سنن الترمذی
کتاب: نماز کا بیان
باب: عشاء کی نماز کا وقت
ترجمہ:
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٧ (٤١٩) ، سنن النسائی/المواقیت ١٩ (٥٢٩) ، ( تحفة الأشراف : ١١٦١٤) ، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : حدیث جبرائیل میں یہ بات آچکی ہے کہ عشاء کا وقت شفق غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے ، یہ اجماعی مسئلہ ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ، رہی یہ بات کہ اس کا آخری وقت کیا ہے تو صحیح اور صریح احادیث سے جو بات ثابت ہے وہ یہی ہے کہ اس کا آخری وقت طلوع فجر تک ہے جن روایتوں میں آدھی رات تک کا ذکر ہے اس سے مراد اس کا افضل وقت ہے جو تیسری رات کے چاند ڈوبنے کے وقت سے شروع ہوتا ہے ، اسی لیے رسول اللہ ﷺ عموماً اسی وقت نماز عشاء پڑھتے تھے ، لیکن مشقت کے پیش نظر امت کو اس سے پہلے پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔ ( دیکھئیے اگلی حدیث رقم ١٦٧) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (613) ، صحيح أبي داود (445) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 165
Asim Islamic Academy
I'm Asim
Our page is dedicated to providing authentic and informative content on Islam.
11/12/2024
17/04/2024
10/04/2024
EID with Palestine 🇵🇸
08/04/2024
03/04/2024
Islamic picture
02/04/2024
Zakat kia ha | Hadees e nabvi in Urdu | hadees shreef
01/04/2024
Want your school to be the top-listed School/college in Nawabshah?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Address
Nawabshah
67450