Adab Ki Dunya

Adab Ki Dunya ادب کی دنیا جہاں بہت کچھ ہے سیکھنے کو... آئیں اور ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں..!اردو کا سب سے بہترین صفحہ
(1504)

خونی درویش۔۔۔ بنگلہ دیش میں اجتماعی خودکشی کا ہولناک واقعہ!! ( تحریر و تحقیق: ستونت کور ) جولائی 2018 میں دلی کے علاقے ب...
22/08/2026

خونی درویش۔۔۔ بنگلہ دیش میں اجتماعی خودکشی کا ہولناک واقعہ!!
( تحریر و تحقیق: ستونت کور )

جولائی 2018 میں دلی کے علاقے براڑی میں ایک ہی خاندان کے 11 لوگوں کی جانب سے خود کو پھانسی کا پھندہ لگا کے اجتماعی خودکشی کے واقعے نے پوری دنیا کو لرزا کے رکھ دیا تھا۔

تاہم اس سے چند سال سے قبل بنگلہ دیش میں بھی ایک خاندان کی اجتماعی خودکشی کا سانحہ رونما ہو چکا ہے۔

اور۔۔۔ بنگلہ دیش کے علاقے میمن سنگھ میں رونما ہونے والا یہ سانحہ، براڑی واقعے سے بھی کہیں زیادہ دردناک اور ڈسٹربنگ تھا۔

12 جولائی 2007 .
میمن سنگھ کے علاقے کشور سے ایک ٹرین معمول کے سفر پر تیزرفتاری سے چل رہی تھی۔
ٹرین کے ڈرائیور نے دور سے دیکھا کہ کچھ لوگ ریلوے لائن سے کچھ فاصلے پر کھڑے ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں۔
اس وقت ڈرائیور کو کسی گڑبڑ کا احساس نہ ہوا ۔۔۔ کیونکہ وہ سب ٹریک سے چند قدم دور تھے۔
لیکن۔۔۔ جیسے ہی ٹرین ان سے چند فٹ کے فاصلے پر پہنچی۔ ان سب نے ریلوے لائن پر قدم رکھ دیے ۔ اور ٹرین پوری قوت و پوری رفتار کے ساتھ ان سے ٹکرائی۔
اس قدر زوردار تصادم کے باعث ان میں سے اکثریت کے جسم کے پرخچے اڑ گئے۔۔۔ اس حد تک کہ ایک شخص کا ہاتھ تصادم کے مقام سے دو کلومیٹر سے بھی دور جا کر ملا۔
خون کے چھینٹے ، جسم کے پارچے ، بھیجے کے ٹکڑے اور خون میں ڈوبے بال دور دور تک پھیل گئے۔
ڈرائیور نے آخری لمحے پر ایمرجنسی بریک لگا دی ۔۔۔ لیکن۔۔۔ تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
9 میں سے 7 افراد ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے ۔ باقی 2 افراد کے جسم کی تقریباً تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ وہ پانی مانگ رہے تھے۔ لیکن پانی پلائے جانے سے قبل ہی ان کی موت ہوگئی۔

اس فیملی کا گھر، تصادم کے مقام سے محض چند فرلانگ ہی دور تھا۔۔۔پولیس اہلکار جب ان کے گھر پہنچے تو ایک اور ہولناک منظر ان کے سامنے تھا۔ صحن میں ایک بڑی سے قبر کھودی ہوئی تھی۔ اور چند کاغذات پر یہ پیغام درج تھا کہ ہمیں ہمارے گھر میں اس اجتماعی قبر میں دفنایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کہانی کا آغاز کئی سال قبل 1971 سے ہوتا ہے۔

اس کہانی کے مرکزی کردار کا حقیقی نام " انور حسین " ہے۔
انور حسین پاکستانی فوج میں ایک نان-کمیشنڈ افسر تھا۔
تاہم پاک-بھارت جنگ کے آغاز سے قبل ہی وہ 1971 کے اوائل میں ریٹائر ہو چکا تھا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے پاس کمانے کا کوئی زریعہ نہ تھا۔ لیکن اس کی ایک بڑی فیملی تھی . اسے کے خاندان میں اس کی بیوی۔ تین بیٹے۔ چار بیٹیاں۔ اور اس کے پوتے نواسے شامل تھے۔

ان سب کے تمام اخراجات انور کے سر تھے لیکن انور کے پاس ظاہر ہے پینشن تک نہ تھی کہ جس سے گھر کا چولہا چل پاتا۔

انور کو ایک ہیئر آئل بنانا خوب اچھے سے آتا تھا۔ جو کہ اس دور میں بنگلہ دیش میں موجود ایک معروف ترین ہیئر آئل برانڈ کے برابر کا تھا۔

چنانچہ،
انور کے ہیئر آئل کا کاروبار چل نکلا۔۔۔ لیکن یہ کاروبار زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔

کیونکہ وہ ہیئر آئل جس مشہور برانڈ کے فارمولے پر تھا۔ اس برانڈ نے انور حسین پر نقالی کا مقدمہ دائر کردیا۔ اور عدالت نے اس برانڈ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
انور کا ہیئر آئل کا کاروبار بند کروا دیا گیا۔

جس سے اس کی پہلے سے چل رہی مالی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔

چنانچہ ، انور حسین نے کچھ سوچ سمجھ کر
" برصغیر کے سب منافع بخش کاروبار "
کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔ یعنی۔۔۔۔ پیری مریدی۔

انور اور اس کا سارا خاندان کافی مذہبی تھا اور آس پاس کے لوگوں کو اس بات کا علم بھی تھا۔

چنانچہ اس نے چھوٹے موٹے پیروں فقیروں والے کاموں کا آغاز کردیا۔۔۔ کبھی کسی کو تعویز لکھ دیا۔۔۔ کسی کو دم کردیا۔۔۔ کسی کو کوئی ورد پڑھنے کو دے دیا۔

جس سے اس کے گھر چند پیسے آنا شروع ہوگئے۔
لیکن اتنے پیسوں سے دو وقت کی روٹی پوری ہو پانا بھی مشکل تھا۔۔۔

چنانچہ یہ خاندان مزید سے مزید غربت و کسمپرسی میں ڈوبتا چلا گیا۔

اپنے پیری کے کاروبار کو بہتر بنانے کے لیے انور حسین نے دینی کتب، عملیات و تعویزات کی کتب، تصوف و درویشی کے موضوعات پر موجود کتب اور یہاں تک کہ دیگر مذاہب جیسے مسیحیت، ہندومت اور بدھ مت کا مطالعہ بھی شروع کردیا۔

اور یہاں سے اس کے دماغ میں " عقائد کا چربہ " بننا شروع ہوا۔۔۔

1990 کی رہائی میں اس نے تصوف کے نام پر روزمرہ کی عبادات جیسے نماز، روزہ، دعا وغیرہ کو ترک کر دیا۔۔۔ اور اپنے خاندان کو بھی اس پر قائل کر کے ان کی عبادات بھی چھڑوا دیں۔

تب تک اس نے اپنا ایک چھوٹا سا حلقہ احباب بنا لیا تھا اور اپنے شاگردوں سمیت ایک چھوٹی سی کمیونٹی بھی تشکیل دے دی تھی اور یہ سب کے سب انور حسین کے فالورز تھے۔

اس کے شاگرد اور مرید اس کو چھوٹے موٹے عطیات دیتے رہتے تھے جس سے اس کے گھر کا دال دلیہ چلنے لگا۔۔۔ اس نے اپنے کچھ شاگردوں کو مستقل اپنے گھر میں بھی رکھ لیا تھا۔

اسے اسے کے معتقدین " درویش " کا لقب دیتے تھے۔

پھر 1995 میں انور درویش خاندان سمیت اسلام سے متنفر ہوگیا اور کھل کر اسلام کے خلاف باتیں کرنے لگا۔

جس سے ایک طرف اس کے کچھ معتقدین اور شاگرد اس کو چھوڑ گئے۔

تو دوسری طرف اس کے اہل محلہ نے اسے سخت دھمکیوں اور سنگین نتائج کی وارننگز دینا شروع کردیں۔

درویش نے اس دوران عیسائیت کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مقامی چرچ اور کرسچئن کمیونٹی نے بھی انہیں ٹھینگا دکھا دیا۔

اب وہ اور اس کی فیملی مزید زبوں حالی اور Isolation کا شکار ہوتی چلی گئی۔۔۔ اور وہ اتنا ہی مذاہب سے متنفر ہونے لگا۔
اب وہ اسلام، ہندومت، مسیحیت و تمام مذاہب کو جھوٹا اور انسانی ساختہ قرار دینے لگا تھا۔
حتیٰ کہ اب وہ حضرت محمد ( PBUH) کے بارے میں بھی نازیبا اور توہین آمیز باتیں کرنے لگا تھا۔

لیکن۔۔۔ تمام مذاہب کو جھوٹا قرار دینے کے بعد۔ اب اسے کسی تو نئے مذہب نئے عقیدے کی ضرورت تھی کہ جسے وہ اپنے مٹھی بھر باقی رہ گئے معتقدین اور اپنی فیملی کو پرچار کرتا خود کو کوئی درویش ثابت کرنے کے لیے۔

چنانچہ۔۔۔ جیسا کہ پہلے ہم رجنیش اوشو اور جم جونز جیسے پاکھنڈیوں کے کیسز میں بھی دیکھ چکے ہیں۔۔۔ اس نے روحانیت+ فلسفہ + مختلف مذاہب کے عقائد کا ملغوبہ بنا کر اپنا ایک نیا مذہبی فرقہ تشکیل دیا۔

جسے اس نے " آدم دھرما " یعنی " مذہبِ آدم " کا نام دیا۔

اور اس کی فیملی " آدم پریوار " کہلوانے لگی۔۔۔

اس نے خود کو حضرت آدم کا دوسرا جنم قرار دے دیا۔
اور اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی مختلف شخصیات قرار دینے لگا۔۔۔ مثال کے طور پر انور درویش، حسین بن منصور حلاج سے بہت متاثر تھا۔ تو اس نے اپنے نواسے مولا کو منصور حلاج کا دوسرا جنم قرار دے دیا۔

اس موقعے پر اس کے رہے سہے مرید اور معتقد بھی اس کے منہ پر تھوک کر چلے گئے۔۔

اور اب۔۔۔۔ صرف وہ اور اس کا خاندان ہی بچے جو " آدم دھرم " کے پیروکار تھے۔

اور گھر کے اخراجات صرف انور کے بیٹے غلام محیی الدین کی تنخواہ سے پورے ہورہے تھے کہ جو ڈھاکہ میں ایک یونیورسٹی میں نوکری کررہاتھا۔ تاہم ایک شخص کی تنخواہ اتنے بڑے خاندان کی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے بھی کافی نہ تھی۔۔۔ چنانچہ اب ان کے گھر میں بمشکل تمام ایک وقت کا معمولی سا کھانا ہی پک پاتا تھا اور اسی پر ان کی گزر بسر تھی۔

درویش کی موت :
10 جولائی 2000 کو دل کا دورہ پڑنے سے انور درویش کی موت ہوگئی۔۔۔ جو کہ ان کے پہلے سے تباہ حال خاندان کے لیے ایک اور بہت بڑا دھچکا تھا۔
درویش نے وصیت کر رکھی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کے پاؤں کا رخ مغرب کی سمت کر کے اسے دفنایا جائے۔
لیکن جب مقامی لوگوں کو اس بات کی خبر پہنچی تو وہ مزید مشتعل ہوگئے کہ موت کے بعد بھی اس شخص نے اپنے سابق مذہب کا اپمان کرنا نہیں چھوڑا۔
محئی الدین نے اہل علاقہ کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی کہ " ہم نے مسیحیت قبول کر لی تھی اس لیے ہم انور کی تدفین اس طریقے سے کر سکتے ہیں۔ "
لیکن۔۔۔ ایک بار پھر مقامی چرچ اور مسیحی کمیونٹی نے صاف صاف کہہ دیا کہ انور یا اس کے خاندان کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔

چنانچہ مجبور ہو کر محئی الدین نے اپنے باپ کی قبر کا رخ تبدیل کر کے اس کی تدفین کردی۔۔۔

انور کا خاندان مکمل طور پر برین واش ہوچکا تھا اور وہ انور کے گھڑے ہوئے آدم دھرم پر پوری طرح سے یقین رکھتے تھے۔۔۔

2004 میں ڈھاکہ میں محئی الدین کو گولی مار کے قتل کردیا گیا۔ قتل کے بعد اس کے کمرے سے پولیس کو بہت سی جعلی ڈگریز ملیں۔۔۔ پتا چلا کہ وہ خفیہ طور پر جعلی ڈگریز بنا کر فروخت کرنے کا کام کررہا تھا۔ اور اسی دھندے میں کسی مشتعل طالب علم نے اسے کا خون کردیا۔

مقامی لوگوں نے ایک مرتبہ پھر محئی الدین کو مسلم قبرستان میں دفنانے سے انکار کردیا لیکن اب کی بار محئی الدین کا بھائی عارف سامنے آیا اور اس نے مقامی لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ " ہم سب دوبارہ اسلام قبول کر چکے ہیں اور محئی الدین بھی اسلام پر مرا ہے۔ " جس پر انہیں محئی الدین کو مسلم قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت تو مل گئی۔۔۔۔ لیکن حقیقت میں پوری آدم فیملی ابھی تک سرتاپا انور درویش کے بنائے فرضی مذہب پر پوری طرح کاربند تھی۔

محئی الدین کی موت کے بعد 2004 میں عارف نے ڈھاکہ کا رخ کیا تاکہ کوئی کام دھندہ ڈھونڈ کر فاقوں کی شکار اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے کی کوشش کر سکے۔۔

اجتماعی خودکشی :
12 جولائی 2007 کو آدم فیملی کے 9 افراد نے اجتماعی طور پر ٹرین کے آگے آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
مرنے والوں کی تفصیل۔۔۔
حنا۔ انور درویش کی بیوہ۔ عمر 60
اختری۔ انور درویش کی بیٹی۔ 30
مون۔ انور درویش کی بیٹی۔ 28
مرشدہ۔ انور درویش کی بیٹی۔ 27
عارف۔ انور درویش کا بیٹا۔ 22
راحت۔ انور درویش کا بیٹا۔ 20
شبنم۔ مون کی بیٹی۔ 10
مومنہ۔ اختری کی بیٹی۔ 10
مولا۔ مرشدہ کا بیٹا۔ 8

تفتیش و انکشافات :
بالکل سانحہ براڑی ہی کی طرح۔
پولیس کو آدم فیملی کے گھر سے بہت سی ڈائریاں ملیں۔
جن پر ان کے گزرے ماہ و سال کی روداد ، ان کے خودساختہ عقائد و نظریات اور پھر موت کی طرف ان کے قدم اور اجتماعی خودکشی سے متعلق تحریریں۔

∆ ان تحاریر میں پہلی مرتبہ انکشاف ہوا کہ آخری برسوں میں آدم پریوار جادو ٹونے اور سحر و طلسم جیسی چیزوں کی جانب راغب ہوگیا تھا۔

∆ ایک بات جس نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھی کہ انہوں نے کچھ عرصہ " بھوانی " کی پوجا بھی کر کے دیکھی تھی۔ بھوانی ایک شیطانی دیوی ہے جس کی پوجا قدیم ہندوستان کے ٹھگ کیا کرتے تھے۔۔۔ ٹھگی صرف ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ ایک پورا فرقہ تھا جس پر میں ایک پوری سیریز لکھ چکی ہوں۔ جس سے آپ کو بھوانی اور بھوانی کی پوجا کے بارے میں مزید تفصیلات مل سکتی ہیں۔

مطلب۔۔۔۔ انہوں نے PK کی طرح باری باری مختلف مذاہب کو آزما کر دیکھا کہ کس مذہب کا خدا ان کی سہائیتا کرتا ہے۔ جب سب مذاہب سے مایوس ہوگئے تو پھر شیطان کی پوجا شروع کردی بھوانی کی صورت میں۔
پر یہاں بھی ان کی مراد نہ بر آ سکی۔

∆ ان تحاریر میں انہوں نے عقیدہ تناسخ کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا۔۔۔ آدم فیملی یہ مانتی تھی کہ مرنے کے بعد انسان کی آتما نئے شریر میں جنم لیتی ہے۔
اور اسی عقیدے کے تحت انہوں نے اجتماعی خودکشی کا فیصلہ کیا۔

∆ ان ڈائریز میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ مرنے کے بعد دوسرا جنم لے کر ان سب سے انتقام لیں گے کہ جنہوں نے ان کے خاندان کو تکلیف پہنچائی۔

∆ 10 جولائی 2007 کو انور درویش کی برسی کے دن انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں اپنی اجتماعی قبر کھودی اور خودکشی کی رسم کے لیے انتظامات مکمل کیے ۔

اس اجتماعی خودکشی میں اس خاندان کی صرف ایک ہی ممبر مہرالنساء بچ سکی جو اپنے خاندان سے علیحدگی اختیار کرچکی تھی۔

براڑی کیس کی ہی طرح اس کیس کی تفتیش کا اختتام بھی Folie à deux یعنی اجتماعی تخیلاتی مرض کی تشخیص پر ہوا۔۔۔۔۔۔
( ختم شد)

کیسی تعلیم اور کون سی تربیت۔۔!!  بچیوں کے ماں باپ کو بس اللہ کریم کے فضل کا ہی طلبگار رہنا چاہیئے ہر لمحہ کہ بہترین انسا...
22/08/2026

کیسی تعلیم اور کون سی تربیت۔۔!! بچیوں کے ماں باپ کو بس اللہ کریم کے فضل کا ہی طلبگار رہنا چاہیئے ہر لمحہ کہ بہترین انسانوں سے ہی پالا پڑے ہمارے بچے بچیوں کا۔ یہ پھولوں جیسی بچی حنا راولپنڈی کی رہائشی ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں اس کی شادی ایک پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر اور NUST کے پروفیسر کے ساتھ ہوئی اور وہ اس اعلٰی تعلیم یافتہ حیوان کی بربریت کا شکار ہو گئی۔ الفاظ گنگ ہیں، صرف دکھ ہے اور دلی تکلیف۔ والدین نے تو اپنے تئیں بیٹی کیلئے ایک بہترین فیصلہ کیا تھا لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی ایک جبلی حیوان کو انسان نہیں بنا سکتی۔۔🥹
ربیعہ فاطمہ بخاری

آج لاہور میں ایک مشہور بیکری کے باہر ایک 65 سالہ بزرگ سیکیورٹی گارڈ کو بیٹھے دیکھا۔ وہ روٹی کے اوپر صرف پیاز رکھ کر کھا ...
17/08/2026

آج لاہور میں ایک مشہور بیکری کے باہر ایک 65 سالہ بزرگ سیکیورٹی گارڈ کو بیٹھے دیکھا۔ وہ روٹی کے اوپر صرف پیاز رکھ کر کھا رہے تھے۔ پہلے مجھے لگا شاید دانتوں کی وجہ سے نرم سالن وغیرہ نہیں کھا سکتے، لیکن دل نے گوارا نہیں کیا اور میں ان کے پاس چلا گیا۔

میں نے پوچھا، “انکل کیا کرتے ہیں؟”

کہنے لگے، “بیٹا، سیکیورٹی گارڈ ہوں۔”

پوچھا، “تنخواہ کتنی ہے؟”

کہنے لگے، “25 ہزار روپے۔”

پھر میں نے پوچھا، “انکل، اتنی تنخواہ میں گھر کیسے چلتا ہے؟ بچے کتنے ہیں؟”

انکل نے بتایا کہ میری تین بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا ہے۔ گھر میں کمانے والا صرف میں ہوں۔

میں نے روٹی اور پیاز کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا، “انکل سالن وغیرہ نہیں کھاتے؟”

انکل کی اگلی بات نے دل توڑ دیا۔ کہنے لگے:

“بیٹا، دو دن سے گھر کے حالات بہت خراب ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بیٹی بیمار ہوگئی تھی، علاج کے لیے ایک شخص سے قرض لیا تھا۔ تنخواہ آئی تو سارا قرض واپس کردیا، اس کے بعد گھر کا راشن خریدنے کے لیے پیسے نہیں بچے۔”

ذرا سوچیں… ایک 65 سالہ بزرگ، جو دن رات ہماری دکانوں اور کاروبار کی حفاظت کرتا ہے، خود اپنے گھر کے لیے دو وقت کا کھانا بھی پورا نہیں کر پا رہا۔

ہم اکثر دکانوں، ہوٹلوں اور بیکریوں کے باہر بیٹھے سیکیورٹی گارڈز کو دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پیچھے ایک پورا گھر ہوتا ہے، بچے ہوتے ہیں، بیماریاں ہوتی ہیں، بجلی کے بل ہوتے ہیں اور راشن کی ضرورت ہوتی ہے۔

میں نے انکل سے پوچھا کہ “یہ بیکری والے آپ کو کچھ کھانے کے لیے نہیں دیتے؟”

انکل نے بتایا کہ اگر کچھ چیزیں بچ بھی جائیں تو انہیں کھانے کے لیے نہیں دیا جاتا، بلکہ ضائع کردی جاتی ہیں۔

یہ سن کر واقعی دل دکھا۔ اگر کسی جگہ کا سیکیورٹی گارڈ پوری ایمانداری سے آپ کی دکان، آپ کی پراپرٹی اور آپ کے کاروبار کی حفاظت کر رہا ہے تو کم از کم انسانیت کے ناطے اس کا خیال تو رکھا جا سکتا ہے۔

کھانا ضائع کرنے کے بجائے کسی بھوکے انسان کو دے دینا کون سا مشکل کام ہے؟

میں نے انکل کو کچھ رقم دی اور الگ سے راشن کے پیسے بھی دیے اور کہا:
“انکل، کل گھر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے اچھا سا کھانا لے کر جانا، گھر کا راشن لے کر جانا اور بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا۔”

اللہ گواہ ہے، انکل کے چہرے پر آنے والی خوشی دیکھ کر دل بھر آیا۔ ❤️

میری پاکستان کے ہر صاحبِ حیثیت انسان سے ایک چھوٹی سی اپیل ہے: جب بھی کسی دکان، بیکری، ہوٹل یا مارکیٹ کے باہر کوئی بزرگ سیکیورٹی گارڈ نظر آئے تو اسے نظرانداز نہ کریں۔ اگر استطاعت ہو تو جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی ٹپ دے دیں، پانی پلا دیں یا کچھ کھانے کو دے دیں۔ شاید آپ کے لیے چند سو روپے معمولی ہوں، لیکن اس بزرگ کے لیے وہ پورے گھر کی خوشی بن سکتے ہیں۔

اور کاروبار کرنے والے تمام بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ جو لوگ آپ کی پراپرٹی کی حفاظت کرتے ہیں، ان کا خیال رکھا کریں۔ ان کے لیے کھانے کا انتظام کریں، ان کی ضروریات پوچھیں اور انہیں عزت دیں۔

کیونکہ ہر غریب انسان صرف مدد کا محتاج نہیں ہوتا، وہ عزت کا بھی حق دار ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس بزرگ کے گھر میں آسانیاں پیدا فرمائے، ان کے بچوں کے نصیب اچھے کرے اور ہمارے دلوں میں دوسروں کا درد محسوس کرنے والی انسانیت ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔ 🤲❤️
منقول

500سال تک دیوار میں چھپا قرآن…یہ اسپین کے صوبہ ملاگا کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوتار (Cútar) کی دلخراش داستان ہے۔ ایک ایسی دا...
17/08/2026

500سال تک دیوار میں چھپا قرآن…
یہ اسپین کے صوبہ ملاگا کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوتار (Cútar) کی دلخراش داستان ہے۔ ایک ایسی داستان جس نے سقوطِ اندلس کی دلخراش یاد تازہ کر دی ہے۔ ساتھ مسلمانوں کی قرآن سے وابستگی اور ایک عجیب تاریخی اتفاق ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
1492ء میں سقوطِ غرناطہ کے بعد اسپین میں مسلمانوں کے لیے حالات بتدریج دشوار ہوتے گئے۔ اسی زمانے میں کوتار کے ایک مسلمان فقیہ اور امام محمد الجیّار رحمہ اللہ کو بھی ایک مشکل فیصلہ درپیش تھا: یا تو اپنا دین چھوڑ دے یا اپنا وطن۔
انہوں نے جلاوطنی کو ترجیح دی۔
مگر رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی قیمتی کتابیں گھر ہی میں ایک محفوظ جگہ پر چھپا دیں۔ اس امید پر کہ شاید حالات کبھی سازگار ہوں گے اور وہ واپس آکر اپنی کتابیں دوبارہ نکال لیں گے۔
مگر وہ واپس نہ آسکے۔ وقت گزرتا رہا… ایک نسل گئی، دوسری آئی، پھر تیسری، چوتھی… مکان کے مالک بدلتے رہے، مگر دیوار کے اندر چھپی وہ امانت وہیں محفوظ رہی۔
اب اس کی ملکیت ایک عیسائی عورت Magdalena Santiago کے پاس ہے۔ اس نے اس صدیوں قدیم گھر کو جو کبھی ایک مسلمان فقیہ کا تھا، گرا کر نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا۔ جب گھر گرایا گیا تو مزدوروں کو دیوار کے اندر ایک چھپی ہوئی جگہ ملی تو وہاں سے تین قدیم عربی مخطوطات برآمد ہوئے۔ ایک قرآن کریم کا نسخہ اور باقی دو مخطوطے خود محمد الجیّار کی تحریریں تھے، جن میں اس دور کے حالات اور ان کے اپنے فقیہانہ کام سے متعلق معلومات ملتی ہیں۔ ان میں 1492ء میں غرناطہ کے سقوط اور 1494ء کے ملاگا کے زلزلے جیسے واقعات کا بھی ذکر ملتا ہے۔
ان میں قدیم قرآنِ کریم کا یہ قدیم ترین نسخہ بھی تھا۔ ایک مسلمان عالم کی صدیوں پرانی امانت تقریباً 500 سال بعد دوبارہ دنیا کے سامنے آگئی۔ لیکن اس داستان میں ایک حیرت انگیز بات اور بھی ہے۔
یہ قرآن خود صرف 500 سال قدیم نہیں تھا۔ یونیورسٹی آف گریناڈا کی تحقیق کے مطابق اس کا تعلق غالباً نصری سلطنتِ غرناطہ سے تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 12ویں یا 13ویں صدی کا نسخہ ہے، یعنی یہ محمد الجیّار کے زمانے سے بھی کئی صدیوں پہلے لکھا گیا تھا۔ اس طرح دیوار کے اندر چھپایا جانے والا یہ قرآن دراصل تقریباً 800 سال قدیم تاریخی ورثہ تھا۔
غور کیجیے!
ایک قرآن جو صدیوں پہلے کسی مسلمان کاتب کے ہاتھ سے لکھا گیا… پھر نسلوں کے ہاتھوں سے گزرتا ہوا ایک مسلمان عالم کے گھر تک پہنچا… سقوطِ غرناطہ کے بعد اسے اپنے گھر کی دیوار میں چھپا دیا گیا… اور پھر تقریباً 5 صدیوں تک اندلس کی خاموش دیوار اپنے سینے میں اسے محفوظ کیے رہی۔
مکان کے اندر رہنے والے لوگ بدل گئے، زبانیں بدل گئیں، مذہب بدل گیا، زمانے بدل گئے، مگر دیوار کے اندر قرآن اپنی جگہ موجود رہا۔
اب جب وہ دیوار ٹوٹی تو گویا اندلس کی ایک بھولی ہوئی آواز پھر سے سنائی دینے لگی اور مسلمانوں کے زخم پھر تازہ ہوگئے۔
تحقیق کے بعد ان تینوں مخطوطات کو محفوظ اور مرمت کیا گیا اور آج وہ صوبائی تاریخی آرکائیو ملاگا (Archivo Histórico Provincial de Málaga) میں محفوظ ہیں۔
یہ صرف ایک پرانی کتاب کی دریافت نہیں ہے۔ یہ اندلس کی ایک زندہ یاد ہے۔ ایک ایسی یاد جو بتاتی ہے کہ تاریخ کے طوفان بہت کچھ مٹا سکتے ہیں، مگر انسان کے سینے اور کبھی کبھی اس کے بنائے ہوئے گھر کی دیواریں بھی ایسی امانتیں محفوظ رکھ لیتی ہیں جنہیں زمانہ ختم نہیں کرپاتا۔
محمد الجیّار واپس نہ آسکے… مگر ان کا قرآن 500 سال بعد بھی وہیں موجود تھا۔ کیوں کہ قرآن صرف ایک کتاب نہیں۔ یہ نسلوں سے نسلوں تک منتقل ہونے والی ایک امانت ہے۔
ضیاء چترالی

15/08/2026

کلاس میں ٹیچر سے طالبات نے پوچھا مس آپ کی صورت بھی ہے اور سیرت بھی تو آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟؟؟؟ !! ٹیچر نے جواب دیا

ایک عورت تھی جس کی پانچ بیٹیاں تھیں، اس کے شوہر نے کہا اگر چھٹی بار بھی بیٹی ہوئی تو میں اسے گھر میں نہیں بلکہ !!! سڑک کے کنارے جا کے رکھ دوں گا

خدا کی مصلحت تھی چھٹی بار بھی بیٹی ہوئی!! تو شوہر نے وہی کیا جو کہا تھا بیٹی کو اٹھا کر رات کے اندھیرے میں سڑک کے کنارے رکھ آیا!! صبح ہوئی تو جا کے دیکھا بچی کو کسی نے نہیں اٹھایا !!! سات دن تک یہی کرتا رہا مگر آخر کار بیٹی کو گھر لے کے آتا ہے!! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کے ہاں پر پیدائش ہوتی ہے مگر !!! اس بار لڑکی نہیں بلکہ لڑکا پیدا ہوا!!!! کچھ دن گزرنے کے بعد جو سب سے بڑی بیٹی تھی وہ مر جاتی ہے پر بیٹا پیدا ہوتا ہے پر ایک اور بیٹی مر جاتی ہے اسی طرح پانچ بیٹیاں مر جاتی ہیں مگر ان کے بدلے میں پانچ بیٹے مل جاتے ہیں صرف ایک بیٹی زندہ رہ جاتی ہے جس کو سات راتوں تک سڑک پر چھوڑ کے آتے تھے کہ شاید کوئی اٹھائے مگر کسی نے نہیں اٹھایا !!!! اور وہ بیٹی میں ہوں)

میرا باپ بیمار ہے اور ماں اس دنیا سے چل بسی ہے میری شادی نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ میں اپنے بیمار باپ کا خیال رکھتی ہوں اور میرے پانچ بھائی مہینے میں ایک بار آتے ہیں باپ کو !!!! دیکھنے کیلئے

میرے بابا روتے ہے اور بچپن میں جو کچھ میرے ساتھ کیا تھا !!! اس کیلئے شرمندگی کا اظہار کرتے ہے پیغام کبھی کبھار انسان کو کوئی چیز اچھی نہیں لگتی مگر اس میں انسان کی خیر چھپی ہوتی ہے!!!! اور قرآن میں اللہ کہتا ہے

والله يعلم وانتم لا تعلمون جو اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے "

سیدہ زینب کی وال سے منقول

قصر الصفا... حرم کے سائے میں معاہدہمسجد الحرام کے مشرقی جانب، صفا و مروہ کے قریب ایک بلند و بالا شاہی عمارت واقع ہے، جسے...
07/08/2026

قصر الصفا... حرم کے سائے میں معاہدہ
مسجد الحرام کے مشرقی جانب، صفا و مروہ کے قریب ایک بلند و بالا شاہی عمارت واقع ہے، جسے "قصر الصفا" کہا جاتا ہے۔ لاکھوں زائرین ہر سال حرم شریف میں حاضری دیتے ہیں، مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ عمارت سعودی فرمانرواؤں کی ایک اہم شاہی رہائش گاہ اور سرکاری استقبالیہ مرکز ہے، جہاں مملکت کے نہایت اہم اجلاس، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور تاریخی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ عام زائرین اسے ہوٹل ہی سمجھتے ہیں۔
قصر الصفا کی کھڑکیوں سے مسجد الحرام، کعبۃ اللہ اور مطاف کا روح پرور منظر دکھائی دیتا ہے، جبکہ پس منظر میں حرم مکی اپنے تمام تر جلال و جمال کے ساتھ جلوہ گر رہتا ہے۔ یہ محل جبل ابو قبیس کے دامن میں واقع ہے اور مسجد الحرام سے چند ہی قدم کے فاصلے پر ہے۔
آج اسی تاریخی قصر الصفا نے ایک ایسے دفاعی معاہدے کی میزبانی کی جس نے عالم اسلام کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے سربراہان نے یہاں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے "معاہدہ مکہ" کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، عسکری ہم آہنگی، مشترکہ منصوبہ بندی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس تاریخی لمحے میں ایک طرف مسلم دنیا کے تین اہم رہنما موجود تھے اور دوسری طرف ان کے عقب میں مسجد الحرام کے روح پرور مناظر اس اجتماع کو ایک منفرد روحانی وقار عطا کر رہے تھے۔
قصر الصفا صرف ایک شاہی محل نہیں بلکہ جدید سعودی تاریخ کا ایک اہم سیاسی مرکز بھی ہے۔ سعودی فرمانروا عموماً رمضان المبارک، حج اور دیگر اہم مواقع پر یہیں قیام کرتے ہیں، جبکہ متعدد اعلیٰ سطحی سرکاری ملاقاتیں بھی اسی محل میں منعقد ہوتی ہیں۔ مسجد الحرام سے اس کی غیر معمولی قربت اسے دیگر تمام شاہی محلات سے ممتاز کرتی ہے۔
جبل ابی قبیس
اس محل کی ایک اور تاریخی خصوصیت یہ ہے کہ یہ جبل ابو قبیس کے دامن میں واقع ہے۔ ابو قبیس مکہ مکرمہ کے قدیم ترین اور مشہور پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسلامی روایات میں اس کا ذکر نہایت احترام سے ملتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق طوفانِ نوح سے قبل حجر اسود کو اسی پہاڑ میں محفوظ رکھا گیا تھا اور بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کے وقت اسے یہیں سے حاصل کر کے کعبہ شریف میں نصب فرمایا۔ اگرچہ ان روایات کی اسنادی حیثیت اہل علم کے نزدیک محل بحث ہے، تاہم اسلامی تاریخ میں جبل ابو قبیس کو ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔
یہی وہ پہاڑ ہے جس کے بارے میں سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ رسول اقدس ﷺ نے اہل مکہ کو دعوت اسلام دینے کے لیے اس کے قریب واقع مقام صفا پر جمع فرمایا تھا۔ صدیوں سے جبل ابو قبیس حرم مکی کا خاموش نگہبان بن کر کھڑا ہے اور اس نے اسلام کی ابتدائی دعوت سے لے کر آج تک تاریخ کے بے شمار اہم لمحات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
"ولو بأبا قبيس"
یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے۔ اس کے پس منظر میں ایک فقہی اختلافی مسئلہ بھی ہے اور ایک زبردست نحوی اشکال بھی۔ میں اس کی طرف صرف اشارہ کرکے باقی تفصیل اہل علم پر چھوڑتا ہوں۔ جسے معلوم ہو، وہ کمنٹ میں ارشاد فرمائے۔
ضیاء الرحمان

منافقت کا اعلی ایوارڈ محترم وزیر تعلیم کے نام سال بھر سرکاری اساتذہ پر تنقید اور سرکاری اسکولوں کی نجکاری کا جواز پیش کی...
06/08/2026

منافقت کا اعلی ایوارڈ محترم وزیر تعلیم کے نام
سال بھر سرکاری اساتذہ پر تنقید اور سرکاری اسکولوں کی نجکاری کا جواز پیش کیا جاتا رہا، مگر جب انہی اساتذہ کی محنت سے سرکاری طلبہ نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں تو داد اساتذہ کو نہیں، بلکہ حکمران اپنی کارکردگی کے قصے سنانے لگتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کو معیاری سہولیات، مؤثر پالیسیاں اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تو یہی ادارے قوم کی آئندہ نسلوں کی بہترین تعلیم و تربیت کا مضبوط ترین ذریعہ بن سکتے ہیں
محمد اسد

ایک عام سا TV رپورٹر، وہاں سے TV چینلز کا مالک پھر سوسائیٹیوں کا مالک پھر نگران وزیراعلی اور وہاں سے کسی بھی سیاسی پارٹی...
04/08/2026

ایک عام سا TV رپورٹر، وہاں سے TV چینلز کا مالک پھر سوسائیٹیوں کا مالک پھر نگران وزیراعلی اور وہاں سے کسی بھی سیاسی پارٹی کا رکن نہ ہونے کے باوجود سینٹر، پھر وزیرداخلہ، وزیرخارجہ، PCB کا چئیرمین بھی، وزیراعظم کے اختیارات بھی،
اگر نظام تباہ نہ ہوتا تو یہ آج کسی پرائیوٹ سکول میں ٹیچر، کسی اخبار میں چھوٹا موٹا رپورٹر، یا کوئی کریانہ سٹور مالک ہوتا
اخے نظام تباہ ہو چکا ہے۔
یونیک خان

02/08/2026

سوات میں پولیس لائن کے گیٹ پر خودکش دھماکا کیا گیا ہے۔
دھماکے کے وقت گیٹ پر پولیس اہلکار ڈیوٹی پر کھڑے ہوۓ تھے اور پاس ہی امن کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔
دھماکے میں بیس افراد کی شہادت کی اطلاعات ہیں شہداء میں زیادہ تر پولیس اہلکار ہیں۔
پچھلے دو تین ہفتوں میں سو کے قریب پولیس اہلکار خیبرپختونخوا میں نشانہ بن چکے ہیں، جبکہ ایف سی اور فوج کے شہداء بھی درجنوں میں ہیں۔
چند روز پہلے ہنگو میں بھی سو سے زائد دہشتگردوں نے درجن بھر پولیس اہلکاروں کو انتہائ بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔

سعیدغالب

قوم پرستی جب اسلام پر غالب آ جائے تو پھر ایسے ہی جملے زبان پر آتے ہیں کہ "دوبارہ مسلمان پیدا ہونے کی خواہش نہیں، مگر بلو...
02/08/2026

قوم پرستی جب اسلام پر غالب آ جائے تو پھر ایسے ہی جملے زبان پر آتے ہیں کہ "دوبارہ مسلمان پیدا ہونے کی خواہش نہیں، مگر بلوچ ضرور بننا چاہوں گا۔"
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل کا گھٹیا بیان۔

ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نسبت ہر نسبت پر مقدم ہے؛ شریعت ان کی بالا، زبان ان کی اعلیٰ، اور ان کی نسبت ہر دوسری نسبت سے بڑھ کر ہے۔

ہم ہر اس فکر کو رد کرتے ہیں جو امتِ مسلمہ کی وحدت کو قومی، نسلی یا لسانی تعصبات پر قربان کرنا چاہے، خواہ وہ کسی بھی قوم یا جماعت سے وابستہ ہو۔

؎انھیں جانا، انھیں مانا، نہ رکھا غیر سے کام
لِلّٰہِ الحمد، میں دنیا سے مسلمان گیا

Address

Narang

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adab Ki Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Adab Ki Dunya:

Shortcuts

Share