Muhammad Imran Qadri

Muhammad Imran Qadri

Share

عقیدہ حق اہل سنت و جماعت کا فروغ، اصلاحِ نفس، محبتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ کی شمع جلانا، اور احکامِ دین کی دعوت میرا نصب العین ہے۔"

28/10/2025
10/03/2025

اللہ بے خبر نہیں تم سے ! وہ جانتا ہے تم نے اُسے کتنی بار پکارا ہے۔ ❤️

21/10/2024

*تحریر 10*

*عقائد متعلقۂ نبوت*
ایک مسلمان کے لیے جس طرح الله تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں جاننا ضروری ہے ، اسی طرح اس کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ انبیاء کے لئے کیا جائز ہے کیا محال ہے اور کیا واجب ہے ، اس لیے کہ نبی کے لیے کسی واجب یا ضروری چیز کا انکار اور کسی محال چیز کا اقرار بھی کفر ہے ۔
قاضی عیاض رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: جو انسان اس بات سے انجان ہے کہ نبی کے لیے کیا چیز ضروری ہے کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز محال ہے تو وہ اس اندیشے سے محفوظ نہیں ہے کہ وہ بعض باتوں میں ایسا عقیدہ رکھے کہ جس کی نسبت کرنا نبی کی طرف جائز نہیں ہے ، وہ انجانے میں ہلاک ہو جائے ، اور جہنم کے نچلے گڑھے میں جا گرے ۔ اس لیے کہ نبی علیہ السلام کے لیے باطل گمان بھی رکھنا ہلاکت کے گھر میں ٹھکانے لگائے گا ۔
*دو شخصوں کے لیے حضور علیہ السلام کی احتیاط*
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ بنت حُیَی ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کے لیے مسجد میں تشریف لے گئیں جب کہ آپ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد میں معتکف تھے۔ وہ عشاء کے وقت کچھ دیر نبی ﷺ سے بات چیت کرتی رہیں پھر اٹھ کر واپس چل دیں، رسول اللہ ﷺ انہیں (مسجد کے دروازے تک) چھوڑے کے لیے ان کے ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔ صفیہ‬ ؓ ج‬ب مسجد کے اس دروازے تک پہنچیں جو رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام سلمہ‬ ؓ ک‬ے حجرے کے قریب تھا تو پاس سے دو انصاری گزرے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کیا اور چل دیے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: ’’ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حُیَی ؓ ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! (ہم آپ پر کس طرح شک کر سکتے ہیں؟) انہوں نے (رسول اللہ ﷺ کی) اس بات کو شدت سے محسوس کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان انسان میں خون کی طرح پھرتا ہے۔ *مجھے خطرہ محسوس ہوا تھا کہ وہ تمہارے دل میں کوئی (نا مناسب) بات نہ ڈال دے*۔‘‘(ابن ماجہ 1779)
امام ابو سلیمان خطابی نے فرمایا ؛ کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ان کے کفر کا اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اجنبی عورت سمجھ کر *تہمت کا گمان کر بیٹھیں* لہذا سرکار علیہ السلام نے ان سے خیر خواہی فرماتے ہوئے حضرت صفیہ کے ہونے کی خبر دینے میں جلدی فرمائی ۔۔۔

whatsapp.com

20/10/2024

*تحریر 9*
*محرر: محمد عمران قادری*

*تقدیر کا بیان*
یوں تو قضاء و قدر میں بے جا بحث کرنا کرنا ممنوع ہے ، حدیث پاک میں آیا ہے کہ " جب تقدیر الہٰی کا ذکر ہو تو اپنی زبانوں کو روک لو "۔ لیکن چونکہ بعض لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ
*قدریہ* ایک فرقہ ہے جس کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے کچھ مقدر نہیں فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ کو پہلے علم بھی نہیں ہوتا جب کوئی کام واقع ہو جاتا ہے تو اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ کو پتہ چلتا ہے (معاذاللہ) ، ان کے نزدیک ہر کام بندہ اپنی قدرت و ارادہ اور مرضی سے کرتا ہے الله تعالیٰ کی قدرت کا کوئی عمل دخل نہیں ۔
اور ان ہی میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ اچھا کام تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا کام بندہ خود اپنی قدرت و اختیار سے کرتا ہے۔
*جبریہ* اسی طرح ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ بندہ اپنے ہر عمل پر محض مجبور ہیں،اس میں اس کے اپنے ارادہ اور قدرت کا کوئی دخل نہیں بس جیسا اس کے لیے لکھ دیا گیا وہ اسی کو کرنے پر مجبور ہے جس کے لیے اچھائی لکھی گئی وہ اچھائی کرتا ہے جس کے لیے برائی لکھی گئی وہ برائی ہی کرے گا ۔
*اہل سنت و جماعت کا عقیدہ*
اہل سنت و جماعت کا عقیدہ اس بارے میں یہ ہے کہ
" جو کچھ جہان میں لوگ کرنے والے تھے یا جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے ازلی علم سے پہلے ہی جان کر اسی طرح لکھ دیا ، کسی کے حق میں بھلائی لکھ دی گئی اور کسی کے حق میں برائی لکھ دی گئی ۔ لیکن اس لکھ دینے نے بندہ کو مجبور نہیں کر دیا کہ جیسا اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا بندے کو مجبوراً ویسے کرنا پڑتا ہے بلکہ جو کچھ بندے نے اپنے ارادہ سے کرنا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے ہی سے لکھ دیا ۔
اور یہ بات ہم پہلے جان چکے ہیں کہ کوئی بھی کام ہے بندہ صرف کسب یا ارادہ کرتا ہے باقی وہ کام اللّٰہ کی قدرت سے ہی پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے یعنی جیسے ہی بندے نے چھری سے کسی چیز کو کاٹنا چاہا اللّٰہ تعالیٰ نے چھری میں کاٹنے کی طاقت پیدا فرما دی ، اب چاہا بندے نے اپنی مرضی سے لیکن کام کی تکمیل اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت سے ہی ہوئی ۔

16/10/2024


#محرر:


قرآن مجید کے بعض الفاظ ایسے ہیں کہ جن کے ظاہری معنیٰ یا تو سمجھ ہی نہیں آتے جیسے حروفِ مقطعات ، مثلاً سورۂ بقرہ کے شروع میں’’الٓمّٓ‘‘ہے ،یا سمجھ تو آتےہیں لیکن وہ مراد نہیں ہوتے جیسے اللہ تعالیٰ کے’’یَدْ‘‘یعنی’’ہاتھ‘‘اور’’وَجْہٌ‘‘یعنی’’چہرے ‘‘ والی آیات

اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ قرآن و حدیث میں وارد الفاظ متشابہات کے ظاہری معنی مراد نہیں ہو سکتے ۔
مثلاً قرآن پاک میں "وجه (چہرہ) ، اعين (آنکھیں) ، جنب (پہلو) ، ساق (پنڈلی) " جیسے الفاظ اللّٰہ تعالیٰ کے لیے آئے ہیں ۔ اگر ہم انکا ظاہری معنی مراد لیں تو اس سے ایک ایسی ذات ثابت ہوگی جس کا چہرہ ہے جس پر کئی آنکھیں ، ایک پہلو ، کئی ہاتھ اور پنڈلی ہے دنیا میں اس سے ذیادہ کوئی قبیح صورت نہیں ہو سکتی ، جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کوئی ایسا نہیں کہہ سکتا ۔
لہذا آیات متشابہات میں اہل سنت حفظہم اللہ تعالٰی کے دو مسلک ہیں:
*اول تفویض* یعنی ان الفاظ کی مراد کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جانیں ، ہمارا ان آیات پر بس ایمان ہے ۔
*دوم تاویل* کہ ایسی آیات کو حسبِ محاورہ ایسے معنی کی طرف پھیرا جائے جو معنی مراد لینے سے بات بھی مکمل ہو جائے و سمجھ آ جائے اور کوئی قباحت بھی لازم نہ آئے جیسے " ید سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت لینا " اور "ساق سے مراد قیامت کے احوال کی شدت لینا" وغیرہ ۔

08/10/2024


#محرر :

#اللّہ_تعالیٰ_کے_لیے_اوپر_والا_یا_عرش_پر_ہے_جیسے_الفاظ_کا_استعمال
"کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اوپر ہے اور عرش پر موجود ہے" ہمارے نزدیک ایسا عقیدہ رکھنا کفر ہے ۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کو عرش پر ہے کہتے ہیں ان کی دلیل قرآن پاک کی آیت ہے"(الرحمن على العرش استوى) رحمان نے عرش پر استواء فرمایا" ، اس حوالے سے وضاحت درج ذیل ہے ۔
(1) ایک تو یہ کہ یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے (جس کی تفصیل عنقریب ذکر ہوگی) جس کے متعلق تفصیل میں جانے کی بجائے یہ کہا جائے "آیت پر ہمارا ایمان ہے اور اس کی حقیقی تفصیل اللّٰہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے" ۔
(2) اور عوام کے اطمینان کے لیے اس آیت کی جو تاویل کی جاتی ہے ان میں سے ایک یہ کہ :
استوی قصد و ارادہ کے معنی میں بھی آتا ہے اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ بنتا ہے کہ " اللّٰہ تعالیٰ نے عرش کی تخلیق کا ارادہ فرمایا " ، اس پر دلیل یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن پاک میں سات مقامات پر آیا ہے اور ہر جگہ آسمان و زمین کی تخلیق کا ہے ذکر ہے ۔
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں میں نہیں تو پھر دعا کے لیے ہاتھ آسمان کی جانب کیوں اٹھاتے ہیں ۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ دعا میں ہاتھ آسمان کی جانب اس لیے اٹھاتے ہیں کہ آسمان دعا کا قبلہ ہے جیسے کعبہ سجدہ کے لیے قبلہ ہے ۔
فتاویٰ شامی جلد اول میں ہے"(قوله لأنها قبلة الدعاء) أي كالقبلة للصلاة فلا يتوهم أن المدعو جل وعلا في جهة العلو" یعنی دعا کرتے ہاتھ آسمان کی جانب اس لیے بلند کرے کیوں کیونکہ آسمان دعا کا قبلہ ہے نہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اوپر آسمان میں ہے ۔

07/10/2024


#محرر :

#اللّہ_تعالیٰ_کہاں_ہے
"اللہ تعالیٰ ہماری شہ رگ (یعنی ہماری جان) سے بھی ہمارے زیادہ قریب ہے ۔مگر اللہ تعالیٰ جہت ، مکان ، زمان ، حرکت،سکون ، شکل ،صورت اور جمیع حوادث سے پاک ہے"۔
کیونکہ کسی "طرف" وہ ہوتا ہے جس کا جسم ہو اور جب اللّہ تعالیٰ جسم و جسمانیت سے پاک ہے تو وہ کسی "طرف" ہونے سے یا کسی "جہت" میں ہونے سے پاک ہے ،اور کسی جگہ ، شکل اور صورت وغیرہ کا محتاج ہونا مخلوق کا خاصہ ہے لہذا خالق ان تمام چیزوں کی محتاجی سے پاک ہے ۔ ہمارا بس اللّٰہ تعالیٰ کے ہونے پر ایمان ہے اس کی صفات پر ایمان ہے اور اس بات پر ایمان ہے کہ وہ مخلوق جیسا نہیں اور ہماری عقلیں اس کے ادراک سے عاجز ہیں ۔
اللّہ تعالیٰ کا فرمان ہے
*1* الله الصمد (القرآن) ، اللّٰہ بے نیاز ہے ۔ الصمد یعنی وہ سردار جس کی طرف سارے محتاج ہوں اور وہ کسی کا محتاج نہ ہو ۔
*2* ليس كمثله شيء (القرآن) ، اس جیسا کوئی نہیں ۔ اس آیت مقدسہ میں واضح طور پر بیان ہے اللہ تعالیٰ کی ذات تمام تر مخلوقات سے ہر جہت سے مختلف ہے ۔
*3* و الله الغنى و انتم الفقراء (القرآن) ، اور اللہ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو ۔
اگر اللہ تعالیٰ کسی جگہ یا جہت کے ساتھ خاص ہوتا تو وہ جہت کا محتاج ہوتا ، جبکہ یہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی کے خلاف ہے ۔

*کیا یہ کہہ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہے*

ایسا کہنا کلمہ کفر ہے کیونکہ عقیدہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل جگہ اور جہت وغیرہ سے پاک و منزہ ہے۔ کیونکہ جگہ میں وہ ہوتا ہے جس کا جسم ہو، جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ جسم سے پاک ہے۔ لہذا اللہ سبحانہ و تعالی کو کسی جگہ میں موجودہونے کو متعین کرنا یا اس کے لئے جہت و سمت یا جسم و اعضاء ثابت کرناکفرہے لہذا ایسا کہنے والے پر توبہ و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے۔
صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ جِہَت(یعنی سَمت) و مکان وزَمان و حَرَکت وسُکون و شکل و صورت وَ جمیع حَوادِث سے پاک ہے ۔(بہارِشریعت،جلد،حصّہ1،صفحہ8،مکتبۃ المدینہ،کراچی )
شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:یہ کہنا کہ اللہ تعالی ہر جگہ میں ہے ذرے ذرے میں ہے، ضرورکلمہ کفر ہے ۔
(فتاویٰ شارح بخاری ،کتاب العقائد، عقائد متعلقہ ذات و صفات الہیہ،جلد1،صفحہ113،دائرۃ البرکات)

Want your school to be the top-listed School/college in Okara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Okara