24/06/2024
پی ٹی ایم کا شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں ہونے والا شر پسندانہ جلسہ - کیا یہ محض افغان مہاجرین کا اجتماع تھا ؟؟
22 جون 2024 کو شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں پی ٹی ایم نے جلسے کا انعقاد کیا جس میں ایک بار پھر افغانستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔
حیران کن طور پر اس جلسے میں پشتونوں کی جگہ افغان اکثریت شامل تھی جس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی ایم کا یہ نام نہاد چھوٹا سا جلسہ پشتونوں کی نمائندگی کرتا ہے یا یہ افغان مہاجرین کا اجتماع تھا؟
پی ٹی ایم پہلے ہی پاکستان مخالف کاموں میں مصروف عمل ہے۔ ان کے جلسوں میں ایک بار پھر افغانی جھنڈے لہرانے سے یہ بات واضح ہوگئ ہے کہ ان کا اصل ایجنڈا پاکستان توڑنا ہے۔
دراصل میں پی ٹی ایم کی جانب سے رزمک میں یہ امن مظاہرہ نہیں بلکہ امن کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے رزمک میں امن بحال نہ کیا ہوتا تو آج یہ لوگ جلسہ بھی نہیں کرسکتے تھے۔
یہ بات عیاں ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، انتشاری ٹولہ اور پی ٹی ایم ایک ہی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ جس طرح ٹی ٹی پی نہیں چاہتی کے ضم شدہ قبائلی علاقے ترقی کرے۔ اسی طرح پی ٹی ایم بھی ضم شدہ اضلاع کے انضمام کے خلاف ہے۔ بلکہ یہ بات کہنا بجا ہو گا کہ یہ سب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
اس جلسے میں , جو کہ بظاہر پشتونوں کی نمائندگی کے لیے منعقد ہوا, کوئی قبائلی نمائندہ اس میں شریک نہیں ہوا۔ پی ٹی ایم کے اس نام نہاد امن جلسے میں کسی بھی قبائلی مشر نے خطاب نہیں کیا جو حقیقی معنوں میں قبائلی علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ بات واضح ہے کہ پی ٹی ایم والے پشتونستان کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مگر انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے کے یہ کبھی اپنی مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
یہ لوگ اپنے جلسوں سے آج کل کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امن اور پشتونوں کے حق کا نعرہ لگا کر عام عوام کو اکٹھا کرتے ہیں اور پاکستان کے اندر پاکستان کے مخالف ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔
ضم شدہ قبائل کے عوام نے ہمیشہ سمجھداری کا مظاہرہ کیا یے۔ اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقی کی بات ہوتی ہے تو پی ٹی ایم چپ چاپ بیٹھ جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کے ترقی کے خلاف ہیں۔ اگر انہی علاقوں میں ترقی نہ ہو تو وہاں کے نوجوانوں کو ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم نہیں ہونگے۔
پی ٹی ایم کی طرح ٹی ٹی پی اور انتشاری ٹولے کا ایجنڈا بھی پختونستان ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پی ٹی ایم، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا نظریہ ایک ہی ہے۔ ٹی ٹی پی والے بم دھماکوں کی راہ اختیار کرکے یہ کام کرتے ہیں جبکہ پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی والے جلسے جلوسوں کے ذریعے یہ کام کر رہے ہیں۔ اگر اندر سے دیکھا جائے تو پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی تحریک طالبان پاکستان کی سیاسی شاخیں بن چکی ہیں۔
انہیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خیبرپختونخوا شروع سے پاکستان کا حصہ تھا اور ہمیشہ پاکستان کا حصہ رہے گا۔ انہیں یہ بات ماننی پڑے گی کہ خیبرپختونخوا کے لوگ کبھی بھی افغانستان کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ اگر کسی نے بھی قانون کو توڑنے کی کوشش کی تو ان سے سختی سے نمٹیں۔ ریاست کو ان تمام شر پسندوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہیں تاکہ لوگ ترقی کی طرف چلیں اور جو لوگ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے.