احمد اب پانچ سال کا ہو چکا تھا۔
اس کے والدین کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کے روشن مستقبل کے خواب تھے۔ وہ ہر وقت اسی فکر میں رہتے کہ احمد کو ایسے ادارے میں داخل کروایا جائے جہاں تعلیم بھی بہترین ہو، اخلاقی تربیت بھی ہو اور سہولیات بھی مکمل ہوں۔
کافی تلاش کے بعد ایک دوست نے انہیں اقراء اسلامک سکول کے بارے میں بتایا۔ جب وہ پہلی بار اس ادارے میں پہنچے تو ان کے دل کو عجیب سا سکون ملا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے بچے کے مستقبل کے لیے بالکل درست جگہ تک پہنچ گئے ہوں۔
جب احمد کے والدین نے احمد کو اس ادارے میں داخل کروایا تو ان کا اعتماد اور خوشی مزید بڑھ گئی۔ پھر وہ خود اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر اسکول کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے ساتھ مل کر دوسروں کو بھی اس ادارے کی طرف آنے کی دعوت دینے لگے۔
وہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہاں نہ صرف اسلامی تعلیم اور حفظِ قرآن کا بہترین انتظام ہے بلکہ جدید تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں تاکہ بچے دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں کامیاب ہو سکیں۔
یہ ادارہ مدرسہ جامعہ اسلامیہ بحرالعلوم کے زیرِ اہتمام چل رہا ہے۔
اسی لیے یہاں ایک خوبصورت نظام قائم کیا گیا ہے:
جزوقتی طلبہ اسکول کے بعد اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں، جبکہ کل وقتی طلبہ کو اسکول ٹائم کے بعد حفظِ قرآن، ترجمہ اور تجوید کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔
یہ ادارہ شہر کے شور و غل اور آلودگی سے دور ایک پُرسکون ماحول میں واقع ہے۔ یہاں بچوں کے لیے کشادہ پلے گراؤنڈ موجود ہے، گرم اور ٹھنڈے پانی کا بہترین انتظام ہے، بجلی چوبیس گھنٹے دستیاب رہتی ہے، اور سردیوں میں وضو اور غسل کے لیے بھی گرم پانی کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔
حفظ کے طلبہ کے لیے ہاسٹل کی بہترین سہولت بھی موجود ہے جہاں بچوں کو معیاری کھانا دیا جاتا ہے، طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور ہر بچے کی نگہداشت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
اس موقع پر سکول کے ایم ڈی اور معروف سماجی شخصیت شفیق ہمدرد کا کہنا ہے:
"میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اپنے علاقے کے لیے کچھ ایسا کیا جائے جو معاشرے کو بہتر بنائے اور بچوں کو ایسی تعلیم دی جائے جو انہیں دنیا میں بھی کامیاب کرے اور آخرت میں بھی سرخرو کرے۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم نے اقراء اسلامک سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔"
اور آج احمد کے والدین مطمئن ہیں۔
وہ دوسروں سے کہتے ہیں:
"آئیں! آپ بھی اپنے بچوں کو اس بہترین ادارے میں داخل کروائیں۔ چاہے آپ قریب ہوں یا دور، یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کے بچوں کے لیے ایک محفوظ، خوشگوار اور کامیاب زندگی کی مضبوط بنیاد رکھی جاتی ہے۔"
📞 مزید معلومات اور داخلہ کے لیے رابطہ کریں:
0336-9422674
0336-9422674
Iqra Islamic School اقرأ اسلامک اسکول
یقین علم عمل
08/03/2026
05/03/2026
05/03/2026
آج کے دور میں دینی تعلیم ضروری اور دنیاوی تعلیم ناگزیر ھے۔
🖍️ اقراء اسلامک سکول 🖍️
آپ کے بچوں کو دین اور دنیا دونوں کی بہترین تعلیم فراہم کر رہا ھے۔
یہاں بچوں اور بچیوں کو:
📖 ناظرہ قرآن
📖 حفظِ قرآن
📖 تجوید کے ساتھ قرآن مجید کی تعلیم
دی جاتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ قابل، محنتی اور تجربہ کار اساتذہ کرام کی نگرانی میں معیاری عصری تعلیم بھی فراہم کی جاتی ھے۔
ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایسی تعلیم دیں جو انہیں دین اور دنیا دونوں میں کامیاب بنائے۔
✨ آج ھی اپنے بچوں اور بچیوں کا داخلہ کروائیں اور انہیں روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھانے کا موقع دیں۔
📞 مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:
0333-9422674
22/01/2026
𝐌𝐚𝐧𝐚𝐠𝐞𝐫𝐬’ 𝐌𝐞𝐞𝐭𝐢𝐧𝐠 𝐟𝐨𝐫 𝐇𝐄𝐂 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐯𝐚𝐫𝐬𝐢𝐭𝐲 𝐙𝐨𝐧𝐞-𝐁 𝐕𝐨𝐥𝐥𝐞𝐲𝐛𝐚𝐥𝐥 𝐂𝐡𝐚𝐦𝐩𝐢𝐨𝐧𝐬𝐡𝐢𝐩
The Managers’ Meeting for the HEC Intervarsity Zone-B Volleyball Championship was convened on January 21, 2026, at the Directorate of Sports, Peshawar. The meeting focused on finalizing key arrangements, including the event schedule, tournament rules in accordance with PSUB guidelines, and the fixture draw, to ensure the smooth and well-organized conduct of the championship.
Mr. Rizwan Ullah represented the University of Technology Nowshera as Manager of the Volleyball Team. The HEC Intervarsity Zone-B Volleyball Championship will be held from January 26 to 27, 2026, at the University of Peshawar. Best wishes are extended to all participating teams for a successful and highly competitive tournament.
17/12/2025
یہ ایک کالج کے استاد کا لکھا ہوا حقیقی واقعہ ہے،
ایک سبق آموز واقعہ
ہمارے کالج کے اردو ڈیپارٹمنٹ میں تمام پروفیسر صاحبان موجود تھے کہ اتنے میں ایک سفید ریش بزرگ اپنے پوتے کے ساتھ آئے۔
وہ بولے:
"میں نادرا سے آیا ہوں، اپنے پوتے کا ڈِس ایبل (معذور) شناختی کارڈ بنوانا ہے، اس کے کاغذات اٹیسٹ کروانے ہیں۔"
میں نے کاغذات لے لیے اور لڑکے کو غور سے دیکھا۔
وہ ایک خوبصورت، صحت مند، مسکراتا ہوا نوجوان تھا۔ اس میں بظاہر کسی قسم کی معذوری نظر نہیں آ رہی تھی۔ میں نے اس سے مصافحہ کیا، اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا، وہ آ کر بیٹھ گیا اور ہمیں دیکھنے لگا۔
میرے دل میں شک پیدا ہوا کہ یہ لڑکا معذور کیسے ہو سکتا ہے؟
میں نے اس کے دادا سے پوچھا:
"اس بچے کو کیا معذوری ہے؟"
دادا نے کہا:
"یہ دونوں کانوں سے بالکل نہیں سنتا، مکمل بہرا ہے۔"
میں حیران رہ گیا اور پوچھا:
"یہ پھر پڑھتا کیسے ہے؟ استاد کی بات کیسے سمجھتا ہے؟"
دادا نے بتایا:
"یہ کتاب دیکھ کر پڑھ لیتا ہے، ہونٹوں کی حرکت سے بات سمجھ لیتا ہے، اردو اور انگریزی پڑھنا جانتا ہے، کمپیوٹر پر بھی کام کرتا ہے۔"
میں نے اس کے کاغذات اٹیسٹ کر دیے، لیکن دل بہت بوجھل ہو گیا۔
اسی دوران اردو ڈیپارٹمنٹ کے ایک پروفیسر نے بتایا:
"یہ لڑکا ہماری اردو کلاس میں پڑھتا ہے، واقعی معذور ہے، آواز بالکل نہیں سنتا۔
لیکن یہ پیدائشی معذور نہیں تھا، پہلے بالکل ٹھیک تھا۔"
یہ سن کر سب چونک گئے۔
پوچھا گیا: "پھر یہ معذور کیسے ہوا؟"
پروفیسر نے بتایا:
"یہ ایک گاؤں کے سکول میں پڑھتا تھا، جہاں استاد نے سزا کے طور پر اس کے کانوں پر زور سے تھپڑ مارے، جس سے اس کے کانوں کے پردے پھٹ گئے اور یہ ہمیشہ کے لیے بہرا ہو گیا۔"
یہ سن کر میرے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی، دل بہت دکھی ہو گیا۔
وہ معذور بچہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
اردو ڈیپارٹمنٹ کے تمام اساتذہ شدید غصے میں آ گئے۔
ایک پروفیسر نے کہا:
"یہ استاد نہیں، جلاد ہیں۔"
ایک اور پروفیسر نے بہت گہری بات کہی:
"ایک تعلیم یافتہ معذور سے بہتر ہے کہ انسان صحت مند ہو مگر ان پڑھ ہو۔
اگر سزا دے کر کسی طالب علم کو معذور بنا دیا جائے تو یہ علم نہیں، ظلم ہے۔
اس سے بہتر ہے کہ وہ ان پڑھ ہی رہتا مگر معذور نہ ہوتا۔"
اساتذہ سے درد بھری اپیل
تمام اساتذہ سے عاجزانہ درخواست ہے،
چاہے سکول ہو یا مدرسہ، تشدد والی سزاؤں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔
یہ بچے پھولوں جیسے نازک ہوتے ہیں،
یہ قوم کے دل کی دھڑکن ہیں،
یہ اللہ کی طرف سے امانت ہیں،
اور شریعت کے مطابق یہ مرفوع القلم بھی ہیں۔
بچوں کو تعلیم دیں،
انہیں توڑیں نہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Wazir Abad Och Khawar
Nowshera Cantonment