Kharal Family Universty of agriculture faislabad

Kharal Family Universty of agriculture faislabad

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kharal Family Universty of agriculture faislabad, Education, Punjab, Okara.

09/07/2022

UNIVERSITY OF AGRICULTURE FAISLABAD

POSTGRADUATE ADMISSIONS UPDATES FOR 2ND ENTRY TEST

➡️ Registration Start From: 07 July 2022

➡️ Last Date Of Registration : 28 July 2022

➡️ 2nd Entry Test: 5,6,7 August 2022

How to Apply for Second Entry Test

🎐 Those students who are already registered, just have to login their accounts after registration open for 2nd test and they will have the option to print a challan form. Just pay it in the bank and you will get your roll number slips.

🎐 Such students who didn't applied and registered for first entry test should kindly follow all the instructions.

14/05/2021

راے احمد خان کھرل کی ڈاکومنٹری

راے احمد خان کھرل , کھرل قوم کا فخر ہے

21/02/2021

21 فروری ماں بولی دیہاڑ

07/02/2021
02/02/2021

: میں اُس معاشرے کا فرد ہوں، جس میں غریب کا حق مار کر دولت کمائی جاتی ہے،پھر اسی دولت سے غریب کو کھانا کھلا کر خدا کی قربت حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ۔
ہاں !میں اُس معاشرے کا فرد ہوں ،جس میں غریب کا گھر توڑ کر اسے پناگاهیں بنا دی جاتی ہیں،اور سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنایا جاتا ہے . 💔💔

"ارسلان حیدر "

31/01/2021

*ہر دور کا ہتھیار*
*قلم ۔۔۔*

*تحریر : (ارسلان حیدر کھرل )*

ہتھیار دو طرح کے ہیں ۔
1)جدید ٹیکنالوجی ،اسلحہ
2) علم و آگاہی
ہم میں سے اکثر پہلے والے ہتھیار کو ہی جانتے ہیں ،اور اسی کو ہی طاقت سمجھتے ہیں .کافی حد تک یہ درست بھی ہے،لیکن اگر دوسرا ہتھیار جو کے قلم ہے ،اگر یہ نہ ہو تو پہلے کا ہونا اور استعمال نا ممکن ہے ۔

دوسرا ہتھیار علم و آگاہی ہے ،جس سے انسان ہر مادی شے پر حاوی ہو سکتا ہے ۔افسوس ہمارے ہاں اس کو صرف پیسے كمانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔جس کا نتیجہ یہ ہوا ،کہ! ہم اقوام عالم سے اس دور کی جو دوڑ ہے ،اس میں بہت پیچھے ہیں ۔

علم ،آگاہی اور شعور کی بدولت انسان باقی جانداروں سے اعلی اور ممتاز ٹھہرا ۔جانور بھی کھاتے پیتے ہیں ،پر وہ عقل و شعور نہیں رکھتے ۔

انسان تب قلم اٹھاتا ہے، جب وہ علم جیسے نور سے فیض یاب ہو جاتا ہے . اب یہ اس کے خود کے اختیار میں ہے ،کہ وہ اپنے قلم سے حق کیلئے لکھتا ہے یا باطل کیلئے ۔اپنے قلم سے تربیت کرنا حق لکھنا بھی ایک فن ہے ،جو ہر کوئی انجام نہیں دے سکتا ۔

اسی لئے بزرگ عالم دین فرماتے ہیں ،کہ ! " قلم کی سیاهی شہید کے خون سے افضل ہے۔"

تاریخ کے اوراق اگر پلٹے جائیں تو پتا چلتا ہے، کہ ! ایک وقت تھا جب قلم اور تلوار مسلمان قوم کی میراث سمجھی جاتی تھی .جب ہمارے پاس دانش ور ،سائنسدان ،جنگجو سب موجود تھے ،تب اقوام عالم میں ایک نام تھا۔تمام قومیں اُس علم سے فیض یاب ہوتی تھیں ۔لیکن جب اس کو چھوڑا گیا تو تباہی ہمارا مقدر بنی۔

وہ قومیں جو آج ہمارے اوپر حکمرانی کر رہی ہیں،انہوں نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا اور ایسی جنگ لڑی کے فتح یاب ہو گئے ۔آج وہ قوم جو تعداد میں کم ہے وہ حکمرانی کر رہی ہے ۔

ہمارے ہاں بھی تعلیم پائی جاتی ہے ،ہر دوسرا بندہ حاصل بھی کر رہا ہے ،پر تربیت بلکل بھی نہیں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔اسی لئے ہمارے پڑھے لکھے پر شعور سے عاری ڈگری حاصل کر بھی لیں،تب بھی انھیں سامنے والے سے بولنے کی تمیز نہیں ہوتی ۔ہمیں آج تک تعلیم نے یہ بھی نہیں سكهایا کے" آپ" اور "تم "میں کیا فرق ہے ۔

ہماری تعلیم ہمیں خود سے خود تک محدود کر کے رکھے ہوئے ۔ہماری اپنی ہی دنیا ہے، ذاتی مفاد کے بیچ میں کوئی اور مفاد آڑے آنے لگ جاۓ تو ہم ذاتی مفاد کو فرض اولیں سمجھ کر ادا کرتے نظر آتے ہیں ۔ہم نے خود کی ذمہ داری کو وقت کا پابند بنا رکھا ہے ۔

اس کے برع

22/01/2021

جمعہ مبارک

21/01/2021

*بُتوں کوتوڑ دیں ۔۔*

*(ارسلان حیدر کھرل )*

اگرچہ ! ہم مسلمان کے گھر پیدا ہوئے تو ہم بھی مسلمان ٹھہرے۔
کیونکہ ! اِسلام ہمیں ورثے میں ملا، اس لیئے ہم نہ تو اس پرغور و فکر کرتے ہیں، اور نہ ہی اس میں عقل وفهم کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جس کا نقصان یہ ہوا کہ! ہم حق سے دور ہوتے جا رہے ہیں ،اور باطل کے قریب تر ۔

ہمارے نزدیک بُت ،صرف وہ صنم ہے ،جس کی پرستش کی جاتی ہے۔بلکل! وہ بھی گمراہی کے سوا کچھ نہیں ۔لیکن ! اس کے علاوہ ہم بہت سارے بُتوں کی پرستش کرتے ہیں ۔
ان بُتوں میں سرفہرست اپنی ذات کا بُت ہم اپنی میں،اپنی اَنامیں قید ہیں۔ہماری اَنا ہمارے رشتوں کو،ہمارے جذبات کو ، ہماری دین داری حتیٰ کہ! خود کی ذات کو بھی کھا جاتی ہے .

دوسرا بُت اپنی قوم ،خاندان،برادری کا ہے، جس کا ہم ہر وقت ڈھنڈورا پیٹتے پھرتے ہیں ۔اپنے خاندان کے علاوہ ہمیں ہر قوم ،ہر خاندان کم تر دکھائی دیتا ہے، اور اپنی برادری کے مفاد کی خاطر ہم باطل کا ساتھ دینے اور ظلم کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔ہم اس وقت یہ بھول بھلا دیتے ہیں، کہ ! فوقیت کامیعارصرف تقویٰ و پرہیز گاری ہےنہ کہ رنگ ونسل ۔۔

تیسرا بُت لِسانیت کا بُت ہے۔ہمیں اپنی زبان کے علاوہ باقی سب کی زبان مذاق لگتی ہے،اور اس سلسلے میں ہم لوگوں کو باتیں سنانے میں کوئی ہِتک محسوس نہیں کرتے ۔ہم لسانیت کو بنیاد بنا کر جھگڑا اور فساد بھی برپا کر دیتے ہیں ۔ یہاں تک ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ضرورت پڑے تو جان بھی لے لیتے ہیں .

چوتھا بُت تنظیم پرستی ،جماعت پرستی ۔ہمیں ہماری جماعت کے علاوہ باقی سب جھوٹے اور مقصد سے منحرف دکھائی دیتے ہیں ۔ہم انھیں راہ راست پر لانے کی تگ و دو کرتے پھرتے ہیں، اور ہمارے پاس خود کی جماعت کے حق پر ہونے کی صرف ایک دلیل ہوتی ہے، کہ ! ہم خود اس جماعت کا حصّہ ہیں ۔

پانچواں بُت شخصیت پرستی کا ہے ۔ہمیں جس شخصیت سے لگاؤ پیدا ہو جاۓ ہمیں اس کے علاوہ سب فاسق اور جھوٹے دیکھائی دیتے ہیں، چاہے وہ شخص خود جھوٹا و مکار ہو جس کی ہم تعریفیں کر کر نہیں تھکتے ۔شخصیت سے لگاؤ ایک حد تک ہو،یعنی اتنا کے بندہ اس کے صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کی جرأت کرسکے ۔

چھٹا بُت فرقہ پرستی ہے،اپنے فرقے کے علاوہ ہمیں سب غلطی پر دکھائی دیتے ہیں۔اور دوسرے کو اپنے فرقہ میں ضم کرنے کے لیئے دلیلیں پیش کرتے پھرتے ہیں ۔کچھ لوگ دلیل دینے کی جسارت بھی نہیں کرتے ،بلکہ! وہ سیدھااگلےکی جان لینے کے در پہ ہو جاتے ہیں،اپنے اس مقصد کو کامیاب کرنے کے لیئے وہ معصوم لوگوں کا قتلِ عام کرتے ہیں،اور بُرے لوگوں کا آلۂ کار بن جاتے ہیں ،اور ایسے گھٹیا کام سر انجام دیتے ہیں کہ لوگ سن کرحواس باختہ ہو جائیں ۔

آج کل اس کی مثال عام مل جاۓ گی،لوگ خود کے فرقہ کو منوانے کے لئے درندہ صفت بن جاتے ہیں .اور دوسرے سے جینےکا حق تک چھین لیتے ہیں ،وہ یہ سب کرتے ہوئے یہ کیوں بھول جاتے ہیں، کہ! "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے "

لہذا! بُت تو یہ بھی ہیں، مگرہم اس طرف توجہ دینا ہی نہیں چاہتے، اگر توجہ دےدی جاۓ ،تو یہ پھر قربانی مانگے گا ،جو ہم دے نہیں سکتے .

اطاعتِ خدا ! فقط یہ نہیں کے ہم صنم کوتوڑ دیں، بلکہ توڑناہےتو شروع کریں پہلے اپنی ذات کے بُت سے۔ آئیں اپنی قومیت کا بُت توڑیں ، اپنی لسانیت کا بُت توڑ ڈالیں ،فرقہ پرستی کا بُت توڑ ڈالیں ۔ہمیں ان سب بُتوں کو نیست و نابود کرنا پڑے گا ۔تب جا کر ہم اطاعتِ خدا بجا لا سکتے ہیں ،اور ایک مثالی معاشرہ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ علامہ اقبال کا شعر اس سب کی بہترین ترجمانی کرتا ہے ۔کہ !

اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھـے ہـے حـکمِ اذاں لاَ اِلـہَ اِلَّا اللّـــہ

*٢٠ /٠١/ ٢٠٢١*

Want your school to be the top-listed School/college in Okara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Punjab
Okara