02/05/2024
" یہ No بیٹا No No ، یہاں Sit کرو ، اپنے لٹل brother سے handshake کرو "
اس طرح کس انگریزی بولنے والی ماؤں کے بچے نا تو کبھی اچھی انگریزی بول پائیں گے اور نا اپنی مادری زبان. یہ ایک طرح کی معذور سی زندگی گزاریں گے. یہ خود ایک کے بعد دوسرا جملہ انگریزی کا نہیں بول سکتی ہیں مگر انگریزی کی vocabulary ڈال کر سمجھتی ہیں کہ انکا بیٹا بڑا ہو کر فر فر انگلش بولے گا اور اسے ملٹی نیشنل کمپنیز ہاتھوں ہاتھ لینگی . جبکہ انسان کو اچھی communication سکلز کے لئے زبان پر عبور ہونا چاہیے چاہے کوئی بھی ہو ، اور ظاہر ہے پاکستان میں رہتے ہوئے آپ پہلے مادری زبان اور پھر اردو پر عبور حاصل کرتے ہیں جو آپ کے لئے سوشل ہونے میں بہت مددگار ہوتا ہے ، No بیٹا No والی ماؤں کے بچے ایک ادھوری زبان میں کنفیوز ہوتے رہتے ہیں .
یہی حال انڈینز کا بھی ہو گیا ہے، اکثریت کی انگریزی بہت لمیٹڈ اور کمزور ہوتی ہے اور اپنی زبان میں روانی نہیں.مڈل کلاس انڈینز کی نئی نسل کو نا ہندی ،نا اردو اور نا انگریزی ٹھیک بولنا آتی ہے ، یہ کوڈنگ تو کر سکتے ہیں مگر ٹھیک بات نہیں کر سکتے ہیں , جبھی کپل شرما جیسے لوگ تمام اداکاروں اور دوسرے پروفیشن والوں سے بہتر بولتے ہیں . زبان پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کریں نا کہ اپنی زبان میں صرف انگریزی الفاظ ڈال کر آدھے تیتر آدھے بٹیر بنیں