بسم اللہ الرحمٰن الرحیم •:•
(اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، جو نہایت رحم کرنے والا ہے اور رحیم ہے)
الحمد للّٰہ رب العالمین •:•
(تمام تعریفیں ایک ذات کے لیۓ ہیں ، وہ ایسی ذات ہے جو تمام جہانوں کو پالتی ہے ، بلا شبہ وہ ذات اللّٰہ کی ہے)
مجھ(صابر گڑھی) سے (ناول: نفس کی جنگ لکھتے ہوئے) اگر کوئی غلطی ،غلطی سے سر زد ہو گئی ہو تو اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، اور آپ سے بھی معزرت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ « .....................................................»
ناول :
از_قلم :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔6 جنوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ہاں سلیم ! تم کہاں ہو؟ میں اپنی گلی کی نکڑ پہ کھڑی ہوں؟ ۔۔۔۔ کیا ؟.... تم ابھی اپنے گھر سے بھی نہیں نکلے؟.کمال ہے😠... میں لڑکی ہو کر تمہارے لیۓ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر نکل آئی۔۔۔ اور تم!!!!!!!" سردی سے کپکپاتی نمرہ کالے رنگ کی ٹی شرٹ اور نیلی جینز میں اچھی لگ رہی تھی۔ ہونٹوں پر گلابی رنگ کی سرخی آبرو کٹے ہوۓ ہلکا ہلکا میکپ لگاۓ چہرے کو مصنوعی خوبصورتی کے لباس میں چھپاۓ اور زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ " اچھا اچھا جلدی آؤ میں تمہارا یوں اس طرح انتظار نہیں کر سکتی۔۔۔ اگر یہاں مجھے کسی نے اس وقت دیکھ لیا تو تماشا کھڑا ہو جاۓ گا۔۔۔۔ ہممم ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ بس میں ابھی وہاں پہنچتی ہوں اور تم بھی زرا جلدی کرو۔۔۔۔ یار سردی ہے بہت۔۔۔۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں کال کاٹتی ہوں اور تم جلدی آنا۔۔۔۔۔ سنو! اپنا خیال رکھنا۔۔۔ اگر تمہیں کچھ ہوا تو میں شادی سے پہلے ہی بیوا ہو جاؤں گی ۔۔۔ I love you...۔۔۔by۔۔۔۔۔ " ہینڈ بیگ میں اپنا فون رکھتے ادھر ادھر دیکھنے کے بعد وہ سلیم کی بتائ لوکیشن پر جانے لگی۔۔۔۔
رات کے پونے دو بجے نمرہ روڈ پر پاگلوں کی طرح پیدل چل رہی تھی۔ اس سے قبل نمرہ اکیلی کبھی گھر سے نہیں نکلی تھی ۔۔۔جیاں بھی جاتی اپنے والد یا اکثر بھائی کے ساتھ جاتی تھی ۔۔۔ حتیٰ کہ یونیورسٹی بھی ۔۔۔ اس لیۓ ہر گزرتی سواری کو دیکھ کر نمرہ کہ ذہن میں ایک ہی خیال آتا تھا۔۔۔ آیا کہ اس گاڑی پر سوار افراد مجھے دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے؟ ایک دو بار تو یوں ہوا کہ کسی نے اس بیچاری پر ترس کھا کر گاڑی روکی اور اسے لفٹ آفر کی۔۔ مگر اس نے ٹھکرا دی اور محض ٹھکرائی نہیں ان کو اچھا خاصا سنایا بھی " کیا تمہارے گھر میں ماں بہینیں نہیں ہیں ان کو جا کر لفٹ دو۔۔۔" اور نہ جانے کیا کچھ کہا۔۔۔ وہ بیچارے اب ایک اکیلی عورت سے کیا بحث کرت۔۔۔
"الــٹا چــور کــٹوال کــو ڈانــٹے"
پورے 45 منٹ نمرہ سلیم کی بتائی ہوئی لوکیشن پر اس کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔ بالآخر 45 منٹ کے بعد ایک ٹوٹی پھوٹی شور مچاتی بائیک اس کے قریب آ رکی نہ جس کی ہیڈلائٹ تھی اور نہ ہی نمبر پلیٹ حد تو یہ تھی کہ اس کا چین کور بھی نہیں تھا اور نہ ہی پیدان تھے بس بڑی مشکل سے ایک بندے کو اٹھا کر وہ (بائیک) پورے کراچی کی سیر کروا سکتی تھی۔۔۔ اتنا انتظار کر کے اور سردی کی رات میں شبنم کے قطروں سے بھیگنے اور پھر ان واقعات کی وجہ سے نمرہ غصے سے لال پیلی ہوئی کھڑی تھی۔۔۔ اور اس نے سلیم کی طرف سے رخ پھیر لیا۔۔۔ " سوری یار میں تھوڑا سا لیٹ ہو گیا..." سلیم نے اسے منانے کے لیے"سوری" کا سہارا لینا چاہا مگر وہ تو اس کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔۔ وہ اس کے سامنے کی طرف سے آیا تو اس نے دوبارہ اپنا رخ موڑ لیا۔۔ "یار سوری کہا تو ہے ۔۔۔ بس تھوڑا لیٹ ہوا ہوں اور تم مجھ سے ناراض ہو رہی ہو۔۔۔ کیا یہ تھی تمہاری محبت۔۔۔ اور محبت میں تو ساری ساری زندگی انتظار کرنا پڑتا ہے۔۔۔ " سلیم اس کے سامنے آکر اس کے شانے پکڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر د ے لب کہہ رہا تھا۔۔۔۔ "تمہیں لگتا ہے کہ تم تھوڑا سا لیٹ ہو گۓ ہو؟ ہاں؟ پورے 45 منٹ " اب اس نے سلیم کے ہاتھ اپنے شانوں سے جھاڑے (مطلب اتارے) نمرہ اپنے دائیں ہاتھ میں باندھی گھڑی کا ڈیل اس کی طرف کرتے ہوۓ کہتی ہے "پورے 45 منٹ لیٹ ہو تم سلیم! پورے پنتالیس منٹ۔۔۔۔ میں یہاں پاگلوں کی طرح سردی کے ساتھ ساتھ شبنمی موسم میں ٹہلتی رہی ہوں۔۔۔فقط تمہارا انتظار کرتی رہی ہوں۔۔۔ اور تم کہتے ہو کہ کیا ہوا۔۔۔ " وہ پہلے ہی غصے میں تھی اوپر سے سلیم کی باتیں جلتی آگ میں تیل ڈالنے کے مترادف تھیں "اور میری محبت کو تو تم رہنے ہی دو۔۔۔ کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ہاں! کیا تم فون پر دعوے نہیں کرتے رہے ۔۔۔ تو کیا یہ تھی وہ تمہاری محبت؟؟ ہاں ؟ بتاؤ کیا یہ تھی تمہاری محبت ۔۔۔ کیا محبت میں محبوب کو جان بوجھ کر تڑپانا جائز ہے؟ ہاں بتاؤ سلیم! بتاؤ نا چپ کیوں کھڑے ہو۔۔۔ کیا محبت میں اس طرح کرنا جرم نہیں ؟؟؟" اب نمرہ تھوڑی پگھل بھی رہی تھی اور ملالِ یار کا مدوا بھی کر رہی تھی ۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ سلیم چھوٹے موٹے جھگڑوں پر ہی سخت ناراض ہو جایا کرتا ہے۔۔۔۔ اس لیۓ وہ نرم ہونے لگی تھی۔۔۔
چونکہ وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ چونکہ اب اس کے پاس کوئی اور رستہ بھی نہیں تھا۔۔۔ "اچھا یار اب ہو گئی غلطی جانے دو۔۔۔ چلو اب۔۔۔ کیا ساری رات یہیں کھڑے کھڑے اور شبنم میں بھیگتے ہوۓ گزارنے کا ارادہ کر لیا تم نے؟" جب وہ رو دھو کر سنبھلی تو سلیم نے اسے یاد دلایا کہ اب وہ اس کے ساتھ اس پھٹیچر پر جانے والی ہے۔۔۔۔
تقریباً 5:30 پر ایک مؤذن صاحب کی آواز ہواؤں پہ راج کر رہی تھی۔۔۔۔۔اس وقت بہت سے دیگر مؤذن بھی پورے جہاں میں اللہ کا پیغام پہنچانے کا فریضہ نبھا رہے تھے۔ شکیل صاحب کی آنکھ بھی مؤذن کی سریلی آواز کے سبب کھلی ۔۔۔۔ اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔ لا الہ الااللہ۔۔۔۔ اور شکیل صاحب کی آنکھ بھی تب کھلی جب تقریباً اذان ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔ نہ جانے اکثر کیوں ہوتا ہے ایسے کہ ہر معاملے میں انسان کی آنکھیں اختتام پر ہی کھلتی ہیں۔۔۔۔ شکیل صاحب کے دو ہی بچے تھے وہ تو اکثر فجر کی نماز سے بھاگتے تھے ۔۔۔ مگر چند دنوں سے اشرف کو فجر کی نماز مسجد میں جماعت اولیٰ سے پڑھتے دیکھ کر شکیل صاحب بھی تذبذب کا شکار تھے ۔۔۔۔ آج بھی معمول کے مطابق اشرف شکیل صاحب سے پہلے مسجد میں تشریف فرما تھا۔ ۔۔۔ اقامت ہوئی ۔۔۔ پھر نماز ہوئی اور پھر معمول کے مطابق درس ۔۔۔القرآن پارہ 3 ۔۔۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" حــضرت عــمران علیہ السلام کــی زوجـہ نــے اللـہ ســے مـَـنـت مـانــی کــہ اے اللــہ (یہ بچا جو میرے بطن میں ہے) جــب پیــدا ہــوگـا تــو میــں اپــنے اســں بیــٹے کــو تیـرے گــھر کــی صفــائی کــے لیــۓ مــقرر کــروں گــی۔ مــگر آپ سلام اللہ علیہا کـے ہــاں لــڑکـی پــیدا ہــوئ ، تــو آپ نــے عــرض کــی اے میــرے رب تــو تو جــانــتا ہــے کہ میــں نــے کــیا جنا ، اب بــھی کیــا یـہ تــیرے گــھر کــی صفائ کــے لــۓ مــقرر کروں، " امام صاحب لوگوں کو متوجہ کروا کر کہتے ہیں کہ اب میں تمہیں اصل مسئلے کی طرف لیۓ جا رہا ہوں … سنو لوگو پھر رب کیا فرماتا ہے " ہــرگــز نہــیں بــے شــک ہــم نــے عــورت کــو مــرد جــیسا نہــیں بــنایـا"جناب والا میں آپ کو اس بات کا مفہوم سمجھاتا ہوں ۔۔۔ جنابِ والا حضرت عمران علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے اللّٰہ تعالیٰ سے ایک مَنت مانی کہ اے میرے رب اگر میرے پیٹ میں یہ بچہ لڑکا ہوگا تو ضرور میں اس کی ڈیوٹی تیرے گھر کی صفائی کرنا لگاؤں گی۔۔۔
پس جب آپ کے ہاں بچہ بیدا ہوا تو وہ لڑکا نہیں تھا بلکہ ایک لڑکی پیدا ہوئ پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ اس کا نام مریم رکھو۔۔۔۔ جی ہاں ! ہاں وہ مریم جسے ہم حضرت عیسیٰ روح اللّٰہ کی والدہ ماجدہ جانتے ہیں۔۔۔ تو پھر حضرت عمران علیہ السلام کی زوجہ عرض کرتیں ہیں اے مالک پھر تو تو جانتا ہے ناں کہ میں نے ایک لڑکی کو جنا ۔۔۔ اب کیا اس کے لیۓ بھی وہی ڈیوٹی لگائی جاۓ گی۔۔۔ جو لڑکے کے لیۓ مقرر کی گئی؟ ۔۔۔ اے لوگو سنو اللّٰہ پاک کیا فرماتا ہے۔۔۔ وہ فرماتا ہے ہر گز نہیں ہم نے عورت کو مرد کے برابر نہیں جنا۔۔۔ مرد عورت پر فضیلت رکھتا ہے۔۔۔ جنابِ والا آج آپ نے ریڈیو میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں سنی پڑھیں ہوں گی جو خاصی انگریزوں اور دیگر دشمنانِ اسلام و پاکستان کی سوچی سمجھی ایک چال ہے کہ عورت کو مرد کے برابر نوکری کا حق دینا چاہیۓ ۔۔۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پاکستان میں عورت کے لیۓ ایسا قانون بنایا جائے کہ جو جگہ مرد کے کام کرنے کی ہے وہاں پر عورت پہنچائی جاۓ یعنی وہاں پر عورت بھی کام کر سکے اور دیکھیۓ جنابِ والا حال ہی میں جو عورتیں ہائ ایجکوکیٹڈ تھیں انہوں نے ایک تحریک بھی چلا ڈالی "عورت کو مرد کے برابر حقوق ملنے چاہییں" جس کا اہم ترین مقصد تھا ۔ جنابِ والا اب اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ عورت ہرگز مرد کے برابر نہیں بلکہ مرد کو عورت پر بہت زیادہ فضیلت ہے تو عورت کو چاہیۓ کہ وہ مرد کے برابر ہونے کی خواہش نہ کرے چونکہ اللّٰہ سب جانتا ہے ۔۔۔ اور وہ یہ جانتا ہے کہ کس کے لیۓ کیا بہتر ہے اس لیۓ اس کے مطابق ہی فیصلہ فرماتا ہے۔۔۔
اب اگر عورت یہ چاہتی ہے کہ اس کو مرد کے برابر کا حق ملنا چاہیئے تو وہ نا حق ہے۔۔۔ نا صرف نا حق بلکہ وہ اللہ کی آیات کو بسِ پشت ڈالتی ہے ۔۔۔۔ اور شیاطین کے جال کا حصہ بنتی ہے۔۔۔۔ براهِ کرم آپ اپنے اہلِ خانہ کو سکول کی تعلیم اتنا مت دیجۓ کہ وہ ذاتِ باری تعالیٰ کے مدِ مقابل آکھڑے۔۔۔ جیسے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا تھا۔۔۔۔۔
اللـہ سـے کـرے دور تـو تعلــیم بــھی فتنـہ
امــلاک بـھی اولاد بـھی جــاگــیر بــھی فتنـہ
نـا حـق کـے لـیے اٹـھے تـو شمشیـر بـھی فتنـہ
شـمـشــیر ہــی کــیا نعــرۂ تـکبــیر بــھی فتنـہ
اب اللّٰہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ۔۔۔
" خبــردار فــتنہ تــو قتــل ســے بھــی زیــادہ سخــت ہــے"
جنابِ والا دیکھیۓ اگر ایسی کوئی تعلیم ہو جو اللہ سے دور کرتی ہو یا اس کے مدِ مقابل لا کھڑا کرتی ہو تو وہ تعلیم فتنہ ہوتی ہے اور اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ فتنہ تو قتل کرنے سے بھی بڑا جرم ہے ۔۔۔ جبکہ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ یہ تعلیم تو ہے ہی فتنہ۔۔۔۔۔ کیا اب بھی ہمیں فتنہ روکنے کی بجاۓ اسے ہوا دینی چاہیۓ۔۔۔ کیا ہمیں ہمارے ہی رب سے جنگ کرنی چاہیۓ۔۔۔ کیا ہمیں اس ذات کو دھوکا دینا چاہیۓ؟ جبکہ اس نے پہلے ہی ہمیں خبر دار کردیا ہے کہ
القرآن۔۔۔۔پارہ نمبر۔۔۔۔۔1۔۔۔۔۔۔البقرۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یــہیں تـو وہ لــوگ ہــوتے ہــیں جــو اللّٰہ کــو اور مــؤمنوں کــو دھــوکا دیــنا چــاہتے ہــیں، اور ہــرگــز ایــسا نــہیں کــر سکــتے الــبتہ وہ لــوگ خــود کــو دھــوکـہ دیــتے ہــیں مــحض، جــس کــا انــہیں کچــھ عــلم بــھی نہــیں ہــوتـا۔۔۔ اور وہ ایــسا اســں واســطے کــرتے ہــیں کــہ ان کــے دلــوں مــیں (زنــگ کــی) بــیمـاری ہــوتی ہـے اور اللــہ تــو ان (کــے مــزیـد گــناہ کرنــے کــے سبــب ان ) کــی اس بیــماری کــو طــول دے رہــا ہــے، اور اســں نــے ان کــے لیــۓ سخــت تــرین عــذاب تــیار کــر رکــھا ہــے اســں کــے ســبب کــہ جــو انــہوں نــے اللــہ کــے فــرمان کــو نظــر انــداز کیــا یــعنی جــھـٹلایــا۔ پــھر جــب ان کــا خــیر خـواہ ان ســے کــہے کــہ زمــین مــیں فســاد(یعنی فتنہ) نــہ پــھیلاؤ تــو کــہتے ہــیں کـہ تــوبہ اســتغفار ہــم تــو فســاد نـہیں پھــیلاتـے بلــکہ ہــم تــو ان لــوگوں کــی اصــلاح کــرتـے ہــیں۔( اللہ مؤمنوں کو فرماتا ہے) خــبر دار تــم ہــرگز ان کــے دھــوکے میــں نـہ آنــا یــہ فســادی ہــیں اورانہــیں بــالکل بــھی خــبر نــہیں۔۔۔ اور جــب ان ســے کہــا جــاۓ کــہ ان (صحابہ) کـی طــرح ایمــان لاؤ تــو وہ بکــواس کــرتے ہیں کـہ ہــم ان بیــوقوفوں کــی طــرح ایــمان لائـیں۔۔۔ پــھر اللّٰہ فــرماتا ہــے خبــردار ! یــہی لــوگ بــیوقوف ہــیں اور ان کــو تــو رتــی بــرابر بــھی شــعور نــہیں۔۔۔۔ "
اب دیکھیۓ جنابِ والا اس دورِ پُر فتن میں ایسا ہی ہوتا ہے جو مرد یا خاص کر عورتیں زیادہ پڑھ لکھ جائیں اور پردے کا لحاظ کیۓ بغیر مردوں کے ساتھ تحریکیں چلانے لگیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تعلیم ایک فتنہ ہے اور وہ سڑکوں پر محض فساد پھلانے کی غرض سے نکلے ہیں اور وہ یہ بات بھی نہیں مانتے کہ وہ فسادی ہیں الٹا کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے کے لیے نکلے ہیں ۔۔۔ ہم تو اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلے ہیں ۔۔۔ہم تو جہاد کرنے نکلے ہیں مگر شاعر کہتا ہے اگر شمشیر بھی نا حق کے لیۓ یا مظلوم پر ظلم کرنے کے لیۓ اٹھے تو وہ فتنہ ہے اور شمشیر کیا ہے اگر نا حق کے لیۓ نعرہِ تکبیر بھی لگایا جاۓ تو وہ بھی فتنہ ہے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو محض اصلاح کرتے ہیں لوگوں کی اور اللہ فرماتا ہے خبردار یہ لوگ فساد برپا کرتے ہیں پس ان سے دور رہو۔۔۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اسلام نے ہمیں کیا دیا ہے اور اسلام کی تعلیم تو 1400 سال پرانی ہے مگر اس دور میں تو جدت پسندی کو فروغ ہے اور ہم اتنے پرانے مذہب کی کتاب پڑھ کر جدید لوگوں کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ ہمیں جدید علوم حاصل کر کے ان کا مقابلہ کرنا ہے۔۔۔ دیکھو آج امریکہ سپر پاور ہے اس کے پاس بہت سی دولت ہے اس کے پاس دفاعی سامان بھی وافر مقدار میں ہے اور ہمارے پاس ہے ہی کیا؟؟؟ کیا دیا ہے اسلام نے ہمیں؟؟؟ تو جب ان سے کہا جاۓ کہ ہمارے پاس سب سے بڑا ہتھیار 'یقین' ہے تو وہ لوگ مزاق اڑاتے ہیں ہنستے ہیں اور ہمیں پینڈو دیہاتی اور پرانے خیال والا کہہ کر رسوا کرتے ہیں۔۔۔ اور جب ان سے کہا جاۓ کہ ہمارا رب سب سے بڑا قادر و حکمت والا ہے اور ہمیں اس پر یقین اس طرح رکھنا چاہیۓ کہ جس طرح صحابہ کرام رکھتے تھے ۔۔۔ جنابِ والا جنگِ بدر میں غالباً 312 صحابہ کرام تھے اور ان کے پاس لڑنے کے لیۓ محض آٹھ تلواریں تھیں اس کے بر عکس دشمن مکمل طور پر اسلحہ سے لیس تھے۔۔۔ تب صحابہ نے اللہ تعالیٰ پر یقین رکھا تو جنگ جیت گۓ ۔۔۔ اب اگر نیو جنریشن جو کہ دین سے بالکل دور ہے اور دنیاوی تعلیم میں ماہر ہے، کو یہ واقعات بتلائیں اور کہیں کہ ہمیں ان جیسا یقیں رکھنا ہے تب دنیا کی کوئی سپر پاور ہمیں چھو بھی نہیں سکتی ۔ تو جنابِ حضرت وہ ہم پر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کیا تم پاگل ہو اس دور میں میزائل ہیں تلواریں نہیں۔۔۔ ہمیں قصے اور کہانیاں سنا کر کہتے ہو کہ ہم تمہاری طرح ان بیوقوفوں کے نقشِ پا پہ چلتے ہوۓ اس پر یقیں کریں جو نظر ہی نہیں آتا ۔۔۔ کیا تم نے کبھی دیکھا اسے؟ جب تم نے اسے دیکھا ہی نہیں تو تمہیں کس نے۔ بتلایا۔۔۔ کیا تم نے اس کے نبی کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔ تو جنابِ والا یہ ہے سکول کی تعلیم جس نے ساری زندگی انگریزوں کی کتابیں پڑھی ہوں ان کو کیا معلوم کہ حقیقت کیا ہے۔۔۔ اور اللہ ان سے متعلق فرماتا ہے کہ "یہ تو اپنے گمان کی پیروی کرنے والے ہیں۔۔۔" یعنی یہ قرآن کی نہیں بلکہ جو ان کا دماغ کہتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں اور یہ طریقہ یہود و نصارٰی کا ہے ۔۔۔
ایک شخص امام صاحب سے عرض کرتا ہے کہ اگر ہم عورت کو تعلیم نہیں دیں گے تو ہمارے معاشرے میں عورتیں جاہل ہوں گی اور جاہل بچے جنم دے گی تو ہم کس طرح ترقی کر سکتے ہیں؟ ہمارا ملک جوں جوں تنزلی کی طرف جاۓ گا۔۔۔ جبکہ دشمنانِ پاکستان تو ترقی کر جائیں گے۔۔۔۔ امام صاحب بڑے نفیس قسم کے آدمی تھے انہوں نے فرمایا جنابِ والا میں اس بات کا منکر نہیں ہوں کہ آپ عورت کو سکول کی تعلیم نہ دو ۔۔۔ بلکہ اس کو دینی چاہیۓ مگر ایک حد تک۔۔۔ چونکہ آپ نے ابھی ابھی عرض کیا ہے کہ اگر عورت کو تعلیم نہ دی جاۓ تو وہ جاہل ہو گی اور بچوں کی تربیت بھی جاہلانہ کرے گی چونکہ اسے خود کسی شے کا علم نہیں ہو گا ۔۔۔ تو جنابِ والا میں بھی تو یہیں کہہ رہا ہوں کہ عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ تعلیم کا فائیدہ اٹھاۓ اس صورت میں کہ وہ اللہ کی حدودیں کراس کر جاۓ یعنی وہ مردوں کے برابر نوکری کرے دیکھو اللہ نے حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو اجازت نہیں دی کہ وہ مرد کے برابر والا کام کرے اور وہ کام کتنا فضیلت والا ہے کہ اس کے گھر کی صفائی ۔۔۔۔ جناب وہ اس کام کو نہیں کر سکتی تو کیا عورت بغیر (کسی شرعی عزر کے ) مردوں والے کام کر سکتی ہے ؟ جناب ہر گز نہیں کیونکہ اللّٰہ نے ایک حد مقرر فرمائی ہے جیسے چاند اور سورج اور زمین کی اپنی اپنی حد مقرر کی ہے اگر یہ اپنی اپنی حد کو پھلانگتے ہیں تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔
اسی طرح اگر ایک عورت اللہ کی حدود پھلانگتی ہے تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ زمانے کو کس طرف لے کر جاتی ہے۔۔۔ اگر عورت بغیر پڑھے اپنے بچوں کی تربیت کرے تو آپ کہتے ہیں کہ ہم پیچھے رہیں گے۔۔۔ جناب ہم رہیں گے تو سہی نا۔۔۔ اگر عورت اللہ کی حدیں پھلانگتی ہے تو ہم رہیں گے بھی نہیں۔۔۔ جس طرح فرمایا گیا ہے کہ ایک عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے کر جاۓ گی (اور وہ اس کے والد،بھائی،شوہر اور بیٹا ہیں)۔ تو جنابِ والا آپ اپنی لڑکیوں کو تعلیم دو جہالت ختم کرنے کے لیے نا کہ دین ۔۔۔اور اگر آپ اپنی لڑکیوں کو تعلیم زیادہ دیں اور دین سے دور ہوں تو وہ اپنے بچوں کو بھی دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجے گی اگرچہ اسے دنیا کے کسی بھی کونے میں جانا پڑے۔۔۔ اور اگر وہی عورت سکول کے ساتھ ساتھ دین کے تعلیم سے بھی واقف ہو تو اس کی اولاد محمد بن قاسم بنے گی۔۔۔ یا طارق بن زیاد بنے گا۔۔۔ یا خالد بن ولید جیسے نڈر جانباز بننے کی کوشش کرے گی۔۔۔ اور اس طرح اسلام قائم رہے گا دنیا میں امن و سلامتی کی فضا قائم ہو گی ۔۔۔
لہذہ ہمیں چاہیے کہ ان کو میٹرک تک کی تعلیم دیں ہاں اگر اس سے بھی زیادہ دینا چاہتے ہیں تو ایف ۔ایس۔سی تک بس ۔۔۔ اب اس کے بعد انہیں دینی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ ہمارے دین کو بھی فروغ ہو۔۔۔ اور گھر کا نان ونفقہ تو ہے ہی مرد پر ۔۔۔ پھر عورت اس کو اکٹھا کرنے میں کیوں بیکار کی کوشش کرتی ہے۔۔۔ اس واسطے ہمیں چاہیۓ کہ اپنی بیٹیوں اور بیٹے دونوں کو دین کی تعلیم دیں اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب ہماری عورتیں دین سے واقف ہوں گی۔۔۔ فرض کریں اگر آج ہم عورتوں کو دینی تعلیم نہیں دیتے تو بیس پچیس سالوں بعد اس کے ہاں جب اولاد ہوگی تو وہ بھی اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کو بھیجے گی چونکہ وہ خود تو دیں سے واقف ہی نہیں ۔۔۔ پھر جب اس کے بچوں کی اولاد ہو گی تو اس وقت وہ بھی وہیں کریں گے جس کا انہیں علم ہوگا۔۔۔ پس اس طرح چند سالوں بعد ہمارا دین اس دنیا سے ختم ہو جاۓ گا اور اس کے زمہ دار بھی ہم خود ہوں گے ۔۔۔۔
جنابِ والا میں آپ کو دین کی تعلیم کی اہمیت ایک چھوٹی سی مثال دے کر سمجھاتا ہوں ۔۔۔۔ ایک شخص تھا اس نے شادی کی اور اس کا ایک بیٹا بیدا ہوا۔ وہ بیٹا تھوڑا بڑا ہوا تو اس کے والد نے اسے چند اونٹ لے کر دیۓ اور وہ لڑکا سارا دن ان اونٹوں کو چرایا کرتا تھا۔۔۔ کافی عرصہ بیت گیا اور وہ اپنے کام میں مصروف رہا ایک بار جب وہ گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے والد اور والدہ کسی بات پر جھگڑ رہے تھے۔۔۔ پس اس نے اونٹوں والا ڈنڈا (جو ہر روز وہ اپنے ساتھ لے جاتا تھا ) ایک اپنے والد کو دے مارا اور ایک اپنی والدہ کو۔۔۔ اور دونوں کے درمیان جھگڑا ختم ہوا ۔۔۔ پس یہ معاملہ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس لایا گیا۔۔۔ آپ نے اس بچے سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ اے امیر المومنین مجھے کیا پتہ تھا کہ کیا کرنا چاہیے۔۔۔ انہوں نے مجھے بچپن ہی سے اونٹ لے کر دیۓ۔ جنہیں میں ہر روز چراتا تھا۔۔۔ جب کبھی وہ لڑتے تو میں ان کو ایک ایک ڈنڈا مارتا تھا تو وہ ایک طرف ہو جایا کرتے تھے۔۔۔ بس مجھے بھی وہی مقولہ یاد تھا تو میں نے ان پر اپلائی کر دیا اور اس طرح جھگڑا ختم۔۔۔ ہاں اگر یہ مجھے قرآن کریم کی تعلیم دلواتے تو مجھے پتہ ہوتا کہ کیا کرنا ہے۔۔۔
جنابِ والا اگر ہم اپنی اولادوں کو دینی تعلیم سے آراستہ نہیں کرتے تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آگے کیا کچھ ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ امام صاحب اپنی بات کو سمیٹتے ہوۓ کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا اور آخرت دونوں کے بارے میں سوچنا چاہیۓ۔۔۔۔ کم سے کم ۔۔۔ کم سے کم ہمیں دین کو اتنا وقت ضرور دینا چاہیۓ جتنا کہ ہم دنیا کو دیتے ہیں۔۔۔ اگرچہ دین زیادہ حق رکھتا ہے۔۔ مگر اتنا تو دیں نا۔۔۔ کیا ہمارے نزدیک دینی تعلیم کی اہمیت اتنی بھی نہیں ہے جتنا کہ دنیاوی تعلیم کی ہے۔۔۔ ہم اپنے بچوں کو یونیورسٹیوں میں بھیجنے کی بجاۓ وہ باراہ سال انہیں مدرسے کی تعلیم کے لیے تو بھیجیں نا جو انہوں نے سکول کی تعلیم کے لیۓ وقف کیۓ۔۔۔ کیا ہمارے نزدیک اللّٰہ کے دین کی اتنی بھی اوقات نہیں کہ ہم کم سے کم اسے سکول جتنا تو وقت دیں۔۔۔ آج سے آپ ٹھان لیں کہ جتنا عرصہ ہم نے اپنے بچوں کو سکول کی تعلیم دی ہے اتنا عرصہ انہیں دین کی تعلیم بھی دیں گے خواہ کچھ بھی ہو جاۓ۔۔۔ وعدہ کریں آج اپنے آپ سے۔۔۔ اور اللہ کو گواہ بنا لیں۔۔۔ تاکہ ہماری اور ہمارے بچوں کی نیز وطن کی عزت بر قرار رہے اور ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی نصیب ہو۔۔۔ پس امام صاحب اپنی بات کو ختم کرتے ہیں اور دعاۓ خیر کرتے ہیں۔۔۔ پھر سارے معمول کے مطابق اپنے اپنے گھر کو چلے جاتے ہیں۔۔۔
شکیل صاحب کو امام صاحب کی باتیں چبھ رہی تھیں ۔۔۔ اور انہیں بار بار رات والا واقعہ یاد آ رہا تھا۔۔۔ جب نمرہ منہ چڑھ کر ان سے بات کر رہی تھی۔۔۔ شکیل صاحب کو اونٹ والی مثال بھی یاد آ رہی تھی اور واقعی ان کی غلطی تھی انہیں نمرہ کو یونیورسٹی بھیجنے کے بجائے کسی اچھے سے مدرسے میں داخل کرنا چاہیۓ تھا۔۔۔ تاکہ وہ جان تو سکتی کہ قرآن کہتا ہے کہ تم اپنے والدین کو "اُف" تک نہ کہو۔۔۔ اور انہیں وہ نمرہ کا چیخنا یاد آرہا تھا۔۔۔ حتیٰ کہ ہاتھ اٹھانا بھی نہیں بھولا تھا۔۔۔ اور وہ بھی یاد تھا کہ معافی مانگنے کے برعکس الٹا ناراض ہو کر گئی تھی اور ابھی تک کمرے سے باہر نہیں آئی تھی۔۔۔ حالانکہ نماز پر جاتے وقت شکیل صاحب نے اس کا دروازے بھی کھٹکھٹایا تھا۔۔۔ مگر وہ ہوتی تو باہر آتی وہ تو بھاگ گئی تھی ۔۔۔۔ ہاں رات کو اپنی کھڑکی سے بھاگی تھی اور دروازہ اندر سے لاک کر گئی تھی تاکہ گھر والے یہیں سمجھیں کہ وہ گھر میں ہے مگر ناراض ہے ۔۔۔ پر ایسا بالکل نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
……………جاری ہے …………
باقی اقساط کے لیۓ پر کلک کریں
Garhie Badsha
this is my page , I'm from Pakistan...
Want your school to be the top-listed School/college in Muzaffargarh?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Pakistan, Punjab
Muzaffargarh
066