Adab Ki Dunya

Directions Contact the school

Adab Ki Dunya ادب کی دنیا جہاں بہت کچھ ہے سیکھنے کو... آئیں اور ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں..!اردو کا سب سے بہترین صفحہ
(1501)

24/09/2026

عرب سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں پڑھا کہ
تمھارے بیوی بچے تمھارا ’’کانٹینٹ‘‘ نہیں ہیں!

کیسی سچی بات کہی ہے ناں!

بلاشبہ
تمھاری بیوی کی مسکراہٹ، اس کے ناز و ادا، اس کا لباس، اس کا حمل، اس کی زچگی، اس کے ساتھ ہوئی تمھاری ناراضی، تمھاری صلح، تمھارے جھگڑے، تمھاری چھیڑچھاڑ، باہمی خلوت اور تمھارے راز…
یہ سب تمھارے گھر کی زندگی… تمھاری خواب گاہ کے راز ہیں
یہ تمھارے چینل کا خام مال نہیں ہیں!

ایک تم ہی نے تو شادی نہیں کی ہے، ایک تم ہی بچے پیدا نہیں کر رہے کہ بالکل ہی باؤلے ہوگئے ہو! 🤓
ہر وہ چیز جو اتفاق سے تمھیں دیکھنے کو مل گئی ہے، دنیا کو دکھانے کے لیے تو نہیں ملی

ذرا سوچو… بیوی کی زینت، اس کے ناز و ادا، اس کی نجی زندگی نامحرموں کے تماشے کے لیے پیش کرتے کرتے آدمی کہاں جا پہنچتا ہے؟
نہیں… صرف یوٹیوبر نہیں بنتا
وہ اِس بے غیرتی کی سرحد تک پہنچ جاتا ہے جس کے لیے دین نے نہایت سخت لفظ رکھا ہے: دیوثی!

اور افسوس کہ سوشل میڈیا پر اس دیوثی مزاج کی کمی نہیں… پاکستانی فیملی ولاگنگ میں بھی اُس کی مثالیں خوب ملتی ہیں!

اور تمھارے بچے!
وہ تو ہرگز تمھارا ’’کانٹینٹ‘‘ نہیں ہیں

وہ بدقسمتی سے تمھارے گھر پیدا ہوگئے ہیں تو تمھیں ان سے ’’ڈیجیٹل چائلڈ لیبر‘‘ لینے کا پروانہ نہیں مل گیا
کبھی کبھار کوئی خاص، خوش گوار اور باوقار لمحہ دوستوں اور عزیزوں سے بانٹنے کا جواز ہوسکتا ہے
لیکن ان کا رونا ہنسنا، ان کا ہگنا موتنا، ان کی شرارت، حماقت، ان کی سزا معافی، ان کا سونا جاگنا، ان کا کھانا پینا، ان کی معصوم اور کبھی شرمندہ کردینے والی باتیں…
یہ سب اُن کا بچپن ہے

اور تمھیں کوئی حق نہیں کہ اپنے ویوز کے لیے روز ان کا تماشا لگا دو
اس سے بھی بدتر یہ کہ ان کے منہ میں اپنی پلانٹڈ باتیں ڈالو
انھیں سکھاؤ کہ کیا کہنا ہے، کیسے رونا ہے، کیسے ہنسنا ہے، کہاں حیران ہونا ہے
تاکہ وہ بولیں اور تم کماؤ
یوں آہستہ آہستہ بچہ بچہ نہیں رہتا… تمھارے چینل کا کردار بن جاتا ہے!

ارے ذرا سوچو تو سہی
جس بچے کو ابھی یہ سمجھ ہی نہیں کہ ’’پبلک‘‘ ہونا کیا ہوتا ہے، لاکھوں اجنبی کیا ہوتے ہیں اور انٹرنیٹ پر ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ جانا کیا ہوتا ہے…
اس کی طرف سے ہمیشہ کے لیے پبلک ہونے کا فیصلہ تم کیسے کر رہے ہو؟
آج تم اس کے رونےکو فلما رہے ہو
اُس کی توتلی لڑکھڑاتی زبان، اس کی بچکانہ حرکتیں، اس کی بیماری، اس کی بے بسی، حتیٰ کہ اس کے انتہائی نجی لمحات تک ریکارڈ کر رہے ہو

کل وہ بڑا ہوگا
وہی ویڈیوز برسوں بعد بھی کہیں محفوظ، نقل شدہ یا گردش میں ہوں گی
اور جن مناظر کو دیکھ کر آج تمھیں ویوز مل رہے ہیں، کل انہی کو دیکھ کر تمھارا بچہ منہ چھپاتا ہوگا

اس کی عزتِ نفس، اس کی جوانی، اس کی سماجی زندگی… ان سب کے بارے میں فیصلہ تم آج اس کی مرضی کے بغیرکیسے کر سکتے ہو؟

یاد رکھو…
ان کا بچپن تمھیں سنبھالنے کے لیے دیا گیا ہے، نشر کرنے کے لیے نہیں!

ہاں ہاں چندا… ہم جانتے ہیں کہ روزگار مشکل ہے
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ویوز سے پیسے آتے ہیں، اسپانسر ملتے ہیں، عیاشیوں کے مواقع ملتے ہیں
مگر ہر کمائی کی ایک قیمت ہوتی ہے
اور اگر قیمت یہ ہو کہ آدمی اپنی خلوت، اپنی ازدواجی زندگی اور اپنے بچوں کی معصومیت بازار میں رکھ دے تو ذرا رک کر سوچنا چاہیے…
سودا آخر ہوا کس چیز کا ہے؟
٭٭٭
محمد فیصل شہزاد

ایک ریویو… جو مجھ پر ایک ادھار تھا! ✨کچھ ماہ قبل، میں اپنی جلد کے چند مسائل سے کافی پریشان تھا۔ اسی دوران فیس بک پر محتر...
23/09/2026

ایک ریویو… جو مجھ پر ایک ادھار تھا! ✨

کچھ ماہ قبل، میں اپنی جلد کے چند مسائل سے کافی پریشان تھا۔ اسی دوران فیس بک پر محترمہ ہانیہ خان صاحبہ کی ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ میں نے جھجکتے ہوئے انہیں اپنے سکن پرابلمز بتائے، تو انہوں نے مجھے نہایت خلوص کے ساتھ دو پروڈکٹس تجویز کیں۔
جب میں نے آرڈر فائنل کیا اور چارجز معلوم کیے، تو ان کا جواب میرے لیے کسی حیرت سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے مسکرا کر کہا: "یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے ایک تحفہ ہے، بس اگر رزلٹ اچھا ملے تو ایک سچا ریویو لکھ دیجیے گا تاکہ دوسروں کا بھی بھلا ہو سکے۔"

یہ کوئی عام پروڈکٹس نہیں تھیں، بلکہ یہ Shivora Natural اور ان کے برانڈ DE_LUM کی تیار کردہ پروڈکٹس تھیں، جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ترین برانڈ ہے جو خود 'سنیل فارمنگ' (Snail Farming) کرتا ہے اور اس سے خالص آرگینک سکن کیئر پروڈکٹس تیار کرتا ہے۔
مجھے ان کا Snail Mucin Nectar Serum اور Anti-Wrinkles Cream موصول ہوئے۔ سچ کہوں تو:
پیکجنگ اتنی خوبصورت اور بین الاقوامی معیار کی تھی کہ دیکھ کر ہی دل خوش ہو گیا۔
کریم اور سیرم کا ٹیکسچر انتہائی لائٹ، بہترین اور جلد میں جذب ہو جانے والا تھا۔
صرف چند دنوں کے استعمال سے سکن پر جو واضح اور بہترین رزلٹ ملا، وہ ناقابل یقین تھا!
لیکن... زندگی کی کچھ ذاتی مصروفیات اور ناگزیر وجوہات کے باعث میں نہ تو بروقت یہ ریویو لکھ سکا اور نہ ہی دوبارہ آرڈر کر پایا۔ یہ ادھورا ریویو میرے دل پر ایک قرض کی طرح تھا، جسے آج میں دلی معذرت کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔ دیر سے لکھنے پر معذرت، لیکن اچھے کام کی تعریف جب بھی کی جائے، کم ہے۔
اگر آپ بھی ایکنی (Acne)، داغ دھبوں، جھریوں یا سکن کے دیگر مسائل سے پریشان ہیں اور کیمیکلز سے پاک کوئی بہترین حل چاہتے ہیں، تو Shivora کی یہ سنیل میوسن پروڈکٹس آپ کے لیے بہترین اور 100% قابلِ بھروسہ انتخاب ہیں۔ ایک بار ضرور ٹرائی کریں، آپ کی جلد آپ کا شکریہ ادا کرے گی! ❤️
ہانیہ خان صاحبہ اور ان کی پوری ٹیم کے اس مخلصانہ اقدام اور بہترین پروڈکٹس کے لیے ڈھیروں دعائیں!
ایڈمن ادب کی دنیا

واہ ، کتنا مختصر ، پیارا لیکن گہرا جملہ ہے جسٹ فیل اِٹ !
23/09/2026

واہ ، کتنا مختصر ، پیارا لیکن گہرا جملہ ہے
جسٹ فیل اِٹ !

22/09/2026

میری جس علاقے میں آٹے کی فیکٹری ہے، اسی علاقے میں ایک اور بندے کی فیکٹری بھی ہے جو میرا تگڑا competition ہے۔ اس حساب سے وہ بندہ میرا کاروباری دشمن ہے۔ میں اس کی فیکٹری کے خلاف ہوں اور وہ میری فیکٹری کے خلاف

لیکن،

اسی علاقے میں، ایک تیسرا بندہ بھی موجود ہے جس کی ہم دونوں کی ہی فیکٹریوں پر نظر ہے۔ وہ ہماری کاروباری رقابت سے واقف ہے اور ہم دونوں کو آپس میں لڑوا کر کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ ہماری فیکٹریوں پر قبضہ کرسکے۔ یہ بات ہم دونوں فیکٹری مالکان کے علم میں ہے لہذا اس حوالے سے، ہم دونوں آپس میں اسٹریٹیجک تعاون بھی کرتے ہیں

جو دوسرا بندہ ہے، وہ اس تیسرے بندے سے بھی چھپ چھپا کر ملاقات کرتا ہے۔ وہ اسے آفر دیتا ہے کہ گر وہ میری فیکٹری ختم کردے، تو وہ اسے اس کام میں جمنے میں مدد کرے گا

یہ جان کر میرے دل میں دوسرے بندے کے خلاف نفرت اور زیادہ ہوگئی

میں نے بھی تیسرے بندے سے ملاقات کی اور آفر دی کہ اگر تم اس دوسرے بندے کی فیکٹری ختم کروا دو، تو میں نہ صرف تمھیں یہاں کام جمانے میں مدد دوں گا، بلکہ نئے کلائنٹس بھی لاکر دوں گا

تیسرے بندے نے، یہ ساری صورتحال دیکھتے ہوئے، ایک چوتھے بندے کو آفر کردی کہ ہم دونوں مل کر پہلے اور دوسرے کو ختم کردیں، تو یہاں ان دونوں فیکٹریوں پر قبضہ کرکے، ہم اپنا کام جما سکتے ہیں

یہ سن کر وہ چوتھا بندہ، خاموشی سے میرے پاس پہنچ کر وہ سارا پلان بتا گیا اور آفر کی ہم دونوں مل کر، دوسرے اور تیسرے کو ختم کرکے، یہاں اپنا کام سیٹ اپ کرسکتے ہیں

یہ سن کر، میں نے دوسرے اور تیسرے سے میٹنگ کی اور اسے چوتھے کی نیت سے آگاہ کیا اور مشورہ دیا کہ ہم تینوں کو مل کر، اس چوتھے کو پہلے فارغ کرنا چاہیے

اور یہ سلسلہ یوں ہی آگے بڑھتے پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔

یہ تو خیر ایک تمثیلی واقعہ تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

یہ سب پڑھ کر یقیناً آپ کا دماغ چکرا گیا ہوگا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟

کون کس کا حلیف، کون کس کے خلاف ہے؟

اس وقت اس خطے میں کچھ ایسا ہی گیم چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔

امریکہ، چین، روس، یوکرین، اسرائیل، سعودیہ، ایران، پاکستان، بھارت، افغانستان، امارات، برطانیہ وغیرہ سب اسی طرح کی گھمن گھنیریوں میں سر سے پیر تک ملوث ہیں۔ ہر کوئی ایک دوسرے کا دشمن، اور ساتھ ساتھ پارٹنر بھی ہے۔ یہ کبھی ایک دوسرے کے ساتھ، تو کبھی ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔

ان کی پوزیشن سمجھنا عام آدمی کے بس سے بہت، بہت اوپر ہی بات ہے۔ معاملات اس قدر گرے ایریا میں جاچکے کہ اس میں سیاہ یا سفید ڈھونڈنا ممکن ہی نہیں

جس کو تھوڑی بہت معاملات کی سمجھ ہے، وہ اس کھیل سے خاموشی سے لاتعلق ہوا بیٹھا ہے۔ جس کو ان معاملات کی ککھ سمجھ نہیں وہ قومیت، مذہب یا مسلک کے نام پر اپنے من پسند فریق کو پکڑا ہوا اس کی جنگ لڑ رہا ہے۔

یہ ریاستی مفادات کا کھیل ہے، جس میں عام عوام، چاہے جس ملک سے تعلق رکھتے ہوں، لوزرز ٹہریں گے، جبکہ طاقتور افراد اس سے کسی نہ کسی شکل مین جیت کر ابھریں گے۔ کوئی دولت، کوئی اقتدار تو کوئی مزید کنٹرول جیتے گا۔۔۔۔۔۔!!!!!
۔شہزاد حسین

21/09/2026

اس نظام نے جب کوئی عظیم الشان قسم کی واردات ڈالنی ہو، تو یہ پہلے اس کا گراؤنڈ پلان کرکے عوام کو ذہنی طور پر تیار کرتے ہیں۔

مثلاً،

پاکستان کی تاریخ کے، سب سے مہنگے ترین آئی پی پیز، 2013 سے 2016 کے درمیان لگائے گئے۔ ان آئی پی پیز کی وجہ سے، پاکستان سب سے مہنگی بجلی بنانے والا ملک بن گیا۔ بجلی کی بھاری قیمتوں کا بوجھ عوام پر پڑا جو آج تک جاری ہے۔ سرکلر ڈیٹ اتنا خوفناک ہوگیا کہ وہ ملک کی معشیت پر ایک ایک ایسا خوفناک بوجھ بن چکا جس کا حل نظر نہیں آتا۔ اس سرکلر ڈیٹ کو بھگتانے کے لیے، بینکوں سے قرضہ لے کر ادائیگی کی جاتی ہے اور قرضے کی ادائیگی، ٹیکس کی شکل میں آپ سے وصولی جاتی ہے۔

دوسری طرف،

ان ہی مہنگی ترین آئی پی پیز سے، حکمران اشرافیہ یا رولنگ ایلیٹ نے بے تحاشہ دولت کمالی بلکہ آج بھی کما رہے ہیں

لیکن ان مہنگی ترین آئی پی پیز کی واردات ڈالنے سے پہلے، اس کا گراؤنڈ کیسے تیار کیا گیا؟

آپ کو یاد ہوگا 2013 سے پہلے ملک بھر میں بے انتہا لوڈ شیڈنگ ہوا کرتی تھی۔ یہ درحقیقت گراؤنڈ بنانے کی تیاری تھی۔ جب گراؤنڈ بن گیا تو ن لیگ نے کسی ہیرو کی طرح اینٹری لی اور ملک بھر میں،

"لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کردیا گیا"

بیوقوف عوام نے ن لیگ کی پرفارمینس کو دل کھول کر سراہا

اور اسی سراہتے، خاموشی سے مہنگے ترین آئی پی پیز کی واردات ڈال دی گئی۔ کسی نے نہ پوچھا کہ ان ملک دشمن معاہدوں کا مجرم کون ہے؟

تمام رولنگ ایلیٹ جس میں حکومت و اپوزیشن، سب شامل تھیں، سیاسی طور پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑتی رہیں جبکہ اندر خانے سب نے مل کر کھایا اور احمق عوام کا دل کھول کر مذاق اڑایا

یہ اسی طرح کی واردات ہے جو کہ پراپرٹی والے کسی نئی سوسائٹی میں ڈالتے ہیں۔ یعنی، کسی سوسائٹی کے پلاٹس کی اکثریت فائلز اپنے ہاتھ میں کرلیں گے۔ کوئی خریدنے آئے تو کہتے ہیں مارکیٹ میں مال شارٹ ہے۔ خریدار بچارا مارا مارا پھرتا ہے۔ اپنی آفر بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ جب پلاٹس کا ریٹ ڈبل ٹرپل ہوجاتا ہے تو مال اچانک آجاتا ہے۔ ڈیلرز فائدہ اٹھاتے ہیں اور خریدار کو 1 روپے والی چیز 2 یا 3 روپے میں بیچ ڈالی جاتی ہے

اسے نفسیات میں priming effect کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

یہ تو تھیں پرانی باتیں۔ اب آپ کو ایک نئی واردات کا بتاتا چلوں

تیل کی مارکیٹ میں گزشتہ دو تین دنوں سے قیمتیں گر رہی ہیں۔ کم سے کم 1.71 فیصد یا زائد کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ اس حساب سے، پیٹرول کی قیمتیں 391 سے کم ہوکر 384 تک آجانی چاہئیں تھیں لیکن،

ایسا نہیں کیا گیا۔۔۔۔۔۔

قیمت میں 6 یا 7 روپے کمی کی بجائے، محض 1.70 روپے کمی کی گئی۔

اوپر سے آپ نے وزیروں کے بیانات سنے ہوں گے کہ تیل کمیاب ہوسکتا ہے جس سے قیمتیں ہزار روپے تک جاسکتی ہیں۔

انھوں نے آپ کی priming شروع کردی ہے۔ اضافہ 1 روپے ہوگا تو یہ 3 روپے بڑھادیں گے۔ کمی 6 روہے ہوگی تو یہ 2 روپے بھی کم نہیں کریں گے۔

اس جنگ کے ماحول میں بھی، یہ زبردست دیہاڑیاں لگانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

اس روئے زمین پر، 25 کروڑ پاکستانیوں کا جو سب سے بدترین دشمن ہے، وہ یہ نظام ہے!!!!
شہزاد حسین

پشاور کی خاتون شہری شفق عامر نے کپڑوں کے مشہور برینڈ 'کھاڈی' سے سات ہزار روپے کے کپڑے خریدے۔ جب وہ بل ادا کرنے لگیں تو د...
17/09/2026

پشاور کی خاتون شہری شفق عامر نے کپڑوں کے مشہور برینڈ 'کھاڈی' سے سات ہزار روپے کے کپڑے خریدے۔ جب وہ بل ادا کرنے لگیں تو دیکھا کہ بل میں تیس روپے شاپنگ بیگ کے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ شفق نے کہا کہ اس بیگ پر آپ کے برانڈ کا لوگو و نام لکھا ہوا ہے، جس سے مشہوری آپ کے برانڈ کی ہوگی، اسکی قیمت میں کیوں ادا کروں؟ بتایا گیا کہ کمپنی کی پالیسی یہی ہے۔ یہ 20 دسمبر 25ء کی بات ہے۔

شفق نے اس پر 'کھاڈی' کو لیگل نوٹس بھجوا دیا، جسکا جواب تو دیا گیا لیکن کمپنی اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ شفق نے بالآخر کھاڈی کے خلاف پشاور کی کنزیومر کورٹ میں شاپر کے 30 روپوں کی واپسی کے علاوہ خطیر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا۔

جواب میں کھاڈی نے موقف اختیار کیا کہ قانون کہیں نہیں کہتا کہ شاپر فری دیا جائے۔ انکا شاپنگ بیگ ماحول دوست مٹیریل سے تیار کیا جاتا ہے، جس پر خاصی لاگت آتی ہے، یوں وہ اس کی قیمت وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ کپڑوں کے دیگر عالمی برینڈز بھی اسی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ یہ بیگ تشہیر کی غرض سے نہیں بلکہ اس پر اسے دوبارہ استعمال کرنے کا پیغام لکھا ہوا ہے۔ خاتون کو ایک مفت پلاسٹک کا شاپر پیش کیا گیا تھا، مگر انہوں نے خود کاغذی بیگ کا مطالبہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اسکی قیمت ادا کرنی ہوگی، جس پر انہوں نے اپنی مرضی سے اسے خریدا۔ لہٰذا 30 روپے کی رسید پر اتنا خطیر ہرجانے کا دعویٰ محض انہیں ہراساں کرنا ہے۔

کنزیومر کورٹ کے جج نصراللہ خان گنڈاپور نے کل 16 ستمبر 2026ء کو کیس کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کھاڈی نے سات ہزار کے کپڑوں کی فروخت اور بیگ کے عوض 30 روپے اضافی وصول کرنے کا خود اعتراف کیا جو رسید سے بھی ثابت ہے۔ عام طور پر کوئی بھی کسٹمر جب کسی دکان سے خریداری کرتا ہے، تو وہ جائز طور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ خریدا گیا سامان اسے بغیر کسی اضافی قیمت کے کسی بیگ میں رکھ کر دیا جائے گا۔ بصورتِ دیگر دکاندار کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاہک کو ایک عام (بغیر برانڈ لوگو والا) شاپر مفت فراہم کرے۔

کھاڈی ایک مشہور برانڈ ہے اور جو بیگ انہوں نے 30 روپے میں فروخت کیا، اس پر انکے برینڈ کا نمایاں لوگو موجود تھا۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ برینڈ اپنے نام کی تشہیر کے لیے جو بیگ استعمال کر رہا ہے، اسکی قیمت بھی وہ خود اپنے صارفین کی جیب سے وصول کر رہا ہے۔ کھاڈی نے نہ صرف اضافی رقم لی بلکہ اس بیگ کو اپنی تجارتی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیا۔ یہ عمل قانون کی نظر میں سراسر غلط ہے اور تحفظِ صارفین قانون کے تحت واضح طور پر ایک "غیر منصفانہ تجارتی عمل" ہے۔

شاپنگ بیگ کی مد میں ناجائز لیے گئے 30 روپے کے علاوہ سائلہ کو ذہنی اذیت اور مقدمہ بازی کی زحمت کے ازالے کے لیے 25 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کیے جائیں۔ اس غیر منصفانہ تجارتی عمل پر مزید 25 ہزار روپے بطور جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کروائے جائیں۔

عدالت نے ان احکامات کے ساتھ شفق عامر کی کمپلینٹ منظور کر لی۔

کورٹ_کہانی از: محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور

16/09/2026

کچھ رشتے ایسے بھی تھے جو ہوتے ہوتے رہ گئے۔۔
معلومات سے لے کر شکل و صورت سب پسند آئے ۔۔دونوں پارٹیاں ایگری بھی تھیں۔۔عین موقع پر لڑکے والوں نے جواب دے دیا۔۔
کیوں؟؟؟؟
یا تو لڑکیوں کے ٹک ٹاک اکاونٹ نکل آۓ تھے۔۔۔
یا انسٹا گرام پر بولڈ کیپشن کے ساتھ بولڈ تصاویر۔۔۔
بس اسکے بعد اگلوں نے کہا ہمیں رشتہ نہیں کرنا۔۔

الارمنگ بات یہ کہ زیادہ تر کیسز میں لڑکیوں کے والدین کو پتہ ہی نہیں تھا۔۔کہ ان کی بیٹی انسٹا اور ٹک ٹاک پر" خاصی" ایکٹو ہے۔۔
کچھ ایسے کیس میرے پاس آے جہاں ان لڑکیوں کو شوہروں نے چند مہینے کے اندر اندر طلاق دے دی۔۔کیونکہ انہوں نے جتنا مرضی منع کیا لڑکیوں نے گھر تڑوانے تو گوارا کرلیے لیکن ٹک ٹاک نہ چھوڑی۔۔
ایسے کئی لوگوں کو جانتی ہوں جو سوسایٹی میں اچھے خاصے مذہبی سمجھے جاتے ہیں۔۔ماں باپ حج عمرہ نماز سے فارغ نہیں ہوتے اور بیٹیاں انکی ٹاپ کی ٹک ٹاکرز بنتی جا رہی ہیں۔۔
ٹک ٹاک لائیو پر آکر ادائیں دکھانے سے لے کر لپ سنگنگ۔۔ڈانس یا seductive قسم کی ویڈیوز بنانے کو کوئی شریف گھرانہ کس طرح ہضم کرسکتا ہے اور ہم انہیں کیسے قائل کرسکتے کہ یہ لڑکیاں شریف گھرانے کی ہی ہیں؟؟؟
انسٹا گرام پر ان شریف گھرانوں کی بچیوں نے ہونٹوں کے پاوٹ بنا کر۔سی تھرو کپڑے پہن کر۔ ایسی ایسی سٹوریز ڈالی ہوتی ہیں ۔جو ان لوگوں تک بخوبی پہنچ جاتی ہیں جو انکی معلومات نکلواتے ہیں۔۔
سولہ سے پچیس سال کے درمیان کی معصوم شکل بچیاں بازاری عورتوں والے پوز کیسے سیکھتی ہیں؟؟
ان کی آنکھوں کے اشارے۔۔ہونٹ کاٹنا۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے کہوں۔۔ پورے کپڑے پہن کر بھی معیوب لگ رہی ہوتی ہیں۔۔مجموعی طور پر انکی باڈی لنگویج ہی دعوت دے رہی ہوتی ہے۔۔اوپر سے رومانٹک ذو معنی گانوں پر پرفارمنس۔۔۔
کچھ لڑکیوں کے رشتے جب میں نے لڑکوں کی فیملیز میں دکھاے۔۔اور اچھی اقدار کی فیملی بتایا۔۔۔
انہوں نے مجھے لڑکیوں کے ٹک ٹاک اور انسٹا کے یہ اکاونٹ بمعہ وہی ناچ گانا بھیج دیے۔۔۔۔ نوٹ کریں۔۔یہ اکاونٹ پرائیوٹ تھے۔۔یہ وہ اکاونٹ ہوتے جن میں سپیشل فینز کو رسائی دی جاتی بس۔۔۔۔میں نہیں جانتی کیسے مواد نکالا گیا۔۔۔
ٹھیک ٹھاک شرمندگی محسوس ہوی ۔۔۔ان کے والدین کو بتایا تو قسمیں کھانے لگے کہ ہماری بچیاں تو ایسی ہیں ہی نہیں ۔پھر مجھے مواد انہیں بھی بھیجنا پڑا۔۔۔
ایک بات آپ کو اچھی لگے یا بری۔۔ٹک ٹاکر سے شادی کرنے پر یا تو ٹک ٹاکر ہی خوشی سے راضی ہوگا۔۔یا وہ راضی ہوگا جو دیوث ہوگا۔۔اس کے علاوہ کوئی کتنا ہی لبرل کیوں نہ ہو۔۔وہ ایسی بیوی ہرگز نہیں چاہے گا۔جس کی ادائیں دیکھ کر ایک بڑا طبقہ آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہو۔۔
اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔۔انکے انسٹا گرام اکاونٹ چیک کیا کریں کہ یہ اپنی کس قسم کی تصاویر لگاتے ہیں۔۔۔یا ٹک ٹاک پر کیا کرتے؟؟
دنیا ایک خطرناک فیز میں داخل ہوچکی ہے۔۔آپکی بچیوں کی یہ دل لگی انکے ساتھ ساتھ آپ کو بھی برباد کرائے گی۔۔ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔۔ایک دن ایک بد قماش فین آکر بیٹی کو گھر میں گھس کر گولی مار دے گا ۔۔یا راہ چلتے سڑک سے اٹھوا لے گا۔۔😔
۔تحریر: کرن خان

یہ تو ہم جانتے ہیں کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے... لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ سورج ہر روز مشرق میں ایک ہی پوائنٹ سے طلوع ن...
15/09/2026

یہ تو ہم جانتے ہیں کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے...
لیکن کیا آپ کو پتا ہے کہ سورج ہر روز مشرق میں ایک ہی پوائنٹ سے طلوع نہیں ہوتا؟

زمین کا محور تقریباً 23.5° جھکا ہوا ہے اور زمین سورج کے گرد گھوم بھی رہی ہے۔ اسی وجہ سے سال کے دوران سورج کے طلوع و غروب ہونے کی جگہ آسمان پر مسلسل بدلتی رہتی ہے۔

اگر آپ خطِ استوا پر کھڑے ہو کر سال کے مختلف اوقات میں سورج کے طلوع ہونے کا مقام نوٹ کریں، تو تقریباً چھ مہینے کے دوران یہ مقام ایک طرف سے دوسری طرف تقریباً 47° تک بدل جاتا ہے... اور راولپنڈی جیسے شہر میں یہی فرق تقریباً 57° تک پہنچ جاتا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ زمین کے مختلف مقامات سے دیکھا جائے تو سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے مقامات بھی مختلف ہوتے ہیں۔

یعنی کہ جسے ہم سادہ الفاظ میں مشرق اور مغرب کہتے ہیں، سورج کے چڑھنے اور ڈوبنے کے مقامات آسمان پر کوئی ایک مستقل نقطہ نہیں رہتے۔

اور یہی بات قرآن پاک میں سورۃ الرحمٰن کی اس آیت کو مزید غور طلب بنا دیتی ہے:
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ
وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے۔

اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
رَبُّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ
وہ تمام مشرقوں اور تمام مغربوں کا رب ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ آخر قرآن "مشرق و مغرب" کے ساتھ ایک سے زائد کی بات کیوں کرتا ہے؟
شاید آسمان کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس کائنات کو ہم دیکھ رہے ہیں، وہ حقیقت کا صرف وہ حصہ ہے جو ہمارے محدود frame of reference میں ظاہر ہو رہا ہے..
یعنی سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں؟
ہر روز سورج ایک نئے مقام سے طلوع ہو کر ایک نئی جگہ پر غروب ہو رہا ہے۔

ضروری نہیں کہ ان آیات کا صرف یہی ایک مطلب ہو، لیکن ہمیں سوچنے کی دعوت ضرور دیتی ہیں..

بے شک عقل والوں کے لیے دن اور رات کے اس ہیر پھیر میں نشانیاں ہیں۔

آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنے خیالات کا اظہار کمنٹس میں ضرور کیجیے۔

تحریر پسند آئے تو فالو کریں اور دوستوں سے بھی شیئر کریں 👍❤️

یاسر_علی_اعوان
Rawalpindi Astronomy Society - RAS

15/09/2026

آلِ شریف کا یہی رولا ہے ان کے اندر سے Royalty یا شاہانہ انداز نہیں نکلتا۔ مریم تو دوسری نسل ہیں ، مجھے پورا یقین ہے ان کی تیسری نسل جنید صفدر وغیرہ بھی اسی عشوہ و ناز و ادا سے اپنے وقت پر سامنے آئیں گے۔ یہ وہ خاندان ہے جس نے پاکستان کے کروڑوں غرباء پر سال ہا سال حکومت کی ہے۔

بینظیر اور بھٹو صاحب کا ایک اصول تھا۔ وہ دونوں لباس سادہ یا عوامی پہنتے تھے۔ بینظیر کے پاس دنیا کے مہنگے جیولری سیٹس کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن پبلک اپئیرنس میں نہیں پہنے۔ کل شب نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں ایک قصہ سنایا کہ وہ اور جگنو محسن ان کی دعوت پر گئے۔ رخصت ہوتے میں نے بی بی کو کہا بی بی یہ آپ کیا چوغہ سا پہنے رکھتی ہیں اپنی ڈریسنگ پراپر کریں۔ جواب میں بی بی نے مجھے کہا رک جاؤ، یہ عوامی لباس ہے اس میں کیا خرابی نظر آئی ہے ؟۔ چار پانچ سال قبل بختاور کی شادی ہوئی ہے۔ نہ کوئی ایسا رولا لپا نہ شاہانہ انداز نہ جواہرات کے جلوے۔ زرداری خاندان کم از کم اس معاملے میں عوامی رائے کا بہت خیال رکھتا ہے۔ ہاں مگر فریال تالپور نے اپنی صاحبزادی کی شادی پر ساری کسر برابر کرتے ہوئے آلِ رائیونڈ سا انداز اپنا لیا تھا۔

مسئلہ لباس و جواہرات بھی نہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ آپ ہیں کون؟۔ اگر آپ ایک نجی کاروباری خاندان ہیں تو اللہ نے دیا ہے، پہنیں، اوڑھیں، محل بنائیں، جہاز خریدیں، شادی پر ہاتھی بلائیں، سو باراتیں نکالیں۔ کسی کو کیا اعتراض؟ جیسا کہ امبانی خاندان شادی میں جتنا چاہے خرچ کرے وہ عوامی منصب کا حلف اٹھا کر نہیں بیٹھا۔ وہ بزنس کرتا ہے اور اپنی دولت خرچ کرتا ہے۔لیکن اگر آپ ایک ایسے ملک کے حکمران خاندان ہیں جہاں کروڑوں لوگ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بل، بچوں کی فیس اور دو وقت کی روٹی کے درمیان پس رہے ہوں تو آپ کی نجی زندگی بھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔آپ پبلک آفس ہولڈر ہیں۔

احساسِ محرومی موازنے سے پیدا ہوتا ہے۔غریب آدمی اپنے گھر میں بیٹھا جب حکمران خاندان کی شادی دیکھتا ہے تو وہ صرف لباس نہیں دیکھتا۔ وہ اپنے بچوں کے چہرے بھی دیکھتا ہے۔ وہ بجلی کا بل دیکھتا ہے۔ وہ آٹے کی قیمت دیکھتا ہے۔ وہ اپنی موٹر سائیکل کا پٹرول دیکھتا ہے۔ وہ بیٹی کی فیس دیکھتا ہے۔اور پھر اسکرین پر ایک ایسا خاندان دیکھتا ہے جس کے لیے شاید چند کروڑ کا زیور محض ایک تقریب کا لباس ہے۔یہاں سے سیاست میں ناراضی پیدا ہوتی ہے اور جب یہی ناراضی مسلسل تحقیر کے احساس میں بدل جائے تو پھر کوئی بھی سیاسی نعرہ اسے اپنے حق میں استعمال کر لیتا ہے۔

ہمارے سیاسی خاندانوں کو یہ بنیادی بات سمجھنی ہوگی کہ عوام سے تعلق صرف ووٹ مانگنے کے وقت نہیں ہوتا۔عوام آپ کو دیکھتے بھی ہیں۔آپ کے کپڑے دیکھتے ہیں۔ آپ کی گاڑیاں دیکھتے ہیں۔آپ کے بچوں کی زندگی دیکھتے ہیں۔آپ کی شادیوں کی تصاویر دیکھتے ہیں۔آپ کے بیرونِ ملک سفر دیکھتے ہیں۔اور پھر اپنے حالات سے ان کا موازنہ کرتے ہیں۔آپ چاہیں تو اسے حسد کہہ دیں، جہالت کہہ دیں، سوشل میڈیا کا فتنہ کہہ دیں یا عوام کی کم ظرفی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکمران اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا معاشی اور نفسیاتی فاصلہ کسی بھی معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔ اس کا خمیازہ عوامی نفرت کی صورت کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں بھگتنا پڑتا ہے۔

مہدی بخاری

شالا حیاتی ہووی  13 ستمبر کو ماسی منور بھی چلی گئیں، وہیں جہاں اماں چلی گئیں، ابا چلے گئے، جدھر ہم سب نے اپنے اپنے وقت پ...
15/09/2026

شالا حیاتی ہووی

13 ستمبر کو ماسی منور بھی چلی گئیں، وہیں جہاں اماں چلی گئیں، ابا چلے گئے، جدھر ہم سب نے اپنے اپنے وقت پر جانا ہے.

وادیِ سون میں سردیاں پہاڑوں سے اترتی ہیں۔ پہلے سکیسر کی چوٹی پر دھند کا ہلکا سا دوپٹہ آتا ہے، پھر رات کو کھیتوں پر کورا پڑتا ہے اور صبح گندم کی نئی کونپلیں چاندی کی طرح چمکنے لگتی ہیں۔ انگہ کے کچے گھروں کی چھتوں سے اپلوں کا دھواں اٹھتا ہے اور گلیوں میں وہ خاموشی اتر آتی ہے جو صرف پہاڑی گاؤں کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔

برسوں پہلے انہی دنوں کی ایک صبح صحن کا لکڑی کا دروازہ چرچرایا۔

میں ابھی اتنا چھوٹا تھا کہ دروازے کی کنڈی تک میرا ہاتھ نہیں پہنچتا تھا۔ سامنے وہ کھڑی تھیں۔ چار بہنوں اور ماموں عزیز سب سے بڑی، سبز چادر میں لپٹی ہوئی، رات بھر کے سفر کی گرد پلکوں پر، ایک ہاتھ میں کپڑے کی پوٹلی اور دوسرے ہاتھ سے چادر کا پلو سنبھالے ہوئے۔ اور چہرے پر وہ مسکراہٹ جو میں نے پھر عمر بھر ان کے چہرے سے اترتے نہیں دیکھی۔ یہ مسکراہٹ زور سے نہیں ہنستی تھی۔ یہ بس چہرے پر ٹھہری رہتی تھی، جیسے کسی طاق میں دیا رکھا ہو۔

پوٹلی میں گجک تھی۔

انگہ وادی نمک کے پہاڑوں کے بیچ ایک سبز کٹورا ہے۔ ایک طرف اُچھالی کی کھاری جھیل ہے جس کا پانی دھوپ میں سیسے کی طرح چمکتا ہے اور جس کے کنارے سردیوں میں پردیسی پرندے اترتے ہیں۔ دوسری طرف کھبیکی اور جھالر، اور ان کے گرد سیڑھی دار کھیت جن میں گندم، چنے اور سرسوں کی زرد چادر باری باری بچھتی ہے۔ پھلائی اور کیکر کے کٹھور درخت، چٹانوں سے پھوٹتے چشموں کا میٹھا پانی، لوکاٹ کے باغ، اور ان سب کے اوپر سکیسر کا سایہ ہے.

اس مٹی کے لوگ بھی اس مٹی جیسے ہیں۔ باہر سے سخت اور کھردرے، اندر سے چشمے کی طرح میٹھے۔ کم بولنے والے، بہت سہنے والے، اور مہمان کے آگے اپنا آخری نوالہ رکھ دینے والے۔

ماسی اسی مٹی کی بیٹی تھیں۔ ان کے وجود میں یہ ساری وادی سمٹ آئی تھی۔ چشمے کی مٹھاس، پہاڑ کا صبر اور کھیت کی خاموش محنت۔

گجک والی پوٹلی کھلی تو صحن میں تل اور گڑ کی وہ خوشبو پھیل گئی جس کا میں سال بھر انتظار کرتا تھا۔ خالہ جی نے ایک بڑا ٹکڑا توڑا، اسے ہتھیلی پر رکھ کر آہستہ سے میری طرف بڑھایا اور کہا، 'پُتر، یہ تیرے لیے رکھی تھی۔'

برسوں بعد سمجھ آئی کہ اس ایک جملے میں ان کی پوری سیرت بند تھی۔ جو کچھ ان کے پاس تھا، وہ کسی اور کے لیے رکھا ہوا تھا۔

بچے کی یادداشت بھی عجیب ہوتی ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ گجک کس نے دی اور یہ کہ میں نے طارق بھائی، رفعت اور کلثوم ست زیادہ کھانی ہے، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ دینے والے نے خود کھائی یا نہیں۔ بہت بعد میں، جب میں خود گھر بسا چکا تھا، ایک دن یاد کرنے بیٹھا۔ مجھے ایک بھی ایسا منظر یاد نہ آیا جس میں خالہ جی خود گجک کھا رہی ہوں۔ وہ بانٹنے والی تھیں، کھانے والی نہیں۔

وہ ان اعوانوں میں بیاہی گئی تھیں جو نئی زمینوں کی آس میں پہاڑ چھوڑ کر جنوب کے میدانوں، دنیا پور کی طرف اتر گئے تھے۔ جہاں سکیسر کی ٹھنڈی ہوا کی جگہ لُو چلتی ہے، چشموں کی جگہ نہریں بہتی ہیں اور پہاڑی ڈھلوانوں کی جگہ افق تک پھیلے ہوئے کپاس کے کھیت ہیں۔ پہاڑ کا آدمی میدان میں جا کر دو دن میں نہیں بدلتا، دو نسلوں میں بدلتا ہے۔ اعوانوں کا لہجہ آہستہ آہستہ سرائیکی مٹھاس میں گھلنے لگا، مگر خالہ جی کے اندر وادی ویسی کی ویسی رہی۔

ہر سال وہ پہاڑ اور میدان کے بیچ کا لمبا سفر کاٹتیں۔ وہ صرف گجک نہیں لاتی تھیں۔ وہ ایک پورا موسم اپنے ساتھ لاتی تھیں۔ جب تک وہ رہتیں، صحن میں کچھ اور ہی روشنی رہتی۔ اور جب جاتیں تو پیچھے ایک ایسا خالی پن چھوڑ جاتیں جو اگلی سردیوں تک نہیں بھرتا تھا۔ پہاڑ اور میدان کے درمیان وہ ایک رسّی کی طرح تنی رہیں، دونوں کناروں کو تھامے ہوئے۔

ان کا ایک بیٹا ہے، ناصر۔ ایک ہی۔ میرا ہم عمر۔ ہم عمر لوگ یا تو حریف بنتے ہیں یا ہم راز۔ ہم دوسری قسم کے نکلے۔ ہم نے دنیا اکٹھی کھوجی۔ پہلے صحن، پھر گلی، پھر کھیت، پھر وہ ٹیلے جہاں سے جھیل نظر آتی تھی، پھر کتابیں، پھر شہر، پہلی فلم، پہلی مار، پہلی ٹکر۔ دنیا کھوجنے کے لیے ایک بیس کیمپ چاہیے ہوتا ہے۔ ہمارا بیس کیمپ خالہ جی کا صحن تھا۔

پہلے لفظ کی بات۔ میں انہیں خالہ نہیں لکھ سکتا۔ وہ ماسی تھیں۔

لغت کہتی ہے ماسی پنجابی میں ماں کی بہن کو کہتے ہیں۔ پنجابی کہتی ہے ماسی یعنی ماں سی۔ ماں جیسی۔ لغت رشتہ بتاتی ہے۔ پنجابی درجہ بتاتی ہے۔

اردو کے پاس خالہ ہے۔ عربی سے آیا ہوا معزز لفظ۔ اس میں ادب ہے، فاصلہ بھی ہے۔ خالہ ملنے آتی ہیں۔ ماسی گھر میں رہتی ہے۔

ماسی کا بیٹا مسیر ہوتا ہے۔ اردو میں اسے خالہ زاد بھائی کہتے ہیں۔ تین لفظ۔ جیسے رشتہ نہ ہو، فارم ہو۔ انگریز کا حال اور برا ہے۔ اس کے پاس ایک لفظ ہے، کزن۔ آٹھ رشتے ایک لفظ میں ٹھونس رکھے ہیں۔ پنجابی نے ہر رشتے کو اپنا لفظ دیا ہے۔ مسیر، پھپھیر، چچیر۔

زبان وہی رشتے ایک لفظ میں رکھتی ہے جن کے ساتھ وہ رہتی ہے۔ اردو دیوان کی زبان ہے، محفل کی، دفتر کی۔ پنجابی ویہڑے کی زبان ہے۔ ویہڑے میں ماسی روز آتی ہے۔ اس کے لیے ایک لفظ کافی ہے۔

شہروں نے ماسی کو نوکرانی بنا دیا ہے۔ کام والی ماسی۔ گاؤں میں وہ ابھی تک ماں سی ہے۔

پھر میں انگہ سے ملتان چلا گیا۔ ناصر بھی آ گیا۔ تین مہینے رہا۔ پھر واپس چلا گیا۔

وجہ؟ وہ اکلوتا بیٹا تھا۔

خلا باز چھ مہینے زمین سے دور رہ لیتے ہیں۔ اکلوتے بیٹے کی ماں سے دوری کی حد تین مہینے نکلی۔ ملتان اور دنیا پور کے درمیان فاصلہ کچھ خاص نہیں ہے۔ ماں اور اکلوتے بیٹے کے درمیان فاصلہ صفر ہوتا ہے۔ ناصر صفر پر واپس چلا گیا۔

یہ ڈوری کبھی نہیں ٹوٹی۔ برسوں بعد ناصر خود ملتان آیا، پھر اسلام آباد گیا۔ ماسی جہاں وہ گیا وہاں پہنچ گئیں۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھیں اور اس نے ماں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ کچھ رشتے سنبھالنے نہیں پڑتے۔ وہ خود کو سنبھالتے ہیں۔

ناصر کی شادی رفعت بہن سے ہوئی. پھر شاہ میر آیا، پھر مریم۔ دادی کا کام یوں تو پوتے پوتیوں کو بگاڑنا ہوتا ہے۔ ماسی یہ کام بھی خاموشی سے کرتی تھیں۔

اور پھر علی۔

علی خاص بچہ ہے۔ بول نہیں سکتا۔ دنیا جسے سپیشل کہتی ہے، ماسی اسے علی کہتی تھیں۔ انہوں نے اپنے آخری برس علی کے نام کر دیے۔ نہلانا، کھلانا، سلانا، اٹھانا۔ گھنٹوں اس کے پاس بیٹھنا۔ جس کے لیے دنیا کے پاس رحم ہے، اس کے لیے ماسی کے پاس وقت تھا۔ رحم سستا ہے۔ وقت مہنگا۔

گھر میں دو لوگ تھے جو بولتے نہیں تھے۔ ایک بول نہیں سکتا تھا، ایک بولتی نہیں تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو سب سے بہتر سمجھتے تھے۔ زبان رابطے کی سب سے کمزور شکل ہے۔ سب سے مضبوط شکل حاضری ہے۔ ماسی حاضر رہتی تھیں۔

ماسی کی زندگی میں ایک ہی دشمن تھا۔ ڈاکٹر۔

میری اماں ان کی چھوٹی بہن تھیں۔ دمے نے انہیں آخری پندرہ بیس برس سے ڈاکٹروں کے ساتھ باندھے رکھا۔ ماسی ساری عمر ڈاکٹروں سے بھاگتی رہیں۔ گردے، ہیپاٹائٹس سی، ٹی بی، پِتّہ نکلوانا، اور بھی بہت کچھ۔ بیماریوں کی فہرست لمبی تھی۔ شکایتوں کی فہرست خالی۔

مولیئر نے ایک ڈرامہ لکھا تھا، خیالی مریض۔ ایک آدمی جو بیمار نہیں ہے اور ڈاکٹروں سے نکل نہیں پاتا۔ ماسی اس کا الٹ تھیں۔ بیمار تھیں اور ڈاکٹروں کے ہاتھ نہیں آتی تھیں۔

وہ ہر کام خود کرتی تھیں۔ ہم سبھی لڑتے رہ جاتے، ملازم رکھنے کا مشورہ دو تو مسکرا دیتیں۔ ماسی نے کبھی ماسی نہیں رکھی۔

ہم سمجھتے تھے وہ آرام نہیں کرتیں۔ وہ سمجھتی تھیں کام ہی آرام ہے۔

سماجیات میں ایک اصطلاح ہے۔ ایموشنل لیبر۔ آرلی ہوکشلڈ نے انیس سو تراسی میں یہ لفظ گھڑا تھا۔ وہ محنت جو گھر کو جوڑ کر رکھتی ہے، جس کی کوئی تنخواہ نہیں، کوئی چھٹی نہیں، اور جو دکھائی تب دیتی ہے جب کرنے والا چلا جائے۔

ناصر نے برسوں کی محنت سے اسلام آباد میں ایک شاندار گھر بنایا۔ گھر کی چابی ناصر کے پاس تھی۔ گھر ماسی کے پاس تھا۔ باورچی خانہ، مہمان، صفائی، علی، سب اپنے ہاتھ سے۔ سانس پھول جاتی تو ذرا بیٹھ جاتیں۔ سانس لوٹتی تو پھر اٹھ کھڑی ہوتیں۔ ہم کہتے آرام کریں۔ وہ کہتیں، کر تو رہی ہوں۔

تین چار دن پہلے فون آیا۔ دل کا دورہ۔ ہسپتال لے گئے ہیں۔

حالت پوچھی۔ مگر دل میں سوال دوسرا تھا۔ یہ وہاں کتنے دن ٹھہریں گی؟

مجھے پتہ تھا۔ ماسی ہسپتال میں نہیں ٹھہر سکتیں۔ انہیں ڈاکٹر پسند نہیں۔ ہسپتال کی بو پسند نہیں۔ نلکیاں، مانیٹر، پرچیاں، کچھ پسند نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ پسند نہیں کہ ان کی وجہ سے کوئی تکلیف اٹھائے۔ ناصر راتیں جاگے۔ رفعت بہن چکر کاٹے۔ شاہ میر اور مریم گھر میں انتظار کریں۔ اور علی؟ علی کو کون سنبھالے؟

جس عورت نے زندگی بھر کسی کو اپنے لیے ایک قدم نہیں اٹھانے دیا، وہ ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر لوگوں کو اپنے گرد چکر لگاتے کیسے دیکھتی؟

نہیں دیکھا۔ وہ چلی گئیں۔ جلدی۔

لوگ کہتے ہیں بہت جلدی چلی گئیں۔ میں کہتا ہوں انہوں نے جلدی نہیں کی۔ انہوں نے وہی کیا جو ہمیشہ کرتی تھیں۔ کسی پر بوجھ نہیں بنیں۔ موت کے وقت بھی نہیں۔ ہسپتال کو موقع ہی نہیں دیا۔ ڈاکٹر آخر تک ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔

اسلام آباد کے اس گھر میں اب ایک بچہ ہے جو کمرے کمرے پھرتا ہے۔ ہر دروازہ کھول کر دیکھتا ہے۔ باورچی خانے میں جاتا ہے۔ صحن میں جاتا ہے۔ واپس آتا ہے۔ پھر جاتا ہے۔

علی نانی کو ڈھونڈ رہا ہے۔

اسے کوئی بتا نہیں سکتا۔ بتا بھی دے تو وہ سمجھے گا نہیں۔ ہم ایسا سمجھتے ہیں۔ شاید الٹ ہے۔ شاید گھر میں وہی اکیلا ہے جو ٹھیک سمجھ رہا ہے۔ ہم نے قبول کر لیا ہے۔ اس نے نہیں کیا۔ وہ ابھی ڈھونڈ رہا ہے۔

دنیا میں لوگ فون اٹھا کر ہیلو کہتے ہیں۔ ماسی دعا دیتی تھیں۔

سات سمندر پار سے کال ملتی تو دوسری طرف سے پہلا لفظ کبھی ہیلو نہیں ہوتا تھا۔ دعاؤں کی بوچھاڑ ہوتی تھی۔ لمبی عمر، صحت، رزق، اولاد، عزت، سکون۔ پوری فہرست۔ میں فون کان سے لگائے چپ رہتا۔ ٹوکنا بے ادبی تھی۔ فہرست ختم ہوتی تو پوچھتیں، پُتر کیسے ہو؟

ٹیلی فون کمپنیاں فی منٹ پیسے لیتی ہیں۔ ماسی کا پہلا منٹ کبھی رائیگاں نہیں گیا۔

مجھے وہ ایسے ہی یاد ہیں۔ پہلے دعا، پھر بات۔

اب فون کروں گا تو دوسری طرف پہلا منٹ خالی ہوگا۔

قرآن کی آخری سورتوں میں اللہ ایک روح کو پکارتا ہے۔ کارنامے والی روح کو نہیں۔ شور والی کو نہیں۔ اطمینان والی روح کو۔ وہ روح جو ہسپتال کے بستر پر بھی دوسروں کا سوچے۔

ماسی ہر بات دعا سے شروع کرتی تھیں۔ آخری سفر پر بھی پہلی بات ان سے ہوئی، ان کی طرف سے نہیں۔ بولنے والا وہ تھا جس سے وہ ساری عمر ہمارے لیے مانگتی رہی تھیں۔

اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔

عارف انیس

Address

Narang

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adab Ki Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Adab Ki Dunya:

Shortcuts

Share