یکم تا آٹھ اپریل 2024 موسم بھار کی تعطیلات ہیں۔ اس دوران اساتذہ داخلہ مہم کے لیے اسکول میں موجود رہیں گے۔
Government primary school Zakhi Miana district Nowshera
government primary school Zakhi Miana
30/03/2024
Final term result 30 march 2024
GPS Zakhi Miana
دو دن پہلے کی بات ہے، میں نے جماعت پنجم میں ایک ٹاپک پڑھانے کی شروعات کی تھی، کہ اچھی صحت کے لئے اچھا کھانا اور اچھا سونا بہتریں آپشن ہے۔ بچوں سے باری باری پوچھا کہ چلیں بتائیں آج صبح آپ نے ناشتے میں کیا کھایا۔ کوئی جواب پراٹے کا آتا، کوئی صرف چائے کا۔ ایک جواب آیا کہ میں نے ناشتہ نہیں کیا۔ اس بچے کا نام "اجنبی" ہے۔ اجنبی سے میں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ گھر میں نا گھی ہے، نا چینی نا چائے۔ بہت افسوس ہوا مجھے۔ خیر میں اب تمام بچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بریک میں کھانا شئیر کرنے کا طریقہ اپنا چکا ہوں۔ وہ اب خوش ہیں سارے۔
اب اس کے مقصد پہ آتا ہوں۔ بھائی پرائیویٹ کا مطلب سمجھو، جس کا ایک مالک ہو، جس چیز کا نفع اور نقصان ایک مخصوص بندے کو ہوتا ہو۔ یہ بات تو ذہن سے نکال دیں کہ پرائیویٹائزیشن کے بعد بھی ان بچوں کی تعلیم مفت ہو گی، او بھائی حکومت کے پاس اساتذہ کی تنخواہیں پوری نہیں ہو رہی ہیں، وہ پرائیویٹائزیشن کے بعد بھی بچوں کو مفت تعلیم کیسے دیں گے؟ سوچنے کی بات ہے بھائی میرے۔
ایک بچہ جس کے پاس پنسل لینے کے پیسے نہیں ہوتے، جو گھر سے بغیر ناشتے کے آتا ہے، وہ پرائیویٹ سکول میں کیسے پڑھے گا۔
کیا پرائیویٹائزیشن سے بچوں کی تعلیم مفت ہو گی، اگر تعلیم مفت ہو گی تو وہ تو سرکاری سکولوں میں بھی مفت ہے اب تک۔
کچھ لوگ بنا سوچے سمجھے کومنٹس کرتے ہیں کہ اس سے بچوں کو فائدہ ہو گا، ان کو اچھی تعلیم ملے گی، اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ایسی سوچ والے میرے اس کومنٹ کا سکرین شارٹ لے لو، بعد میں رونا ہو گا کہ یہ کیا ہوا۔
لکھ لو، سکرین شارٹ بھی لے لو۔
Copied from The Innovative Educator
schools
پرائیویٹائزیشن کے تحت
پہلا سٹیپ
پہلے مرحلہ میں والدین اور اساتذہ کو تقسیم کرنے کے لئے بچوں کی فیس ادا کرنے کی زمہ داری حکومت لے گی۔
دوسرا سٹیپ
جب اساتذہ پر قابو پالیا جائیں تو ٹھکیدار بے قابو ہو جائیگا اور فیسوں میں اضافہ کرے گا اور وہ ٹھیکیدار حکومت کا چہیتا ہوگا پھر آدھا فیس حکومت اور آدھا والدین سے شروع ہوگا۔۔۔
تیسرا سٹیپ
حکومت بہانہ کرے گا کہ خزانہ کی حالت بہت خراب ہے لہذا والدین اپنے بچوں کی فیس خود ادا کرتے رہیں۔۔۔
خزانہ ٹھیکیدار سے ٹیکس درٹیکس اضافہ کرے گا اور ٹھیکیدار فیس پر فیس بڑھائے گا بالکل بجلی بل اور چینی چوروں کیطرح۔۔۔۔
والدین کو صرف دو باتیں سمجھائی جائیں۔۔
1 آپکا بچہ مشکل سے تعلیم حاصل کربھی لیں لیکن پرائیویٹ جاب کرے گا۔۔
2۔۔۔فیس آپ دو گے ،اج نہ سہی ،کل ضرور دوگے۔۔
والدین کی طرف سے پروگرام بالکل ڈاؤن ہے، بیخی دہ زان نا ئی دہ اکبر بادشاہ لٹھان جوڑ کڑی دی والدینو، کسی کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ہمارا بچہ ہے کونسی کلاس میں۔ اساتذہ کو ہر بات میں گھسیٹ رہے ہیں، آر یو کامیڈی می کہ بجٹ زیادہ ہو گا تو ترقی زیادہ ہوگی، استاد سے پچیس ہزار پہ بھی کھال نکالی جاتی ہے اور پچاس ہزار پہ بھی۔ تین مہینے پہلے گرمیوں کا کام بچوں کو دیا تھا، مجال ہے کسی کے ابا نے کال کی ہو کہ استاد جی کیا کیا ہوم ورک اسائن کیا ہے بچے کو۔ حد ہے۔
کوئی ایجوکیشن ایکسپرٹ بتا سکتا ہے۔ کہ روزانہ 3 کلاسسز کے 21سبجیکٹ ایک ہی ٹیچر کیسے پڑھائے گا اور ایک ٹیچر 3کلاسسز جوکہ اول اعلی ،دوم، سوم ہے، کے55طلباء جو کہ بچے ہوتے ہیں کو ایک ہی روم میں اس گرمی میں بغیر پنکھے کے کیسے ہینڈل کریگا؟اور رزلٹ پرائیویٹ سکولزجیسے کیسے دیگا؟اگر صرف 3 سبجیکٹ میتھس،انگلش،اردو ہی پڑھائیں تو بھی 9 پیریڈ بنتے ہیں ، لیکن ٹوٹل پیریڈ ہی 6/7 ہوتے ہیں۔ مطلب 2، 2 سبجیکٹ ہی پڑھا سکتا ہے۔ یا ہفتے میں ایک سبجیکٹ کو صرف ایک بار ہی پڑھا سکتا ہے۔ تو پھر رزلٹ کیسے آئیگا؟ خدارا اساتذہ پر تنقید کرنا چھوڑو حل نکالو، مسائل وجوہات جان کر اپنے مستقبل کی خاطر اقتدار میں بیٹھے لوگوں تک آواز پہنچاؤ۔
اساتذہ کرام پرجو افلاطون و آئن سٹائن دوست ہروقت تنقیدکرتے ہیں ان سے درخواست ہے کہ آج یا کل سرکاری سکولز کا ویزٹ کرے اور دیکھے کہ کتنے % بچوں نے ہوم ورک کیا ہے؟ کتنے%نے کتاب کاپی کو ہاتھ لگایا ہے؟ کیا یہ بھی اب اساتذہ کرام کرواتے؟ میرے خیال میں 5%سرکاری پرائمری سکولز کے بچوں نے ہوم ورک کیا ہے۔5%نے تھوڑا بہت جبکہ 90% کو تو وہ پچھلی پڑھائی بھی یاد نہیں 3مہینے کتاب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔3مہینے بعد آئے بھی تو بغیر، پنسل، و کاپی کے۔۔۔۔۔۔۔والدین بلانے پر بھی سکول نہیں آرہے۔کہی راستے میں بات کرے تو جواب ملتا ہے۔استاجی بس بچے ہیں ،کیا کرے بات نہیں مانتے آپ لوگ بس کچھ کوشش کریں ۔۔۔۔۔۔ اور پھر کہتے ہیں ۔۔۔اساتذہ اساتذہ۔۔۔افسوس ہم اپنے بچوں کے مستقبل سے ایسے غافل ہیں ۔😥😥 میرا مطلب کسی کی دل آزاری نہیں لیکن یہ ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ حقیقت جانے بغیر تنقید کرتے ہیں ۔
01/09/2023
چھٹیوں کے لئے دئے گئے کام کے لئے خصوصی ھدایت دی گئی تھی کہ والدین بچوں کو اپنی نگرانی میں کام مکمل کروائیں مگر بے سود ۔۔۔
افسوس۔۔
آج بہت سارے طلباء سکول سے غیر حاضر رہے۔
کلاس میں ہوم ورک کی شرح بھی بہت کم ہے۔
والدین اپنا فرض ادا نہیں کرتے اور پھر خراب نتائج کی صورت میں اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
بچوں کی خراب کارکردگی میں والدین کا بڑا ہاتھ ہے، جی ہاں! تین مہینے پہلے بچوں کو سکول کی چھٹیوں کا کام دیا تھا ہم نے، بتائیں کسی نے اپنے بچے سے پوچھا ہے کہ بچے کتنا کام ملا ہے، اور کتنا ہو چکا ہے، کتنا کر لیا ہے؟
نہیں بالکل نہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Nowshera
Opening Hours
| Monday | 08:30 - 13:30 |
| Tuesday | 08:30 - 13:30 |
| Wednesday | 08:30 - 13:30 |
| Thursday | 08:30 - 13:30 |
| Friday | 08:30 - 12:35 |
| Saturday | 08:30 - 13:30 |