ماں کی دعا سے گھر جنت بنتا ہے،
ماں کی محنت سے چراغ جلتے ہیں،
ماں کی محبت سے اندھیرے مٹتے ہیں۔
Govt. High School 50 EB Arifwala
it is part of the government-run education system. Schools like Govt. cluster center for admission of 5th and 8th class
High School 50/EB typically serve as important community institutions, providing secondary education to local students in both science and arts streams.
27/01/2026
*All about Quaid e Azam*
1. *When was Quaid-e-Azam born?*
*A.* 25 December 1876
2. *What was Quaid-e-Azam’s father’s name?*
*A.* Poonja Jinnah
3. *What was Quaid-e-Azam’s mother’s name?*
*A.* Mithibai
4. *How many siblings did Quaid-e-Azam have?*
*A.* 6
5. *How many children did Quaid-e-Azam have?*
*A.* 1 (Dina Jinnah)
6. *Where and when did Quaid-e-Azam start his law practice?*
*A.* Bombay, 1896
7. *When did Quaid-e-Azam join politics?*
*A.* 1906
8. *When did Quaid-e-Azam join the All-India Muslim League?*
*A.* 1913
9. *How many years did Quaid-e-Azam remain in both Congress and Muslim League?*
*A.* About 7 years (1913–1920)
10. *When was Quaid-e-Azam given the title "Ambassador of Hindu-Muslim Unity"?*
*A.* 1916
11. *When did Quaid-e-Azam present his famous 14 Points?*
*A.* 28 March 1929
12. *When did Quaid-e-Azam become the Governor General of Pakistan?*
*A.* 15 August 1947
13. *For how long did Quaid-e-Azam serve as Governor General?*
*A.* About 13 months
14. *When did Quaid-e-Azam pass away?*
*A.* 11 September 1948
15. *Name a famous biography of Quaid-e-Azam.*
*A.* *Jinnah of Pakistan* by Stanley Wolpert.
16. *Where was Quaid-e-Azam born?*
*A.* Karachi
17. *What was Quaid-e-Azam’s full name?*
*A.* Muhammad Ali Jinnah
18. *Where did Quaid-e-Azam receive his early education?*
*A.* Sindh Madressatul Islam, Karachi
19. *Which institution did Quaid-e-Azam join for law in England?*
*A.* Lincoln’s Inn
20. *What was Quaid-e-Azam’s profession?*
*A.* Barrister (Lawyer)
21. *What was the name of Quaid-e-Azam’s wife?*
*A.* Rattanbai (Ruttie) Jinnah
22. *When did Quaid-e-Azam marry Ruttie?*
*A.* 1918
23. *What was Quaid-e-Azam’s famous title in Pakistan?*
*A.* Father of the Nation
24. *When did Pakistan come into being?*
*A.* 14 August 1947
25. *Where is Quaid-e-Azam buried?*
*A.* Mazar-e-Quaid, Karachi
26. *What was Quaid-e-Azam’s stance on minorities?*
*A.* Equal rights for all, regardless of religion
Maryam Shahab
Channel • 432 followers • The friendliest principal in town.
Follow me for
School Education department news , Job vacancies advertisement, Spoken English tasks, Best Educational videos ,updates and worksheets
22/01/2026
پری بورڈ نویں جماعت اور دسویں جماعت کے امتحانات سکول میں جاری ہیں
20/01/2026
جن کے دِل بھاری اور آنکھیں بوجھل ہو چُکی ہیں، سفرِ حیات نے تھکا دیا ہے....
وه جو اپنی ہی سوچوں سے جنگ لڑتے لڑتے ہارنے لگے ہیں.....
وه جن کا الله کے سوا کوئی بھی نہیں ہے ....
اُن سب کے لیے ایک تسلی ایک اُمید ایک یقین :
*ويُزهرك اللّٰه ولو طال خَريفك*
اللّٰه آپ پر بہار لائے گا اگرچہ خزاں طویل ہو جائے❤🩹
19/01/2026
اے آئی کی جادوئی ایپس AI
1. ChatGPT (OpenAI)
یہ ایک اسمارٹ چیٹ بوٹ ہے جو سوالوں کے جواب دیتا ہے اور آپ کی مدد سے لکھائی، تصویریں، ہوم ورک اور مختلف کام تیزی سے مکمل کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ مشکل باتیں بھی آسان الفاظ میں سمجھ آ جاتی ہیں۔
2. Google AI Studio (Gemini)
یہ ٹول آپ کو اپنے ایپس اور آئیڈیاز بنانے میں مدد دیتا ہے، وہ بھی بغیر کسی مشکل کوڈ کے۔ اس کے ذریعے نئے سیکھنے والوں اور بچوں کو بھی پروجیکٹس بنانا آسان لگتا ہے۔
3. Docusign
DocuSign آپ کو آن لائن دستخط کرنے اور ڈاکومنٹس کو محفوظ طریقے سے بھیجنے کی سہولت دیتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ کاغذوں کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور کام تیز ہو جاتا ہے۔
4. tl;dv
یہ میٹنگز کو ریکارڈ کرتا ہے اور خودکار خلاصہ بنا دیتا ہے۔ اس کے فائدے میں وقت کی بچت اور اہم باتوں کا آسانی سے یاد رہ جانا شامل ہے۔
5. Otter.ai
یہ ایپ کسی بھی آواز یا گفتگو کو فوراً لکھائی میں بدل دیتی ہے۔ اس سے بچے، اساتذہ اور دفتر میں کام کرنے والے سب آسان نوٹس بنا سکتے ہیں۔
6. Fathom
Fathom میٹنگ کے اہم پوائنٹس خودکار طور پر محفوظ کرتا ہے اور خلاصہ بناتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ زیادہ باتیں سننے کی ضرورت نہیں رہتی، صرف نتیجہ دیکھ لیں۔
7. Plaud
یہ آواز کو ٹیکسٹ میں تبدیل کرتا ہے اور صاف ستھرا ریکارڈ مہیا کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بولی ہوئی باتیں آسانی سے لکھ کر محفوظ ہو جاتی ہیں۔
8. Zapier Chatbots
یہ پلیٹ فارم آپ کو بغیر کوڈ لکھے چیٹ بوٹس بنانے دیتا ہے جو آپ کے کام خودکار طور پر کر دیتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وقت بچتا ہے اور غلطیاں بھی کم ہوتی ہیں۔
9. Anthropic (Claude)
Claude ایک محفوظ اور سمجھدار AI اسسٹنٹ ہے جو آپ کے سوالوں کے بہترین جواب دیتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ تحقیق، پڑھائی اور کام سب میں مددگار ہے۔
10. Granola
یہ ایک اسمارٹ نوٹ پیڈ ہے جو بات چیت کے دوران خودکار نوٹس بنا دیتا ہے۔ بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے پڑھائی اور میٹنگز میں بہت مددگار ہے۔
11. Human in the Loop
یہ ٹول
اور انسان کو ایک ساتھ ملا کر کام مکمل کرواتا ہے تاکہ نتیجہ بہترین ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اہم کام غلطی کے بغیر پورے ہوتے ہیں۔
12. Perplexity
یہ ایک AI
سرچ انجن ہے جو آپ کے سوالوں کے مختصر اور درست جواب دیتا ہے۔ اس کے ذریعے بچے آسانی سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
13. Browse AI
یہ ٹول ویب سائٹس سے ڈیٹا خودکار طور پر نکال کر آپ کے لیے محفوظ کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جو معلومات بار بار چاہیے ہوں وہ خود بخود ملتی رہتی ہیں۔
14. ElevenLabs
یہ AI آواز بنانے والا ٹول ہے جو صاف اور پروفیشنل وائس اوور تیار کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ ویڈیوز اور کہانیاں زیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔
15. Base44
Base44 لوگوں کو بغیر تکنیکی مہارت کے اپنی ایپس بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بچوں اور سیکھنے والوں کے لیے یہ آسان اور فائدہ مند پلیٹ فارم ہے۔
16. Fellow
Fellow میٹنگ کو ریکارڈ کرکے اس کا خلاصہ بنا دیتا ہے اور نوٹس منظم رکھتا ہے۔ اس سے کام آسان اور میٹنگز واضح ہو جاتی ہیں۔
17. Agents by Zapier
یہ ٹول AI کی مدد سے آپ کے روزمرہ کام خودکار کر دیتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وقت اور محنت دونوں کی بچت ہوتی ہے۔
18. Read AI
Read AI میٹنگز کا خلاصہ، اہم پوائنٹس اور جذبات کا تجزیہ بھی کرتا ہے۔ اس سے کام بہتر سمجھ آتا ہے اور فیصلہ کرنا آسان ہوتا ہے۔
19. Grain
Grain ویڈیو کالز سے اہم کلپس اور نوٹس تیار کرتا ہے۔ بچوں اور دفاتر دونوں کے لیے یہ ریکارڈ رکھنا بہت آسان بنا دیتا ہے۔
20. Tactiq
Tactiq لائیو میٹنگز کا ٹرانسکرپٹ بنا کر اہم پوائنٹس محفوظ کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ کچھ بھی یاد رکھنے میں مشکل نہیں رہتی۔
21. Retell AI
یہ ٹول کالز کو سمجھ کر ان سے اہم معلومات نکالتا ہے۔ اس سے کسٹمر سروس اور رابطے بہتر ہوتے ہیں۔
22. AssemblyAI
AssemblyAI آواز کو تحریر میں بدلنے کے ساتھ ساتھ آڈیو کا تجزیہ بھی کرتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ ٹرانسکرپشن تیز، درست اور آسانی سے ہوتی ہے۔
19/01/2026
فیس شیڈول برائے انٹرمیڈیٹ پہلا سالانہ امتحان 2026
انٹرمیڈیٹ پہلا سالانہ امتحان 2026 مورخہ 20 مئی2026 سے شروع ہونگے ۔ جس کا داخلہ فارم ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے لنک پر کلک کریں
سنگل فیس کے ساتھ داخلہ فارم بورڈ آفس میں جمع کروانے کی آخری تاریخ 11 فروری2026 ہے
19/01/2026
اطلاع برائے والدین
تمام معزز والدین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ
کل بروز سوموار، مؤرخہ 19 جنوری سے سکول دوبارہ کھل رہے ہیں۔
براہِ کرم بچوں کو سردی سے محفوظ گرم کپڑے پہنا کر سکول بھیجیں،
بچے کی تمام کتابیں، کاپیاں، پنسل اور دیگر تعلیمی سامان مکمل تیار کروائیں،
اور بچوں کو صبح 8:45 بجے تک سکول پہنچائیں۔
تمام اساتذہ کرام اور سکول انتظامیہ بچوں کے استقبال کے لیے صبح 8:30 بجے سکول میں موجود ہوں گے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
سرکاری سکول — معیاری سکول
دعاگو
ثناء اللّٰہ
سینئر ہیڈماسٹر
گورنمنٹ ہائی سکول 50 ای بی عارف والا
17/01/2026
Inter exam schedule 2026*پنجاب بورڈز کمیٹی آف چیئرمین (PBCC) نے میٹرک و انٹر سالانہ امتحانات 2026 کا شیڈول جاری کر دیا*
لاہور : پنجاب بورڈز کمیٹی آف چیئرمین (PBCC) نے میٹرک (SSC) اور انٹرمیڈیٹ (HSSC) کے سالانہ امتحانات 2026 کے لیے عارضی شیڈول جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ PBCC کے اجلاس میں 15 جنوری 2026 کو متفقہ طور پر کیا گیا، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن 16 جنوری 2026 کو جاری کیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق میٹرک (SSC) پہلا سالانہ امتحان 2026 اب 27 مارچ 2026 سے شروع ہوگا، جبکہ اس سے قبل امتحانات کی تاریخ 3 مارچ مقرر تھی، دسویں جماعت (SSC پارٹ دوم) کا نتیجہ 6 اگست 2026 اور نویں جماعت (SSC پارٹ اول) کا نتیجہ 2 ستمبر 2026 کو جاری کیا جائے گا۔
میٹرک دوسرا سالانہ امتحان 2026 کا آغاز 6 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔ دوسرے سالانہ امتحان کے لیے داخلہ فارم سنگل فیس کے ساتھ 7 سے 19 اگست 2026، ڈبل فیس کے ساتھ 20 سے 25 اگست 2026 جبکہ ٹرپل فیس کے ساتھ 26 سے 29 اگست 2026 تک جمع کروائے جا سکیں گے۔ دوسرے سالانہ امتحان کا نتیجہ 8 دسمبر 2026 کو متوقع ہے۔
اسی طرح انٹرمیڈیٹ (HSSC) پہلا سالانہ امتحان 2026 کا آغاز 20 مئی 2026 سے ہوگا۔ انٹر کے امتحان کے لیے داخلہ فارم سنگل فیس کے ساتھ 19 جنوری سے 11 فروری 2026 جبکہ ڈبل فیس کے ساتھ 12 فروری سے 24 فروری 2026 تک جمع کروائے جا سکیں گے۔
پی بی سی سی کے مطابق جاری کردہ شیڈول عارضی ہے، حتمی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
*PECTAA/BISE Annual Examination 2026 (Expected Dates)*
📌 8th Class: 5 March 2026
📌 10th Class: 27 March 2026
📌 9th Class: 14 April 2026
📌 2nd Year: 05 May 2026
📌 1st Year: 24 May 2026
*Note:* These dates are expected and subject to change. The final date sheet will be officially announced by BISE/PECTAA.
08/01/2026
تعمیراتی کام سکول میں جاری ہے
08/01/2026
08/01/2026
پیر کو شوہر کو دفن کر کے لوٹی۔ بدھ کو اس نے ایک بچی کو جنم دیا۔ اور جمعہ تک وہ پیٹھ پر نومولود لادے پچھلے دروازوں پر دستک دے رہی تھی۔
کیونکہ ہار ماننا اس کی لغت میں تھا ہی نہیں۔
بہار، 1887 ڈاج سٹی، کنساس
الزبتھ مورو صرف بائیس برس کی تھی جب ٹائیفائیڈ نے تین دنوں میں اس کے شوہر کو دنیا سے چھین لیا۔
نہ کوئی تنبیہ، نہ مہلت، نہ رحم۔
بس تیز بخار، بے ربط بڑبڑاہٹ، اور پھر خاموشی۔ وہ اپنے شوہر کی قبر کے کنارے کھڑی تھی آٹھ ماہ کی حاملہ جیب میں صرف سترہ سینٹ، اور دل میں ایسا غم جو ریڑھ کی ہڈی کو جھکا دے۔ جنازہ ادھار پر ہوا تھا، ایسا ادھار جسے چکانے کا اس کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ مٹی ابھی بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ زندگی نے اپنی سخت ترین شکل دکھا دی۔
دو دن بعد، ایک کرائے کے کمرے میں جہاں گرد، پسینہ اور مایوسی کی بو رچی تھی اس کی بیٹی وقت سے پہلے پیدا ہوئی۔
چیختی ہوئی، ناراض سی، مگر زندہ۔
ایک ایسی دنیا میں پیدا ہونے والی بچی، جسے یقین تھا کہ یہ دونوں ایک سال بھی نہیں نکال پائیں گی۔
سماج کے دیے گئے راستے اور اس کا اپنا انتخاب
ایسی عورتوں کے لیے تین راستے ہوتے تھے:
فوراً دوبارہ شادی
کسی رشتہ دار کے در پر واپسی
یا خاموشی سے بھوک میں گم ہو جانا
الزبتھ کے پاس کوئی خاندان نہ تھا۔
اور وہ نہ اپنی عزت کو چھت کے بدلے بیچنے والی تھی، نہ اپنے وجود کو ایک پلیٹ کے عوض۔
اس نے چوتھا راستہ چُنا۔
وہ راستہ جو تاریخ میں کم ہی لکھا جاتا ہے،
کیونکہ وہ لمحہ بہ لمحہ عظیم نہیں لگتا
بس ہر رات عورت کو توڑتا ہے،
اور ہر سحر اسے ازسرِنو جوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس نے کام کیا۔
وہ محنت جو جسم کھا جاتی ہے، روح کو آزماتی ہے
وہ لوگوں کے کپڑے دھوتی ٹین کے ٹب میں رگڑ رگڑ کر حتیٰ کہ انگلیوں کے پور پھٹ کر لہو بہنے لگتا۔
قریب ہی اس کی نومولود ایک لکڑی کے کریٹ میں سوئی رہتی، جس میں آٹے کے خالی تھیلے بچھے ہوتے۔
جب یہ کافی نہ ہوا، وہ فجر سے پہلے شراب خانوں کی صفائی کرتی۔
بکھری ہوئی وہسکی، ٹوٹا شیشہ، خون کے دھبے اور ان مردوں کی باقیات سمیٹتی جو را کو صرف پیسہ نہیں ہارتے تھے۔
اور جب یہ بھی ناکافی پڑا، تو ہوٹل میں رات کی شفٹ لگی—
چادریں بدلنا، پانی ڈھونا، چیمبر پاٹس خالی کرنا—
جبکہ اس کی بچی دو گلیاں دور ایک پڑوسن کے کمرے میں روتی رہتی۔
پڑوسن گھنٹوں کے حساب سے پیسے لیتی تھی۔
بھوک الزبتھ کے اندر دوسرے دل کی طرح دھڑکتی تھی۔
تھکن اس کی ہڈیوں میں دوسری ریڑھ کی طرح جم گئی تھی۔
کچھ راتوں میں وہ اپنی سوئی ہوئی بیٹی کے اوپر کھڑی کانپتی رہتی
سردی سے، خوف سے،
اور اس بے رحم حساب سے جو کبھی پورا نہیں پڑتا تھا۔
اس نے دو سال ایک ہی لباس پہنا۔
باسی بیکری کے بچے ہوئے ٹکڑوں پر گزارا کیا۔
بارہ مہینوں میں دس برس بوڑھی ہو گئی۔
مگر کچھ حدیں تھیں جنہیں اس نے کبھی پار نہ کیا۔
وہ کبھی کرایہ لیٹ نہ ہونے دیتی۔
کبھی اپنی بیٹی کو بھوکا نہ سونے دیتی۔
اور کبھی لوریاں گنگنانا نہ چھوڑتی
چاہے رات کے اندھیرے میں روتے روتے اس کا گلا چھل ہی کیوں نہ گیا ہو۔
ثابت قدمی کیا تعمیر کرتی ہے
سال پہاڑوں کی طرح کٹتے گئے
آہستہ، تکلیف دہ، مگر مستقل۔
1895 تک، الزبتھ نے اتنی بچت کر لی کہ ایک چھوٹا سا بورڈنگ ہاؤس کھول سکے۔
ایک چولہا۔ چار کمرے۔
غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔
1900 تک، وہ عمارت اس کی اپنی تھی۔
اس کی بیٹی، میری، نے اپنی ماں کو دیکھا
تھکن کو ملکیت میں بدلتے ہوئے،
ایک بے رحم دن کے بعد دوسرے دن۔
اس نے سیکھا کہ طاقت کیسی ہوتی ہے۔
نہ بلند آواز۔
نہ داد طلب۔
بس مسلسل۔
میری نے تعلیم حاصل کی۔
استاد بنی۔
پھر پرنسپل۔
کنساس کی اولین خواتین میں سے ایک، جو اس عہدے تک پہنچیں۔
وہ وراثت جو لفظوں میں ڈھلی
1923 میں، جب میری نے ڈاج سٹی ہائی اسکول کی تقریبِ اسناد میں خطاب کیا،
اس نے خوابوں یا کامیابیوں کی بات نہیں کی۔
اس نے اپنی ماں کا ذکر کیا۔
اس نے کہا
“میری ماں نے مجھے سکھایا کہ وقار وہ نہیں جو تمہیں دیا جائے
وقار وہ ہے جسے تم دینے سے انکار کر دو۔
اس نے فرش رگڑے تاکہ میں اس اسٹیج پر کھڑی ہو سکوں۔
یہ محض بقا نہیں۔
یہ صابن اور سادہ لباس میں لپٹی ایک خاموش انقلاب ہے۔”
الزبتھ مجمع میں بیٹھی تھی
ہاتھ گود میں،
چہرہ موسموں کا دیکھا ہوا،
نگاہیں پُرسکون۔
نہ کوئی تمغہ۔
نہ سرخیوں میں نام۔
نہ کوئی مجسمہ۔
مگر اس کے پاس اس سے کہیں نایاب چیز تھی۔
وہ فتح جو باقی رہتی ہے
الزبتھ تراسی برس جیتی۔
اتنا کہ اپنی بیٹی کو پنشن کے ساتھ ریٹائر ہوتے دیکھ سکے۔
نواسوں کو کالج سے فارغ التحصیل۔
اور پڑپوتوں کو ایسی دنیا میں پیدا ہوتے،
جو اس نے اپنے چھلے ہوئے ہاتھوں اور ناقابلِ شکست ارادے سے تراشی تھی۔
زندگی کے آخری دنوں میں کسی نے پوچھا
کہ ان برسوں میں جو اسے توڑ دینے کے لیےکافی
اسے کس چیز نے زندہ رکھا؟
اس نے ذرا دیر سوچا۔
پھر آہستہ سے کہا
“ہر صبح میں میری کو دیکھتی
اور خود سے کہتی
یہ بچی کبھی بھوکی نہیں رہے گی۔
یہ بچی کبھی ہاتھ نہیں پھیلائے گی۔
یہ خیال ہر تھکن سے زیادہ طاقتور تھا۔”
کچھ عورتیں زندہ رہتی ہیں۔
کچھ عورتیں سہہ جاتی ہیں۔
الزبتھ مورو نے غم، محنت اور پیٹھ پر بندھی ایک بچی سے
ایک نسل کی تقدیر بنا دی
اور اس کا نام محبت رکھا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Address
Chak No. 50/EB
Pakpattan
57130
Opening Hours
| Monday | 07:30 - 13:00 |
| Tuesday | 07:30 - 13:00 |
| Wednesday | 07:30 - 13:00 |
| Thursday | 07:00 - 13:00 |
| Friday | 07:30 - 12:00 |
| Saturday | 07:30 - 13:00 |