16/06/2021
سکون مطلوب نہیں
ایک کہاوت ہے کہ جہاز بندر گاه میں زیاده محفوظ رہتے ہیں- مگر جہاز اس لئے نہیں بنائے گئے کہ وه بندر گاه میں کهڑے رہیں :
Ships are safer in the harbour , but they are not meant for that purpose.
انسان اگر اپنے ٹهکانے پر بیٹها رہے، وه نہ سفر کرے، نہ کوئی کام شروع کرے، نہ کسی سے معاملہ کرے، تو ایسا آدمی بظاہر محفوظ اور پر سکون هو گا- مگر انسان کو پیدا کرنے والے نے اس کو اس لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وه پر سکون طور پر ایک جگہ رہے اور پهر وه قبر میں چلا جائے-
انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وه کام کرے- وه دنیا میں ایک زندگی کی تعمیر کرے- اس مقصد کے لیے اس کو دنیا کے ہنگاموں میں داخل هونا پڑے گا- وه ہارنے اور جیتنے کے تجربات اٹهائے گا- اس کو کبهی نقصان هو گا اور کبهی فائده- اس قسم کے واقعات کا پیش آنا عین فطری ہے- اور ایسے واقعات و حوادث کا اندیشہ هونے کے باوجود انسان کے لئے یہ مطلوب ہے کہ وه زندگی کے سمندر میں داخل هو اور اپنی جدوجہد میں کمی نہ کرے-
مزید یہ کہ پر سکوں زندگی کوئی مطلوب زندگی نہیں- کیونکہ جو آدمی مستقل طور پر سکوں کی حالت میں هو اس کا ارتقاء روک جائے گا- ایسے آدمی کے امکانات بیدار نہیں هوں گے- ایسے آدمی کی فطرت میں چهپے هوئے خزانے باہر آنے کا موقع نہ پا سکیں گے-
اس کے برعکس ایک آدمی جب زندگی کے طوفان میں داخل هوتا ہے تو اس کی چهپی هوئی صلاحیتیں جاگ اٹهتی ہیں- وه معمولی انسان سے اوپر اٹهہ کر غیر معمولی انسان بن جاتا ہے- پہلے اگر وه چهوٹا سا بیج تها تو اب وه ایک عظیم الشان درخت بن جاتا ہے-
زندگی جدوجہد کا نام ہے- زندگی یہ ہے کہ آدمی مقابلہ کر کے آگے بڑهے- زندگی وه ہے جو سیلاب بن جائے نہ کہ وه جو ساحل پر ٹهہری رہے-