Waqar Khan Official

Waqar Khan Official Daily Reflections non-partisan

ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے ایک ضروری تحریر حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میںآج کل پاکستان میں ایک عجیب لہر چل رہی...
15/04/2026

ایرانی ریال خریدنے والوں کے لیے ایک ضروری تحریر
حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں

آج کل پاکستان میں ایک عجیب لہر چل رہی ہے۔ لوگ دیوانوں کی طرح ایرانی ریال خرید رہے ہیں۔
ان کی سوچ یہ ہے کہ ابھی ایک کروڑ ایرانی ریال دس سے بارہ ہزار پاکستانی روپے میں مل رہا ہے، اگر کل کو ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہو جائے تو ان کے دس ہزار روپے ایک کروڑ روپے بن جائیں گے۔ یہ خواب بہت خوبصورت ہے لیکن کیا یہ حقیقت بن سکتا ہے؟
آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔

آج کی تاریخ میں ایک پاکستانی روپیہ تقریباً پانچ ہزار پانچ سو چالیس ایرانی ریال کے برابر ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں ایک ایرانی ریال کی قیمت صرف صفر اعشاریہ صفر صفر صفر دو ایک پاکستانی روپے ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے ایک کروڑ ایرانی ریال خریدے ہیں تو بین الاقوامی شرح تبادلہ کے مطابق ان کی اصل قیمت صرف دو ہزار ایک سو روپے ہے۔ پاکستان کی مقامی منڈی میں یہی ایک کروڑ ریال دس سے بارہ ہزار میں فروخت ہو رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ خریدتے وقت ہی بین الاقوامی شرح سے پانچ گنا زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہونے کے لیے کیا ہونا چاہیے؟
اس کے لیے ایرانی ریال کو اپنی موجودہ قیمت سے پانچ ہزار پانچ سو چالیس گنا بڑھنا ہوگا۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی کرنسی کے ساتھ اتنی بڑی قدر میں اضافہ کبھی نہیں ہوا۔ کویتی دینار دنیا کی سب سے مضبوط کرنسی ہے اور ایک کویتی دینار تقریباً نو سو پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ اگر ایران کویت جیسا بھی بن جائے جو کہ خود ایک خیالی بات ہے تو بھی ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

ایران کی معیشت اس وقت کس حال میں ہے یہ جاننا بھی ضروری ہے۔ سنہ انیس سو اناسی کے انقلاب کے وقت ایک امریکی ڈالر ستر ایرانی ریال کے برابر تھا۔ آج سنہ دو ہزار چھبیس میں ایک ڈالر پندرہ لاکھ سے سترہ لاکھ ریال تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایرانی ریال نے پچھلے پینتالیس سالوں میں اپنی قیمت کا بیس ہزار گنا کھو دیا ہے۔ مارچ دو ہزار پچیس میں ایرانی ریال دنیا کی سب سے کم قیمت کرنسی بن گئی جب شرح ایک ڈالر کے مقابلے میں دس لاکھ ریال سے تجاوز کر گئی۔ صرف سنہ دو ہزار پچیس میں ریال نے اپنی پینتالیس فیصد قیمت کھو دی۔

ایران کی مہنگائی اس وقت چوالیس اعشاریہ چھ فیصد سالانہ ہے جبکہ خوراک کی مہنگائی اٹھاون فیصد سے اوپر ہے۔ پھلوں کی قیمتیں پچھترفیصد بڑھ چکی ہیں اور روٹی اور اناج کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔ ایران کی ستاون فیصد آبادی غذائی کمی کا شکار ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ایران کی معیشت سنہ دو ہزار پچیس میں ایک اعشاریہ سات فیصد اور سنہ دو ہزار چھبیس میں مزید دو اعشاریہ آٹھ فیصد سکڑے گی۔ بائیس سے پچاس فیصد ایرانی عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں ری ڈینامینیشن کی جو سب سے بڑی غلط فہمی کی وجہ ہے۔ ایران نے منصوبہ بنایا ہے کہ ریال سے چار صفر ہٹا کر نئی کرنسی متعارف کرائی جائے جس میں ایک نئی اکائی دس ہزار پرانے ریال کے برابر ہوگی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ صفر ہٹانے سے کرنسی مضبوط ہو جائے گی لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ ری ڈینامینیشن صرف ایک حسابی تبدیلی ہے۔ یہ نہ مہنگائی کم کرتی ہے، نہ بجٹ خسارہ، نہ کرنسی کی اصل خریداری طاقت میں کوئی فرق آتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک کروڑ پرانے ریال ہیں اور چار صفر ہٹا دیے جائیں تو آپ کے پاس صرف ایک ہزار نئی اکائیاں ہوں گی اور ان کی قیمت بالکل وہی رہے گی جو پہلے تھی۔ آپ کے ایک کروڑ ریال ایک کروڑ نئی اکائیاں نہیں بنیں گے۔

اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات میں ایران اپنی بات منوا لے اور جنگ جیت جائے تو کیا کرنسی اوپر نہیں جائے گی؟
یہ سوال بالکل درست ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ریال کسی حد تک اوپر جائے گا لیکن کتنا؟
اس کے لیے تاریخ دیکھتے ہیں۔ سنہ دو ہزار پندرہ میں ایران نے اپنا سب سے بڑا سفارتی معاہدہ کیا جسے جے سی پی او اے کہتے ہیں۔ اس وقت ایران کی معیشت آج سے بہت بہتر تھی اور پابندیاں ہٹنے کے بعد ریال میں صرف بیس سے پچیس فیصد بہتری آئی تھی۔ آج صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

اسلام آباد میں ابھی جو مذاکرات ہو رہے ہیں ان میں ایران کی دس نکاتی تجویز میں منجمد اثاثوں کی واپسی، تمام پابندیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کا حق، یورینیم افزودگی کا حق اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کا خاتمہ شامل ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی پندرہ نکاتی تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام پر پابندی اور آبنائے ہرمز کھولنا شامل ہے۔ دونوں فریقوں میں سنگین اختلافات ہیں۔ جنگ میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار مارے جا چکے ہیں، بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور تین ہزار سے زائد ایرانی شہری جان سے گئے ہیں۔

فرض کریں سب سے بہتر صورتحال پیش آئے، تمام پابندیاں اٹھ جائیں، منجمد اثاثے واپس ملیں اور تیل کی برآمدات معمول پر آ جائیں تو بھی بہترین صورت میں ریال شاید دو سے تین گنا بہتر ہو یعنی ایک ڈالر کی قیمت پندرہ لاکھ سے گر کر پانچ سے سات لاکھ ریال ہو جائے۔ اس صورت میں آپ کے ایک کروڑ ریال کی قیمت بین الاقوامی منڈی میں دو ہزار سے بڑھ کر چار سے چھ ہزار روپے بنے گی۔ اور اگر ناممکن حد تک خوابوں کی دنیا میں ریال سنہ دو ہزار پندرہ کی سطح پر واپس آ جائے تو بھی آپ کے ایک کروڑ ریال صرف بارہ سے پندرہ ہزار روپے کے ہوں گے جو تقریباً وہی رقم ہے جو آپ نے ادا کی تھی۔ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہونے کے لیے تو ریال کو سنہ دو ہزار پندرہ کی سطح سے بھی اٹھائیس ہزار گنا مزید بڑھنا ہوگا جو ہر طرح سے ناممکن ہے۔

یہ کہانی بالکل نئی نہیں ہے۔ یہی کہانی عراقی دینار کے ساتھ بیس سال پہلے ہوئی تھی۔ سنہ دو ہزار تین کے بعد لوگوں نے سستا عراقی دینار اس امید پر خریدا کہ ایک دن اس کی قیمت اس کی پرانی سطح یعنی تین ڈالر فی دینار پر واپس آ جائے گی۔ بیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں اور ایک بھی پیشگوئی سچ نہیں ہوئی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے بار بار خبردار کیا ہے کہ اتنی بڑی ری ویلیوایشن معاشی طور پر ناممکن ہے۔ ہارورڈ اور لندن سکول آف اکنامکس کے ماہرین نے اسے مالیاتی فریب اور شکار کرنے والا جال قرار دیا ہے۔ امریکی عدالتوں نے عراقی دینار بیچنے والوں کو دھوکہ دہی کے جرم میں سزائیں دی ہیں۔ ایرانی ریال کے ساتھ بھی بالکل یہی ہو رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب سچ ہے تو پاکستان میں اتنے لوگ کیوں خرید رہے ہیں؟ اس کی دو الگ الگ وجوہات ہیں اور لوگوں نے دونوں کو ملا دیا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ایران کے راستے تجارت آسان بنا دی ہے۔ مارچ سے جون تک ایک عارضی چھوٹ دی گئی ہے جس سے ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کو برآمدات ہو سکتی ہیں۔ اس وجہ سے کراچی اور لاہور کے تاجروں کو تجارت کے لیے ریال چاہیے اور اصل طلب بڑھی ہے۔ بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ایرانی تیل آسانی سے دستیاب ہے اور ایران اپنے تیل کی ادائیگی اپنی کرنسی میں مانگ رہا ہے۔ یہ حقیقی تجارتی طلب ہے اور اس سے ریال کی مقامی قیمت بڑھی ہے۔

دوسری وجہ خالص قیاس آرائی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے ایک کروڑ ریال ڈھائی ہزار روپے میں ملتا تھا اور اب دس ہزار روپے میں بک رہا ہے یعنی مقامی منڈی میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اضافہ صرف پاکستان کی مقامی منڈی میں ہوا ہے جہاں سرحدی تجارت اور غیر رسمی لین دین کی وجہ سے ایک مصنوعی پریمیم بن گیا ہے۔ عالمی منڈی میں ریال اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ پاکستان ٹوڈے نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ ریال ڈالر اور یورو کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے لیکن پاکستانی تاجروں کو اچانک زیادہ ریال چاہیے تو کراچی اور لاہور میں اس کی مقامی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ پابندیاں، بینکنگ روابط کی کمی اور غیر رسمی تصفیے کے نظام ایسے مقامی پریمیم پیدا کرتے ہیں جو بین الاقوامی شرح تبادلہ کی سکرینوں پر نظر نہیں آتے۔

اب آخری بات واضح طور پر سمجھ لیں۔ اگر آپ ایرانی ریال سرحدی تجارت کے لیے خرید رہے ہیں تو یہ ایک حقیقی تجارتی ضرورت ہے اور اس میں سمجھداری ہے۔ اگر آپ مختصر مدت کی قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو تو دو تین گنا فائدہ ہو سکتا ہے تو یہ خطرناک ہے لیکن اس میں منطق ہے بشرطیکہ آپ نقصان برداشت کر سکیں۔ لیکن اگر آپ یہ سوچ کر خرید رہے ہیں کہ ایک ایرانی ریال ایک پاکستانی روپے کے برابر ہو جائے گا اور آپ کے دس ہزار ایک کروڑ بن جائیں گے تو یہ بالکل ناممکن ہے۔ ریاضی اس کی اجازت نہیں دیتی، معاشیات اس کی اجازت نہیں دیتی اور تاریخ میں کسی کرنسی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ عراقی دینار میں بیس سال پہلے پیسے لگانے والے آج تک انتظار کر رہے ہیں۔

اپنی محنت کی کمائی کسی خواب کی بنیاد پر مت لگائیں۔ اگر سرمایہ کاری کرنی ہے تو سونا، چاندی یا زمین جیسے حقیقی اثاثوں میں کریں جن کی قیمت پوری دنیا میں تسلیم شدہ ہے۔


یہ ہے پاکستان کی ترقی کا راستہ دنیا میں انسانوں نے بندر گاہیں بنائیں اور ایک الله نے بنائی !جی ہاں ، پاکستان کے صوبہ بلو...
15/04/2026

یہ ہے پاکستان کی ترقی کا راستہ
دنیا میں انسانوں نے بندر گاہیں بنائیں اور ایک الله نے بنائی !
جی ہاں ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گودار "نیچرل ڈیپ سی " بندرگاہ جسے یقینی طور پر الله پاک کی بنائی بندرگاہ کہا جاسکتا ہے .
پاکستان گودار بندرگاہ ، جو صرف ایک شہر نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقت کا دروازہ بن سکتی ہے. ایک ایسا تحفہ جو قدرت نے خود پاکستان کو عطا کیا ہے۔
گوادر کوئی عام بندرگاہ نہیں…
یہ ایک قدرتی Deep Sea Port ہے، جہاں سمندر کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑے کارگو جہاز آسانی سے ٹھیک بندرگاہ کے اوپر بغیر چھوٹی کشتیوں کی مدد کے لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔
دنیا میں ایسی بندرگاہیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ گوادر کو “21ویں صدی کا تجارتی ہب” کہا جا رہا ہے۔
اگر گوادر مکمل طور پر فعال ہو جائے تو:
پاکستان کو اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے
لاکھوں نئی نوکریاں پیدا ہوں گی
بلوچستان کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا
پاکستان عالمی تجارت کا مرکزی راستہ (Hub) بن سکتا ہے
یعنی گوادر صرف بندرگاہ نہیں… پاکستان کی معیشت کا انجن بن سکتا ہے۔
آج دبئی مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر گوادر مکمل فعال ہو گیا تو:
ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان نیا شارٹ روٹ بن جائے گا تجارت کا بڑا حصہ گوادر کی طرف منتقل ہو سکتا ہے .دبئی کی بندرگاہی برتری کو چیلنج ملے گا . اسی لیے کچھ ماہرین گوادر کو “Future Dubai Challenger” کہتے ہیں۔
گوادر کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی اہمیت ہے:
چین کیلئے: تیل اور سامان کی ترسیل کا راستہ ہزاروں کلومیٹر کم ہو جاتا ہے، مالاکا اسٹریٹ پر انحصار کم ہو جاتا ہے
روس کیلئے: گرم پانیوں تک رسائی کا خواب پورا ہو سکتا ہے ، عالمی تجارت میں نیا راستہ ملتا ہے
گوادر پاکستان کیلئے ایک Game Changer بن سکتا ہے اگر:
انفراسٹرکچر مکمل کیا جائے
سیکیورٹی مضبوط رکھی جائے
صنعتیں اور فیکٹریاں قائم کی جائیں
نوجوانوں کو ہنر اور روزگار دیا جائے
تب گوادر پاکستان کو ایک ترقی یافتہ معیشت کی طرف لے جا سکتا ہے۔
جہاں فائدہ ہو… وہاں مخالفت بھی ہوتی ہے۔ گوادر کے خلاف مختلف خدشات اور رکاوٹیں سامنے آئیں:
سیکیورٹی کے مسائل پیدا کرنے کی کوششیں
ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر
عالمی سطح پر پروپیگنڈا
اندرونی اختلافات کو ہوا دینا
کیونکہ ایک مضبوط گوادر… خطے کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔
گوادر صرف ایک بندرگاہ نہیں…
یہ پاکستان کا مستقبل، امید اور خودمختاری کی علامت ہے۔
اگر ہم نے اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا…تو شاید آنے والے وقت میں دنیا کہے:
راہِ تجارت اب گوادر سے گزرتی ہے!

وہ حقیقت جو آپ کی آنکھوں اور کانوں کے بیچ چھپائی جا رہی ہےکیا آپ اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین کر سکتے ہیں؟ بالکل نہیںآر...
13/04/2026

وہ حقیقت جو آپ کی آنکھوں اور کانوں کے بیچ چھپائی جا رہی ہے

کیا آپ اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین کر سکتے ہیں؟ بالکل نہیں
آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی اے آئی نے سچ اور جھوٹ کا فرق ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے

آج کسی کی بھی آواز اور چہرہ کاپی کر کے پوری دنیا کو دھوکا دیا جا سکتا ہے

ہم ایک ایسے ڈیجیٹل میٹرکس میں پھنس چکے ہیں جہاں حقیقت کچھ اور ہی ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے اس دجالی دور کی خوفناک نشان دہی کی تھی

آپ نے فرمایا تھا لوگوں پر دھوکے اور فریب کے سال آئیں گے جس میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا مانا

جائے گا اور دھوکے بازوں پر بھروسہ کیا جائے گا
آج کا میڈیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس بالکل یہی کام کر رہا ہے
سچ اور جھوٹ مکس ہو چکے ہیں
ہمارے ذہن یعنی مائنڈز کو الگوردم کے ذریعے چوبیس گھنٹے ہیک اور کنٹرول کیا جا رہا ہے

آپ وہی سوچتے ہیں، وہی خریدتے ہیں اور وہی دیکھتے ہیں جو یہ سسٹم آپ کو دکھانا چاہتا ہے

دجال کا سب سے بڑا ہتھیار کوئی تلوار نہیں بلکہ دھوکہ اور فریب ہوگا

احادیث کے مطابق اس کے پاس آگ اور پانی ہوگا لیکن آگ اصل میں پانی اور پانی آگ ہوگی

کیا یہ آج کی ورچل ریالٹی اور میٹا ورس کا اشارہ نہیں ہے جہاں لوگ ایک جھوٹی ڈیجیٹل جنت میں زندہ ہیں اور ان کی اصلی زندگی جہنم بن چکی ہے؟

مائیکرو چپس اور برین امپلانٹس کے ذریعے انسانی سوچ کو بالکل مشین کی طرح پروگرام کیا جا رہا ہے

ایک بٹن دباتے ہی پوری دنیا کی آبادی کی سوچ کو سیکنڈز میں بدلا جا سکتا ہے

یہ دجال کا سسٹم ہے جو تیزی سے اس پوری دنیا کو اپنے کنٹرول میں لے رہا ہے

ہم اپنی آزادی خود اپنے ہاتھوں سے ان اسکرینز اور سوشل میڈیا کے حوالے کر رہے ہیں

انسان فزیکل دنیا اور اپنے رشتوں سے کٹ کر ان دھوکے کے میٹرکس کا غلام بن چکا ہے

لیکن اس خوفناک میٹرکس سے نکلنے اور اپنے ایمان کو بچانے کا راستہ کیا ہے؟

نبی کریم نے فرمایا جو سورہ الکہف کی پہلی دس آیتیں یاد کرے گا وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا جائے گا

یاد رکھیں یہ کوئی عام وظیفہ نہیں ہے

سورہ کہف ہمیں سکھاتی ہے کہ جب پورا سسٹم دھوکہ دے دے تو اصحابِ کہف کی طرح غار میں پناہ لیں

آج کا غار یہ ہے کہ ان اسکرینز اور سوشل میڈیا کے فتنے سے خود کو فزیکلی ڈسکنیکٹ کریں

اپنی ان دھوکہ دینے والی آنکھوں پر نہیں بلکہ اللہ کی سچی کتاب پر بھروسہ کریں کیونکہ آنے والے وقت میں

آپ کی آنکھیں اور کان آپ کو سب سے بڑا دھوکہ دیں گے۔
اگر اس تحریر نے آپ کی سوچ کو بیدار کیا ہے تو اس وارننگ کو ہر مسلمان تک پھیلائیں

آپ نے اکثر سرکاری ملازموں، فوجی جرنیلوں اور پولیس کے اعلیٰ عہدے داروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد تیزی سے بوڑھا ہوتے دیکھا ہوگا...
05/04/2026

آپ نے اکثر سرکاری ملازموں، فوجی جرنیلوں اور پولیس کے اعلیٰ عہدے داروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد تیزی سے بوڑھا ہوتے دیکھا ہوگا، یہ لوگ سروس کے آخری دن تک ہشاش بشاش اور سمارٹ ہوتے ہیں، یہ قہقہے بھی لگاتے ہیں اور روز جاگنگ بھی کرتے ہیں لیکن آپ انہیں ریٹائرمنٹ کے ایک سال بعد دیکھیں توآپ کے لیے انہیں پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی کمر جھکی ہوتی ہے، ان کی نظر خراب ہو چکی ہوتی ہے، یہ دل کے دو دو آپریشن کرا چکے ہوتے ہیں، یہ صبح، دوپہر اور شام پانچ پانچ گولیاں کھا تے ہیں اور یہ آیات کا حوالہ دے دے کر نوجوانوں کو ڈرا رہے ہوتے ہیں، قرآن مجید پڑھنا، نمازیں ادا کرنا، عمرے کرنا، داڑھی رکھنا اور شلوار قمیض پہننا انتہائی شان دار سرگرمی ہوتی ہے۔
کیوں؟
اس کی وجہ فراریت ہے، یہ لوگ ریٹائرمنٹ تک ایکٹو ہوتے ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اپنا آپ فضول اور بے مقصد محسوس ہونے لگتا ہے چناں چہ یہ موت سے بچنے کے لیے ہسپتالوں اور مسجدوں کا چکر لگانا شروع کر دیتے ہیں، یہ ڈاکٹروں اور مولویوں کے قابو میں آ جاتے ہیں، لیکن آپ کو اس نوعیت کا ڈپریشن بل گیٹس جیسے لوگوں میں نہیں ملے گا، یہ لوگ بھی بوڑھے ہوتے ہیں لیکن یہ جوں جوں بوڑھے ہوتے ہیں، یہ پہلے سے زیادہ جوان، صحت مند اور ایکٹو ہو جاتے ہیں، کیوں؟ کیوں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کا مقصد جوان ہو جاتا ہے اور یہ مقصد ان لوگوں کو اس قدر توانائی دیتا ہے جوان پر بڑھاپے کو نرم کردیتا ہے، یہ مزید سے مزید ایکٹو ہوتے جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ بے مقصدیت ہے، ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا، ہم بڑے ہو جاتے ہیں، ہم جوان ہو جاتے ہیں اور ہم بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن ہماری زندگی میں کوئی مقصد، کوئی گول نہیں آتا، ہم بچپن اور جوانی تعلیم میں صرف کر دیتے ہیں، یہ تعلیم ہمیں ڈگری دے دیتی ہے اور ہم اس ڈگری کی بنیاد پر نوکری بھی حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ نوکری، یہ ڈگری اور یہ تعلیم بھی ہماری زندگی کو با مقصد نہیں بناتی، یہ ہمارے جسم، ہمارے ذہن اور ہماری روح میں جذبے نہیں جگاتی چناں چہ ہم اس بے مقصدیت کی وجہ سے زندگی میں بور ہوتے رہتے ہیں۔
اصل تبدیلی تب آتی ہے جب انسان کو اپنی اصل صلاحیت (Talent) اور زندگی کا واضح مقصد مل جاتا ہے، ورنہ مصروفیت کے باوجود اندر خالی پن رہتا ہے۔ چاہیے عمر کچھ بھی ہو جائے۔
اگر آپ بھی اپنی حقیقی صلاحیت پہچان کر ایک با مقصد کیریئر بنانا چاہتے ہیں تو یہ اتفاق نہیں، ایک سسٹم کے ذریعے ممکن ہے۔

ہندوستان کی نئی" ڈرون بٹالین " کے مقابلے میں پاکستان نے راکٹ فورس کے بعد نئی ڈرون فورس بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے عالمی بس...
05/04/2026

ہندوستان کی نئی" ڈرون بٹالین " کے مقابلے میں پاکستان نے راکٹ فورس کے بعد نئی ڈرون فورس بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے

عالمی بساط پر مہرے ہلنا شروع ہو گئے ہیں۔
ایک طرف بھارت نے جیسلمیر (راجستھان) کے محاذ پر اپنی فوج کی غیر معمولی "موبلائزیشن" شروع کر دی ہے، اور عین اسی وقت پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا بھاری قرضہ فی الفور واپس کر کے دنیا کو ششدر کر دیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک "بڑے دفاعی پلان" کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اب ہم کسی بھی خلیجی یا عالمی طاقت کے مالیاتی دباؤ میں آ کر اپنی دفاعی پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

پاکستان جانتا ہے کہ جنگ کی صورت میں قرض دینے والے ممالک "بلیک میل" کرتے ہیں۔ 3.5 ارب ڈالر کی واپسی کا مطلب ہے کہ پاکستان اب کسی بھی "ڈو مور" یا "نیوٹرل نہ رہو" کے مطالبے سے آزاد ہو کر اپنی مرضی کا دفاعی فیصلہ کرے گا۔

بھارت اگر جیسلمیر میں ٹینک اکٹھے کر رہا ہے، تو پاکستان کی جانب سے قرضوں کی واپسی اس بات کا اعلان ہے کہ ہماری معیشت اب "جنگی موڈ" میں آ چکی ہے اور ہم کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے مالی طور پر بھی تیار ہیں۔

خلیجی ممالک جو پاکستان کو ایران یا یمن کے معاملے پر دبانے کی کوشش کر رہے تھے، انہیں پیغام مل گیا ہے کہ پاکستان کی تلوار اب کرائے کی نہیں بلکہ خالصتاً اپنی بقاء کے لئے اٹھے گی۔۔۔

پاکستان کی جنگی تیاریاں خطے میں سیکیورٹی چیلنجز، خاص طور پر بھارت کی طرف سے ممکنہ جارحیت اور سرحدی کشیدگی کے پیش نظر عروج پر رہتی ہیں۔ افواج پاکستان بری، بحری اور فضائی صلاحیتوں کو جدید ہتھیاروں اور مشقوں کے ذریعے ہر وقت تیار رکھتی ہیں۔ دفاعی حکمت عملی میں میزائل ٹیکنالوجی اور ملکی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری شامل ہے

نوٹ: پاکستان کی جنگی تیاریاں بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

جو ساتھ رہنا چاہے اس کیلئے دل کشادہ کیجیے، اور جو بہرصورت جانا چاہے اس کیلئے راستہ کشادہ کیجئے! 🌸🤍
31/03/2026

جو ساتھ رہنا چاہے اس کیلئے دل کشادہ کیجیے، اور جو بہرصورت جانا چاہے اس کیلئے راستہ کشادہ کیجئے! 🌸🤍

With Masairism – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
31/03/2026

With Masairism – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

جنوبی لبنان میں جاری شدید جھڑپوں کے دوران حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ہی دن میں اسرائیلی فوج کے 21 مرکاوا ٹینک...
30/03/2026

جنوبی لبنان میں جاری شدید جھڑپوں کے دوران حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ہی دن میں اسرائیلی فوج کے 21 مرکاوا ٹینک تباہ کر دیے۔ یہ حملے اچانک گھات لگا کر کیے گئے جنہوں نے اسرائیلی زمینی پیش قدمی کو شدید نقصان پہنچایا۔

رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے نہ صرف ٹینکوں کو نشانہ بنایا بلکہ اسی دن 60 سے زائد راکٹ بھی داغے گئے، جن میں شمالی اسرائیل کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی کمانڈ مراکز اور فوجی تنصیبات پر بھی میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اہم جھڑپ تیبہ اور قنطرہ کے درمیان اس وقت پیش آئی جب اسرائیلی افواج نے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ حزب اللہ کے مطابق اس نے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت دشمن کو گھیر کر بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد ٹینک اور دیگر فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

یہ حالیہ نقصانات گزشتہ 40 سالوں میں اسرائیلی فوج کے لیے سب سے بھاری سمجھے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی 2006 کی جنگ میں اسرائیلی ٹینکوں کو نقصان پہنچا تھا، لیکن موجودہ شدت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

ریڈوان فورس کی میدان میں شمولیت کو بھی اس صورتحال میں اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے، جو جدید تربیت اور حکمت عملی کے باعث زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ ان کی موجودگی نے اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور حزب اللہ ایران کے ساتھ مل کر ایک بڑے محاذ پر سرگرم ہے، جس سے خطے میں جنگ کے دائرہ کار میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔


میں ناسا کو نہیں مانتا ہوں ناسا میں ان سینکڑوں سائنسدانوں کو نہیں مانتا ہوں جو مختلف جانوروں پر تجربات کررہے ہیں کیا ناس...
27/03/2026

میں ناسا کو نہیں مانتا ہوں ناسا میں ان سینکڑوں سائنسدانوں کو نہیں مانتا ہوں جو مختلف جانوروں پر تجربات کررہے ہیں کیا ناسا اور ان سائنــس دانوں پر کوئی فرق پڑے گا ؟ یقیناً کچھ بھی نہیں آپ مانے یا نہ مانے اس پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں، کیونکہ وہ آپ کو متاثر کرنے کے لیے تحـقیق نہیں کرتے لیـکن اس کے باوجود بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں ناسا اور ان کے سائنـس دانوں کو نہیں مانتا ہوں، آپ بیشک مت مانیے میں آپ کے لیے پوسٹ تھوڑی کررہا ہوں اس وقت اسپیس ایکس کے ہزار سے اوپر سیٹلائٹس زمین کے اردگرد موجود ہے جن کو ہم سـٹار لنک کہتے ہیں، پاکستان کے پاس چھ سیٹلائٹس ہے جن میں صرف دو ایکٹیو ہے، ہزاروں سیٹلائٹس ناسا کا ہے جو ملک ہزاروں سیٹلائٹس خلا میں بھیج سکتے ہیں ان کےلیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ہمارے لوگوں کا مسلہ یہ ہے کہ یہ خود بھی کچھ نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں، ان کو بھی نہیں مانتے آپ سوال کریں، جواب تلاش کریں، یہ کیا بات ہوگئی کہ میں ناسا کو نہیں مانتا ہوں ناسا میں ان سائنسدانوں کو نہیں مانتا ہوں جن کے بدولت آج آپ نیٹ استعمال کررہے ہیں لائیو میچ دیکھ رہے ہیں ہزاروں میلوں دور اپنوں سے لائیو باتیں کررہے ہیں۔

اس وقت زمین سے 420 کلومیٹر دور خلا میں امـریکہ کینیـڈا اور چین کے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو مختلف چیزوں پر تجربات کررہے ہیں یہ لوگ مسلسل زمین کے اردگرد چکر لگا رہے ہیں یہ اس قدر دوری پر واقع ہے کہ وہاں ہوا کے مالیکیولز نہ ہونے کے برابر ہے۔ عام ہوائی اور جنگی جہاز نہیں پہنچ سکتے کیونکہ ان کو اڑانے کے لیے ہوا نہیں ہے میں دراصل بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS کی بات کر رہا ہوں۔ جب ہم بنـدوق سے فائر کرتے ہیں تو وہ گـولی ایک سیکنڈ میں زیادہ سے زیادہ ایک یا دو کلومیٹر کا فاصــلہ طے کرتی ہے، یعنی اگر بنـدوق سیدھی آسمان کی طرف چلائی جاتی ہے۔ پھر وہ گولی ایک یا دو کلومیٹر تک جائے گی اور پھر زمین پر گرے گی کیونکہ زمین گـولی پر برابر کی قوت لگا رہی ہے، جسے سائنـس کی زبان میں "کشش ثقل قوت" کہا جاتا ہے۔

ہم جس چـیز کو بھی اوپر کی طرف پھینکتے ہیں، وہ واپس نیچے آتا ہے اور گرتا ہے لیکن اگر ہم ایسی بنــدوق چلائیں جس سے گولی گیارہ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار پکڑ لیتے ہیں، تو وہ گولی زمین پر واپس نہیں گرے گی کیونکہ یہ زمین سے باہر نکلنے کی ولاسٹی ہے جن کو ہم "اسکیپ ولاسٹی" کہتے ہیں، اس سے کم رفتار سے ہم چاہتے ہوئے بھی "زمین" کی "کشش ثقل" سے خود کو آزاد نہیں کر سکتے۔

ناسا جب خلابازوں یا خوراک وغیرہ کو "آئی ایس ایس" پر بھیجتا ہے تو وہ خلائی جہاز کی رفـتار اس حد تک بڑھا دیتے ہیں ناسا اور اسپیس ایکــــس کمپنی والے جب انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن ISS کو پانی یا خوراک لیکر جاتے ہیں تو وہ اپنی خلائی جہاز کی رفتار اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ وہ زمین کی "کشش ثقل" سے نکل جائے، اگر کوئی خلائی جہاز سولر سسٹم سے مکمل باہر نکلنا چاہتا ہے، تو وہ 42 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار حاصــل کریں گے تب جاکر وہ ہمارے "سولر سسٹم" سے باہر نکل سکتا ہے، اس سے کم رفتار پر وہ سولر سسٹم سے باہر نہـیں نکل سکتا۔ کیوں کہ یہ سولر سسٹم کی اسکیپ ولاسٹی ہے۔

بالکل اسی طرح اگر ہمیں اپنی ملکی وے کہکـشاں سے باہر نکلنا ہو تو اس کے لئے ہمیں 550 کومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار پکڑنی ہوگی اگر ہم نظام شمسی سے باہر نکلنے میں کامــیاب ہو بھی گٸے تو آگے ملکی وے کہکشاں سے باہر نکلنا مشــکل نہیں بلکہ ناممکن ہے 550 کلومیٹر فی سیکنڈ رفتار حاصل کرنا کوئی مزاق نہیں ہے۔ یعنی ہم ملکی وے کہکشاں کے اندر بند ہیں اور بند ہی رہیں گے اگر مستقبل میں ہم نے ترقی کی اور ملکی وے سے کسی طرح نکل بھی گئے تو آگے لوکل گروپ کلسٹر سے نہیں نکل پائیں گے اگر ان سے بھی نکل گئے تو پھر آگے ورگو سپر کلسٹر ہے، ہم کائنات میں پوری طرح سے بند ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ چاند اور مـریخ نامی سیارے تک کوشش کرسکتے ہیں۔ ناسا ماہرین کے مطابق پوری کاٸنات میں دو ہزار ارب کے قریب کہکشائیں ہیں اگر ایک سال کا بچہ کھانے پینے اور سوئے بغیر کائنات میں موجود سـتارے گننے لگے تو یہی ایک سال کا بچہ گنتے گنتے 60 سال کی عمر تک پہنچ جائے گا۔۔۔۔۔ لیکن کاٸنات میں پاٸے جانے والے تمام ستارے گن نہیں پاٸے گا، کیـوں کہ کاٸنات میں ستاروں کی تعداد زمین پر موجود تمام ذرات سے زیادہ ہے۔

ناسا سائنسدانوں کے مطابق وائجر ون خلائی جہاز اس وقت سولر سسٹم کے آخری کناروں پر موجود ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ وائجر ون اس طویل سفر میں اکیلا نہیں ہے بلکہ انکے پیچھے وائجر دوم بھی بڑھ رہا ہے وائجر دوم بھی اکیلا نہیں ہے۔ بلکہ اس کے پیچھے پائنیر دس بھی بڑھ رہا ہے پائنـیر دس بھی اکیلا نہیں ہے، بلکہ اس پیچھے پائنیر گیارہ بھی بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق چاروں اسپیس کرافٹس سولر سسٹم سے باہر نکلنے کی طرف بڑھ رہے ہیں واٸجر ون ہم سے اتنا دور جا چکا ہے کہ اس کے بھیجے ہوٸے سگنلز 22 گھنٹے بعد ہی زمین پر پہنچتے ہیں۔۔ اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ واٸــجر ون اس وقت کہاں ہوگا ؟ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہی چاروں اسپیس کرافٹـس ہماری ملکی وے کہکشاں سے باہر نکل سکیں گے تو آپ غلط سوچ رہے ہیں کیونکہ ملکی وے کہکشاں سے باہر نکلنے کے لٸے لاکھـوں اور کروڑوں سال چاہیے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے ہمیں صرف 60 سال کی زندگی ملی ہے اور اس مختصر عمر کے ساتھ کائنات کو ایکسپلور کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے انکے لیے کم از کم ایک دو کروڑ سال کی عمر چاہیے ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم نے کائنات کو ابھی تک ایک فیــصد بھی مکمل دریافـت نہیں کیا کیونکہ کائنات 93 بلین نوری سال پر پھیلا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔!!!

کیا آپ نے کبھی یہ کہاوت سنی ہے کہ "اگر تم گھاس سے پوچھو تو اسکی نظر میں زیبرا ایک عفریت (وحشی درندہ) ہے اور شیر ایک محاف...
27/03/2026

کیا آپ نے کبھی یہ کہاوت سنی ہے کہ
"اگر تم گھاس سے پوچھو تو اسکی نظر میں زیبرا ایک عفریت (وحشی درندہ) ہے اور شیر ایک محافظ ہے"؟
کچھ لمحوں کے لیے یہ بات عجیب لگتی ہے۔
ہم سب عام طور پر شیر کو ایک خوفناک شکاری جانور سمجھتے ہیں اور زیبرا کو بے معصوم جانور۔
لیکن یہ کہاوت ہمیں ایک مختلف زاویے سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے — گھاس کے زاویے سے۔
یہ کہاوت مکمل طور پر نقطۂ نظر (Point of View) کے بارے میں ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ "اچھے" اور "برے" کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کون ہیں اور کونسی صورتحال آپ پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔
اگر شیر بات کر سکتا تو وہ آپ کو بتاتا کہ اسے زندہ رہنے کے لیے زیبروں کو کھانا پڑتا ہے۔ وہ بس ایک شیر ہے، اپنا فطری کردار ادا کر رہا ہے۔
زیبرا اس کی بالکل مخالف کہانی سناتا۔ زیبرا کے لیے شیر ایک دہشت ناک قاتل ہے۔ وہ اس کی دنیا کا ولن (Villain) ہے۔
اب گھاس کی طرز سے دیکھیں۔ گھاس اپنی پوری زندگی زیبرے کے پاؤں تلے کچلی جاتی ہے، کھائی جاتی ہے اور تباہ ہوتی ہے۔
زیبرا گھاس کے لیے ایک عفریت اور monster ہے۔ پھر شیر آتا ہے اور زیبرے کا شکار کرتا ہے۔ شیر زیبرے کو گھاس کھانے سے روکتا ہے۔ اس لیے گھاس کے لیے شیر ایک ہیرو اور محافظ ہے۔
یہ سادہ سی بات ہمیں دنیا کے بارے میں ایک طاقتور سبق سکھاتی ہے۔
تاریخ میں فاتحین ہی کتابیں لکھتے ہیں۔ وہ کہانی اپنے نقطۂ نظر سے بیان کرتے ہیں۔ یہ کہاوت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پوچھیں: کہانی کا دوسرا پہلو کیا ہے؟ کون سی آواز سنائی نہیں دے رہی؟

بالکل گھاس کی طرح، کسی بھی صورتحال میں سب سے خاموش آواز چیزوں کو بالکل مختلف انداز میں دیکھ سکتی ہے۔
"عفریت" Villain
اور "محافظ" protectors
ہمیشہ وہ نہیں ہوتے جو پہلی نظر میں لگتے ہیں۔

Address

Palandri, District Sudhnoti, Azad Jammu Kashmir
Palandri

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Waqar Khan Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category