25/03/2026
داخلہ شروع۔۔۔۔۔
2سالہ عالمہ کورس(دراسات دینیہ)
ملکی و صوبائ سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والا ادارہ
Jamia Ashrafia Okara
Jamia Fatima tul Zahra Okara
Majma Ul Uloom AL-Islamia
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Fatima tul Zahra Okara, School, Rehman colony, Okara.
25/03/2026
داخلہ شروع۔۔۔۔۔
2سالہ عالمہ کورس(دراسات دینیہ)
ملکی و صوبائ سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والا ادارہ
Jamia Ashrafia Okara
Jamia Fatima tul Zahra Okara
Majma Ul Uloom AL-Islamia
15/03/2026
جامعہ اشرفیہ اوکاڑا کی جامع مسجد رحمانیہ میں 27 ویں شب رمضان المبارک کی بابرکت رات میں دعاء ختم القرآن ہے۔
09/03/2026
الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات ۔۔۔❣️
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس سال بھی انٹرنیشنل بورڈ مجمع العلوم السلامیہ میں ہمارے طلبا و طالبات نے نمایاں کامیابی حاصل کی ۔۔۔اور *ملک بھر میں اول پوزیشن بھی جامعہ فاطمۃ الزہرا (شعبہ بنات جامعہ اشرفیہ) کے نام رہی*۔
24/02/2026
دو سالہ عالمہ کورس ۔۔۔
داخلہ 10شوال تک جاری ہے
24/02/2026
18/02/2026
12/02/2026
الحمدللہ
الحمدللہ! ایک مبارک سفر کی تکمیل
حضرت والد محترم رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، میرے لیے یہ انتہائی مسرت اور شکر کا مقام ہے کہ فجر کے بعد کے درسِ قرآن کے معمول میں، اس ہفتہ دوسرا قرآن مجید مکمل ہو رہا ہے۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور والد صاحب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔
آپ تمام احباب سے شرکت کی پرزور دعوت ہے، اور خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔
🗓 دن: ہفتہ
⏰ وقت: فجر کی نماز (06:10 بجے) کے فوراً بعد
📍 مقام: جامع مسجد رحمانیہ، رحمان کالونی، اوکاڑا
بہت سی عالمات جن کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے یا پھر ہونے والی ہوتی ہے وہ مجھ سے رابطہ کرتی ہیں۔
زیادہ تر ایک ہی بات کہتی ہیں کہ اب ہمارے ذہن میں ایک مسلسل پریشانی سی رہتی ہے۔ وہ یہ کہ اب ہم دین کا کام کیسے کریں گے؟
میرے شوہر نے شادی سے پہلے کہا تھا کہ مجھے ادارہ بنوا دیں گے اب کہتے ہیں کہ ایک دم سے نہیں بنتا کچھ وقت لگے گا۔۔۔۔
مجھے مدرسے میں جاب نہیں کرنے دی جا رہی اس طرح تو میرا پڑھا ہوا ضائع ہوجائے گا۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
تو میری پیاری بہن! مجھے یہ بتائیے کہ آپ سے یہ کس نے کہا تھا کہ علم دین حاصل کرنے کے بعد جاب کر کے ہی دین کا کام ہوگا؟
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت آپ کے لیے کیا ضروری یے؟ دین کہ کام کا کہہ کر گھر سے باہر پانچ چھے گھنٹے بتانا یا گھر میں رہ کر نئے رشتوں کو وقت دینا۔
پھر سب سے بڑی غلط فہمی وہ یہ ہے کہ دین کا کام تو باہر جا کر ہی ہوگا۔ ارے جناب یہی تو ہے وقت ہے اصل کام کرنے کا وہ بھی گھر میں رہ کر یعنی جو کچھ پڑھا سیکھا سمجھا اسے اپنے کردار اور اعلی اخلاق کے زریعے نئے بننے والے رشتوں کو سنبھالنا اور تعلقات بہتر کرنا۔
یہ بات خوب سمجھ لیں کہ شادی کے بعد اس وقت کی سب سے بڑی ذمہ داری اور کام شوہر اور دیگر نئے بننے والے رشتوں کی آبیاری اور اس نئے خاندان میں خود کو ایڈجسٹ بھی کرنا ہے اور ساتھ اپنے اخلاق کے زریعے ان رشتوں کو دین کی جانب مائل بھی کرنا یے۔
یہاں ایک بات کا خیال رہے کہ مدمقابل مدارس کے طلبہ نہیں کہ جن پر حکم چلانا ہے کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو بلکہ سامنے موجود شخص آپ کا شوہر اور اس سے منسلک رشتے ہیں یہاں حکم سے نہیں اپنی اعلی ظرفی، وسیع القلبی اور بہترین اوصاف کے زریعے کام کرنا ہے، اپنا رشتہ ان سے مضبوط کرنا ہے اور یہ کام اتنا آسان بھی نہیں اس میں آپ کی انرجی لگنے والی ہے اس لیے خود کو زیادہ سے زیادہ اللہ کے قریب بھی کرنا ہے تاکہ اگر کوئی غلط یا منفی رویہ دیکھنے میں آئے تو اسے بغیر کسی چیخ پکار کے سنبھال لیا جائے۔
اس وقت کا سب سے بڑا کام یہی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھنا ہے کہ اگر شوہر یا سسرال والوں میں عملی طور پر کمی کوتاہی ہے تو اسے فتوے یا تنقید سے ٹھیک نہیں کرنا ہے بلکہ انتہائی تہذیب نرمی اور اخلاق کے ساتھ معاملات کو لے کر چلنا ہے۔ فوری تبدیلی کی امید نہیں لگانی یے یہ صبر آزما سفر ہوسکتا یے اس لئے صبر کا دامن تھام کر رکھیں۔ پھر یہ بھی توجہ طلب بات ہے کہ اپنی نیت کی درستی پر بھی کام کیا جائے کیوں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک خاص قسم کا علمی تکبر سا آجاتا یے کہ میں زیادہ جانتی ہوں انہیں نہ ہی پتا ہے اور نہ ہی یہ لوگ اتنا عمل کرتے بلکہ دین سے دور ہیں۔ تو ایسی سوچ آپ کو گہرا تعلق قائم کرنے نہیں دے گی۔ اپنی شرعی حدود کو یاد رکھیں اور انہیں تکبر کی آنکھ سے نہ دیکھیں۔ جتنا درد آپ کے اندر امت کا ہے اتنا ہی ان لوگوں کا رکھیں۔
پھر اگر اولاد کی خوشخبری مل جاتی ہے تو اب تو ہر طرف سے بے نیاز ہو کر بس اسی طرح توجہ رکھنی ہے کہ میں اپنی ذہنی جسمانی اور روحانی صحت کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھوں کیوں کہ اس وقت میں اہم ترین مشن کے لیے چن لی گئی ہوں۔
بہت سے عالمات اس وقت کو اس رونے دھونے میں ضائع کر دیتی ہیں کہ میرا ادارہ بنانے کا خواب ادھورا رہ گیا، اب کام کیسے کروں گی، بچے کے ساتھ تو کام نہیں ہو پائے گا وغیرہ وغیرہ۔
یہ یاد رکھیں کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فرد پیدا کرنا اور اسے شریعت کے مطابق تربیت دینا خود دین کا اہم ترین کام ہے، اس لیے اسے اہم سمجھیں اور اس پر فوکس کریں۔
ایسا نہیں ہے کہ آپ کو وہ کام کرنے کا کبھی موقع نہیں ملے گا جو آپ کرنا چاہتی ہیں۔ مگر یہ آزمائش کا وقت ہوتا ہے، اس وقت اگر حکمت عملی سے خود کو سنبھال کر قدم اٹھایا تو وہ وقت بھی آئے گا جب بچے سمجھدار ہو کر خود آپ کے ساتھ دین کا کام کرنے میں مدد دیں گے۔
اس وقت ترجیحات کو سمجھیں یہاں تک کہ اگر کچھ بریک لینا پڑے تو لے لیں۔ کچھ ماہ یا سال میں آپ دوبارہ سے کام شروع کر سکتی ہیں۔ ہاں اس عرصے میں کتب بینی اور علمی حلقوں سے غائب نہ ہوجائیں، جڑی رہیں علم کے موتی جہاں سے ملیں سمیٹتی رہیں۔ علمی محافل میں شریک ہوتی رہیں۔ آن لائن ہی صحیح مگر جڑی رہیں۔
اور سب سے اہم بات دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا بند کریں۔ پریشانی کا ایک اہم سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم ہر وقت خود ہی منفی سوچ رکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کر رہی ہوں سب آگے نکل جائیں گے۔ تو جناب اس وقت آگے نکلنے سے زیادہ ضروری ٹھہر جانا یے تاکہ اپنی جڑیں مظبوط کی جاسکیں اور خاندان کی افزائش و آبیاری میں اپنا کردار ادا کیا جاسکے اور بلاشبہ یہ ایک بڑا اور عظیم کام ہے۔
فیض عالم