27/04/2026
دریا کے پار مقبوضہ کشمیر میں وفات پانے والے دریا کی اس جانب آزادکشمیر میں موجود بہن کو آخری دیدار کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
M.A. Jinnah School system is dynamic system aimed to inculcate patriotism and sense of responsibility and provide quality educational curriculum
27/04/2026
دریا کے پار مقبوضہ کشمیر میں وفات پانے والے دریا کی اس جانب آزادکشمیر میں موجود بہن کو آخری دیدار کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ارجنٹائن کا ایک شہری انڈوں کا کارٹن خریدنے گیا۔
جب اس نے قیمت پوچھی تو معلوم ہوا کہ ریٹ معمول سے کافی زیادہ ہے۔ اس نے وجہ پوچھی تو دکاندار نے کہا:
"ڈسٹری بیوٹرز نے قیمت بڑھا دی ہے۔"
یہ سن کر اُس شہری نے خاموشی سے انڈوں کا کارٹن اٹھایا… پھر واپس رکھ دیا اور کہا:
"ہم انڈوں کے بغیر بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔"
یہ کوئی مہم نہیں تھی، نہ ہڑتال… بلکہ یہ لوگوں کا شعور اور کلچر تھا۔
آہستہ آہستہ پورے شہر کے لوگوں نے یہی طرزِ عمل اپنا لیا۔ کسی نے شور نہیں مچایا، بس خریدنا بند کر دیا۔
نتیجہ کیا نکلا؟
ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں سپلائرز انڈے لے کر دکانوں پر پہنچے، مگر دکانداروں نے نیا مال لینے سے انکار کر دیا… کیونکہ پرانا اسٹاک ہی نہیں بک رہا تھا۔
کمپنیوں نے سوچا کہ یہ وقتی ردعمل ہے، چند دن میں لوگ واپس خریداری شروع کر دیں گے۔
لیکن ایسا نہیں ہوا… لوگوں نے اپنا فیصلہ قائم رکھا۔
نقصان بڑھنے لگا…
ایک طرف انڈے فروخت نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو رہے تھے،
دوسری طرف مرغیوں کی خوراک اور دیکھ بھال کا خرچ جاری تھا۔
یوں نقصان دوہرا ہوتا چلا گیا۔
آخرکار پولٹری کمپنیوں کے مالکان بیٹھے، مشورہ کیا اور قیمتیں واپس پرانے لیول پر لانے کا فیصلہ کیا…
مگر عوام پھر بھی نہ مانے۔
جب حالات مزید خراب ہوئے تو کمپنیوں کو عوام سے باقاعدہ معافی مانگنی پڑی،
اور انڈوں کی قیمت کو پہلے سے بھی کم کر کے تقریباً ایک چوتھائی تک لے آنا پڑا۔
یہ کوئی کہانی نہیں… ایک حقیقت ہے۔
یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
ہم بحیثیت قوم چاہیں تو کسی بھی چیز کی قیمت کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
نہ ہنگامہ چاہیے، نہ احتجاج…
بس شعور، صبر اور اجتماعی فیصلہ۔
اگر ہم خود بدل جائیں، تو حالات خود بدل جاتے ہیں۔
دوسروں کی اصلاح میں وقت ضائع نہ کریں
اپنی اصلاح پر توجہ دیں
اچھے افراد میں ایک کا اضافہ کریں
20/04/2026
ارتھ ڈے شجرکاری 🌱
گورنمنٹ ہائی سکول فیروز پور چشتیاں میں ارتھ ڈے 2026
خصوصی کاوش:
ٹیم خضر ولی چشتی & Global Green Solution
YouTube:
Khizar Wali Chishti
ڈپریشن کوئی قدرتی بیماری نہیں ہے
بلکہ کسی رویہ کی طرف سے دیا ہوا بدترین تحفہ ہوتا ہے۔
اور ہاں
انتخاب میں کی گئی غلطی صبر کے ذریعے درست نہیں کی جا سکتی!🤎
*بورے والا لاری اڈا پر دو رکشہ ڈرائیورز کے مابین لڑائی میدان جنگ بن گئی*
*جس سواری کی وجہ سے لڑائی ہوئی وہ کسی اور رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی*
*جمع کرنے والے قارون کے خزانے زمین نِگل گئی لیکن بانٹنے والے عثمانِ غنی کا "کنواں'' آج بھی پیاسوں کی پیاس بجھا رہا ہے*
*نکاح سے کچھ دیر پہلے قاضی صاحب نے کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا:*
“ اگر کسی کو اس نکاح پر اعتراض ہو تو ابھی بتا دے... “
سب ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔
ایسے میں آخری قطار میں سے ایک *خوبصورت نوجوان لڑکی* گود میں بچی لئے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اسٹیج کی جانب چل پڑی۔
شادی ہال میں سناٹا چھا گیا تھا ، صرف اس کے اونچی ایڑی والے سینڈل کی آواز گونج رہی تھی
ٹک
ٹک
ٹک
اسکو دیکھتے ہی *دلہن* نے دلہا کو تھپڑ مارنے شروع کر دئیے
*دلہن کا باپ* بندوق لینے بھاگا
*دلہن کی ماں* اسٹیج پر ہی بے ہوش ہو گئی
*سالیاں* دولہے کو کوسنے لگیں اور *سالے* آستینیں چڑھانے لگے
قاضی نے سب کو خاموش ہوجانے کی تلقین کرتے ہوئے لڑکی سے پوچھا " بی بی ! آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ "
لڑکی بولی " جی ۔۔۔ وہ ۔۔۔ پیچھے ٹھیک سے آواز نہیں آ رہی تھی اس لئے آگے آ گئی ہوں " 🤦♂️
*نتیجہ : ہم ایک جذباتی قوم ہیں*
گلوبل گرین سولیوشن کی جانب سے منچن آباد میں جلد پاکستان کی ایک بڑی فری نرسری قائم کی جا رہی ہے، جو شجرکاری اور ماحولیاتی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اسی سلسلے میں خضر ولی چشتی کو ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں "گرین ایمبیسیڈر" مقرر کیا گیا ہے، جو اس مشن کو مزید تقویت دیں گے۔ 🌱
| Monday | 07:30 - 13:00 |