16/10/2025
پاکستان پوسٹ
مری مال روڈ پر واقع جی پی او کی عمارت ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے یہ تو ہمیں پتہ تھا لیکن جون ۲۰۲۵ میں ہمیں خوشگوار حیرت ہوئ جب الوینہ اور غوث کے ساتھ اس میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔ تب ہمیں صرف پچاس روپے کے عوض ایک پوسٹ کارڈ تھما دیا گیا داخلہ ٹکٹ کے طور پر۔ یہ پوسٹ کارڈ آپ بعد میں کسی کو پوسٹ بھی کر سکتے ہیں۔
عمارت کی اوپری منزل کو عجائب گھر کی طرز پر تاریخی اشیا سے سجایا گیا ہے اور ان چیزوں کے بارے میں تفصیل بیان کرنے کے لئے گائڈ بھی موجود تھے ۔ غوث نے ان سے دلچسپ سوالات کئے اور ڈاک تولنے والے ترازو میں بیٹھنے کی کوشش بھی کی 😂اس کےبعد نچلی منزل سے ڈاک ٹکٹ خریدے اور یوں ہمارا پاکستان پوسٹ سے تعلق عرصہ دراز کے بعد دوبارہ جڑا۔
اب باقاعدگی سے الوینہ اور غوث کو خط لکھے جاتے ہیں اور وہ بھی خط کا انتظار کرتے ہیں ۔
بقلم: صدف لیاقت گیلانی
05/10/2025
Happy Teachers’ Day to all the teachers reading this !
Sharing some old pictures ... share if you have any school pictures !
04/10/2025
Nice , France !
September , 2024.
نیس فرانس کا ایک سمندر کے کنارے واقع شہر ہے جو سیاحوں میں اپنی قدیم تاریخ ،خوشگوار موسم اور حسین عمارات کی وجہ سے ازحد مقبول ہے۔ نیس فرانس کے جنوب مشرق میں اٹلی کی سرحد سے ۲۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔
اسے یونانیوں نے ۳۵۰ ق م میں قائم کیا۔بعد میں رومیوں کے دور حکومت میں یہ شہر ایک مصروف بندرگاہ کی شکل اختیار کر گیا۔۱۸۶۰ میں معاہدہ ٹیورن کے بعد یہ فرانس کا حصہ بن گیا۔
زیر تحریر تصاویر میں نیس کی چند خوبصورت جگہوں کو دکھایا گیا ہے ۔ان میں ایک تصویر پر غور کیجیے گا جس میں ایک مصالحوں کا سٹال ہے اور بادیان کا فرانسیسی نام بھی بادیان ہی تحریر ہے۔
امید ہی تحریر پسند آئ ہو گی ۔
صدف لیاقت گیلانی
27/09/2025
لنچ میں چپس اور پراٹھے کس کس کو پسند تھے ؟ سیف ہینڈز میں چونکہ لنچ کلاس میں ہی کرایا جاتا تھا اس لیے میں جانتی ہوں کہ بچوں کی اکثریت گھر کا بنا ہوا لنچ لا تی تھی ۔ کچھ بچوں کے لنچ باکس کھلتے ہی سب کے منہ میں پانی بھر آتا تھا۔ ان میں سر فہرست مالٹے اور آچار والے لنچ باکس ہوتے تھے ۔ جو بچے لنچ گھر بھول آتے تھے وہ صبح صبح ہی آفس سے بسکٹ لے آتے تھے ۔
آج چپس بناتے ہوئے سکول کے لنچ یاد آ گئے تو سوچا آپ سے شئیر کروں ۔
یاد ش بخیر
صدف لیاقت گیلانی
19/09/2025
خواتین کے نام !
بھلے وقتوں میں دور اندیش اور سیانے والدین بچیوں کے نام کے ساتھ موزوں لاحقہ لگا کر ان کے نام تا حیات نا قابل تبدیل بنا دیتے ۔ نام کے ساتھ گل ، خاتون ، تبسم ، بیگم ، آرا ،نگار ، جبین وغیرہ لگا کر عمر بھر کے لئے ایک مکمل نام خاتون کے حوالے کر دیتے ۔ اس سے اعلی تعلیم یافتہ خواتین کو سر کاری کاغذات اور سند وغیرہ میں شادی کے بعد نام بدلنے کی زحمت نہ کرنی پڑتی تھی ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس معاملے میں مختلف طریقے مروج ہیں ۔مشرق بعید کے ملک کوریا میں خواتین کے نام کے ساتھ تا حیات والد کا خاندانی نام لگتا ہے ۔ شادی کے وقت اس امر کو خاص طور پر ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے کہ فریقین کے خاندانی نام مختلف ہوں ۔ اس سے خاندان میں شادی نہ کرنے کو بھی یقینی بنایا جا تا ہے ۔
ہمارے معاشرے میں بھی اگر پچھلے وقتوں کی طرح بچیوں کے مکمل نام رکھے جائیں تو مستقبل میں ان کے لئے کافی سہولت ہو گی۔
رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔
خیر اندیش
صدف لیاقت گیلانی