں یا صحرا( دامن کوہ)
جب دریاے کرم اور کڑمان زیڑان شلوزان پیواڑ یا خرمانہ جیسے پہاڑی وادیوں میں بہنے والے نالوں ( جسے مقامی لوگ توے کہتے ہیں) کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے بند باندھ کر ندی اور نالوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بڑی زمینیں آباد ہویں گویا زراعت میں انقلاب آیا ۔ یہ تاریخ 12ویں صدی عیسوی کے وسط سے لیکر 13ویں صدی کے وسط تک ہے۔ اور یہ سید فخرعالم کا دور ہے جس نے لوگوں کے درمیان وقت کے مطابق زراعت کے نیے طریقے رایج کیے اور ایسے بند باندھ کر ندی نالوں کا جال بچھایا۔ یوی تڑ کے تہوارکا آغاز یہیں سے ہوا۔
عموما بیلوں کی جوڑی کے ہل کو سجا کر کسی کھیت میں قبلہ رو ہوکر پانج بل ( کرک) سے کھیتی باڑی کے نیے سال کا آغاز کرکے کسی معروف مومن شخص سے دعا کرواتے ہیں۔ کسی بزرگ کے ذریعے زیتون ( مقامی خاون )کے درخت سے فی گھر کے حساب سے شاخیں کاٹ کر لاتےہیں اور زیتون کو برکت سمجھ کر ان شاخوں کو گھر میں سنبھال کر رکھتے ہیں۔ دیہات کے خواتین مقامی کھانا ( مے وریژے) دہی اور خالص گھی کے ساتھ تیار کرکے نذر و نیاز کا اہتمام کرتی ہیں۔
اگر تاریخی اور زمینی حقایق کو سامنے رکھ لیں تو یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ کرم میں سربلند اور با عزت زندگی گذارنے میں قربانی اور راہ مقاومت اہم رموزضرور ہیں لیکن ان سے اہم اس خطے کی زرخیزی جنگل اور پہاڑ ہیں۔ جنکی وجہ سے صدیوں تک لوگ خود کفیل رہے۔ صرف نمک لوہا اور کچھ حد تک کپڑا باہر سے برآمد کرتے تھے۔زراعت کومقدس اور اس ذریعے سے حاصل کردہ روزی کو متبرک سمجھتے تھے. بلکہ اب بھی عام آدمی کا گذر بسر اسی زراعت یاپہاڑ سے ہے. لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ باہر دنیا کی ریل پیل نے کرم کے باسیوں کی توجہ اس مقدس پیشے سے ہٹالی ہے. گھر تو نت نیے بن رہے ہیں. بے ہنگم شہربغیر کسی قانون کے وسیع تر ہورہے ہیں. جسکا جدہر دل چاہے دیواریں اٹھا رہے ہیں. لیکن زراعتی نظام میں تبدیلی یا ترقی پر کچھ صرف نہیں ہورہا ہے. ژالہ باری یا پانی کے وسیع ذخایر کے باوجود خشک سالی کے بہانے بناے جارہے ہیں.
اگر تھوڑی توجہ دی جاے اور دنیا سے سیکھ کرنئی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر فارمنگ کی جاے تو یقین کریں ایک دو جریب کے جدید فارم ھاوس کے ذریعےآپ حلال طریقے سے دولتمند بن سکتے ہیں. یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر انسان خدا کی عطاکردہ نعمتوں اور وسایل کی نا قدری یا نا شکری کرے تو مکافات عمل سب کیلئے ہے.