22/08/2026
خونی درویش۔۔۔ بنگلہ دیش میں اجتماعی خودکشی کا ہولناک واقعہ!!
( تحریر و تحقیق: ستونت کور )
جولائی 2018 میں دلی کے علاقے براڑی میں ایک ہی خاندان کے 11 لوگوں کی جانب سے خود کو پھانسی کا پھندہ لگا کے اجتماعی خودکشی کے واقعے نے پوری دنیا کو لرزا کے رکھ دیا تھا۔
تاہم اس سے چند سال سے قبل بنگلہ دیش میں بھی ایک خاندان کی اجتماعی خودکشی کا سانحہ رونما ہو چکا ہے۔
اور۔۔۔ بنگلہ دیش کے علاقے میمن سنگھ میں رونما ہونے والا یہ سانحہ، براڑی واقعے سے بھی کہیں زیادہ دردناک اور ڈسٹربنگ تھا۔
12 جولائی 2007 .
میمن سنگھ کے علاقے کشور سے ایک ٹرین معمول کے سفر پر تیزرفتاری سے چل رہی تھی۔
ٹرین کے ڈرائیور نے دور سے دیکھا کہ کچھ لوگ ریلوے لائن سے کچھ فاصلے پر کھڑے ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں۔
اس وقت ڈرائیور کو کسی گڑبڑ کا احساس نہ ہوا ۔۔۔ کیونکہ وہ سب ٹریک سے چند قدم دور تھے۔
لیکن۔۔۔ جیسے ہی ٹرین ان سے چند فٹ کے فاصلے پر پہنچی۔ ان سب نے ریلوے لائن پر قدم رکھ دیے ۔ اور ٹرین پوری قوت و پوری رفتار کے ساتھ ان سے ٹکرائی۔
اس قدر زوردار تصادم کے باعث ان میں سے اکثریت کے جسم کے پرخچے اڑ گئے۔۔۔ اس حد تک کہ ایک شخص کا ہاتھ تصادم کے مقام سے دو کلومیٹر سے بھی دور جا کر ملا۔
خون کے چھینٹے ، جسم کے پارچے ، بھیجے کے ٹکڑے اور خون میں ڈوبے بال دور دور تک پھیل گئے۔
ڈرائیور نے آخری لمحے پر ایمرجنسی بریک لگا دی ۔۔۔ لیکن۔۔۔ تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔
9 میں سے 7 افراد ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے ۔ باقی 2 افراد کے جسم کی تقریباً تمام ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ وہ پانی مانگ رہے تھے۔ لیکن پانی پلائے جانے سے قبل ہی ان کی موت ہوگئی۔
اس فیملی کا گھر، تصادم کے مقام سے محض چند فرلانگ ہی دور تھا۔۔۔پولیس اہلکار جب ان کے گھر پہنچے تو ایک اور ہولناک منظر ان کے سامنے تھا۔ صحن میں ایک بڑی سے قبر کھودی ہوئی تھی۔ اور چند کاغذات پر یہ پیغام درج تھا کہ ہمیں ہمارے گھر میں اس اجتماعی قبر میں دفنایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کہانی کا آغاز کئی سال قبل 1971 سے ہوتا ہے۔
اس کہانی کے مرکزی کردار کا حقیقی نام " انور حسین " ہے۔
انور حسین پاکستانی فوج میں ایک نان-کمیشنڈ افسر تھا۔
تاہم پاک-بھارت جنگ کے آغاز سے قبل ہی وہ 1971 کے اوائل میں ریٹائر ہو چکا تھا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد اس کے پاس کمانے کا کوئی زریعہ نہ تھا۔ لیکن اس کی ایک بڑی فیملی تھی . اسے کے خاندان میں اس کی بیوی۔ تین بیٹے۔ چار بیٹیاں۔ اور اس کے پوتے نواسے شامل تھے۔
ان سب کے تمام اخراجات انور کے سر تھے لیکن انور کے پاس ظاہر ہے پینشن تک نہ تھی کہ جس سے گھر کا چولہا چل پاتا۔
انور کو ایک ہیئر آئل بنانا خوب اچھے سے آتا تھا۔ جو کہ اس دور میں بنگلہ دیش میں موجود ایک معروف ترین ہیئر آئل برانڈ کے برابر کا تھا۔
چنانچہ،
انور کے ہیئر آئل کا کاروبار چل نکلا۔۔۔ لیکن یہ کاروبار زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔
کیونکہ وہ ہیئر آئل جس مشہور برانڈ کے فارمولے پر تھا۔ اس برانڈ نے انور حسین پر نقالی کا مقدمہ دائر کردیا۔ اور عدالت نے اس برانڈ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
انور کا ہیئر آئل کا کاروبار بند کروا دیا گیا۔
جس سے اس کی پہلے سے چل رہی مالی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔
چنانچہ ، انور حسین نے کچھ سوچ سمجھ کر
" برصغیر کے سب منافع بخش کاروبار "
کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔ یعنی۔۔۔۔ پیری مریدی۔
انور اور اس کا سارا خاندان کافی مذہبی تھا اور آس پاس کے لوگوں کو اس بات کا علم بھی تھا۔
چنانچہ اس نے چھوٹے موٹے پیروں فقیروں والے کاموں کا آغاز کردیا۔۔۔ کبھی کسی کو تعویز لکھ دیا۔۔۔ کسی کو دم کردیا۔۔۔ کسی کو کوئی ورد پڑھنے کو دے دیا۔
جس سے اس کے گھر چند پیسے آنا شروع ہوگئے۔
لیکن اتنے پیسوں سے دو وقت کی روٹی پوری ہو پانا بھی مشکل تھا۔۔۔
چنانچہ یہ خاندان مزید سے مزید غربت و کسمپرسی میں ڈوبتا چلا گیا۔
اپنے پیری کے کاروبار کو بہتر بنانے کے لیے انور حسین نے دینی کتب، عملیات و تعویزات کی کتب، تصوف و درویشی کے موضوعات پر موجود کتب اور یہاں تک کہ دیگر مذاہب جیسے مسیحیت، ہندومت اور بدھ مت کا مطالعہ بھی شروع کردیا۔
اور یہاں سے اس کے دماغ میں " عقائد کا چربہ " بننا شروع ہوا۔۔۔
1990 کی رہائی میں اس نے تصوف کے نام پر روزمرہ کی عبادات جیسے نماز، روزہ، دعا وغیرہ کو ترک کر دیا۔۔۔ اور اپنے خاندان کو بھی اس پر قائل کر کے ان کی عبادات بھی چھڑوا دیں۔
تب تک اس نے اپنا ایک چھوٹا سا حلقہ احباب بنا لیا تھا اور اپنے شاگردوں سمیت ایک چھوٹی سی کمیونٹی بھی تشکیل دے دی تھی اور یہ سب کے سب انور حسین کے فالورز تھے۔
اس کے شاگرد اور مرید اس کو چھوٹے موٹے عطیات دیتے رہتے تھے جس سے اس کے گھر کا دال دلیہ چلنے لگا۔۔۔ اس نے اپنے کچھ شاگردوں کو مستقل اپنے گھر میں بھی رکھ لیا تھا۔
اسے اسے کے معتقدین " درویش " کا لقب دیتے تھے۔
پھر 1995 میں انور درویش خاندان سمیت اسلام سے متنفر ہوگیا اور کھل کر اسلام کے خلاف باتیں کرنے لگا۔
جس سے ایک طرف اس کے کچھ معتقدین اور شاگرد اس کو چھوڑ گئے۔
تو دوسری طرف اس کے اہل محلہ نے اسے سخت دھمکیوں اور سنگین نتائج کی وارننگز دینا شروع کردیں۔
درویش نے اس دوران عیسائیت کی طرف رجوع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مقامی چرچ اور کرسچئن کمیونٹی نے بھی انہیں ٹھینگا دکھا دیا۔
اب وہ اور اس کی فیملی مزید زبوں حالی اور Isolation کا شکار ہوتی چلی گئی۔۔۔ اور وہ اتنا ہی مذاہب سے متنفر ہونے لگا۔
اب وہ اسلام، ہندومت، مسیحیت و تمام مذاہب کو جھوٹا اور انسانی ساختہ قرار دینے لگا تھا۔
حتیٰ کہ اب وہ حضرت محمد ( PBUH) کے بارے میں بھی نازیبا اور توہین آمیز باتیں کرنے لگا تھا۔
لیکن۔۔۔ تمام مذاہب کو جھوٹا قرار دینے کے بعد۔ اب اسے کسی تو نئے مذہب نئے عقیدے کی ضرورت تھی کہ جسے وہ اپنے مٹھی بھر باقی رہ گئے معتقدین اور اپنی فیملی کو پرچار کرتا خود کو کوئی درویش ثابت کرنے کے لیے۔
چنانچہ۔۔۔ جیسا کہ پہلے ہم رجنیش اوشو اور جم جونز جیسے پاکھنڈیوں کے کیسز میں بھی دیکھ چکے ہیں۔۔۔ اس نے روحانیت+ فلسفہ + مختلف مذاہب کے عقائد کا ملغوبہ بنا کر اپنا ایک نیا مذہبی فرقہ تشکیل دیا۔
جسے اس نے " آدم دھرما " یعنی " مذہبِ آدم " کا نام دیا۔
اور اس کی فیملی " آدم پریوار " کہلوانے لگی۔۔۔
اس نے خود کو حضرت آدم کا دوسرا جنم قرار دے دیا۔
اور اپنے خاندان کے لوگوں کو بھی مختلف شخصیات قرار دینے لگا۔۔۔ مثال کے طور پر انور درویش، حسین بن منصور حلاج سے بہت متاثر تھا۔ تو اس نے اپنے نواسے مولا کو منصور حلاج کا دوسرا جنم قرار دے دیا۔
اس موقعے پر اس کے رہے سہے مرید اور معتقد بھی اس کے منہ پر تھوک کر چلے گئے۔۔
اور اب۔۔۔۔ صرف وہ اور اس کا خاندان ہی بچے جو " آدم دھرم " کے پیروکار تھے۔
اور گھر کے اخراجات صرف انور کے بیٹے غلام محیی الدین کی تنخواہ سے پورے ہورہے تھے کہ جو ڈھاکہ میں ایک یونیورسٹی میں نوکری کررہاتھا۔ تاہم ایک شخص کی تنخواہ اتنے بڑے خاندان کی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے بھی کافی نہ تھی۔۔۔ چنانچہ اب ان کے گھر میں بمشکل تمام ایک وقت کا معمولی سا کھانا ہی پک پاتا تھا اور اسی پر ان کی گزر بسر تھی۔
درویش کی موت :
10 جولائی 2000 کو دل کا دورہ پڑنے سے انور درویش کی موت ہوگئی۔۔۔ جو کہ ان کے پہلے سے تباہ حال خاندان کے لیے ایک اور بہت بڑا دھچکا تھا۔
درویش نے وصیت کر رکھی تھی کہ اس کی موت کے بعد اس کے پاؤں کا رخ مغرب کی سمت کر کے اسے دفنایا جائے۔
لیکن جب مقامی لوگوں کو اس بات کی خبر پہنچی تو وہ مزید مشتعل ہوگئے کہ موت کے بعد بھی اس شخص نے اپنے سابق مذہب کا اپمان کرنا نہیں چھوڑا۔
محئی الدین نے اہل علاقہ کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی کہ " ہم نے مسیحیت قبول کر لی تھی اس لیے ہم انور کی تدفین اس طریقے سے کر سکتے ہیں۔ "
لیکن۔۔۔ ایک بار پھر مقامی چرچ اور مسیحی کمیونٹی نے صاف صاف کہہ دیا کہ انور یا اس کے خاندان کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔
چنانچہ مجبور ہو کر محئی الدین نے اپنے باپ کی قبر کا رخ تبدیل کر کے اس کی تدفین کردی۔۔۔
انور کا خاندان مکمل طور پر برین واش ہوچکا تھا اور وہ انور کے گھڑے ہوئے آدم دھرم پر پوری طرح سے یقین رکھتے تھے۔۔۔
2004 میں ڈھاکہ میں محئی الدین کو گولی مار کے قتل کردیا گیا۔ قتل کے بعد اس کے کمرے سے پولیس کو بہت سی جعلی ڈگریز ملیں۔۔۔ پتا چلا کہ وہ خفیہ طور پر جعلی ڈگریز بنا کر فروخت کرنے کا کام کررہا تھا۔ اور اسی دھندے میں کسی مشتعل طالب علم نے اسے کا خون کردیا۔
مقامی لوگوں نے ایک مرتبہ پھر محئی الدین کو مسلم قبرستان میں دفنانے سے انکار کردیا لیکن اب کی بار محئی الدین کا بھائی عارف سامنے آیا اور اس نے مقامی لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا کہ " ہم سب دوبارہ اسلام قبول کر چکے ہیں اور محئی الدین بھی اسلام پر مرا ہے۔ " جس پر انہیں محئی الدین کو مسلم قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت تو مل گئی۔۔۔۔ لیکن حقیقت میں پوری آدم فیملی ابھی تک سرتاپا انور درویش کے بنائے فرضی مذہب پر پوری طرح کاربند تھی۔
محئی الدین کی موت کے بعد 2004 میں عارف نے ڈھاکہ کا رخ کیا تاکہ کوئی کام دھندہ ڈھونڈ کر فاقوں کی شکار اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے کی کوشش کر سکے۔۔
اجتماعی خودکشی :
12 جولائی 2007 کو آدم فیملی کے 9 افراد نے اجتماعی طور پر ٹرین کے آگے آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
مرنے والوں کی تفصیل۔۔۔
حنا۔ انور درویش کی بیوہ۔ عمر 60
اختری۔ انور درویش کی بیٹی۔ 30
مون۔ انور درویش کی بیٹی۔ 28
مرشدہ۔ انور درویش کی بیٹی۔ 27
عارف۔ انور درویش کا بیٹا۔ 22
راحت۔ انور درویش کا بیٹا۔ 20
شبنم۔ مون کی بیٹی۔ 10
مومنہ۔ اختری کی بیٹی۔ 10
مولا۔ مرشدہ کا بیٹا۔ 8
تفتیش و انکشافات :
بالکل سانحہ براڑی ہی کی طرح۔
پولیس کو آدم فیملی کے گھر سے بہت سی ڈائریاں ملیں۔
جن پر ان کے گزرے ماہ و سال کی روداد ، ان کے خودساختہ عقائد و نظریات اور پھر موت کی طرف ان کے قدم اور اجتماعی خودکشی سے متعلق تحریریں۔
∆ ان تحاریر میں پہلی مرتبہ انکشاف ہوا کہ آخری برسوں میں آدم پریوار جادو ٹونے اور سحر و طلسم جیسی چیزوں کی جانب راغب ہوگیا تھا۔
∆ ایک بات جس نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھی کہ انہوں نے کچھ عرصہ " بھوانی " کی پوجا بھی کر کے دیکھی تھی۔ بھوانی ایک شیطانی دیوی ہے جس کی پوجا قدیم ہندوستان کے ٹھگ کیا کرتے تھے۔۔۔ ٹھگی صرف ایک پیشہ ہی نہیں بلکہ ایک پورا فرقہ تھا جس پر میں ایک پوری سیریز لکھ چکی ہوں۔ جس سے آپ کو بھوانی اور بھوانی کی پوجا کے بارے میں مزید تفصیلات مل سکتی ہیں۔
مطلب۔۔۔۔ انہوں نے PK کی طرح باری باری مختلف مذاہب کو آزما کر دیکھا کہ کس مذہب کا خدا ان کی سہائیتا کرتا ہے۔ جب سب مذاہب سے مایوس ہوگئے تو پھر شیطان کی پوجا شروع کردی بھوانی کی صورت میں۔
پر یہاں بھی ان کی مراد نہ بر آ سکی۔
∆ ان تحاریر میں انہوں نے عقیدہ تناسخ کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا۔۔۔ آدم فیملی یہ مانتی تھی کہ مرنے کے بعد انسان کی آتما نئے شریر میں جنم لیتی ہے۔
اور اسی عقیدے کے تحت انہوں نے اجتماعی خودکشی کا فیصلہ کیا۔
∆ ان ڈائریز میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ مرنے کے بعد دوسرا جنم لے کر ان سب سے انتقام لیں گے کہ جنہوں نے ان کے خاندان کو تکلیف پہنچائی۔
∆ 10 جولائی 2007 کو انور درویش کی برسی کے دن انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں اپنی اجتماعی قبر کھودی اور خودکشی کی رسم کے لیے انتظامات مکمل کیے ۔
اس اجتماعی خودکشی میں اس خاندان کی صرف ایک ہی ممبر مہرالنساء بچ سکی جو اپنے خاندان سے علیحدگی اختیار کرچکی تھی۔
براڑی کیس کی ہی طرح اس کیس کی تفتیش کا اختتام بھی Folie à deux یعنی اجتماعی تخیلاتی مرض کی تشخیص پر ہوا۔۔۔۔۔۔
( ختم شد)