21/10/2024
*تحریر 10*
*عقائد متعلقۂ نبوت*
ایک مسلمان کے لیے جس طرح الله تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں جاننا ضروری ہے ، اسی طرح اس کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ انبیاء کے لئے کیا جائز ہے کیا محال ہے اور کیا واجب ہے ، اس لیے کہ نبی کے لیے کسی واجب یا ضروری چیز کا انکار اور کسی محال چیز کا اقرار بھی کفر ہے ۔
قاضی عیاض رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: جو انسان اس بات سے انجان ہے کہ نبی کے لیے کیا چیز ضروری ہے کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز محال ہے تو وہ اس اندیشے سے محفوظ نہیں ہے کہ وہ بعض باتوں میں ایسا عقیدہ رکھے کہ جس کی نسبت کرنا نبی کی طرف جائز نہیں ہے ، وہ انجانے میں ہلاک ہو جائے ، اور جہنم کے نچلے گڑھے میں جا گرے ۔ اس لیے کہ نبی علیہ السلام کے لیے باطل گمان بھی رکھنا ہلاکت کے گھر میں ٹھکانے لگائے گا ۔
*دو شخصوں کے لیے حضور علیہ السلام کی احتیاط*
نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ بنت حُیَی ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کے لیے مسجد میں تشریف لے گئیں جب کہ آپ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد میں معتکف تھے۔ وہ عشاء کے وقت کچھ دیر نبی ﷺ سے بات چیت کرتی رہیں پھر اٹھ کر واپس چل دیں، رسول اللہ ﷺ انہیں (مسجد کے دروازے تک) چھوڑے کے لیے ان کے ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔ صفیہ ؓ جب مسجد کے اس دروازے تک پہنچیں جو رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام سلمہ ؓ کے حجرے کے قریب تھا تو پاس سے دو انصاری گزرے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کیا اور چل دیے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا: ’’ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حُیَی ؓ ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! (ہم آپ پر کس طرح شک کر سکتے ہیں؟) انہوں نے (رسول اللہ ﷺ کی) اس بات کو شدت سے محسوس کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان انسان میں خون کی طرح پھرتا ہے۔ *مجھے خطرہ محسوس ہوا تھا کہ وہ تمہارے دل میں کوئی (نا مناسب) بات نہ ڈال دے*۔‘‘(ابن ماجہ 1779)
امام ابو سلیمان خطابی نے فرمایا ؛ کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ان کے کفر کا اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اجنبی عورت سمجھ کر *تہمت کا گمان کر بیٹھیں* لہذا سرکار علیہ السلام نے ان سے خیر خواہی فرماتے ہوئے حضرت صفیہ کے ہونے کی خبر دینے میں جلدی فرمائی ۔۔۔