07/10/2018
لاہور:۔ 04 اکتوبر2018ء گزشتہ حکومت کے ترجیحی منصوبے جب تک چلیں گے خسارے میں چلیں گے، ترقی وہ ہوتی جس سے نچلے طبقے تک عوام مستفید ہوں وہ نہیں جو کسی مخصوص طبقہ کا آشیرباد حاصل کرنے کے لیے ہو، پنجاب کا آئندہ بجٹ صحیح معنوں میں صحت ،،تعلیم،، صاف پانی کا بجٹ ہو گا۔ بہتر ہسپتالوں اور اچھے ٹیرف کے ساتھ تمام اضلاع میں ہیلتھ کارڈ متعارف کروائیں گے، صاف پانی کا مطلب منرل واٹر نہیں ہو گا بلکہ عام پانی کی صفائی کا بندوبست کریں گے،پنجاب پاکستان کا نصف ہے اسے بہترین نصف ثابت کریں گے، گرین اکانومی کے سلوگن کے ساتھ آگے بڑھیں گے جس کا مطلب خوشحال پنجابخوشحال پاکستان ہو گا ۔ ان خیلات کا اظہار صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے پنجاب ریونیو اتھارٹی اور گز کے زیر اہتمام پری بجٹ سیمینار میں کیا صوبائی وزیر نے کہا کہ جن شہروں میں میٹرو چلی وہاں بہت سے ایسے ہسپتال تھے جہاں چوہے بچے کھا رہے تھے اور مریضوں کو ادویات میسر نہیں تھیں۔
(جاری ہے)
موجودہ حکومت کو ہسپتال نظر آئے جبکہ گزشتہ حکومتمیٹرو کے پیچھے بھاگتی رہی۔
ترجیحات کا یہ فرق بہت جلد عوام کو بتائے گا کہ تبدیلی کہاں آئی۔ تاریخ میں پہلی بار کوئی حکومت ایسا بلدیاتینظام لائے گی جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ تحریک انصافکی حکومت خود کو عقل کل نہیں سمجھتی اسی لیے آج تمام سٹیک ہولڈز کے ساتھ یہاں موجود ہیں۔ معاشی ماہرین، تعلیمی محققین ، کاروباری حضرات اورجرنلسٹ ہمیں بتائیں کے اس وقت جب صوبہ مالی اعتبار سے بدترین خسارے کا شکار ہے۔ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہییں۔ گزشتہ حکومت نے جاتے جاتے اخراجات کے تخمینوں اور مالی منصوبہ بندی کے بغیر جن منصوبوں کے فیتے کاٹے اور جو واجب ادلاء رقوم چھوڑیں اُنھیں پورا کرنے کے بعد آئندہ حکومت کے پاس نئے پنجاب کے بہت محدود مواقع ہیں ۔تاہم نئی حکومت ٹیکس سسٹم میں ریفارمز ، سرکاری محکموں کے اخراجات پر کنٹرول اور نئے منصوبوں کے محدود انتخاب سے نہ صرف مسائل پر کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے گی بلکہ وسائل میں اضافہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ آئندہ مالی سال کا مکمل بجٹ تحریک انصاف کی اصلاحات کا عکاس ہو گا۔ سیمینار کے دیگر شرکاء میں معروف ماہر معاشیات و سابقہ وفاقی وزیر خزانہ حفیظ پاشا، سیکرٹری فنانس شیخ حامد یعقوب، چیئرمینپنجاب ریونیو اتھارٹی جاوید احمد ،سٹیفن شیلڈ گلوبل ڈائریکٹر اے سی سی اے ، مختلف یونیورسٹیوں کے معاشی محقیقین، چارٹرڈ اکائونٹینٹس، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نمائندگان اور کاروباری حضرات شامل تھے۔ اس موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ پچھلے چند سالوں میں توانائی کے بحران اور لاء اینڈ آرڈر کی خطرناک صورتحال نے ملکی معیشت کوبری طرح سے متاثر کیا ہے۔ہمارے پاس بہت محدود وقت ہے جس میں ہم بہتر حکمت عملی سے معیشت کو مزید ڈوبنے سے بچا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حکومت کو آئندہ پانچ سالوں میں چار بنیادی شعبوں میں ترجیحی بنیاد پر اصلاحات کا مشورہ دیا جن میں روزگار ، گھروں کی تعمیر، زراعت اور پانی شامل ہیں۔ ڈاکٹرحفیظ پاشا نے محصولات کے شعبہ میں مزید اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی ایف بی آر سے کئی گنا بہتر ہے۔ ایف بی آر اور پی آر اے سے کئی صدیاں پیچھے ہے۔چیئرمین پی آر اے نے اپنے خطاب میں رحیم یار خان اور بہاولپور میںدفاتر کے آغاز اور مانیٹرنگ سسٹم میں انسانی مداخلت کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا۔ چیئرمین پی آر اے نے کہا کہ اتھارٹی نظام کو مکمل طور پر آٹومیٹیڈ بنا رہی ہے تاکہ لیکج کے امکانات کا خاتمہ کیا جا سکے۔