24/09/2026
عرب سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں پڑھا کہ
تمھارے بیوی بچے تمھارا ’’کانٹینٹ‘‘ نہیں ہیں!
کیسی سچی بات کہی ہے ناں!
بلاشبہ
تمھاری بیوی کی مسکراہٹ، اس کے ناز و ادا، اس کا لباس، اس کا حمل، اس کی زچگی، اس کے ساتھ ہوئی تمھاری ناراضی، تمھاری صلح، تمھارے جھگڑے، تمھاری چھیڑچھاڑ، باہمی خلوت اور تمھارے راز…
یہ سب تمھارے گھر کی زندگی… تمھاری خواب گاہ کے راز ہیں
یہ تمھارے چینل کا خام مال نہیں ہیں!
ایک تم ہی نے تو شادی نہیں کی ہے، ایک تم ہی بچے پیدا نہیں کر رہے کہ بالکل ہی باؤلے ہوگئے ہو! 🤓
ہر وہ چیز جو اتفاق سے تمھیں دیکھنے کو مل گئی ہے، دنیا کو دکھانے کے لیے تو نہیں ملی
ذرا سوچو… بیوی کی زینت، اس کے ناز و ادا، اس کی نجی زندگی نامحرموں کے تماشے کے لیے پیش کرتے کرتے آدمی کہاں جا پہنچتا ہے؟
نہیں… صرف یوٹیوبر نہیں بنتا
وہ اِس بے غیرتی کی سرحد تک پہنچ جاتا ہے جس کے لیے دین نے نہایت سخت لفظ رکھا ہے: دیوثی!
اور افسوس کہ سوشل میڈیا پر اس دیوثی مزاج کی کمی نہیں… پاکستانی فیملی ولاگنگ میں بھی اُس کی مثالیں خوب ملتی ہیں!
اور تمھارے بچے!
وہ تو ہرگز تمھارا ’’کانٹینٹ‘‘ نہیں ہیں
وہ بدقسمتی سے تمھارے گھر پیدا ہوگئے ہیں تو تمھیں ان سے ’’ڈیجیٹل چائلڈ لیبر‘‘ لینے کا پروانہ نہیں مل گیا
کبھی کبھار کوئی خاص، خوش گوار اور باوقار لمحہ دوستوں اور عزیزوں سے بانٹنے کا جواز ہوسکتا ہے
لیکن ان کا رونا ہنسنا، ان کا ہگنا موتنا، ان کی شرارت، حماقت، ان کی سزا معافی، ان کا سونا جاگنا، ان کا کھانا پینا، ان کی معصوم اور کبھی شرمندہ کردینے والی باتیں…
یہ سب اُن کا بچپن ہے
اور تمھیں کوئی حق نہیں کہ اپنے ویوز کے لیے روز ان کا تماشا لگا دو
اس سے بھی بدتر یہ کہ ان کے منہ میں اپنی پلانٹڈ باتیں ڈالو
انھیں سکھاؤ کہ کیا کہنا ہے، کیسے رونا ہے، کیسے ہنسنا ہے، کہاں حیران ہونا ہے
تاکہ وہ بولیں اور تم کماؤ
یوں آہستہ آہستہ بچہ بچہ نہیں رہتا… تمھارے چینل کا کردار بن جاتا ہے!
ارے ذرا سوچو تو سہی
جس بچے کو ابھی یہ سمجھ ہی نہیں کہ ’’پبلک‘‘ ہونا کیا ہوتا ہے، لاکھوں اجنبی کیا ہوتے ہیں اور انٹرنیٹ پر ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ جانا کیا ہوتا ہے…
اس کی طرف سے ہمیشہ کے لیے پبلک ہونے کا فیصلہ تم کیسے کر رہے ہو؟
آج تم اس کے رونےکو فلما رہے ہو
اُس کی توتلی لڑکھڑاتی زبان، اس کی بچکانہ حرکتیں، اس کی بیماری، اس کی بے بسی، حتیٰ کہ اس کے انتہائی نجی لمحات تک ریکارڈ کر رہے ہو
کل وہ بڑا ہوگا
وہی ویڈیوز برسوں بعد بھی کہیں محفوظ، نقل شدہ یا گردش میں ہوں گی
اور جن مناظر کو دیکھ کر آج تمھیں ویوز مل رہے ہیں، کل انہی کو دیکھ کر تمھارا بچہ منہ چھپاتا ہوگا
اس کی عزتِ نفس، اس کی جوانی، اس کی سماجی زندگی… ان سب کے بارے میں فیصلہ تم آج اس کی مرضی کے بغیرکیسے کر سکتے ہو؟
یاد رکھو…
ان کا بچپن تمھیں سنبھالنے کے لیے دیا گیا ہے، نشر کرنے کے لیے نہیں!
ہاں ہاں چندا… ہم جانتے ہیں کہ روزگار مشکل ہے
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ویوز سے پیسے آتے ہیں، اسپانسر ملتے ہیں، عیاشیوں کے مواقع ملتے ہیں
مگر ہر کمائی کی ایک قیمت ہوتی ہے
اور اگر قیمت یہ ہو کہ آدمی اپنی خلوت، اپنی ازدواجی زندگی اور اپنے بچوں کی معصومیت بازار میں رکھ دے تو ذرا رک کر سوچنا چاہیے…
سودا آخر ہوا کس چیز کا ہے؟
٭٭٭
محمد فیصل شہزاد