02/10/2021
ہم سب متفق ہیں کہ فی زمانہ ہمیں شعور و آگہی کی بے حد ضرورت ہے. سوال یہ ہے کہ ہم کن معاملات میں فرسودگی کا شکار ہیں اور شعور پھیلانے کے لیے ہمیں اپنے حصے کا کردار کیسے نبھانا چاہیے.
میری ایک رائے یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی اخلاقیات کو بہتر کریں. بالخصوص اختلافی مسائل پہ بحث کے دوران تو اچھے اخلاق کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے. میرے ایک دوست یورپ میں غیرمسلموں کو کلمہ پڑھانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں. انہیں بےشمار بار ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انتہائی گستاخانہ ہوتے ہیں لیکن وہ صاحب اللہ اور نبی ص کی گستاخی کو برداشت کرتے اور ان سوالات کا مناسب جواب دیتے ہیں. نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سینکڑوں کافر اس ایک نوجوان کے ذریعے مسلمان ہو چکے ہیں. تو جذبات کے بجائے اخلاقیات کا راستہ اپنانا چاہیے.
ایک اور کمی جو ہم سب میں ہے, وہ یہ کہ ہم نے اپنے سیاسی مذہبی اور مسلکی علم کو مکمل سمجھ لیا ہے. ایسا نہیں ہے. ہر انسان کو ہر وقت ہدایت کے لیے تیار رہنا چاہیے. ہداہت کو سننے سمجھنے اور قبول کرنے کی عادت اپنائیں تاکہ آپ فرسودگی سے بچیں اور عصر ء حاضر پر آپکی گرفت مضبوط ہو.
#کاپی