The Lyceum Education Schools - LES

The Lyceum Education Schools - LES

Share

For Education Network🖋️📚📖

26/08/2026
10/08/2026

« دِلوں کو جوڑنا سیکھیں دل توڑنے کا تو رواج ہے »

ِ_تربیت 152

ایک دیہاتی *مامون الرشید* کے دربار میں حاضر ہوا جس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے اور حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی
دیہاتی کہنے لگا
امیر المومنین میری کھیتی تباہ ہو گئی جانوروں کے تھن سوکھ گئے اولاد مر گئی اب میرا الله کے سوا اور آپ کے سوا کوئی نہیں ہے
دیہاتی کی ظاہری حالت دیکھ کر درباری تمسخر کی نگاہ سے دیکھنے اور ہنسنے لگے
`دیہاتی شرمندہ ہوگیا`
مامون الرشید کو غصہ آگیا اور کہنے لگا
*تم ایسے آدمی پر ہنستے ہو دنیا نے جس کا دم توڑ دیا تو وہ تمہارے پاس آیا ہے ؟*

مامون الرشید نے اس دیہاتی کی کرسی اپنی کرسی کے ساتھ لگوائی اسے عزت و شان سے بٹھایا
اور کہا
اے آدمی یہ بادشاہوں کی مجلس ہے اس پہ بیٹھو
تم مجھ سے کم نہیں ہو الله ہی ہے جس نے مجھے خلیفہ بنایا اور تمہیں دیہاتی بنایا
قیامت کے دن ہو سکتا ہے تم مجھ سے بلند مقام پر فائز ہو
پھر دیہاتی کے لیئے ایک ہزار دینار ایک اونٹ اور شاہی لباس عطاء کیا
جب دیہاتی باہر نکلا تو کہنے لگا
*خدا کی قسم میں مال کی وجہ سے خوش نہیں ہوا بلکہ جہاں لوگوں نے میرا دل توڑا امیر المومنین نے وہاں میرا دل جوڑا میں اس بات سے خوش ہوا ہوں*

مال و دولت خرچ کرنے سے کئی زیادہ بہتر آنے والے لحاظ کرنا ہے
`دل جوڑنا اعلی عبادت ہے`

صرف مالی معاونت سے دل جوڑنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ ایک کلمہ بلکہ *ایک مسکراہٹ* بھی وہ کام کر جاتی ہے جو لاکھوں روپے نہیں کر سکتے
ایک عورت پانی سے بھرا گھڑا لے جا رہی تھی
گھڑا گر کے ٹوٹ گیا
امام مالک پڑھا رہے تھے وہاں موجود بچے ہنسنے لگے
امام مالک اٹھے اور گھڑے کی ٹھیکریاں جمع کیں اور اپنی آستین سے سونے کے سکے نکال کر اسے دیئے اور فرمایا
`ماں جی دل چھوٹا نہ کریں یہ گھڑا اس لیئے ٹوٹا کہ آپ کا دل جوڑا جائے`
وہ عورت کہنے لگی
خدا کی قسم کسی نے میرا دل ایسے نہیں جوڑا جیسے آپ نے جوڑا ہے
`ٹوٹے دل پیسوں سے نہیں ہمدردی کے الفاظ سے جڑتے ہیں`

*لوگوں کے دِلوں کو جوڑنا سیکھیں دل توڑنے کا تو رواج ہے*
✍️

Want your school to be the top-listed School/college in Okara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


23/GD
Okara