Dr.Sattar Lawaghri

Dr.Sattar Lawaghri

Share

Writer,
Columnist,
Poet,
researcher,
Ex Principal GDC badaber,

07/11/2025

یارانو قلندر تہ دعا گانے کڑئ
اوس گنی پختو کے غزل چرتہ دے

ماضی کے دریچے سے کبھی جھا نک کے دیکھو
پشاور کے متعلق کہا جاتا یہاں کہ ایک شہر ہے عالم میں انتخا ب۔میری بھی جب قسمت بیدار ہوئ تو اسی انتخاب عا لم شہر میں ٹھکانہ نصیب ہوا ۔کہتے ہیں کہ پشاور میں رزق حلال کی کمی کبھی نہیں اتی ۔میں یہاں انتہائ بے سر وسامانی کی حالت میں ایا تھا۔میں نے چمکنی موڑ پر ایک کچا مگر نیا نیا تعمیر شدہ گھر کرا ے پر لیا سستائ کا زمانہ تھا جی ٹی ایس بسیں مضافاتی علا قوں کو جاتی تھیں چمکنی سے ہشت نگری جی ٹی ایس سٹاپ تک ایک روپے کرایہ تھا بس سے اترتے ہی چند سو قدم کے فاصلے پر گور نمنٹ کالج کی عمارت ہے۔
راستے میں خوشحال کالونی اتی ہے یہاں عظیم دانشور قلندر مومند کا گھر تھا قلندر مومند ہمہ
جہت سکالر تھے ان کے فرزند زلان مومند سیکنڈ ائیر میں پڑھتے تھے اس سیکشن کو میں اردو پڑھاتا تھا زلان پہلی قطار میں بیٹھتا تھا میں اردو پڑھاتے وقت پشتو کے اشعار بھی سناتا تھا ایک دن میں نے جب یہ شعر پڑھا
یارانو قلندر تہ دعا گانے کڑئ
اوس گنی پختو کے غزل چرتہ دے
زلان نے کہا کہ سر میں قلندر کا بیٹا ہوں قلندر صاحب سے زلان نے میرا ذکرکیا زلان کی وساطت سے قلندر صاحب سے ملاقات ہوئ۔قلندر مومند انگریزی ادب کے ادمی تھے پشتو ادب کے لۓ ان کی خدمات ان گنت ہیں پریشان خٹک جب گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے قلندر مومند گومل یونیور سٹی کے لاء کالج میں قانون پڑھاتے تھے۔یہ وہ وقت تھا کہ پشاور میں بڑی بڑی شخصیا ت بقید حیات تھیں۔فار غ بخاری صاحب خاطر غزنوی رضا ہمدانی
پروفیسر امداد حسین بیگ ڈاکٹر اعجاز راہی پرو فیسر پردل خٹک
ڈاکٹر اقبال نسیم اور ھمیش خلیل وغیرھم۔پشتو ادب میں نمایاں شخصیت پروفیسر پریشان خٹک کی تھی اور اردو ادب کا بڑا نام فارغ بخاری کا تھا فار غ بخاری ذہنی طور پر ماؤف ہو چکے تھے پریشان خٹک کی شان وشوکت بدستور قائم تھی پشاور شہر میں جب بھی کوئ بڑی تقریب منعقد ہوتی تھی صدارت کا منصب پریشان خٹک سنبھالتے تھے کیونکہ پشاور میں سب سے بڑی شخصیت پریشان خٹک تھے۔پروفیسر کا منصب بہت بڑا منصب ہو تا ہے۔برصغیر پاک وہند میں ادب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے صرف چار پروفیسر ایسے گزرے ہیں جو صحیح معنوں میں پروفیسر تھے۔ایک پروفیسر پطرس بخاری تھے دوسرے پروفیسر حسن عسکری تھے تیسرے پروفیسر فراق گورکھپوری تھے اور چو تھے پروفیسر پریشان خٹک تھے پطرس عسکری اور فراق اردو کے ادیب تھے اور یہ تینوں انگریزی ادب کے اساتذہ تھے پریشان خٹک پشتو ادب کے پروفیسر تھے ان چاروں کا معیار زندگی بہت بلند تھا اس بلند معیار تک دوسرا پرو فیسر نہ پہنچا ہے اور نہ پہنچ سکتاہے ان شخصیات نے معیار پر سمجھوتا نہیں کیا ہے یہ وہ پروفیسرز تھے کہ عہدوں کے پیچھے نہیں بھا گتے تھے بلکہ عہدے ان کے پیچھے بھاگتے تھے۔پطرس بخاری اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب تعینات ہو ۓ فراق کو حکومت ہندوستان نے نیشنل پرو فیسر کے اعزاز سے نوازا ۔حسن عسکری اور پریشان خٹک عہدوں سے سبک دوش ہونے کے بعد بھی سدا بہار تھے ۔
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں کا نہیں پا بند۔
حمزہ بابا بقید حیات تھے مگر صاحب فراش تھے سن چورانوے میں وفات ہو گۓ میں نے لنڈیکو تل میں ان کے جنازے میں شر کت کی تھی بہت بڑا جنازہ تھا۔حمزہ بابا پشتو کے اخری بابا تھے پشتو میں چار بابا گان گزرے ہیں خوشحال بابا رحمان بابا حمید بابا اور باباۓ غزل حمزہ بابا۔
حسام حر ہمارے کولیگ تھے ہندکو اور اردو کے ادیب تھے ہر ادبی پرو گرام میں شر کت کر تے تھے ابھی میرا ایک مہینہ بمشکل گزرا تھا کہ حسام حر نے مجھے دعوت نامہ دیا پرل کانٹینینٹل میں سید رحمان شینو کے اعزاز میں تقریب تھی اگلے روز دوسرا دعوت نامہ میرے نام لایا نشتر ہال میں بہت بڑی ادبی تقریب منعقد ہو نے والی تھی پریشان خٹک تقریب کے صدر تھے ان دو پرو گراموں میں شرکت کر کے مجھے ادبی پرو گراموں میں شر کت کا چسکا پڑ گیا اب ہر پرو گرام میں شرکت کر نا میں نے اپنا مشغلہ بنایا ۔
حسام حر کل وقتی قلمکار ہیں اس وقت ڈاکٹر خالد خان خٹک ہمارے ڈیپار ٹمنٹ کے چییر مین تھے تاریخی قصبے ٹیری کے رہنے والے ہیں مصنف محقق اور ماہر لسانیات ہیں ڈبل پی ایچ ڈی ہیں ایک پی ایچ ڈی لندن سے کی ہے اور ایک پاکستان میں کی ہے خالد خان ماسٹر خان گل مرحوم کے داماد ہیں گور نمنٹ پوسٹ گریجویٹ کرک کے پرنسپل بھی رہے ہیں ۔میں اس وقت ایم فل ڈگری کے لےء تحیقی مقالہ لکھ رہا تھا حسام حر اور خالد خان خٹک کی صحبت نے مجھے بڑا فائدہ پہنچایا میں پشاور کے تمام اردو پشتو اور ہندکو کے ادیبوں سے متعارف ہوا نور ور جا ن مرحوم بھی گور نمنٹ کالج پشاور میں شعبہ اردو میں لیکچرار تھے موضع سرٹ خیل کرک کے رہنے والے تھے جماعت اسلامی سے ان کا تعلق تھا مولانا معین الدین اف مزرینہ پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے ۔تحقیق کے سلسلے میں مجھے احمد فراز سے ملاقات کا موقع ملا میں احمد فراز کے والد اغا برق کوہاٹی پر مقالہ لکھ رہا تھا احمد فراز سے اس سلسلے میں پانچ چھ ملاقاتیں ہوئیں ۔
: احمد فراز کے بھائ بیرسٹر مسعود کوثر اور لندن میں مقیم ان کے بڑے بھائ سید محمود شاہ مر حوم نے بھی بڑا تعاون کیا مسعود کوثر اب بھی بقید حیات ہیں سر حد اسمبلی کے سپیکر اور گورنر بھی رہے
اغا برق کے چار فرزندان تھے احمد فراز نے ادب میں عالمی شہرت حاصل کی مسعود کوثر نے سیاست میں نام پیدا کیا حامد عالمی شہرت یافتہ ارکٹیکچر تھے عین عالم شباب میں وفات پا گۓ تھے ان کے بڑے بھائ سید محمود شاہ نے برٹش ائییر ویز میں نام کمایا المختصر ایں ہمہ خانہ آفتاب است
یہ لوگ حاجی بہادر کوہا ٹی کی اولاد ہیں یہ گھرا نا وڈ گھری یعنی بڑے گھرانے کے نام سے کوہاٹ میں مشہور ہے۔اغا سید محمد شاہ المتخلص بہ برق کوہاٹی اردو اور فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے حا جی بہادر کے مزار پر ان کا یہ شعر کندہ ہے
حضرت حاجی بہادر زبدۂ خاصان حق
در شریعت در طریقت از ہمہ بردند سبق
: جاری

11/09/2025

ڈیفنس پی ایچ ڈی اردو

سید قیوم شاہ نے پی ایچ ڈی اردو کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔ اُن کی تحقیقی کاوش کا موضوع "طارق اسماعیل ساگر کے ناولوں کا تجزیاتی مطالعہ" تھا۔ اس علمی کام کی تکمیل اُن کے سپروائزر ڈاکٹر ستار خان خٹک کی قیمتی رہنمائی اور علمی معاونت سے ممکن ہوئی۔

تحقیقی مقالے کی جانچ کے لیے بیرونی ممتحن ڈاکٹر کامران عباس کاظمی، اسسٹنٹ پروفیسر، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے گراں قدر آرا پیش کیں اور تحقیقی معیار کو سراہا۔

سید قیوم شاہ کی یہ کامیابی نہ صرف اُن کی ذاتی محنت اور لگن کا ثمر ہے بلکہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا نتیجہ بھی ہے۔

30/08/2025

محترم ڈاکٹر نذیر تبسم بھی ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔

10/06/2025

تاجدار حرم۔۔۔۔۔۔ ہو نگاہ کرم

03/05/2025
Photos from Dr.Sattar Lawaghri's post 18/04/2025

نن مازديګر 18/4/25 د جمعې په ورځ په اکيډمي ادبيات حيات اباد پيښور کښې د اباد ادبي کاروان د سيوري لاندې د ستر اديب شاعر ليکوال محقق څيړنګار ارواښاد پریشان خټک ياد غونډه او لمانځل شوه صدارت پروفيسر اباسين يوسفزی کولو او مشره ميلمنه محترمه بشره فرخ وه ډاکټر پروفيسر اسلم تاثیر اپريدي ډاکټر جاويد اقبال خټک اعزازي ميلمانه وو د کوربه په نشست ډاکټر اعجاز حسن خټک تشريف فرما وو قدرمنو ميلمنو د مرحوم پریشان خټک په ژوند فن او په ادبي خدماتو درنې پيرزوينې وراندې کرې او ګڼو شاعرانو منظوم کلامونه واورول محترم فلک نياز نيازي د خداے بخلی پریشان خټک کلام په خوږ آواز زمزمه کړو محفل ماښام پايې ته ورسيدو...

Want your school to be the top-listed School/college in Nowshera?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Northern University
Nowshera
PESHAWAR